اجمل ثاقب
جب توپ چلی، وادی لرزی،
ہر سمت قیامت ہی برسی۔
نہ دن باقی، نہ رات رہی،
ہر روشنی اب خاک بنی۔
چناروں کی چھاؤں سونی ہے،
خون میں ڈوبی جونی ہے۔
ادھر سپاہی گرا زمیں پر،
ادھر کسی ماں کی چھوٹی چھت پر۔
نہ دیوالی ہے، نہ عید بچی،
بس بارودوں کی عید سجی۔
سرحد پہ نعرے، بستی خاموش،
ہر آنگن میں غم کی پوشاکیں پوش۔
نہ گیت رہے، نہ بین ہوئے،
بس آنکھوں میں آنسو چین ہوئے۔
ایک طرف وطن کے نعرے ہیں،
ایک طرف کفن کے سائے ہیں۔
مگر جو مرتا ہے، سوچو ذرا،
کس قوم کا وہ پیارا ہے؟
نہ ہندو بچا، نہ مسلم بچا،
یہ جنگ فقط انسان نگلا۔
بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں،
اب پتھر ہیں یا تابیں ہیں۔
گلشن جو کبھی خواب بُنتا تھا،
اب خاک میں سہم کے رہتا تھا۔
سنا ہے فوجی شیر دل ہوتے،
مگر کیوں روتے بچے پل ہوتے؟
کبھی راہ میں خون بہا دیکھا،
کبھی ماں نے بیٹا گنوا دیکھا۔
پہاڑوں سے صدا یہ آئی ہے،
“ہم نے بھی لاشیں اٹھائی ہیں۔”
چشمے جو نغمے گایا کرتے،
آج شور سے ڈر جایا کرتے۔
نہ گاؤں سلامت، نہ شہر بچے،
نہ مسجد محفوظ، نہ گھر بچے۔
پیلٹ کی بارش آنکھیں چھینے،
صدیوں کے خواب ایک پل میں بینے۔
جو کل تک کھیلتے کوچے میں،
آج گور میں ہیں کچے میں۔
بچپن کا رنگ مٹایا گیا،
ایک معصوم پھر دفنایا گیا۔
نقشے پہ بحث، الفاظ کی جنگ،
زمین پہ لاشیں، بچوں کا سنگ۔
قائدین کریں تبادلہ بیانات،
مگر وادی گنوا چکی ہیں جذبات۔
نہ مسجد گونجے، نہ مندر بولے،
سب کچھ سہمے، سب کچھ ڈولے۔
اخباروں میں فتح کی خبر چھپی،
گاؤں میں صرف موت کی لکی۔
کشمیر جو کبھی جنت تھا،
اب خوف و خوں کی قید میں ہے۔
جنگوں سے جیتا کچھ بھی نہیں،
بس درد ملا، کچھ بھی نہیں۔
ہزاروں بیٹے کھو بیٹھے،
مائیں صرف روتی رہ گئیں۔
باپوں نے بستر بنائے کفن،
بہنوں کی آنکھوں میں وہی تھکن۔
سیاست دان کریں تقریریں،
کشمیر سنے بس زنجیریں۔
سوچو اگر امن ہوتا کہیں،
تو خواب بچا لیتے ہم وہیں۔
نہ موت کے سوداگر پھرتے،
نہ قومیں لاشوں پر ہنستیں۔
کب نکلے گا امن کا سورج؟
کب چھٹے گا بارود کا بادل؟
کب گونجیں گے گیت محبت کے؟
کب کھلیں گے پھول حقیقت کے؟
کشمیر کی بیٹی یہ پوچھتی ہے:
“میری گڑیا کہاں ہے، کیوں سسکی ہے؟”
کشمیر کا بیٹا یہ کہتا ہے:
“میرا بستہ کیوں جلتا ہے؟”
کہیں مسجد میں آہیں چھپی ہیں،
کہیں مندر میں صدائیں گھٹی ہیں۔
نہ سچ بچا، نہ جھوٹ سلامت،
بس نفرت ہے، خاموش قیامت۔
اے رہبرو! اے قوموں والو!
یہ آگ بجھاؤ، کچھ تو سوچو۔
پھولوں کو پھر سے کھلنے دو،
چشموں کو گیت سنانے دو
یہ نظم نہیں، اک سچ کی صدا ہے،
قلم سے لکھی، اجمل ساقب کی دعا ہے۔
جب توپ چلی-اجمل ثاقب
جب توپ چلی-اجمل ثاقب
اجمل ثاقب
جب توپ چلی، وادی لرزی،
ہر سمت قیامت ہی برسی۔
نہ دن باقی، نہ رات رہی،
ہر روشنی اب خاک بنی۔
چناروں کی چھاؤں سونی ہے،
خون میں ڈوبی جونی ہے۔
ادھر سپاہی گرا زمیں پر،
ادھر کسی ماں کی چھوٹی چھت پر۔
نہ دیوالی ہے، نہ عید بچی،
بس بارودوں کی عید سجی۔
سرحد پہ نعرے، بستی خاموش،
ہر آنگن میں غم کی پوشاکیں پوش۔
نہ گیت رہے، نہ بین ہوئے،
بس آنکھوں میں آنسو چین ہوئے۔
ایک طرف وطن کے نعرے ہیں،
ایک طرف کفن کے سائے ہیں۔
مگر جو مرتا ہے، سوچو ذرا،
کس قوم کا وہ پیارا ہے؟
نہ ہندو بچا، نہ مسلم بچا،
یہ جنگ فقط انسان نگلا۔
بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں تھیں،
اب پتھر ہیں یا تابیں ہیں۔
گلشن جو کبھی خواب بُنتا تھا،
اب خاک میں سہم کے رہتا تھا۔
سنا ہے فوجی شیر دل ہوتے،
مگر کیوں روتے بچے پل ہوتے؟
کبھی راہ میں خون بہا دیکھا،
کبھی ماں نے بیٹا گنوا دیکھا۔
پہاڑوں سے صدا یہ آئی ہے،
“ہم نے بھی لاشیں اٹھائی ہیں۔”
چشمے جو نغمے گایا کرتے،
آج شور سے ڈر جایا کرتے۔
نہ گاؤں سلامت، نہ شہر بچے،
نہ مسجد محفوظ، نہ گھر بچے۔
پیلٹ کی بارش آنکھیں چھینے،
صدیوں کے خواب ایک پل میں بینے۔
جو کل تک کھیلتے کوچے میں،
آج گور میں ہیں کچے میں۔
بچپن کا رنگ مٹایا گیا،
ایک معصوم پھر دفنایا گیا۔
نقشے پہ بحث، الفاظ کی جنگ،
زمین پہ لاشیں، بچوں کا سنگ۔
قائدین کریں تبادلہ بیانات،
مگر وادی گنوا چکی ہیں جذبات۔
نہ مسجد گونجے، نہ مندر بولے،
سب کچھ سہمے، سب کچھ ڈولے۔
اخباروں میں فتح کی خبر چھپی،
گاؤں میں صرف موت کی لکی۔
کشمیر جو کبھی جنت تھا،
اب خوف و خوں کی قید میں ہے۔
جنگوں سے جیتا کچھ بھی نہیں،
بس درد ملا، کچھ بھی نہیں۔
ہزاروں بیٹے کھو بیٹھے،
مائیں صرف روتی رہ گئیں۔
باپوں نے بستر بنائے کفن،
بہنوں کی آنکھوں میں وہی تھکن۔
سیاست دان کریں تقریریں،
کشمیر سنے بس زنجیریں۔
سوچو اگر امن ہوتا کہیں،
تو خواب بچا لیتے ہم وہیں۔
نہ موت کے سوداگر پھرتے،
نہ قومیں لاشوں پر ہنستیں۔
کب نکلے گا امن کا سورج؟
کب چھٹے گا بارود کا بادل؟
کب گونجیں گے گیت محبت کے؟
کب کھلیں گے پھول حقیقت کے؟
کشمیر کی بیٹی یہ پوچھتی ہے:
“میری گڑیا کہاں ہے، کیوں سسکی ہے؟”
کشمیر کا بیٹا یہ کہتا ہے:
“میرا بستہ کیوں جلتا ہے؟”
کہیں مسجد میں آہیں چھپی ہیں،
کہیں مندر میں صدائیں گھٹی ہیں۔
نہ سچ بچا، نہ جھوٹ سلامت،
بس نفرت ہے، خاموش قیامت۔
اے رہبرو! اے قوموں والو!
یہ آگ بجھاؤ، کچھ تو سوچو۔
پھولوں کو پھر سے کھلنے دو،
چشموں کو گیت سنانے دو
یہ نظم نہیں، اک سچ کی صدا ہے،
قلم سے لکھی، اجمل ساقب کی دعا ہے۔


