شہید ملت ’’ایک خواب جو شرمندئہ تعبیر نہ ہوا‘‘

غلام حسن مجروحؔ

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر کے میر واعظین کی دینی ،سیاسی ،مذہبی اور سماجی خدمات و تبلیغ و اشاعت سے عبارت تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور تاریخ کے ہر دور میں اس خاندان کے سربرا ٓوردہ شخصیات نے کشمیر عوام کی سیاسی، دینی اور سماجی سطح پر رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ ساتھ ہر مشکل وقت میں یہاں کی عوام کو نہ صرف سہارا دیا ہے بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی یہ قوم کسی آزمائش او ابتلاسے دوچار ہوئی تو میرواعظین نے وقت کے حکمرانوں کی جارحانہ روش کے باوجود خود کو پہلے صف میں کھڑا کر دیا جامع مسجد کے منبر و محراب آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ صدیوں سے اس تاریخی منبر سے میرواعظین نے کشمیری عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخی جامع مسجد کا یہ مرکز ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا رہا ہے اور اس مرکز کو متعدد بار کبھی ہفتوں اور کبھی مہینوں بند رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں کشمیری عوام کی عبادت و ریاضت کی ادائیگی پر بھی پابندیاں جاری رہیں۔
کشمیر کے مرواعظین میں شہید ملت، میرواعظ مولانا محمد فاروق ایک ایسے جید علام دین اور گزر ے ہیں جن کا نام گرامی کشمیر کی عصری تاریخ میں سنہری الفاظ کے ساتھ رقم ہو چکا ہے اور یہ واحد رہنما ہیں جن کو شہادت کادرجہ نصیب ہوا ہے ۔ گوکہ شہید رہنما اپنی بے باک فطرت ، حق گوئی ، شیرین بیانی اور اپنے حق صداقت پر مبنی اصولی موقف پر دو ٹوک بات کرنے والے رہنما کی حیثیت سے مشہور تھے اور انہوں نے ہمیشہ مشکلات اور مصائب کی پرواہ کئے بغیر اپنے اصولی موقف اور پالیسی کو بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو انکی حق گوئی اور صاف بیانی سے خائف تھے ان کے دشمن ہو گئے اور شہید رہنما کو کبھی قید و بند ، کبھی تعذیت خانوںکی سختیوں اور ہراسانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وقت کے ارباب اقتدار نے اپنے زمانے میں شہید رہنما کو اپنے اصولی موقف سے ہٹانے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیاجو ان کے بس میں تھا مگر یہ شہید رہنما کی ذات تھی کہ انہوں نے ہر طرح کے آلام و مصائب برداشت کئے مگر اپنے اصولی موقف سے سرمو انحراف کرنا گوارا نہیں کیا۔ اپنی اسی حق گوئی اور بے گاکی وجہ سے وہ وقت کی طالع آزما ور مغرور قوتو ں کیلئے ان کی نظر میں وہ خطرہ بنے ہوئے تھے اور ان قوتوں نے شہید ملت کو ہراساں کرنے کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔
21مئی1990کا سورج جب اپنی تمام جلوتوں کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ دن کشمیر کی عصری تاریخ کا ایک اندوہناک اور یادگار دن بن جائیگا۔ وقت کے سر پھرے اور مغرور قوتوں نے اپنی عنا پرستی میں مبتلا ہوکر میرواعظ کشمیر کو شہادت کے منصب پر فائز کردیا۔ سارا کشمیر سراپا احتجاج ہر جگہ ماتم کی صدائیں، آہ و نعلیں ، لاکھوں کا ہجوم ، شہید رہنما کے جنازے کے ہمراہ چل رہا تھا کہ وقت کے مغرور حکمران کے اشارے پر بندقوں کے دہانے کھول دیئے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے حول چوک سرینگر شہدوں کی لاشوں سے بھر گیا ۔ وقت کے مورخ نے اس خون آشان واقعہ کو اپنے اوراق میں رقم کردیا اور آج جبکہ یہ قوم اپنے شہید رہنما کی35ویں برسی منارہی ہے لیکن ان کی یاد آج بھی قوم کے نہاں خانوں میں موجود ہے ۔ یہ قوم آج بھی اپنے شہید قائد کی جدائی میں اتنی ہی غمزدہ ہے جتنی روز اول تھی۔
شہید رہنما نے اپنے حصے کا کام کرکے اپنی جان ، جان آفرین کے حوالے کرتو دی مگر انکا مقصد اور نظریہ اب بھی تشنہ تکمیل ہے ۔ یہ قوم آج بھی امن وسکون اور عزت و وقار کی تلاش میں سرگرداں ہے اور اپنے محفوظ مستقبل کیلئے انتہائی مشکلات اور مصائب سے دوچار ہے اور ہرگزرتا دن اس قوم کو نئی آزمائشوں اور امتحانات سے دوچار کررہا ہے کیونکہ آج بھی ابن الوقت حکمران اس قوم کو عزت و انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی عزت نفس کو پامال کرنے میں لگے ہیں اور سب سےبڑی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ غیروں کے بجائے اپنوں کی کرم فرمائیاں اس قوم کیلئے سوہان روح بنی ہوئی ہے گوکہ کشمیر کے موجودہ میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اپنے شہید والد کے حق و اصول پر مبنی نظریے کو آگے بڑھانے اور ستم رسیدہ قوم کی سیاسی ، دینی اور سماجی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کیلئے کوشاں ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ۱۹۹۰ سے آج تک جہلم میں بہت پانی بہہ چکا اور حالات و واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ موجودہ میرواعظ کیلئے منزل کا حصول کوئی آسان ہدف نہیں ہے اور آگے بڑھنے کا عمل ان کے لئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے تاہم امید رکھنی چاہئے کہ ظلمت کے اندھیرے میں کم سے کم موجودہ میرواعظ کی صورت میں ایک چراغ تو جل رہا ہے اور دعا کرنی چاہئے کہ جناب میرواعظ اپنے اسلاف اور اکابرین کی شاندار روایات اور تاریخ کو نظر میں رکھ کر اپنے حدف کے حصول میں مشکلات کو آڑے آنے نہیں دیں گے اور ایک دن ضرور آئیگا جب شہید ملت کے خوابوں کی تعبیر اس قوم کو مل جائیگی اور یہ قوم عز ت وآبرو کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہنر سیکھے گی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قوم قیادت پر اعتماد اور استقامت کا مظاہرہ کرے اور اپنےپایہ استقلال میں لغزش نہ آنے دے۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریقس
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

شہید ملت ’’ایک خواب جو شرمندئہ تعبیر نہ ہوا‘‘

غلام حسن مجروحؔ

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر کے میر واعظین کی دینی ،سیاسی ،مذہبی اور سماجی خدمات و تبلیغ و اشاعت سے عبارت تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور تاریخ کے ہر دور میں اس خاندان کے سربرا ٓوردہ شخصیات نے کشمیر عوام کی سیاسی، دینی اور سماجی سطح پر رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے ساتھ ساتھ ہر مشکل وقت میں یہاں کی عوام کو نہ صرف سہارا دیا ہے بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی یہ قوم کسی آزمائش او ابتلاسے دوچار ہوئی تو میرواعظین نے وقت کے حکمرانوں کی جارحانہ روش کے باوجود خود کو پہلے صف میں کھڑا کر دیا جامع مسجد کے منبر و محراب آج بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ صدیوں سے اس تاریخی منبر سے میرواعظین نے کشمیری عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تاریخی جامع مسجد کا یہ مرکز ہمیشہ وقت کے حکمرانوں کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا رہا ہے اور اس مرکز کو متعدد بار کبھی ہفتوں اور کبھی مہینوں بند رکھنے کے ساتھ ساتھ یہاں کشمیری عوام کی عبادت و ریاضت کی ادائیگی پر بھی پابندیاں جاری رہیں۔
کشمیر کے مرواعظین میں شہید ملت، میرواعظ مولانا محمد فاروق ایک ایسے جید علام دین اور گزر ے ہیں جن کا نام گرامی کشمیر کی عصری تاریخ میں سنہری الفاظ کے ساتھ رقم ہو چکا ہے اور یہ واحد رہنما ہیں جن کو شہادت کادرجہ نصیب ہوا ہے ۔ گوکہ شہید رہنما اپنی بے باک فطرت ، حق گوئی ، شیرین بیانی اور اپنے حق صداقت پر مبنی اصولی موقف پر دو ٹوک بات کرنے والے رہنما کی حیثیت سے مشہور تھے اور انہوں نے ہمیشہ مشکلات اور مصائب کی پرواہ کئے بغیر اپنے اصولی موقف اور پالیسی کو بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جو انکی حق گوئی اور صاف بیانی سے خائف تھے ان کے دشمن ہو گئے اور شہید رہنما کو کبھی قید و بند ، کبھی تعذیت خانوںکی سختیوں اور ہراسانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
وقت کے ارباب اقتدار نے اپنے زمانے میں شہید رہنما کو اپنے اصولی موقف سے ہٹانے کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیاجو ان کے بس میں تھا مگر یہ شہید رہنما کی ذات تھی کہ انہوں نے ہر طرح کے آلام و مصائب برداشت کئے مگر اپنے اصولی موقف سے سرمو انحراف کرنا گوارا نہیں کیا۔ اپنی اسی حق گوئی اور بے گاکی وجہ سے وہ وقت کی طالع آزما ور مغرور قوتو ں کیلئے ان کی نظر میں وہ خطرہ بنے ہوئے تھے اور ان قوتوں نے شہید ملت کو ہراساں کرنے کا کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا۔
21مئی1990کا سورج جب اپنی تمام جلوتوں کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوا تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ دن کشمیر کی عصری تاریخ کا ایک اندوہناک اور یادگار دن بن جائیگا۔ وقت کے سر پھرے اور مغرور قوتوں نے اپنی عنا پرستی میں مبتلا ہوکر میرواعظ کشمیر کو شہادت کے منصب پر فائز کردیا۔ سارا کشمیر سراپا احتجاج ہر جگہ ماتم کی صدائیں، آہ و نعلیں ، لاکھوں کا ہجوم ، شہید رہنما کے جنازے کے ہمراہ چل رہا تھا کہ وقت کے مغرور حکمران کے اشارے پر بندقوں کے دہانے کھول دیئے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے حول چوک سرینگر شہدوں کی لاشوں سے بھر گیا ۔ وقت کے مورخ نے اس خون آشان واقعہ کو اپنے اوراق میں رقم کردیا اور آج جبکہ یہ قوم اپنے شہید رہنما کی35ویں برسی منارہی ہے لیکن ان کی یاد آج بھی قوم کے نہاں خانوں میں موجود ہے ۔ یہ قوم آج بھی اپنے شہید قائد کی جدائی میں اتنی ہی غمزدہ ہے جتنی روز اول تھی۔
شہید رہنما نے اپنے حصے کا کام کرکے اپنی جان ، جان آفرین کے حوالے کرتو دی مگر انکا مقصد اور نظریہ اب بھی تشنہ تکمیل ہے ۔ یہ قوم آج بھی امن وسکون اور عزت و وقار کی تلاش میں سرگرداں ہے اور اپنے محفوظ مستقبل کیلئے انتہائی مشکلات اور مصائب سے دوچار ہے اور ہرگزرتا دن اس قوم کو نئی آزمائشوں اور امتحانات سے دوچار کررہا ہے کیونکہ آج بھی ابن الوقت حکمران اس قوم کو عزت و انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان کی عزت نفس کو پامال کرنے میں لگے ہیں اور سب سےبڑی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ غیروں کے بجائے اپنوں کی کرم فرمائیاں اس قوم کیلئے سوہان روح بنی ہوئی ہے گوکہ کشمیر کے موجودہ میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اپنے شہید والد کے حق و اصول پر مبنی نظریے کو آگے بڑھانے اور ستم رسیدہ قوم کی سیاسی ، دینی اور سماجی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کیلئے کوشاں ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ۱۹۹۰ سے آج تک جہلم میں بہت پانی بہہ چکا اور حالات و واقعات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ موجودہ میرواعظ کیلئے منزل کا حصول کوئی آسان ہدف نہیں ہے اور آگے بڑھنے کا عمل ان کے لئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے تاہم امید رکھنی چاہئے کہ ظلمت کے اندھیرے میں کم سے کم موجودہ میرواعظ کی صورت میں ایک چراغ تو جل رہا ہے اور دعا کرنی چاہئے کہ جناب میرواعظ اپنے اسلاف اور اکابرین کی شاندار روایات اور تاریخ کو نظر میں رکھ کر اپنے حدف کے حصول میں مشکلات کو آڑے آنے نہیں دیں گے اور ایک دن ضرور آئیگا جب شہید ملت کے خوابوں کی تعبیر اس قوم کو مل جائیگی اور یہ قوم عز ت وآبرو کے ساتھ زندگی گزارنے کا ہنر سیکھے گی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ قوم قیادت پر اعتماد اور استقامت کا مظاہرہ کرے اور اپنےپایہ استقلال میں لغزش نہ آنے دے۔
ہزار خوف ہوں لیکن زبان ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریقس
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں