ہم نے اذان تو سنی، مگر موذن کی فریاد نہ سنی!

مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ

صبح صادق کی ٹھنڈی ہوائیں، فضاؤں میں گونجتی اذان کی آواز، اور نیند سے بیدار ہوتا شہر—یہ سب کسی نہ کسی موذن کی قربانی اور عبادت کا نتیجہ ہے۔ وہ شخص جو دن کا آغاز ہمیں اللہ کے پیغام سے کرواتا ہے، خود کن حالات میں زندگی گزار رہا ہے، اس پر ہماری توجہ شاذ و نادر ہی جاتی ہے۔
موذن کی ذمہ داری محض اذان دینے تک محدود نہیں۔ وہ مسجد کی صفائی کرتا ہے، اوقاتِ نماز کی پابندی کرتا ہے، مسجد کا نظام سنبھالتا ہے، اور امام کی غیر موجودگی میں نماز بھی پڑھاتا ہے۔ رمضان المبارک میں تو اس کی محنت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ سحری کے وقت لوگوں کو جگانا، اذانِ فجر سے قبل اطلاع دینا، افطار کے وقت جب سب لوگ کھانے میں مشغول ہوتے ہیں، تب وہ اذان دینے میں مصروف ہوتا ہے۔ وہ چراغ جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے، خود خاموشی سے جلتا رہتا ہے۔
لیکن افسوس! جس شخص کی بدولت ہماری روح کو سکون ملتا ہے، اس کی اپنی زندگی اذیت اور تنگی کا شکار ہے۔ اکثر چھوٹی مساجد میں موذن صاحبان کو ماہانہ صرف پانچ سے دس ہزار روپے دیے جاتے ہیں، جو موجودہ مہنگائی میں ایک مذاق سے کم نہیں۔ نہ سوشل سیکیورٹی، نہ میڈیکل سہولت، نہ بچوں کی تعلیم کا انتظام، اور نہ ہی بڑھاپے کے لیے کوئی پینشن۔ اگر بیمار پڑ جائیں، تو دوا کے پیسے بھی جیب میں نہیں ہوتے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس اذان پر ہم نماز کے لیے اٹھتے ہیں، وہ اذان دینے والا کن حالات سے گزر رہا ہے؟
کیا یہ ہماری مجرمانہ غفلت نہیں کہ ہم مسجد کی تعمیر پر لاکھوں خرچ کر سکتے ہیں لیکن موذن کی تنخواہ بڑھانے پر بحث کرتے ہیں؟
کیا کبھی کسی ٹرسٹی صاحب نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوال کیا کہ جو رقم ہم موذن کو دیتے ہیں، کیا ہم وہی اپنی اولاد کو بطور جیب خرچ دینا پسند کریں گے؟ شاید نہیں۔
تو پھر کسی اور کی اولاد، جو پوری امت کو بیدار کرتی ہے، اس کے ساتھ یہ بے حسی کیوں؟
ایک موذن کی بنیادی ضروریات کا تخمینہ:
مکان کا کرایہ: 5000 تا 7000 روپے
راشن، دودھ، گیس: 6000 تا 8000 روپے
بچوں کی تعلیم: 3000 تا 5000 روپے
بجلی، پانی، موبائل: 2000 روپے
میڈیکل و دوا دارو: 1500 تا 3000 روپے
دیگر ضروریات: 1500 روپے
کل ماہانہ اخراجات: کم از کم20000 تا 25000 روپے
تو کیا ایک ایسا شخص جو دن رات دین کی خدمت میں لگا ہو، اس کے لیے پانچ ہزار تنخواہ کافی ہے؟ کیا مسجد کی تعمیر پر لاکھوں خرچ کرنے والی کمیٹیوں کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ اپنے موذن کے لیے ایک باعزت وظیفہ مقرر کریں؟
ہماری تجویز:
موذن کے لیے کم از کم20000وپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی جائے۔
رمضان و عیدین پر خصوصی بونس یا امداد دی جائے۔
میڈیکل انشورنس اور بچوں کی تعلیم میں معاونت کی جائے۔
اگر ممکن ہو تو مسجد کے قریب رہائش کا انتظام یا کرایہ دیا جائے۔
آخرت کا پہلو:
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمیں اپنے ہر عمل اور فیصلے کا حساب دینا ہے۔ ہو سکتا ہے مسجد کے قالین، پنکھے، اور لائٹنگ پر خرچ کی گئی رقم ہماری بخشش کا ذریعہ نہ بن سکے، لیکن ایک موذن کے دل سے نکلی ہوئی دعا، اس کی زندگی آسان کرنے والا ہمارا فیصلہ ہمارے لیے نجات کا سبب بن جائے۔ اگر ہم نے مسجد کے خادم کے ساتھ ظلم کیا، تو وہ کل قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہی دے سکتا ہے۔ اس دن کوئی عہدہ، کوئی ٹرسٹی شپ اور کوئی عذر ہمیں بچا نہیں سکے گا۔
اختتامی پیغام:
آیئے ہم مسجد کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مسجد کے خادم کی زندگی کو بھی خوبصورت بنائیں۔ موذن کو عزت دیں، سہولت دیں، اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کریں تاکہ قیامت کے دن ہمیں یہ نہ کہنا پڑے:
"ہم نے اذان تو سنی، مگر موذن کی فریاد نہ سنی!”
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

ہم نے اذان تو سنی، مگر موذن کی فریاد نہ سنی!

مومن فیاض احمد غلام مصطفیٰ

صبح صادق کی ٹھنڈی ہوائیں، فضاؤں میں گونجتی اذان کی آواز، اور نیند سے بیدار ہوتا شہر—یہ سب کسی نہ کسی موذن کی قربانی اور عبادت کا نتیجہ ہے۔ وہ شخص جو دن کا آغاز ہمیں اللہ کے پیغام سے کرواتا ہے، خود کن حالات میں زندگی گزار رہا ہے، اس پر ہماری توجہ شاذ و نادر ہی جاتی ہے۔
موذن کی ذمہ داری محض اذان دینے تک محدود نہیں۔ وہ مسجد کی صفائی کرتا ہے، اوقاتِ نماز کی پابندی کرتا ہے، مسجد کا نظام سنبھالتا ہے، اور امام کی غیر موجودگی میں نماز بھی پڑھاتا ہے۔ رمضان المبارک میں تو اس کی محنت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ سحری کے وقت لوگوں کو جگانا، اذانِ فجر سے قبل اطلاع دینا، افطار کے وقت جب سب لوگ کھانے میں مشغول ہوتے ہیں، تب وہ اذان دینے میں مصروف ہوتا ہے۔ وہ چراغ جو دوسروں کو روشنی دیتا ہے، خود خاموشی سے جلتا رہتا ہے۔
لیکن افسوس! جس شخص کی بدولت ہماری روح کو سکون ملتا ہے، اس کی اپنی زندگی اذیت اور تنگی کا شکار ہے۔ اکثر چھوٹی مساجد میں موذن صاحبان کو ماہانہ صرف پانچ سے دس ہزار روپے دیے جاتے ہیں، جو موجودہ مہنگائی میں ایک مذاق سے کم نہیں۔ نہ سوشل سیکیورٹی، نہ میڈیکل سہولت، نہ بچوں کی تعلیم کا انتظام، اور نہ ہی بڑھاپے کے لیے کوئی پینشن۔ اگر بیمار پڑ جائیں، تو دوا کے پیسے بھی جیب میں نہیں ہوتے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے:
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جس اذان پر ہم نماز کے لیے اٹھتے ہیں، وہ اذان دینے والا کن حالات سے گزر رہا ہے؟
کیا یہ ہماری مجرمانہ غفلت نہیں کہ ہم مسجد کی تعمیر پر لاکھوں خرچ کر سکتے ہیں لیکن موذن کی تنخواہ بڑھانے پر بحث کرتے ہیں؟
کیا کبھی کسی ٹرسٹی صاحب نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر یہ سوال کیا کہ جو رقم ہم موذن کو دیتے ہیں، کیا ہم وہی اپنی اولاد کو بطور جیب خرچ دینا پسند کریں گے؟ شاید نہیں۔
تو پھر کسی اور کی اولاد، جو پوری امت کو بیدار کرتی ہے، اس کے ساتھ یہ بے حسی کیوں؟
ایک موذن کی بنیادی ضروریات کا تخمینہ:
مکان کا کرایہ: 5000 تا 7000 روپے
راشن، دودھ، گیس: 6000 تا 8000 روپے
بچوں کی تعلیم: 3000 تا 5000 روپے
بجلی، پانی، موبائل: 2000 روپے
میڈیکل و دوا دارو: 1500 تا 3000 روپے
دیگر ضروریات: 1500 روپے
کل ماہانہ اخراجات: کم از کم20000 تا 25000 روپے
تو کیا ایک ایسا شخص جو دن رات دین کی خدمت میں لگا ہو، اس کے لیے پانچ ہزار تنخواہ کافی ہے؟ کیا مسجد کی تعمیر پر لاکھوں خرچ کرنے والی کمیٹیوں کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ اپنے موذن کے لیے ایک باعزت وظیفہ مقرر کریں؟
ہماری تجویز:
موذن کے لیے کم از کم20000وپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی جائے۔
رمضان و عیدین پر خصوصی بونس یا امداد دی جائے۔
میڈیکل انشورنس اور بچوں کی تعلیم میں معاونت کی جائے۔
اگر ممکن ہو تو مسجد کے قریب رہائش کا انتظام یا کرایہ دیا جائے۔
آخرت کا پہلو:
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہمیں اپنے ہر عمل اور فیصلے کا حساب دینا ہے۔ ہو سکتا ہے مسجد کے قالین، پنکھے، اور لائٹنگ پر خرچ کی گئی رقم ہماری بخشش کا ذریعہ نہ بن سکے، لیکن ایک موذن کے دل سے نکلی ہوئی دعا، اس کی زندگی آسان کرنے والا ہمارا فیصلہ ہمارے لیے نجات کا سبب بن جائے۔ اگر ہم نے مسجد کے خادم کے ساتھ ظلم کیا، تو وہ کل قیامت کے دن ہمارے خلاف گواہی دے سکتا ہے۔ اس دن کوئی عہدہ، کوئی ٹرسٹی شپ اور کوئی عذر ہمیں بچا نہیں سکے گا۔
اختتامی پیغام:
آیئے ہم مسجد کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مسجد کے خادم کی زندگی کو بھی خوبصورت بنائیں۔ موذن کو عزت دیں، سہولت دیں، اور اس کی قربانیوں کو تسلیم کریں تاکہ قیامت کے دن ہمیں یہ نہ کہنا پڑے:
"ہم نے اذان تو سنی، مگر موذن کی فریاد نہ سنی!”
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں