’’ڈاکٹر انوشہ رئیسان مشہد انصاری‘‘ پہلی مسلم خاتون ’خلائی سیاح‘!


ڈاکٹر جی۔ایم پٹیل

انوشہ انصاری نے "Soyuz TMA-9” مشن کو کمانڈر میخائل ٹیو رین اور فلائٹ انجینئر مائیکل لوپیز (NASA Algeria) کے ساتھ بروز پیر، 18 ستمبر 2006، صبح 4:59 پر قازقستان سے روانہ کیا۔ اس طرح انوشہ انصاری پہلی مسلم خاتون ’’خلائی سیاح‘‘ بن گئیں۔ خلائی جہاز بروز بدھ، 20 ستمبر 2006 کو 21:05 UTC پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے ساتھ جُڑ گیا۔
29 ستمبر 2006 کو سویوز TMA-8 پر 13:01 پر قازقستان کے میدانوں میں آر کالک سے 90 کلومیٹر شمال میں، امریکی خلا باز جیفری ولیمز اور روسی خلا باز پاول وینو گرادف کے ساتھ بحفاظت واپس آئیں۔ ایک نامعلوم اہلکار نے سرخ گلاب پیش کیا، جبکہ آپ کے شوہر محترم حامد نے شفقت بھرا بوسہ دیا۔ عملے کے ریسکیو ارکان نے آپ کو استقبالیہ تقریب کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسٹنائی منتقل کیا۔
اس پرواز کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نمایاں کوریج دی گئی۔ ’ہمبستگی‘ اور ’جام ڈیلی‘ جیسے اخبارات نے انصاری کی خوب تعریف کی، جو سفر کی تفصیل والے روزانہ کالم شائع کرتے تھے۔ فلکیات کے جریدہ ’’NOJUM‘‘ نے پرواز سے قبل انصاری کا انٹرویو "پوریا ناظمی” کے توسط سے شائع کیا، جس میں آپ نے تجارتی خلائی پرواز کے بارے میں اپنے خیالات، اغراض و مقاصد کو واضح کیا۔
جب "ISS” ایران کے شہروں کے اوپر سے گزرا تو NOJUM نے اس موقع پر اجتماعات کا اہتمام کیا۔ "شہرام یزدان پناہ” نے فارسی "Space Science” ویب سائٹ پر انوشہ انصاری کے خلا کے سفر کی تفصیل پر مشتمل خصوصی ضمیمہ شائع کیا، جس میں پرواز کے تمام اہم لمحات کا احاطہ کیا گیا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے 9 روزہ قیام کے دوران، آپ نے یورپی خلائی ایجنسی کے تحت تجربات کرنے پر اتفاق کیا اور 4 تجربات انجام دیے:
• خون کی کمی کے طریقہ کار کی تحقیق
• کمر کے نچلے حصے میں درد اور پٹھوں میں تبدیلیوں کے باہمی اثرات
• بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے عملے پر خلائی تابکاری کے اثرات اور مختلف جرثوموں کی اقسام، جنہوں نے خلائی اسٹیشن میں رہائش اختیار کی
• آپ خلاء سے ویب بلاگ شائع کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی خلائی پرواز سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھی، تو انصاری نے کہا:
"میں ہر ایک کو متاثر کرنے کی امید رکھتی ہوں، خاص طور پر نوجوان طالبات، خواتین اور تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیاں—پوری دنیا میں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ان علاقوں میں، جہاں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنے خواب ترک نہ کریں اور جدوجہد جاری رکھیں۔ بعض اوقات کامیابی ناممکن محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر انسان اپنی امید، خواہش اور لگن پر قائم رہے اور مسلسل کوشش کرتا رہے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔”
انصاری نے اپنے خلائی سوٹ پر امریکی پرچم کا غیر سیاسی ورژن پہننے کا ارادہ کیا—یعنی تین رنگوں پر مشتمل سادہ پرچم، جس پر حکومت کا کوئی نشان نہیں تھا—یہ امریکہ اور ایران، دونوں کے احترام میں تھا جنہوں نے آپ کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
چند میڈیا اداروں نے غلط طور پر دعویٰ کیا کہ آپ ایران کے 1979 اسلامی انقلاب سے قبل کا پرچم پہننا چاہتی تھیں۔ تاہم NASA اور روسی حکام کے اصرار پر، آپ نے سرکاری طور پر ایرانی پرچم نہیں پہنا، بلکہ ایرانی پرچم کے رنگوں والا لباس پہنا اور "سرکاری پرواز پیچ” پر ایرانی پرچم آویزاں رکھا۔
آپ کے شوہر نے وضاحت کی کہ:
"امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باوجود، کسی سیاسی پیغام دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔”
آپ نے بیان دیا: "میں اپنے مشن کو ایک عالمی شعور پیدا کرنے کے لیے وقف کرنا چاہتی ہوں، اور توقع رکھتی ہوں کہ خلا سے زمین کی پہلی جھلک اس احساس کو جنم دے گی۔”
انوشہ انصاری "XPRIZE” کی CEO ہیں، جو دنیا کے بڑے چیلنجز کو حل کرنے کے لیے جدت و اختراع کی رہنما تنظیم ہے۔ آپ نے عالمی سطح پر تکنیکی بازاروں، موسمیات، STEM، اور خواتین کی قیادت میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی میں فعال کردار ادا کیا۔ 2006 میں انصاری نے IoT تکنیکی فرم کی بنیاد رکھی۔ اسی سال، آپ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے 11 روزہ خلائی مہم کا آغاز کیا، اور یوں نجی خلائی موجد، ایرانی نژاد خلا باز اور پہلی مسلم خاتون کے طور پر اپنے خواب کو حقیقت بنایا۔
انصاری اور ان کے خاندان نے 1994 میں XPRIZE کے ابتدائی منصوبے میں 10 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ آپ کی قیادت میں XPRIZE نے 81 ملین ڈالر سے زائد انعامات دیے اور 36 ملین ڈالر کے فعال مقابلے شروع کیے، جن کا اثر ماحولیاتی تبدیلی، صحت اور تکنیکی ترقی پر نمایاں ہے۔
آپ یونیسکو کی خیرسگالی سفیر، ایسوسی ایشن آف اسپیس ایکسپلوررز کی تاحیات رکن اور Aspen Global Leadership Network کی فیلو ہیں۔
خواتین کی حمایت کے طور پر "The Billion Dollar Fund for Women” کی شریک بانی ہیں، جس نے 2020 تک خواتین کی قائم کردہ کمپنیوں میں 1 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی۔
انصاری "XPRIZE Foundation” کے وژن سرکل اور بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن بھی ہیں۔ 5 مئی 2004 کو "ایلن شیپارڈ” کی پرواز کی 43 ویں سالگرہ پر، انصاری خاندان نے ادارے کو بڑی مالی معاونت فراہم کی، جس پر اس منصوبے کا نام "Ansari XPRIZE” رکھ دیا گیا۔
انصاری خلا کی نجکاری کی ترجمان ہیں، یعنی ایسی نجی کمپنیاں جو حکومتی تعاون کے بغیر خلا میں انسان اور ساز و سامان بھیجنے کے قابل ہوں۔
انوشہ رئیسان مشہد، 12 ستمبر 1966 کو ایران میں پیدا ہوئیں۔ جلد ہی ان کے خاندان نے تہران منتقل ہو کر سکونت اختیار کی۔ جب وہ 6 سال کی تھیں تو والدین میں طلاق ہو گئی، اور وہ اپنی چھوٹی بہن عطوطہ (جو آپ سے 5 سال چھوٹی تھیں) کے ساتھ دادا دادی کے پاس پرورش پائیں۔
گرمیوں میں ایئرکنڈیشنر کی عدم موجودگی کے باعث دونوں بہنیں بالکونی میں سو جاتیں، جہاں سے آسمان کو دیکھ کر انوشہ خلاء کی وسعت میں کھو جاتیں اور خواب دیکھتیں کہ ایک دن وہ خلا کا سفر ضرور کریں گی۔
تہران میں 7 سال کی عمر میں "جین ڈی آرک” فرانسیسی کیتھولک اسکول سے تعلیم حاصل کی، جہاں آدھا دن فارسی اور باقی فرانسیسی میں پڑھایا جاتا تھا۔
آپ نے 1979 کا ایرانی انقلاب اور اس کے بعد ایران-عراق جنگ کا مشاہدہ کیا، جب بیشتر خاندان تہہ خانوں میں چھپنے پر مجبور تھے۔
1984 میں آپ کا خاندان امریکہ منتقل ہوا۔ وہاں "جھیل بریڈاک” ہائی اسکول، ورجینیا سے تعلیم حاصل کی۔ آپ انگریزی، فرانسیسی اور فارسی زبانوں میں روانی رکھتی ہیں، اور خلائی مشن کے لیے روسی زبان کا عملی علم بھی حاصل کیا۔
"جارج میسن یونیورسٹی” (فیرفیکس، ورجینیا) سے الیکٹرانک انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر ڈگری، اور "جارج واشنگٹن یونیورسٹی” (واشنگٹن ڈی سی) سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔
اس کے بعد "MCI” میں ملازمت شروع کی، جہاں آپ کی ملاقات طے شدہ شوہر "حامد انصاری” سے ہوئی، اور 1991 میں شادی کر لی۔
1993 میں اپنے شوہر اور بہنوئی "عامر انصاری” کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری میں قدم رکھا۔ "Softswitch” نامی ٹیکنالوجی فراہم کنندہ نے اس وقت کی ضروریات کے مطابق سسٹمز کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دی۔
انوشہ انصاری اپنی سوچ اور موقف کے مطابق خود کو ’’خلائی سیاح‘‘ نہیں بلکہ ’’خلائی پرواز میں شریک‘‘ کہتی ہیں۔
آپ ایک ایرانی نژاد امریکی انجینئر، خلائی سیاح اور کاروباری شخصیت ہیں۔ 2006 میں انصاری خاندان نے ٹیکساس میں واقع "Prodea Systems” کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک تکنیکی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے، جس کے ترقیاتی مراکز رچرڈسن (ٹیکساس) اور سلیکون ویلی میں واقع ہیں۔
18 دسمبر 2006 کو، اپنی 40 ویں سالگرہ کے چند روز بعد، انوشہ انصاری پہلی خود کفیل ایرانی خاتون بن گئیں جو خلا میں گئیں۔
آپ نے اپنی یادداشتیں "My Dream of Stars” میں قلمبند کیں، جو نوجوان خواتین کو متاثر کرنے اور ان کی ہمت افزائی کے لیے لکھی گئی۔ اس کتاب کو "ہوم پالگریو میکملن” نے شائع کیا۔
آپ کو حاصل ہونے والے چند اہم اعزازات درج ذیل ہیں:
• ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے "نوجوان عالمی رہنما”
• "ایلس آئی لینڈ میڈل آف آنر”
• "STEM لیڈر شپ ہال آف فیم”
• "ایرنسٹ اینڈ ینگ انٹرپرینیور آف دی ایئر” (جنوب مغربی علاقہ)
• "ہوریٹو ایلجر ایوارڈ”
• 2009 میں "NCWIT Symons Innovator Award”
• 20 دسمبر 2012 کو "جارج میسن یونیورسٹی” سے اعزازی ڈاکٹریٹ
• 2010 میں انسانی ہمدردی، سخاوت اور انسانی اقدار کے فروغ پر "ایلس آئی لینڈ میڈل آف آنر”
• 2015 میں قومی خلائی تنظیم کی جانب سے "خلائی علمبردار ایوارڈ”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

’’ڈاکٹر انوشہ رئیسان مشہد انصاری‘‘ پہلی مسلم خاتون ’خلائی سیاح‘!


ڈاکٹر جی۔ایم پٹیل

انوشہ انصاری نے "Soyuz TMA-9” مشن کو کمانڈر میخائل ٹیو رین اور فلائٹ انجینئر مائیکل لوپیز (NASA Algeria) کے ساتھ بروز پیر، 18 ستمبر 2006، صبح 4:59 پر قازقستان سے روانہ کیا۔ اس طرح انوشہ انصاری پہلی مسلم خاتون ’’خلائی سیاح‘‘ بن گئیں۔ خلائی جہاز بروز بدھ، 20 ستمبر 2006 کو 21:05 UTC پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے ساتھ جُڑ گیا۔
29 ستمبر 2006 کو سویوز TMA-8 پر 13:01 پر قازقستان کے میدانوں میں آر کالک سے 90 کلومیٹر شمال میں، امریکی خلا باز جیفری ولیمز اور روسی خلا باز پاول وینو گرادف کے ساتھ بحفاظت واپس آئیں۔ ایک نامعلوم اہلکار نے سرخ گلاب پیش کیا، جبکہ آپ کے شوہر محترم حامد نے شفقت بھرا بوسہ دیا۔ عملے کے ریسکیو ارکان نے آپ کو استقبالیہ تقریب کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کسٹنائی منتقل کیا۔
اس پرواز کو ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نمایاں کوریج دی گئی۔ ’ہمبستگی‘ اور ’جام ڈیلی‘ جیسے اخبارات نے انصاری کی خوب تعریف کی، جو سفر کی تفصیل والے روزانہ کالم شائع کرتے تھے۔ فلکیات کے جریدہ ’’NOJUM‘‘ نے پرواز سے قبل انصاری کا انٹرویو "پوریا ناظمی” کے توسط سے شائع کیا، جس میں آپ نے تجارتی خلائی پرواز کے بارے میں اپنے خیالات، اغراض و مقاصد کو واضح کیا۔
جب "ISS” ایران کے شہروں کے اوپر سے گزرا تو NOJUM نے اس موقع پر اجتماعات کا اہتمام کیا۔ "شہرام یزدان پناہ” نے فارسی "Space Science” ویب سائٹ پر انوشہ انصاری کے خلا کے سفر کی تفصیل پر مشتمل خصوصی ضمیمہ شائع کیا، جس میں پرواز کے تمام اہم لمحات کا احاطہ کیا گیا۔
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے 9 روزہ قیام کے دوران، آپ نے یورپی خلائی ایجنسی کے تحت تجربات کرنے پر اتفاق کیا اور 4 تجربات انجام دیے:
• خون کی کمی کے طریقہ کار کی تحقیق
• کمر کے نچلے حصے میں درد اور پٹھوں میں تبدیلیوں کے باہمی اثرات
• بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے عملے پر خلائی تابکاری کے اثرات اور مختلف جرثوموں کی اقسام، جنہوں نے خلائی اسٹیشن میں رہائش اختیار کی
• آپ خلاء سے ویب بلاگ شائع کرنے والی پہلی خاتون بن گئیں
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے اپنی خلائی پرواز سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھی، تو انصاری نے کہا:
"میں ہر ایک کو متاثر کرنے کی امید رکھتی ہوں، خاص طور پر نوجوان طالبات، خواتین اور تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیاں—پوری دنیا میں اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے ان علاقوں میں، جہاں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ اپنے خواب ترک نہ کریں اور جدوجہد جاری رکھیں۔ بعض اوقات کامیابی ناممکن محسوس ہوتی ہے، لیکن اگر انسان اپنی امید، خواہش اور لگن پر قائم رہے اور مسلسل کوشش کرتا رہے تو کامیابی قدم چومتی ہے۔”
انصاری نے اپنے خلائی سوٹ پر امریکی پرچم کا غیر سیاسی ورژن پہننے کا ارادہ کیا—یعنی تین رنگوں پر مشتمل سادہ پرچم، جس پر حکومت کا کوئی نشان نہیں تھا—یہ امریکہ اور ایران، دونوں کے احترام میں تھا جنہوں نے آپ کی زندگی میں اہم کردار ادا کیا۔
چند میڈیا اداروں نے غلط طور پر دعویٰ کیا کہ آپ ایران کے 1979 اسلامی انقلاب سے قبل کا پرچم پہننا چاہتی تھیں۔ تاہم NASA اور روسی حکام کے اصرار پر، آپ نے سرکاری طور پر ایرانی پرچم نہیں پہنا، بلکہ ایرانی پرچم کے رنگوں والا لباس پہنا اور "سرکاری پرواز پیچ” پر ایرانی پرچم آویزاں رکھا۔
آپ کے شوہر نے وضاحت کی کہ:
"امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے باوجود، کسی سیاسی پیغام دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔”
آپ نے بیان دیا: "میں اپنے مشن کو ایک عالمی شعور پیدا کرنے کے لیے وقف کرنا چاہتی ہوں، اور توقع رکھتی ہوں کہ خلا سے زمین کی پہلی جھلک اس احساس کو جنم دے گی۔”
انوشہ انصاری "XPRIZE” کی CEO ہیں، جو دنیا کے بڑے چیلنجز کو حل کرنے کے لیے جدت و اختراع کی رہنما تنظیم ہے۔ آپ نے عالمی سطح پر تکنیکی بازاروں، موسمیات، STEM، اور خواتین کی قیادت میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی میں فعال کردار ادا کیا۔ 2006 میں انصاری نے IoT تکنیکی فرم کی بنیاد رکھی۔ اسی سال، آپ نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے 11 روزہ خلائی مہم کا آغاز کیا، اور یوں نجی خلائی موجد، ایرانی نژاد خلا باز اور پہلی مسلم خاتون کے طور پر اپنے خواب کو حقیقت بنایا۔
انصاری اور ان کے خاندان نے 1994 میں XPRIZE کے ابتدائی منصوبے میں 10 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ آپ کی قیادت میں XPRIZE نے 81 ملین ڈالر سے زائد انعامات دیے اور 36 ملین ڈالر کے فعال مقابلے شروع کیے، جن کا اثر ماحولیاتی تبدیلی، صحت اور تکنیکی ترقی پر نمایاں ہے۔
آپ یونیسکو کی خیرسگالی سفیر، ایسوسی ایشن آف اسپیس ایکسپلوررز کی تاحیات رکن اور Aspen Global Leadership Network کی فیلو ہیں۔
خواتین کی حمایت کے طور پر "The Billion Dollar Fund for Women” کی شریک بانی ہیں، جس نے 2020 تک خواتین کی قائم کردہ کمپنیوں میں 1 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی۔
انصاری "XPRIZE Foundation” کے وژن سرکل اور بورڈ آف ٹرسٹیز کی رکن بھی ہیں۔ 5 مئی 2004 کو "ایلن شیپارڈ” کی پرواز کی 43 ویں سالگرہ پر، انصاری خاندان نے ادارے کو بڑی مالی معاونت فراہم کی، جس پر اس منصوبے کا نام "Ansari XPRIZE” رکھ دیا گیا۔
انصاری خلا کی نجکاری کی ترجمان ہیں، یعنی ایسی نجی کمپنیاں جو حکومتی تعاون کے بغیر خلا میں انسان اور ساز و سامان بھیجنے کے قابل ہوں۔
انوشہ رئیسان مشہد، 12 ستمبر 1966 کو ایران میں پیدا ہوئیں۔ جلد ہی ان کے خاندان نے تہران منتقل ہو کر سکونت اختیار کی۔ جب وہ 6 سال کی تھیں تو والدین میں طلاق ہو گئی، اور وہ اپنی چھوٹی بہن عطوطہ (جو آپ سے 5 سال چھوٹی تھیں) کے ساتھ دادا دادی کے پاس پرورش پائیں۔
گرمیوں میں ایئرکنڈیشنر کی عدم موجودگی کے باعث دونوں بہنیں بالکونی میں سو جاتیں، جہاں سے آسمان کو دیکھ کر انوشہ خلاء کی وسعت میں کھو جاتیں اور خواب دیکھتیں کہ ایک دن وہ خلا کا سفر ضرور کریں گی۔
تہران میں 7 سال کی عمر میں "جین ڈی آرک” فرانسیسی کیتھولک اسکول سے تعلیم حاصل کی، جہاں آدھا دن فارسی اور باقی فرانسیسی میں پڑھایا جاتا تھا۔
آپ نے 1979 کا ایرانی انقلاب اور اس کے بعد ایران-عراق جنگ کا مشاہدہ کیا، جب بیشتر خاندان تہہ خانوں میں چھپنے پر مجبور تھے۔
1984 میں آپ کا خاندان امریکہ منتقل ہوا۔ وہاں "جھیل بریڈاک” ہائی اسکول، ورجینیا سے تعلیم حاصل کی۔ آپ انگریزی، فرانسیسی اور فارسی زبانوں میں روانی رکھتی ہیں، اور خلائی مشن کے لیے روسی زبان کا عملی علم بھی حاصل کیا۔
"جارج میسن یونیورسٹی” (فیرفیکس، ورجینیا) سے الیکٹرانک انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر ڈگری، اور "جارج واشنگٹن یونیورسٹی” (واشنگٹن ڈی سی) سے ماسٹرز ڈگری حاصل کی۔
اس کے بعد "MCI” میں ملازمت شروع کی، جہاں آپ کی ملاقات طے شدہ شوہر "حامد انصاری” سے ہوئی، اور 1991 میں شادی کر لی۔
1993 میں اپنے شوہر اور بہنوئی "عامر انصاری” کے ساتھ ٹیلی کمیونیکیشن انڈسٹری میں قدم رکھا۔ "Softswitch” نامی ٹیکنالوجی فراہم کنندہ نے اس وقت کی ضروریات کے مطابق سسٹمز کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد دی۔
انوشہ انصاری اپنی سوچ اور موقف کے مطابق خود کو ’’خلائی سیاح‘‘ نہیں بلکہ ’’خلائی پرواز میں شریک‘‘ کہتی ہیں۔
آپ ایک ایرانی نژاد امریکی انجینئر، خلائی سیاح اور کاروباری شخصیت ہیں۔ 2006 میں انصاری خاندان نے ٹیکساس میں واقع "Prodea Systems” کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک تکنیکی خدمات فراہم کرنے والی کمپنی ہے، جس کے ترقیاتی مراکز رچرڈسن (ٹیکساس) اور سلیکون ویلی میں واقع ہیں۔
18 دسمبر 2006 کو، اپنی 40 ویں سالگرہ کے چند روز بعد، انوشہ انصاری پہلی خود کفیل ایرانی خاتون بن گئیں جو خلا میں گئیں۔
آپ نے اپنی یادداشتیں "My Dream of Stars” میں قلمبند کیں، جو نوجوان خواتین کو متاثر کرنے اور ان کی ہمت افزائی کے لیے لکھی گئی۔ اس کتاب کو "ہوم پالگریو میکملن” نے شائع کیا۔
آپ کو حاصل ہونے والے چند اہم اعزازات درج ذیل ہیں:
• ورلڈ اکنامک فورم کی جانب سے "نوجوان عالمی رہنما”
• "ایلس آئی لینڈ میڈل آف آنر”
• "STEM لیڈر شپ ہال آف فیم”
• "ایرنسٹ اینڈ ینگ انٹرپرینیور آف دی ایئر” (جنوب مغربی علاقہ)
• "ہوریٹو ایلجر ایوارڈ”
• 2009 میں "NCWIT Symons Innovator Award”
• 20 دسمبر 2012 کو "جارج میسن یونیورسٹی” سے اعزازی ڈاکٹریٹ
• 2010 میں انسانی ہمدردی، سخاوت اور انسانی اقدار کے فروغ پر "ایلس آئی لینڈ میڈل آف آنر”
• 2015 میں قومی خلائی تنظیم کی جانب سے "خلائی علمبردار ایوارڈ”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں