مضبوط خارجہ پالیسی و سفارتکاری لازم و ملزوم

سراج نقوی

ایسے وقت میں کہ جب ہماری بہادر افواج نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کوتباہ کرکے اپنی شجاعت اور جنگی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے ، ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری نے ہر محب وطن ہندوستانی کو فکرمندکیا ہے۔ہماری سفارتکاری میں کہاں کیا خامیاں ہیں اس کا تفصیلی تجزیہ کرنا تو حکومت اور محکمہ خارجہ کا کام ہے،لیکن اس میںشک نہیں کہ ہم پاکستان کے تعلق سے اپنے موقف کو دنیا کے سامنے مضبوطی سے نہیں رکھ سکے ،اور عالمی برادری سے اس معاملے میں وہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے کہ جس کی اس وقت ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ حکومت کی تمام تر کمزوریوں اور چوک کے باوجود اس نازک وقت میں پورا ملک خصوصاً اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔اس سے حکومت کو اپنے فیصلے لینے میں یقیناً آسانی ہوئی ہوگی،لیکن داخلی سطح پر اس کامیابی کے باوجود ہم نے سفارتکاری کی سطح پر اس مضبوطی اور واضح موقف کا مظاہرہ نہیں کیا کہ جس کی فی الوقت ضرورت ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر پڑوسی ممالک یا تو اس وقت خاموشی سے پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کا تماشہ دیکھ رہے ہیںیا پھر چند ممالک کھل کر پاکستان کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔ہماری قومی قیادت کو شائد یہ احساس تک نہیں کہ سفارتی سطح پر ہمارا کمزور موقف ہمیں کیا کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔’’وشو گرو ‘‘بننے کے لیے پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس موقع کا سفارتی مہارت کے ساتھ استعمال اپنی سیاسی،دفاعی اور اقتصادی برتری کو ثابت کرنے کے لیے بھی کرتے اور ایسی حکمت عملی اختیار کرتے کہ پاکستان دہشت گردوں کی کھلی حمایت کرنے کے نتیجے میں عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ جاتا،لیکن ہو ا اس کے برعکس۔صورتحال یہ ہے کہ جنھیں ہم اپنا دوست سمجھنے کی غلط فہمیاں پالے ہوئے ہیں وہ ہماری جڑیں کا ٹنے پر آمادہ ہیں،یا پھر غیر جانبدارہونے کاڈرامہ کرتے ہوئے ہماری پاکستان سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔یہ بات اہم سہی کہ اس جنگ میں ہم بھاری پڑے ،لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دنیابھر میں ہماری دفاعی طاقت کے تعلق سے کیا پیغام گیا۔ہم ’وشو گرو‘بننے کی اپنی صلاحیت کو کس حد تک دنیا کے سامنے ثابت کر پائے۔
ہندوستان وپاکستان کے اس تازہ ٹکرائو میں تین بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ دو علاقائی طاقتوں کا بھی ایک رول رہا۔عالمی طاقتوں میں امریکہ،روس اور چین شامل ہیں۔جبکہ بڑی علاقائی طاقتوں میں ترکی،ایران اور اسرائیل شامل ہیں۔حالانکہ ہماری فوج نے جو رافیل طیارے استعمال کیے وہ فرانس سے خریدے گئے تھے ،لیکن جنگ بندی یا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں فرانس کا کوئی رول نہیں رہا۔روس ہمارا پرانا اور آزمودہ دوست ہے ۔روسی فوجی ساز و سامان نے ہماری فوج کو مضبوطی بھی دی اس میں کوئی شک نہیں،لیکن ہمیشہ سفارتی سطح پر ہماری حمایت میں کھڑا ہونے والا روس اس موقع پر خاموش رہا،اور اس کا سبب خود ہماری حکومت کا روس کے تعلق سے سرد سفارتی رویہ ہے۔جب سے ہماری حکومت نے امریکہ سے پیار کی پینگیں بڑھائی ہیں روس سے ہمارے دوطرفہ رشتوں میں سرد مہری آئی ہے۔یہی سبب ہے کہ پاکستان کیخلاف ہماری فوجی کارروائی میں روس نے خاموش اور غیر جانبدار رہنا ہی بہتر سمجھا۔جبکہ دوسری طرف ہمارا دوسرا بڑا پڑوسی چین اس موقع پر اس طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا کہ اس نے بہت واضح الفاظ میں اس تعلق سے اپنے موقف کا اعلان بھی کیا ۔چین کے تعلق سے موجودہ حکومت کی پالیسی ناقابلِ فہم رہی ہے۔داخلی سطح پر اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے میں حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتی رہی ہیں،اور یہ دعویٰ بھی کرتی رہی ہیں کہ چین ہماری کئی ہزار کلو میٹر زمین پر قبضہ کیے ہوئے ہے،لیکن اس معاملے میں حکومت نے کبھی کوئی وضاحتی بیان تک جاری کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔حالانکہ یہ ملک کی سا لمیت سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر پورے ملک کو اعتماد میں میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔بہرحال مختصر یہ کہ پاکستان سے ہمارے حالیہ ٹکرائو میں چین پاکستان کے ساتھ کھل کر کھڑا نظر آیا،اور اس کا دفاعی سطح پر ہمیں کتنا نقصان اٹھانا پڑا اس بارے میں دفاعی ماہرین ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔یعنی ایک طرف تو ہم روس کی ہم نوائی حاصل کرنے اور دوسری طرف چین کو اس تنازعہ سے دور رکھنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔
شائد ہم نے سفارتی سطح پر اس کی کوئی کوشش تک نہیں کی۔اپنا کوئی نمائیندہ روس یا چین نہیں بھیجا،اور
نہ ان ممالک کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح پاکستان ہمارے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے ،اور ان ممالک کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری حمایت کریں۔کیا یہ ہماری سفارتی ناکامی نہیں ہے؟
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ جب ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں جیت حاصل کی تھی تو کس طرح ہمارے ملک میں ’اندھ بھکتوں‘ نے شادیانے بجائے تھے ،اور ہون و پوجا تک کی گئی تھی،لیکن یہ سب چاپلوسی لاحاصل ہی ثابت ہوئی۔صدر ٹرمپ نے ہماری حکومت کے اعلان سے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا کہ امریکہ کی کوششوں سے دونوں ممالک فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔ٹرمپ کے اس اعلان سے ملک کے خود دار طبقے اور اپوزیشن پارٹیوں نے کس قدر ہتک محسوس کی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس معاملے میں حکومت نے کچھ گھنٹے گزر جانے کے بعد جو تردیدی بیان جاری کیا وہ بھی بھی محض خانہ پری ہی تھا۔اس لیے کہ ٹرمپ اور ان کی حکومت اب بھی دنیا بھر میںیہ دعویٰ کرکے ہماری توہین کر رہے ہیں کہ ان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی۔صرف یہی نہیں بلکہ مشرقی وسطیٰ کے دورے کے موقع پر ٹرمپ جس طرح کے بیان دے رہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ’ایپل‘کے سی ای او سے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ’ایپل‘ ہندوستان‘آئی فون بنائے،وہ بھی ہماری توہین کے متررادف ہے۔ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہندوستان نے امریکہ کے سامنے پیشکش کی ہے کہ ہندوستان امریکہ سے امپورٹ کیے جانے والے سامان پر تمام طرح کے ٹیرف ہٹانے کے لیے تیار ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوے کو ہندوستان نے نہ تو رد کیا ہے نہ ہی اس کی تائید کی ہے۔ظاہر ہے یہ موقف بھی ہماری کمزور سفارتکاری اور امریکہ کے سامنے زباں بند رکھنے کی پالیسی کا ہی ثبوت ہے۔
جہاں تک ہندوستان پاکستان جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کا تعلق تو یہ پوری طرح بے بنیاد تو بہرحال نہیں ہو سکتا۔اس لیے کہ جنگ بندی کے تعلق سے پہلی اطلاع ہندوستان کے عوام کو ٹرمپ کے ٹویٹ سے ہی ملی۔اس معاملے کا خاص پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے دونوں ممالک کو ایک ہی خانے میں رکھا ہے اور ہندوستان سے اپنے تمام تر اقتصادی و معاشی رشتوں کے باوجود ہمارے ملک کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔جبکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا،لیکن ایسا نہ ہونا ہماری بھی سفارتی ناکامی ہے۔
ان ممالک کے علاوہ ایران،ترکی اور اسرائیل بھی اس معاملے سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے ۔ایران نے دونوں ممالک کے درمیاں ثالثی کی پیشکش کی تھی،لیکن راست طور پر ایسی کوئی کوشش بہرحال نہیں ہوئی۔البتہ ایرانی وزیر خارجہ نے ہندوستان اور پاکستان کا اس درمیان دورہ ضرور کیا۔اس دورے سے دونوں ممالک کو کیا مدد ملی یہ کہنا تو مشکل ہے ،البتہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد ایک بد زبان یو ٹیوبر نے جس غلیظ زبان میں ایرانی وزیر خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اس کے سبب ہندوستان کو شرمندگی کا سامنا ضرور کرنا پڑا۔ایران نے اس معاملے میں سخت احتجاج درج کرایا اور ہندوستان کو وضاحت دینے اور یو ٹیوبر کے موقف سے عدم اتفاق کا باقاعدہ اعلان کرنا پڑا۔یعنی ہم ایک ایسے روائتی اور دیرینہ دوست کے سامنے شرمندہ ہوئے کہ جس سے ہمارا فی الحال کوئی تنازعہ بھی نہیں ہے اور جس سے ہمارے تجارتی،اقتصادی اور سفارتی رشتے بہت بہتر ہیں۔
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو اسرائیل کی اپنی مجبوریاںہیں۔اس وقت مغربی ممالک میں بھی اس کے خلاف ماحول ہے۔ایسے میں اسرائیل کے ذریعہ ہندوستان کی حمایت کرنا قابلِ فہم ہے اور اس میں اس کے تجارتی مفادات کا بھی دخل ہے۔
بہرحال جہاں تک پاکستان کی حمایت کا تعلق ہے تو چین کی کھلی اور امریکہ کی درپردہ حمایت کے بعد ترکی نے جس طرح پاکستان کی کھلی حمایت کی اور پاکستان کو دفاعی ساز و سامان بھیجا وہ بھی ہمارے لیے بڑا جھٹکا ہے۔ترکی سے ہمارے رشتے بہت بہتر نہ سہی ،لیکن اتنے خراب بھی نہیں کہ وہ ہمارے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آتا۔اس معاملے میں اسلامی ملک ہونے کا دم چھلّا محض ڈرامہ ہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ترکی سے بھی ہمارے سفارتی رشتوں میں گرمجوشی کا فقدان ہے۔ ترکی کو غیر جانبدار رکھنے میں ہماری ناکامی بھی ہماری کمزور سفارتکاری کا ہی ایک اور ثبوت ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان سے ہمارے حالیہ ٹکرائو ننے دفاعی سطح پر ہمیں بھلے ہی فائدہ پہنچایا ہو اور دنیا نے ہماری فوج کی کارکردگی کا اعتراف کیا ہو،لیکن جہاں تک سفارتی معاملات کا تعلق ہے تو ہم نے اس ٹکرائو میںاپنی کمزوری کا ہی ثبوت دیا ہے جو باعث تشویش ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

مضبوط خارجہ پالیسی و سفارتکاری لازم و ملزوم

سراج نقوی

ایسے وقت میں کہ جب ہماری بہادر افواج نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں پاکستان میں دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں کوتباہ کرکے اپنی شجاعت اور جنگی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے ، ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری نے ہر محب وطن ہندوستانی کو فکرمندکیا ہے۔ہماری سفارتکاری میں کہاں کیا خامیاں ہیں اس کا تفصیلی تجزیہ کرنا تو حکومت اور محکمہ خارجہ کا کام ہے،لیکن اس میںشک نہیں کہ ہم پاکستان کے تعلق سے اپنے موقف کو دنیا کے سامنے مضبوطی سے نہیں رکھ سکے ،اور عالمی برادری سے اس معاملے میں وہ حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے کہ جس کی اس وقت ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ حکومت کی تمام تر کمزوریوں اور چوک کے باوجود اس نازک وقت میں پورا ملک خصوصاً اپوزیشن پارٹیاں حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔اس سے حکومت کو اپنے فیصلے لینے میں یقیناً آسانی ہوئی ہوگی،لیکن داخلی سطح پر اس کامیابی کے باوجود ہم نے سفارتکاری کی سطح پر اس مضبوطی اور واضح موقف کا مظاہرہ نہیں کیا کہ جس کی فی الوقت ضرورت ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر پڑوسی ممالک یا تو اس وقت خاموشی سے پاکستانی حمایت یافتہ دہشت گردی کا تماشہ دیکھ رہے ہیںیا پھر چند ممالک کھل کر پاکستان کی حمایت میں اتر آئے ہیں۔ہماری قومی قیادت کو شائد یہ احساس تک نہیں کہ سفارتی سطح پر ہمارا کمزور موقف ہمیں کیا کیا نقصان پہنچا سکتا ہے۔’’وشو گرو ‘‘بننے کے لیے پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس موقع کا سفارتی مہارت کے ساتھ استعمال اپنی سیاسی،دفاعی اور اقتصادی برتری کو ثابت کرنے کے لیے بھی کرتے اور ایسی حکمت عملی اختیار کرتے کہ پاکستان دہشت گردوں کی کھلی حمایت کرنے کے نتیجے میں عالمی سطح پر الگ تھلگ پڑ جاتا،لیکن ہو ا اس کے برعکس۔صورتحال یہ ہے کہ جنھیں ہم اپنا دوست سمجھنے کی غلط فہمیاں پالے ہوئے ہیں وہ ہماری جڑیں کا ٹنے پر آمادہ ہیں،یا پھر غیر جانبدارہونے کاڈرامہ کرتے ہوئے ہماری پاکستان سے جنگ کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔یہ بات اہم سہی کہ اس جنگ میں ہم بھاری پڑے ،لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دنیابھر میں ہماری دفاعی طاقت کے تعلق سے کیا پیغام گیا۔ہم ’وشو گرو‘بننے کی اپنی صلاحیت کو کس حد تک دنیا کے سامنے ثابت کر پائے۔
ہندوستان وپاکستان کے اس تازہ ٹکرائو میں تین بڑی عالمی طاقتوں کے علاوہ دو علاقائی طاقتوں کا بھی ایک رول رہا۔عالمی طاقتوں میں امریکہ،روس اور چین شامل ہیں۔جبکہ بڑی علاقائی طاقتوں میں ترکی،ایران اور اسرائیل شامل ہیں۔حالانکہ ہماری فوج نے جو رافیل طیارے استعمال کیے وہ فرانس سے خریدے گئے تھے ،لیکن جنگ بندی یا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں فرانس کا کوئی رول نہیں رہا۔روس ہمارا پرانا اور آزمودہ دوست ہے ۔روسی فوجی ساز و سامان نے ہماری فوج کو مضبوطی بھی دی اس میں کوئی شک نہیں،لیکن ہمیشہ سفارتی سطح پر ہماری حمایت میں کھڑا ہونے والا روس اس موقع پر خاموش رہا،اور اس کا سبب خود ہماری حکومت کا روس کے تعلق سے سرد سفارتی رویہ ہے۔جب سے ہماری حکومت نے امریکہ سے پیار کی پینگیں بڑھائی ہیں روس سے ہمارے دوطرفہ رشتوں میں سرد مہری آئی ہے۔یہی سبب ہے کہ پاکستان کیخلاف ہماری فوجی کارروائی میں روس نے خاموش اور غیر جانبدار رہنا ہی بہتر سمجھا۔جبکہ دوسری طرف ہمارا دوسرا بڑا پڑوسی چین اس موقع پر اس طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آیا کہ اس نے بہت واضح الفاظ میں اس تعلق سے اپنے موقف کا اعلان بھی کیا ۔چین کے تعلق سے موجودہ حکومت کی پالیسی ناقابلِ فہم رہی ہے۔داخلی سطح پر اپوزیشن پارٹیاں اس معاملے میں حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتی رہی ہیں،اور یہ دعویٰ بھی کرتی رہی ہیں کہ چین ہماری کئی ہزار کلو میٹر زمین پر قبضہ کیے ہوئے ہے،لیکن اس معاملے میں حکومت نے کبھی کوئی وضاحتی بیان تک جاری کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔حالانکہ یہ ملک کی سا لمیت سے جڑا معاملہ ہے اور اس پر پورے ملک کو اعتماد میں میں لینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔بہرحال مختصر یہ کہ پاکستان سے ہمارے حالیہ ٹکرائو میں چین پاکستان کے ساتھ کھل کر کھڑا نظر آیا،اور اس کا دفاعی سطح پر ہمیں کتنا نقصان اٹھانا پڑا اس بارے میں دفاعی ماہرین ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔یعنی ایک طرف تو ہم روس کی ہم نوائی حاصل کرنے اور دوسری طرف چین کو اس تنازعہ سے دور رکھنے میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔
شائد ہم نے سفارتی سطح پر اس کی کوئی کوشش تک نہیں کی۔اپنا کوئی نمائیندہ روس یا چین نہیں بھیجا،اور
نہ ان ممالک کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح پاکستان ہمارے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے ،اور ان ممالک کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری حمایت کریں۔کیا یہ ہماری سفارتی ناکامی نہیں ہے؟
جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ جب ٹرمپ نے صدارتی الیکشن میں جیت حاصل کی تھی تو کس طرح ہمارے ملک میں ’اندھ بھکتوں‘ نے شادیانے بجائے تھے ،اور ہون و پوجا تک کی گئی تھی،لیکن یہ سب چاپلوسی لاحاصل ہی ثابت ہوئی۔صدر ٹرمپ نے ہماری حکومت کے اعلان سے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا کہ امریکہ کی کوششوں سے دونوں ممالک فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔ٹرمپ کے اس اعلان سے ملک کے خود دار طبقے اور اپوزیشن پارٹیوں نے کس قدر ہتک محسوس کی اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس معاملے میں حکومت نے کچھ گھنٹے گزر جانے کے بعد جو تردیدی بیان جاری کیا وہ بھی بھی محض خانہ پری ہی تھا۔اس لیے کہ ٹرمپ اور ان کی حکومت اب بھی دنیا بھر میںیہ دعویٰ کرکے ہماری توہین کر رہے ہیں کہ ان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی۔صرف یہی نہیں بلکہ مشرقی وسطیٰ کے دورے کے موقع پر ٹرمپ جس طرح کے بیان دے رہے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ انھوں نے ’ایپل‘کے سی ای او سے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ’ایپل‘ ہندوستان‘آئی فون بنائے،وہ بھی ہماری توہین کے متررادف ہے۔ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ہندوستان نے امریکہ کے سامنے پیشکش کی ہے کہ ہندوستان امریکہ سے امپورٹ کیے جانے والے سامان پر تمام طرح کے ٹیرف ہٹانے کے لیے تیار ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس دعوے کو ہندوستان نے نہ تو رد کیا ہے نہ ہی اس کی تائید کی ہے۔ظاہر ہے یہ موقف بھی ہماری کمزور سفارتکاری اور امریکہ کے سامنے زباں بند رکھنے کی پالیسی کا ہی ثبوت ہے۔
جہاں تک ہندوستان پاکستان جنگ میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے ٹرمپ کے دعوے کا تعلق تو یہ پوری طرح بے بنیاد تو بہرحال نہیں ہو سکتا۔اس لیے کہ جنگ بندی کے تعلق سے پہلی اطلاع ہندوستان کے عوام کو ٹرمپ کے ٹویٹ سے ہی ملی۔اس معاملے کا خاص پہلو یہ ہے کہ ٹرمپ نے دونوں ممالک کو ایک ہی خانے میں رکھا ہے اور ہندوستان سے اپنے تمام تر اقتصادی و معاشی رشتوں کے باوجود ہمارے ملک کو پاکستان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔جبکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کا دعویٰ کرنے والے امریکہ کے لیے ایسا کرنا ضروری تھا،لیکن ایسا نہ ہونا ہماری بھی سفارتی ناکامی ہے۔
ان ممالک کے علاوہ ایران،ترکی اور اسرائیل بھی اس معاملے سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہے ۔ایران نے دونوں ممالک کے درمیاں ثالثی کی پیشکش کی تھی،لیکن راست طور پر ایسی کوئی کوشش بہرحال نہیں ہوئی۔البتہ ایرانی وزیر خارجہ نے ہندوستان اور پاکستان کا اس درمیان دورہ ضرور کیا۔اس دورے سے دونوں ممالک کو کیا مدد ملی یہ کہنا تو مشکل ہے ،البتہ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد ایک بد زبان یو ٹیوبر نے جس غلیظ زبان میں ایرانی وزیر خارجہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اس کے سبب ہندوستان کو شرمندگی کا سامنا ضرور کرنا پڑا۔ایران نے اس معاملے میں سخت احتجاج درج کرایا اور ہندوستان کو وضاحت دینے اور یو ٹیوبر کے موقف سے عدم اتفاق کا باقاعدہ اعلان کرنا پڑا۔یعنی ہم ایک ایسے روائتی اور دیرینہ دوست کے سامنے شرمندہ ہوئے کہ جس سے ہمارا فی الحال کوئی تنازعہ بھی نہیں ہے اور جس سے ہمارے تجارتی،اقتصادی اور سفارتی رشتے بہت بہتر ہیں۔
جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے تو اسرائیل کی اپنی مجبوریاںہیں۔اس وقت مغربی ممالک میں بھی اس کے خلاف ماحول ہے۔ایسے میں اسرائیل کے ذریعہ ہندوستان کی حمایت کرنا قابلِ فہم ہے اور اس میں اس کے تجارتی مفادات کا بھی دخل ہے۔
بہرحال جہاں تک پاکستان کی حمایت کا تعلق ہے تو چین کی کھلی اور امریکہ کی درپردہ حمایت کے بعد ترکی نے جس طرح پاکستان کی کھلی حمایت کی اور پاکستان کو دفاعی ساز و سامان بھیجا وہ بھی ہمارے لیے بڑا جھٹکا ہے۔ترکی سے ہمارے رشتے بہت بہتر نہ سہی ،لیکن اتنے خراب بھی نہیں کہ وہ ہمارے مقابلے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا نظر آتا۔اس معاملے میں اسلامی ملک ہونے کا دم چھلّا محض ڈرامہ ہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ترکی سے بھی ہمارے سفارتی رشتوں میں گرمجوشی کا فقدان ہے۔ ترکی کو غیر جانبدار رکھنے میں ہماری ناکامی بھی ہماری کمزور سفارتکاری کا ہی ایک اور ثبوت ہے۔
مختصر یہ کہ پاکستان سے ہمارے حالیہ ٹکرائو ننے دفاعی سطح پر ہمیں بھلے ہی فائدہ پہنچایا ہو اور دنیا نے ہماری فوج کی کارکردگی کا اعتراف کیا ہو،لیکن جہاں تک سفارتی معاملات کا تعلق ہے تو ہم نے اس ٹکرائو میںاپنی کمزوری کا ہی ثبوت دیا ہے جو باعث تشویش ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں