انسان کا اصلی مقصدِ حیات

شیخ افلاق حسین سیمانی
ترال، کشمیر

ربّ العزّت نے اس کائنات میں انسان کو جو شرف و مرتبہ اور قدرو منزلت عطا کی ہے ، دنیا کی دیگر مخلوقات اس عزت افزائی سے محروم ہیں۔ انسان کی ذرہ نوازی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللّہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کو پیدا کرنے اور اسے زمین میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر بھیجنے سے متعلق اپنے ارادے کا اظہار فرمایا۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
”اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔“ (البقرہ)
خلیفہ درحقیقت نائب کو کہتے ہیں۔ اور ہر انسان اللّہ تعالیٰ کا خلیفہ یعنی نائب ہے ، اب جب انسان زمین پر اللّہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ اب بحثیت نائب انسان کا کام یہ ہے کہ جو ہدایت اللّہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے اس پر تو بے چون و چرا عمل کرے اور جس معاملے میں کوئی واضح ہدایت نہیں ہے وہاں غور و فکر اور سوچ بچار کرے اور استنباط و اجتہاد سے کام لیتے ہوئے جو بات روح دین سے زیادہ سے زیادہ مطابقت رکھنے والی ہو اسے اختیار کرے۔ یہی درحقیقت رشتۂ خلافت ہے جو اللّہ تعالیٰ اور انسان کے مابین ہے۔لیکن جو اللّہ تعالیٰ کا باغی ہوجائے ، جو خود حاکمیت کا مدعی ہوجائے تو وہ اس خلافت کے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔خلافت کا لفظ استعمال ہوا تو فرشتے سمجھ گئے کہ انسان کو زمین میں کوئی نہ کوئی اختیار بھی ملے گا۔ ظاہر بات ہے جہاں اختیار ہوگا وہاں اس کے صحیح استعمال کا بھی امکان ہے اور غلط کا بھی۔ پولٹیکل سائنس کا تو یہ مسلمہ اصول axiom ہے :
” Authority tends to corrupt and absolute authority corrupts absolutely.”
نبی محترمﷺ نے فرمایا :
”دنیا مٹھاس والی اور سرسبز شاداب ہے۔ اللّہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلافت ( جانشینی) کا منصب عطا کرنے والا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو “۔
اللّہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے بندے کو نوازا ہے وہ ان کا مالک نہیں ہے، اصل مالک رب ہے، انسان کو صرف خلافت و نیابت کا منصب دیا گیا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ جو چیزیں اس کے پاس ہیں، ان میں اصل مالک کی مرضی پوری کرے۔پھر جب اللّہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی ، اس کے بعد انسان کی عزت افزائی اور فضیلت بیان کرنے کے لیے فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس انسان (حضرت آدم ) کو سجدہ کرو۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرشتے اللّہ تعالیٰ کی عبادت، تسبیح کر رہے تھے تو انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ ربّ العزّت نے دُنیا میں کوئی بھی شے بے مقصد پیدا نہیں کی، تو انسان کو پیدا کرنے کا کیا مقصد تھا۔
اللّہ تعالیٰ کا فرمان ھے :
” میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں“۔
شیخ سعدی رح فرماتے ہیں :
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللّہ تعالیٰ صرف جنوں اور انسانوں ہی کا خالق و مالک تو نہیں ہے۔ بلکہ سارے جہاں اور اس کی ہر چیز کا خالق ہے، پھر یہاں صرف جنوں اور انسانوں ہی کے متعلق کیوں فرمایا گیا کہ میں نے جن و انس کو اپنے بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ حالانکہ مخلوقات کا ذرہ ذرہ اللّہ تعالیٰ ہی کی بندگی کے لیے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زمین پر صرف جن اور انسان ایسی مخلوق ہیں جن کو یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں اللّہ تعالیٰ کی بندگی کرنا چاہیں تو کریں، ورنہ وہ بندگی سے منہ بھی موڑ سکتے ہیں، اور اللّہ کے سوا دوسروں کی بندگی بھی کرسکتے ہیں۔
لفظ بندگی کا استعمال کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللّہ تعالیٰ ہی جن و انس کا خالق و مالک ہے ، تو بحثیت خالق، اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اے جن و انس تمہیں اللّہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی اور کی بندگی، پرستش، اطاعت، فرمانبرداری اور نیاز مندی کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ اور نہ تمہارا کام کسی اور کے سامنے جھکنا ہے ، نہ کسی اور کے احکام بجا لانا ہے، نہ کسی اور سے تقویٰ کرنا ہے، نہ کسی اور کے بنائے ہوئے دین کی پیروی کرنی ہے، نہ کسی اور کو اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھنا ہے ، اور نہ کسی دوسری ہستی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا ہے۔
امام ابن تیمیہ عبادت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”عبادت ایک جامع لفظ ہے، یعنی ہر وہ کام جو اللّہ تعالیٰ کو پسند ہو، خواہ اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے، اسے عبادت کہا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے انسان جو لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتا ہے وہ بھی موجب ثواب ہے۔“
انسان کو مقصدِ حیات یاد دلانے اور اس پر کار بند رکھنے کے لیے ہر دور میں انبیاء علیہم السلام آتے رہے۔
اللّہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ "اللّہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو، اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللّہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی ، پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے“۔
نبی محترم ﷺ نے ارشا فرمایا:”جانتے ہو ایمان میں سب سے مضبوط عمل کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نماز، فرمایا: بے شک نماز کا تو کیا کہنا ہے، لیکن اس کا دائرہ دوسرا ہے۔ ہم نے عرض کیا تو پھر روزے، آپﷺ نے اس پر بھی یہی فرمایا، یہاں تک کہ ہم نے جہاد کا نام لیا تو اس پر بھی آپﷺ نے یہی ارشاد فرمایا، اس کے بعد فرمایا : سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ اللّہ ہی کے لیے دوستی اور اللّہ ہی کے لیے دشمنی، اسی کے نام پر محبت اور اسی کے نام پر بغض رکھنا۔“
اگر انسان کی زندگی سے اپنے خالق کی عبادت اور بندگی کو خارج کر دیا جائے تو پھر اس کے اشرف المخلوقات کہلانے اور خود کو افضل المخلوقات سمجھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں : کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم ! میر ی عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرلے، میں تیرا سینہ مال داری اور غنی (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو تجھ سے دور کردوں گا ، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے دونوں ہاتھوں کو دنیا کے دھندوں اور کاموں سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو بھی دور نہ کروں گا۔“
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنے مقصدِ حیات کو سمجھے اور اپنے رب سے اپنا تعلق مضبوط کرے ، کیونکہ اسی میں بندے کی فلاح و کامیابی ہے اور ہمیشہ کے لیے کامرانی ہے۔
اللّہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مقصدِ حیات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

انسان کا اصلی مقصدِ حیات

شیخ افلاق حسین سیمانی
ترال، کشمیر

ربّ العزّت نے اس کائنات میں انسان کو جو شرف و مرتبہ اور قدرو منزلت عطا کی ہے ، دنیا کی دیگر مخلوقات اس عزت افزائی سے محروم ہیں۔ انسان کی ذرہ نوازی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللّہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کو پیدا کرنے اور اسے زمین میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر بھیجنے سے متعلق اپنے ارادے کا اظہار فرمایا۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
”اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔“ (البقرہ)
خلیفہ درحقیقت نائب کو کہتے ہیں۔ اور ہر انسان اللّہ تعالیٰ کا خلیفہ یعنی نائب ہے ، اب جب انسان زمین پر اللّہ تعالیٰ کا خلیفہ ہے۔ اب بحثیت نائب انسان کا کام یہ ہے کہ جو ہدایت اللّہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے اس پر تو بے چون و چرا عمل کرے اور جس معاملے میں کوئی واضح ہدایت نہیں ہے وہاں غور و فکر اور سوچ بچار کرے اور استنباط و اجتہاد سے کام لیتے ہوئے جو بات روح دین سے زیادہ سے زیادہ مطابقت رکھنے والی ہو اسے اختیار کرے۔ یہی درحقیقت رشتۂ خلافت ہے جو اللّہ تعالیٰ اور انسان کے مابین ہے۔لیکن جو اللّہ تعالیٰ کا باغی ہوجائے ، جو خود حاکمیت کا مدعی ہوجائے تو وہ اس خلافت کے حق سے محروم ہوجاتا ہے۔خلافت کا لفظ استعمال ہوا تو فرشتے سمجھ گئے کہ انسان کو زمین میں کوئی نہ کوئی اختیار بھی ملے گا۔ ظاہر بات ہے جہاں اختیار ہوگا وہاں اس کے صحیح استعمال کا بھی امکان ہے اور غلط کا بھی۔ پولٹیکل سائنس کا تو یہ مسلمہ اصول axiom ہے :
” Authority tends to corrupt and absolute authority corrupts absolutely.”
نبی محترمﷺ نے فرمایا :
”دنیا مٹھاس والی اور سرسبز شاداب ہے۔ اللّہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلافت ( جانشینی) کا منصب عطا کرنے والا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو “۔
اللّہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے بندے کو نوازا ہے وہ ان کا مالک نہیں ہے، اصل مالک رب ہے، انسان کو صرف خلافت و نیابت کا منصب دیا گیا ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ جو چیزیں اس کے پاس ہیں، ان میں اصل مالک کی مرضی پوری کرے۔پھر جب اللّہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کی ، اس کے بعد انسان کی عزت افزائی اور فضیلت بیان کرنے کے لیے فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس انسان (حضرت آدم ) کو سجدہ کرو۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فرشتے اللّہ تعالیٰ کی عبادت، تسبیح کر رہے تھے تو انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی، کیونکہ ربّ العزّت نے دُنیا میں کوئی بھی شے بے مقصد پیدا نہیں کی، تو انسان کو پیدا کرنے کا کیا مقصد تھا۔
اللّہ تعالیٰ کا فرمان ھے :
” میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں“۔
شیخ سعدی رح فرماتے ہیں :
زندگی آمد برائے بندگی
زندگی بے بندگی شرمندگی
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللّہ تعالیٰ صرف جنوں اور انسانوں ہی کا خالق و مالک تو نہیں ہے۔ بلکہ سارے جہاں اور اس کی ہر چیز کا خالق ہے، پھر یہاں صرف جنوں اور انسانوں ہی کے متعلق کیوں فرمایا گیا کہ میں نے جن و انس کو اپنے بندگی کے لیے پیدا کیا ہے۔ حالانکہ مخلوقات کا ذرہ ذرہ اللّہ تعالیٰ ہی کی بندگی کے لیے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ زمین پر صرف جن اور انسان ایسی مخلوق ہیں جن کو یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں اللّہ تعالیٰ کی بندگی کرنا چاہیں تو کریں، ورنہ وہ بندگی سے منہ بھی موڑ سکتے ہیں، اور اللّہ کے سوا دوسروں کی بندگی بھی کرسکتے ہیں۔
لفظ بندگی کا استعمال کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللّہ تعالیٰ ہی جن و انس کا خالق و مالک ہے ، تو بحثیت خالق، اللّہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے، اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اے جن و انس تمہیں اللّہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی اور کی بندگی، پرستش، اطاعت، فرمانبرداری اور نیاز مندی کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ اور نہ تمہارا کام کسی اور کے سامنے جھکنا ہے ، نہ کسی اور کے احکام بجا لانا ہے، نہ کسی اور سے تقویٰ کرنا ہے، نہ کسی اور کے بنائے ہوئے دین کی پیروی کرنی ہے، نہ کسی اور کو اپنی قسمتوں کا بنانے اور بگاڑنے والا سمجھنا ہے ، اور نہ کسی دوسری ہستی کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلانا ہے۔
امام ابن تیمیہ عبادت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”عبادت ایک جامع لفظ ہے، یعنی ہر وہ کام جو اللّہ تعالیٰ کو پسند ہو، خواہ اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے، اسے عبادت کہا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے انسان جو لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتا ہے وہ بھی موجب ثواب ہے۔“
انسان کو مقصدِ حیات یاد دلانے اور اس پر کار بند رکھنے کے لیے ہر دور میں انبیاء علیہم السلام آتے رہے۔
اللّہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ "اللّہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو، اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللّہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی ، پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے“۔
نبی محترم ﷺ نے ارشا فرمایا:”جانتے ہو ایمان میں سب سے مضبوط عمل کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نماز، فرمایا: بے شک نماز کا تو کیا کہنا ہے، لیکن اس کا دائرہ دوسرا ہے۔ ہم نے عرض کیا تو پھر روزے، آپﷺ نے اس پر بھی یہی فرمایا، یہاں تک کہ ہم نے جہاد کا نام لیا تو اس پر بھی آپﷺ نے یہی ارشاد فرمایا، اس کے بعد فرمایا : سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ اللّہ ہی کے لیے دوستی اور اللّہ ہی کے لیے دشمنی، اسی کے نام پر محبت اور اسی کے نام پر بغض رکھنا۔“
اگر انسان کی زندگی سے اپنے خالق کی عبادت اور بندگی کو خارج کر دیا جائے تو پھر اس کے اشرف المخلوقات کہلانے اور خود کو افضل المخلوقات سمجھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں : کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللّہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم ! میر ی عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرلے، میں تیرا سینہ مال داری اور غنی (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو تجھ سے دور کردوں گا ، اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرے دونوں ہاتھوں کو دنیا کے دھندوں اور کاموں سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو بھی دور نہ کروں گا۔“
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنے مقصدِ حیات کو سمجھے اور اپنے رب سے اپنا تعلق مضبوط کرے ، کیونکہ اسی میں بندے کی فلاح و کامیابی ہے اور ہمیشہ کے لیے کامرانی ہے۔
اللّہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مقصدِ حیات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں