ریاض فردوسی
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن
اجابت از در حق بر استقبال می آید
دنیا کی زندگی فانی ہے،فرعون،شداد،نمرود،چنگیز خاں،ہلاکو جیسے ظالم و جابر حکمران زمین کے نیچے دفن ہوگئے،سوائے ڈر اور نصیحت کے ان کی کوئ داستان باقی نہیں ہے۔
مرنا تو یقیناً ہے۔کوئ پہلے کوئ بعد میں۔
فلسطینی بھائیوں،بہنوں،بڑھوں اور بچوں کا وقت اب آگیا ہمارے مرنے کا وقت بعد میں آیے گا،لیکن ان مظلوم مسلمانوں نے دنیائے اسلام کو یہ پیغام دے دیا کہ آج ہماری بربادی پر تم خوش ناہو تمہیں بھی برباد ہونا ہے،خاص کر ایرانی حکومت اور سعودی عربیہ کی حکومت کو تباہ وبرباد ہونا ہے،اس لیے کہ فلسطین کی تباہی و بربادی کے سب سے بڑے مجرم یہ دونوں ملک ہی ہیں،ان دونوں ملکوں کی خارجہ پالیسی نے فلسطینی مسلمانوں کو آج اس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے کہ سوائے موت کے ان کے لیے کوئ پناہ نہیں ہے۔تمام اسلامی ملکوں نے ان مظلوم اور بے یارومددگار لوگوں کی چیخ و پکار نا سننے کے لیے اپنے اپنے کان بند کر لیے ہیں۔غزہ میں اسرائیلی بمباری میں معصوم بچوں کی ہوا میں اڑتی لاشیں امت مسلمہ کے بزدل اور عیاش حکمرانوں کی گردنوں پر قرض ہیں جن کا حساب انہیں بروز قیامت دینا پڑے گا۔اسرائیل کی جانب سے مسلسل سخت قسم کی جارحانہ کارروائیاں کی جارہی ہیں۔مستقل بمباری کی جارہی ہے،خطرناک قسم کی گیسوں کا استعمال کیا جا رہاہے، اور تمام ہی عالمی قوانین جنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے مریضوں کو،عورتوں کو،چھوٹے بچوں کو اور عوام الناس کو بری طرح جارحیت کا نشانہ بنایا جارہاہے۔گویا کہ ان کمزور اور بے کس،بے یار و مددگار مسلمانوں کا خون اسرائیلی فوج اور حکومت کے لیے حلال ہو گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جو شخص ظالم کو ظلم کرتے دیکھے اور اسے نہ روکے، اللہ اسے بھی ظالم کے ساتھ پکڑے گا۔”(سنن ابی داؤد)
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا:اے لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو:(اے ایمان والو!اپنی فکر کرو۔جب تم راہِ راست پر چل رہے ہو،تو جو شخص گمراہ رہے،اس سے تمہارا کوئی نقصان نہیں۔(سورہ مائدہ: 105)
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :”لوگ جب ظالم كو ظلم کرتا ہوا دیکھیں اور اسے نہ روکیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان سب پر عذاب نازل ہوجائے۔(سنن الترمذي۔2168)
مسلمانوں کی صرف یہ ذمے داری نہیں ہے کہ بس اپنی اصلاح کی فکر کرے،اگر کوئی گمراہ ہو رہا ہے،تو ہوا کرے۔اس سے اس کا کچھ نہيں بگڑنے والا۔ان پر اچھے باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے کی ذمے داری عائد نہيں ہوتی۔ وغیرہ وغیرہ۔
یہ لوگوں کی خام خیالی ہے۔لوگ جب کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھ کر روکنے کی طاقت ہونے کے باوجود اسے نہ روکیں،تو اس بات کا امکان بن جاتا ہے کہ اللہ ان سب پر اپنی جانب سے ایک عام عذاب بھیج دے۔غلط کرنے والے پر بھی اور خاموش رہنے والے پر بھی۔
فلسطین جل رہا ہے،اور مسلم حکمران عیش پرستی میں مبتلا ہیں!
دنیا کی آنکھوں کے سامنے غزہ کشت وخون میں نہایا ہوا ہے۔کتنی بہنوں کا سہاگ اجڑ چکاہے،معصوم بچے کئی ٹن بھاری بھرکم ملبے کے نیچے دم توڑ چکے ہیں،مغموم مائیں سسکتی ہوئی فریادوں کے ساتھ اپنے لختِ جگر دفنا رہی ہیں،بوڑھوں پر بم برسایا جارہا ہے۔چیخیں آسمان تک پہنچ رہی ہیں۔
مگر بزدل حکمرانوں کی آنکھیں بند ہیں،کے ضمیر پر سکوت مرگ طاری ہے۔
لیکن خاموشی سے بھی زیادہ شرمناک وہ لوگ ہیں جو ان مظلوموں کے قاتلوں کا قالین بچھا کر استقبال کر رہے ہیں۔
آج جس ٹرمپ کی پشت پناہی پر فلسطینی مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔
اسے اسلامی ملکوں میں عزت،اعزاز اور سرخ قالینوں پر خوش آمدید کہا جارہا ہے۔
سعودی عرب، یو اے ای، قطر، اور دیگر مسلم حکمران ان کی زبانوں پر ریاکاری سے لبریز اسلام، مگر دلوں میں خوف اور آنکھوں میں صرف مفادات چھپے ہیں۔شرک صرف قبروں پر نہیں ہوتا ہے،یہ بھی شرک ہے،اور یہ سب چھپے ہوئے مشرک۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے امت کی پشت پر سود،اسلحے اور اقتدار کے سودے لکھ دیے ہیں۔آج جن کے پاس پٹرول،ڈیزل،سونے کا پہاڑ،دولت،طاقت اور حکومت ہے۔کل وہ تاریخ کے اوراق میں دفن ہوں گے،ان کو بزدل،عیاش،ایمان فروش اور غدار لکھا جائے گا۔
نا ان کے نام باقی رہیں گے،نا ان کی حکومت اور نا ہی ان کے محلات۔
اللہ کی پکڑ جب آتی ہے تو نمرود،شداد،فرعون،چنگیز خاں،ہلاکو،ہٹلر اور تمام ظالم ماضی بن جاتے ہیں۔
فرعون نے دعویٰ کیا تھا میں سب سے بڑا رب ہوں،لیکن نیل میں ڈوب گیا،آج تک اس کا جسم لوگوں کے لیے سبق ہے۔
شداد نے بھی جنت بنائ تھی،لیکن قدم رکھتے ہی مر گیا،ایک بار دیکھ بھی نہیں پایا۔
نمرود نے بھی دعویٰ کیا تھا:
"میں رب ہوں!”
پھر ایک معمولی مچھر نے اس کی بادشاہت کا غرور مٹی میں ملا دیا۔
اللہ ہمیشہ سے اور ہمیشہ رہے گا۔وہ سب دیکھ رہا ہے۔
وہ ظالموں کو چن چن کر ان کے ظلم اور ستم کا حساب لے گا۔جنہوں نے خاموشی اختیار کی وہ بھی اللہ کے جلال سے نہیں بچیں گے۔ظلم کی صبح نہیں ہوتی ہے۔
کوئ پرساں نا ہوا حال پریشاں کو مرے
زخم کو دیکھا بھی گیا درد کو سراہا بھی گیا
اکتوبر 2023ء کی 7؍ تاریخ سے تاحال فلسطین کے مسلمانوں خصوصاً اہالیانِ غزہ پر اسرائیل کی دہشت گردی جاری ہے۔نہتے بچوں،بوڑھوں،خواتین حتیٰ کہ پناہ گزین کیمپوں میں موجود معصوم انسانوں اور ہسپتالوں میں موجود زخمیوں اور بیماروں پر بمباری کی جارہی ہے،جس سے75000 سے زائد مسلمان شہید ہوچکے ہیں اور 100000 کے قریب زخمی ہیں۔غزہ کے چاروں طرف محاصرہ کی بنا پر اہلِ غزہ پر خوراک،پانی،دوا،ایندھن اور ضروریات زندگی کو تنگ کردیا گیا ہے۔نام و نہاد اسلامی ممالک کے حکمرانوں کی زبانیں گنگ،ہاتھ شل،اعضاء مفلوج اور ضمیر مردہ ہوچکے ہیں۔فلسطین کے مسلمان یہودیوں کے مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے مادی وسائل کی قلت کا شکار ہیں۔اس کے باوجود آج تک نبرد آزما ہیں،لیکن وہ مسلم حکمران جو ایٹمی طاقت،تیل کی دولت اور بے شمار وسائل و اسلحہ سے مالا مال ہیں،دنیامیں عیش و عشرت سے زندہ رہنے کی طلب نے ان کو بزدل بنا دیا ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ فلسطینی موجود ہیں،یہ سب اقوام متحدہ کے ساتھ رجسٹر ہیں۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اسرائیل واپس آنے کا حق حاصل ہے جبکہ اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے اس کی یہودی شناخت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اگر اسرائیلی حکومت اس خطے میں امن کرنا چاہتی ہے تو اس کو فلسطینیوں کی آزاد ریاست کا حق تسلیم کرنا ہوگا،غزہ کی پٹی کے محاصرہ ختم کرنا ہوگا اور مشرقی یروشلم اور غرب اردن میں رکاوٹیں ختم کرنی ہوں گی۔
امریکہ اور سعودی عرب نے گزشتہ منگل 13 مئ کو اربوں ڈالر کے ایک تاریخی اقتصادی اور فوجی امدادی پیکج پر دستخط کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق 600 ارب ڈالر سے زیادہ کے اس پیکج میں ’تاریخ کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا سودا‘بھی شامل ہے۔
اس پیکج کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ ریاض کے دوران کیا گیا۔اس میں دفاع،توانائی،انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔اس کے ساتھ سعودی عرب امریکہ میں ڈیٹا سینٹرز،ایوی ایشن، صحت اور معدنیات میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
شیخ سعدی فرماتے ہیں :
"ایک ظالم شخص لوگوں پر ظلم کرتا تھا، ان کی لکڑیاں سستے داموں خریدتا اور مہنگے داموں فروخت کر دیتا. ایک دن ایک نیک شخص کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو اس نے کہا :
"تو ہر ایک کو ڈستا ہے، کیا تو سانپ ہے؟ تو وہ الّو ہے جو جہاں بیٹھتا ھے وہاں ویرانی کر دیتا ہے. اگر تیرا مخلوق پر زور ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تیرا زور اللہ پر بھی چل جائے گا،زمین والوں پر ظلم نہ کر، تیرے خلاف کسی کی دعا عرش تک پہنچ جائے گی”
اس بد بخت کو یہ نصیحت اچھی نہ لگی اس نے کوئی توجہ نہ دی، پھر ایک رات اس کی لکڑیوں کے گودام میں آگ لگ گئ، سب کچھ راکھ بن گیا۔
ایک دن وہی نیک شخص پھر وہاں سے گزرا. اس نے اس ظالم کو کسی سے بات کرتے سنا کہ :
"پتا نہیں کہاں سے یہ آگ آئی اور میرا تمام ذخیرہ جلا کر راکھ کر دیا”
اس نیک شخص نے کہا :
” یہ غریبوں کے دلوں کا دھواں تھا زخمی اور پریشان دل کی آہ سے ڈرو اور کسی کو غمزدہ نہ کرو کیونکہ پریشان دل کی آہ سارے جہاں کو پریشان کر دیتی ہے”
خسرو کے مزار کی محراب پر لکھا تھا ہوا تھا کہ :
"تو سینکڑوں سال بھی حکومت کر لے پھر تو جب بھی خاک میں ملے گا مخلوق ہمارے سروں پر چلے گی اور جس طرح یہ حکومت ہمارے ہاتھ آئی ہے اسی طرح دوسروں کے ہاتھوں میں بھی چلی جائے گی”
شیخ سعدی اس حکایت میں بیان فرماتے ہیں کہ :
"طاقت مل جانے پر یہ نہیں کرنا چاہئے کہ ہر کمزور کو دبا دو بلکہ طاقت و قوت ملنے پر تمہیں کمزوروں کی مدد کرنی چاہئے۔مظلوم کی دعا اللہ عرش پر سنتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔اللہ کی پکڑ سے ڈرو جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو کوئی چھڑوا نہیں سکتا۔بےشک اللہ نے ظالموں کی رسی دراز کی ہے مگر جب وہ اس رسی کو کھینچتا ہے تو پھر اسکی مدد کرنے والا کوئی بھی نہی ہوتا”


