غزل- ہلال بخاری

ہلال بخاری
میرا دل خوشی کو ترستا نہیں ہے ،
بجا غم ہی اسکو ، کہ گمراہ نہیں ہے۔
فضاؤں کی حسرت تو رہتی ہے دل میں،
نہ ہو آگ اس میں، تو پختا نہیں ہے۔
تیری کاہلی کی وجہ اور کیا ہے؟
تو قیمت کو اپنی سمجھتا نہیں ہے۔
تو سنتا ہے سب کچھ، مگر میری خاطر ،
میرا نالہ دل بھی سنتا نہیں ہے۔
بہت کر چکا ہم کو رسوا زمانہ،
مگر بن ترے دل بہلتا نہیں ہے۔
عمل اور لگن سے سجالے مقدر،
فقط خواب سے یہ سنورتا نہیں ہے۔
ہلال وہ ملے تو رہا کون سا غم؟
"مگر زندگی کا بھروسہ نہیں ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

غزل- ہلال بخاری

ہلال بخاری
میرا دل خوشی کو ترستا نہیں ہے ،
بجا غم ہی اسکو ، کہ گمراہ نہیں ہے۔
فضاؤں کی حسرت تو رہتی ہے دل میں،
نہ ہو آگ اس میں، تو پختا نہیں ہے۔
تیری کاہلی کی وجہ اور کیا ہے؟
تو قیمت کو اپنی سمجھتا نہیں ہے۔
تو سنتا ہے سب کچھ، مگر میری خاطر ،
میرا نالہ دل بھی سنتا نہیں ہے۔
بہت کر چکا ہم کو رسوا زمانہ،
مگر بن ترے دل بہلتا نہیں ہے۔
عمل اور لگن سے سجالے مقدر،
فقط خواب سے یہ سنورتا نہیں ہے۔
ہلال وہ ملے تو رہا کون سا غم؟
"مگر زندگی کا بھروسہ نہیں ہے۔”

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون