زلفوں کا رقص یا وقار کی لغزش

مسعود محبوب خان

اسلام ایک ایسا ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے حدود و قیود متعین کرتا ہے۔ تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور روایات انسانی معاشرت کا حصہ ضرور ہیں، لیکن ان کی قبولیت کا معیار شریعت، حیاء اور اخلاق کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اگر کوئی ثقافتی مظہر ان اصولوں سے ہم آہنگ ہو تو قابلِ قبول ہے، وگرنہ وہ فتنہ اور بے راہ روی کا سبب بن سکتا ہے۔
عورت کو اسلام میں عزّت، وقار اور حیاء کا پیکر قرار دیا گیا ہے۔ اس کی شخصیت کو محض جسمانی اظہار یا تفریح کا ذریعہ بنانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کو معاشرتی بنیاد، نسلوں کی محافظ اور ایمان کا معیار قرار دیا۔ ایسے میں اگر کوئی ثقافتی مظاہرہ عورت کو "تماشے” کا جزو بنا دے، تو وہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں قابلِ تنقید ٹھہرتا ہے۔
حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کے موقع پر "النشاعت” نامی روایتی خلیجی رقص کے ذریعے پیش کیا گیا منظر محض ثقافتی نہیں، بلکہ فکری اور دینی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خلیجی لباس میں ملبوس نوجوان خواتین نے رقص کے ذریعے اپنے بالوں کا لہرانا اور مخصوص حرکات کے ذریعے مہمان کا استقبال کیا، جو بظاہر مقامی روایت تھی مگر اس موقع پر اس کی پیشکش نے کئی سطحوں پر تنقید کو دعوت دی۔
"النشاعت” دراصل متحدہ عرب امارات اور عمان کی بدوی ثقافت سے جڑا ایک نسوانی رقص ہے، جو قبائلی سماج میں اعتماد، حوصلے اور وفاداری کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں یہ محفلوں، شادیوں یا قبائلی مجالس میں خواتین کے لیے مخصوص اور محدود ماحول میں ہوتا تھا۔ لیکن اب ریاستی سطح پر اسے بین الاقوامی مہمانوں کے استقبال کے لیے اسٹیجڈ مظاہرے کی صورت میں پیش کیا جانے لگا ہے، جس سے اس کی اصل روح متاثر ہو رہی ہے۔
رقص، موسیقی اور ثقافت ہر قوم کی شناخت ہوتے ہیں، لیکن جب یہی مظاہر عالمی سیاست کے لیے نمائشی اسباب بن جائیں تو ان کی معنویت مشکوک ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر جب استقبال کسی ایسے عالمی رہنما کا ہو جس کی مسلم دنیا سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہو، تو یہ محض ثقافت کا اظہار نہیں رہتا بلکہ سیاسی علامت بن جاتا ہے۔
"النشاعت” کا جو منظر ٹرمپ کی آمد پر ترتیب دیا گیا، وہ بظاہر ایک ثقافتی پیشکش تھی، مگر اس کی علامتی حیثیت اور وقت نے اسے ایک فکری سوال بنا دیا۔ کیا ثقافت کو صرف نمائشی شو تک محدود کر دینا درست ہے؟ کیا عورت کی شرکت ایسے مظاہروں میں وقار کے مطابق ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس منظر کو محض تفریح نہیں، بلکہ تہذیبی مکالمے کا موضوع بنا دیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ خلیجی ممالک نے اپنی مقامی ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کوشش تبھی بامعنی بن سکتی ہے جب اس میں اقدار، تہذیبی وقار اور شریعت کے تقاضوں کی پاسداری ہو۔ بصورتِ دیگر، ثقافتی اظہار ایک نمائشی تماشا بن کر رہ جاتا ہے، جس میں عورت کی شخصیت صرف جسمانی حرکات اور لباس کی نمائندگی تک محدود ہو جاتی ہے۔
اسلام ثقافت کا مخالف نہیں، بلکہ اسے قوم کی شناخت اور حسن کا مظہر سمجھتا ہے، بشرطیکہ وہ مظاہر حدودِ شریعت میں ہوں، حیاء اور اخلاق کے دائرے میں رہیں، اور انسان کی عزت و حرمت کو مجروح نہ کریں۔ اگر کوئی ثقافتی عمل ان اصولوں کے برعکس ہو، تو وہ قابلِ اعتراض ہی نہیں بلکہ قابلِ اصلاح بھی ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ایسی روایات کو ان کی اصل تہذیبی روح کے ساتھ پیش کیا جائے، جہاں عورت کا کردار وقار، پردے اور عزت کا مظہر ہو، نہ کہ وہ صرف ایک "استقبالی منظر” یا "سیاسی پیغام” کا جزو بن جائے۔
لباسِ رقص میں چھپ گئی روحِ قبیلہ
تاریخ کا سینہ کر گیا حرفِ تماشا

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

زلفوں کا رقص یا وقار کی لغزش

مسعود محبوب خان

اسلام ایک ایسا ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے حدود و قیود متعین کرتا ہے۔ تہذیب و ثقافت، رسم و رواج اور روایات انسانی معاشرت کا حصہ ضرور ہیں، لیکن ان کی قبولیت کا معیار شریعت، حیاء اور اخلاق کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اگر کوئی ثقافتی مظہر ان اصولوں سے ہم آہنگ ہو تو قابلِ قبول ہے، وگرنہ وہ فتنہ اور بے راہ روی کا سبب بن سکتا ہے۔
عورت کو اسلام میں عزّت، وقار اور حیاء کا پیکر قرار دیا گیا ہے۔ اس کی شخصیت کو محض جسمانی اظہار یا تفریح کا ذریعہ بنانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے عورت کو معاشرتی بنیاد، نسلوں کی محافظ اور ایمان کا معیار قرار دیا۔ ایسے میں اگر کوئی ثقافتی مظاہرہ عورت کو "تماشے” کا جزو بنا دے، تو وہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں قابلِ تنقید ٹھہرتا ہے۔
حال ہی میں متحدہ عرب امارات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے استقبال کے موقع پر "النشاعت” نامی روایتی خلیجی رقص کے ذریعے پیش کیا گیا منظر محض ثقافتی نہیں، بلکہ فکری اور دینی سطح پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خلیجی لباس میں ملبوس نوجوان خواتین نے رقص کے ذریعے اپنے بالوں کا لہرانا اور مخصوص حرکات کے ذریعے مہمان کا استقبال کیا، جو بظاہر مقامی روایت تھی مگر اس موقع پر اس کی پیشکش نے کئی سطحوں پر تنقید کو دعوت دی۔
"النشاعت” دراصل متحدہ عرب امارات اور عمان کی بدوی ثقافت سے جڑا ایک نسوانی رقص ہے، جو قبائلی سماج میں اعتماد، حوصلے اور وفاداری کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ ماضی میں یہ محفلوں، شادیوں یا قبائلی مجالس میں خواتین کے لیے مخصوص اور محدود ماحول میں ہوتا تھا۔ لیکن اب ریاستی سطح پر اسے بین الاقوامی مہمانوں کے استقبال کے لیے اسٹیجڈ مظاہرے کی صورت میں پیش کیا جانے لگا ہے، جس سے اس کی اصل روح متاثر ہو رہی ہے۔
رقص، موسیقی اور ثقافت ہر قوم کی شناخت ہوتے ہیں، لیکن جب یہی مظاہر عالمی سیاست کے لیے نمائشی اسباب بن جائیں تو ان کی معنویت مشکوک ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر جب استقبال کسی ایسے عالمی رہنما کا ہو جس کی مسلم دنیا سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کی جاتی رہی ہو، تو یہ محض ثقافت کا اظہار نہیں رہتا بلکہ سیاسی علامت بن جاتا ہے۔
"النشاعت” کا جو منظر ٹرمپ کی آمد پر ترتیب دیا گیا، وہ بظاہر ایک ثقافتی پیشکش تھی، مگر اس کی علامتی حیثیت اور وقت نے اسے ایک فکری سوال بنا دیا۔ کیا ثقافت کو صرف نمائشی شو تک محدود کر دینا درست ہے؟ کیا عورت کی شرکت ایسے مظاہروں میں وقار کے مطابق ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس منظر کو محض تفریح نہیں، بلکہ تہذیبی مکالمے کا موضوع بنا دیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ خلیجی ممالک نے اپنی مقامی ثقافت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ کوشش تبھی بامعنی بن سکتی ہے جب اس میں اقدار، تہذیبی وقار اور شریعت کے تقاضوں کی پاسداری ہو۔ بصورتِ دیگر، ثقافتی اظہار ایک نمائشی تماشا بن کر رہ جاتا ہے، جس میں عورت کی شخصیت صرف جسمانی حرکات اور لباس کی نمائندگی تک محدود ہو جاتی ہے۔
اسلام ثقافت کا مخالف نہیں، بلکہ اسے قوم کی شناخت اور حسن کا مظہر سمجھتا ہے، بشرطیکہ وہ مظاہر حدودِ شریعت میں ہوں، حیاء اور اخلاق کے دائرے میں رہیں، اور انسان کی عزت و حرمت کو مجروح نہ کریں۔ اگر کوئی ثقافتی عمل ان اصولوں کے برعکس ہو، تو وہ قابلِ اعتراض ہی نہیں بلکہ قابلِ اصلاح بھی ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ایسی روایات کو ان کی اصل تہذیبی روح کے ساتھ پیش کیا جائے، جہاں عورت کا کردار وقار، پردے اور عزت کا مظہر ہو، نہ کہ وہ صرف ایک "استقبالی منظر” یا "سیاسی پیغام” کا جزو بن جائے۔
لباسِ رقص میں چھپ گئی روحِ قبیلہ
تاریخ کا سینہ کر گیا حرفِ تماشا

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں