غزل- میر شہریار

میر شہریار

کون ہوں کیا ہوں یہ سب بتانے سے قاصر ہوں میں

یوں سمجھ خود ہی منزل ہوں خود ہی مسافر ہوں میں

تو ابھی دے رہا ہے مجھے پارسا کا خطاب

پر ابھی کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ کافر ہوں میں

ساتھ تو چل رہے ہیں مگر یونہی مجبوری میں

وہ مری امرتا ہے نہ ہی اس کا ساحر ہوں میں

رنگوں کا شیدا ہوں اور پروانہ ہوں حسن کا

فسلفی ہوں کوئی اور نہ ہی کوئی شاعر ہوں میں

جانے کیا بات ہے تجھ میں میں کچھ نہیں کہہ سکا

ورنہ اے میری جاں دل دکھانے میں ماہر ہوں میں

دنیا کی ان فضاؤں سے کیا لینا دینا مرا

اپنے ہی آسمانوں کا اپنا سا طائر ہوں میں

کوئی شامل نہیں اس فسانے میں میرے سوا

خود ہی تصویر خود رنگ اور خود مصور ہوں میں

دنیا والو مجھے کم نہ سمجھو پڑھو غور سے

ذات کے بابِ اول کا اک حرفِ آخر ہوں میں

میرے منکر تجھے تو زرا سی بصیرت نہیں

دیکھ تو دنیا کے ذرے ذرے میں ظاہر ہوں میں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

تازہ ترین خبریں

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

غزل- میر شہریار

میر شہریار

کون ہوں کیا ہوں یہ سب بتانے سے قاصر ہوں میں

یوں سمجھ خود ہی منزل ہوں خود ہی مسافر ہوں میں

تو ابھی دے رہا ہے مجھے پارسا کا خطاب

پر ابھی کوئی یہ کہہ رہا تھا کہ کافر ہوں میں

ساتھ تو چل رہے ہیں مگر یونہی مجبوری میں

وہ مری امرتا ہے نہ ہی اس کا ساحر ہوں میں

رنگوں کا شیدا ہوں اور پروانہ ہوں حسن کا

فسلفی ہوں کوئی اور نہ ہی کوئی شاعر ہوں میں

جانے کیا بات ہے تجھ میں میں کچھ نہیں کہہ سکا

ورنہ اے میری جاں دل دکھانے میں ماہر ہوں میں

دنیا کی ان فضاؤں سے کیا لینا دینا مرا

اپنے ہی آسمانوں کا اپنا سا طائر ہوں میں

کوئی شامل نہیں اس فسانے میں میرے سوا

خود ہی تصویر خود رنگ اور خود مصور ہوں میں

دنیا والو مجھے کم نہ سمجھو پڑھو غور سے

ذات کے بابِ اول کا اک حرفِ آخر ہوں میں

میرے منکر تجھے تو زرا سی بصیرت نہیں

دیکھ تو دنیا کے ذرے ذرے میں ظاہر ہوں میں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں