پہلگام سانحہ: عوام کا کیا قصورہے؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

پہلگام سانحہ بلاشبہ سخت قابل مذہب ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ معمولی ہمدردی بھی روا نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ نہ کسی سماج کے ہوتے ہیں اور نہ کسی مذہب کے۔ بلکہ یہ لوگ سماج و مذہب دونوں کے لیے ایک بدنما داغ ہوتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ سوالات بھی کھڑے ہوتے ہیں کہ جب یہ معلوم ہے کہ کشمیر،ہمیشہ دہشت گردوں کے نشانے پررہتا ہےاور اُس کی آڑ میں ملک دشمن عناصرہندوستان کے ماحول کو خراب کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے، تو پھر پہلگام جیسے مشہورومعروف سیاحت کے مقام پر حفاظتی دستے تعینات کیوں نہیں تھے،اور وہ بھی اُس وقت جب کہ تقریباً دوہزار سیاح، سیروسیاحت پر نکلے ہوں؟پھر یہ کسے پتا نہیں کہ اپریل سے جون کے مہینے تک وادیٔ کشمیر، سیاحوں کا خاص ٹھکانہ بنارہتاہے۔اِن تین مہینوں میں سیاحوں کوبالخصوص کشمیرکے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع میسر آتا ہے اور یہی وہ مہینےہیں جن میں کشمیر کی پُرکشش چیزیں ملک کےدوردراز مقامات سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہیں۔اِس سے جہاں لوگوں کو سیرو سیاحت کا ایک عجیب وغریب لطف ملتا ہے،وہیں کشمیریوں کےلیے معاشی اعتبارسے فصل بہار کا موسم بھی ہوتا ہے۔لہٰذاکہیں ایسا تو نہیں ہےکہ پہلگام سانحے کےنام پرشرپسند طبقہ،جوہمیشہ ایک خاص کمیونٹی کے معاشی بائیکاٹ کے درپے نظر آتا ہے، وہ کشمیریوں کے معاشی برآمدات پر چوٹ کرناچاہتا ہو اور اِس سانحے کےپردے میں سیاحوں کو کشمیر جانے سےروکناچاہتاہو، جیساکہ ملک کے دیگررِیاستوں میں کچھ اِس طرح کا ماحول بنادیاگیا ہےکہ اکثریتی طبقےکے شدت پسند افراد، اقلیتی طبقے سے خرید وفروخت کرنا مذہبی گناہ سمجھتےہیں۔ بلکہ اکثریتی طبقےکے سنجیدہ لوگ اگرمسلم دوکانوںسےکچھ خریدنابھی چاہتے ہیں تو شرپسندعاصر بزورِبازو اُنھیں روکتے ہیں، یہاں تک کہ اُن کے سامنے ایسی دیواریں کھڑی کردیتے ہیںکہ جنھیں خوش فکر اوراَمن پسند افرادپھلانگ نہیںپاتے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حمایتی ممالک بہتی گنگا میںہاتھ دھوناچاہتےہوںاورہندوستان میں موجود ہندو-مسلم نفرتی فضا کافائدہ اٹھانا چاہتے ہوں، لہٰذابہت ممکن ہے کہ دہشت گردوں نے پہلگام سانحےمیںمذہب کو اِسی لیےدرمیان میںلایا ہو،تاکہ ہندوستان ازخودخانہ جنگی کاشکار ہوجائے اور یوں بڑی آسانی سےملک دشمن عناصر کو اُن کےمقاصد حاصل ہوجائیں،بلکہ اِس کے بھیانک اثرات رونما ہونے شروع ہوچکے ہیں۔ آگرہ میں مذہب پوچھنے کے بعدایک اقلیتی نوجوان کو قتل کردیاگیا، بنارس میں ایک مسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کر اَدھ مراکردیا گیا،علاوہ ازیںملک کے مختلف گوشوں میں کشمیریوں اور مسلموں پرمذہب کے نام ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔لیکن اِس کے باوجوداگرصاحبانِ اقتداراِس پر قدغن نہیں لگاتے اورملک دشمن عناصر کی چال کو سمجھنا نہیں چاہتے، تو ہمارے ملک کو برباد ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچاسکتی ہے۔پھر اِسے ملک کی بدقسمتی ہی کہاجاسکتاہے کہ آج کی میڈیانے پہلگام سانحےکے سلسلے میںجس طرزِ تشہیرکو اِختیار کررکھا ہے اُس سے نہ صرف ملک دشمن عناصر کی شاطرانہ چال کامیاب ہوتی نظر آتی ہے بلکہ ملک ومعاشرے کی بنیاد بھی ہلتی نظر آتی ہے۔
سیاسی وسماجی دانشوروںکی طرف سے بھی یہ سوال سامنے آرہا ہے کہ جب پہلگام حملہ ہواتو وزیراعظم غیرملکی دورہ ترک کرکے ملک واپس آگئے، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ جس وزیراعظم کو کشمیرجانا چاہیے اوردہشت گردانہ حملے کاجائزہ لیناچاہیے وہ ریاست بہار چلے گئے اور اِنتخابی جلسے میںمصروف نظرآئے۔ ایسے موقع پر تو وزیراعظم کو سنجیدہ ہونا چاہیے اور کچھ ٹھوس کارگر قدم اٹھانا چاہیےکہ جس سے دہشت گردوں کا حوصلہ پست ہو سکے،اُن کی سرکوبی ہوسکےاور اہل وطن کا حوصلہ بلندہوسکے۔ وزیراعظم نے آرٹیکل ۳۷۰؍ کاخاتمہ اِسی لیے کیا تھاکہ کشمیر میں امن وسکون کا ماحول بن سکے اور بلاامتیاز مذہب وملت ہرفرد بشر کو ترقیات اور ملکی وقومی دھارے سے جوڑا جاسکے، مگر پہلگام حملے کی وجہ سے اُن تمام منصوبوں پر پانی پھرتا نظر آرہا ہے جس کاخواب وزیراعظم نے دیکھا تھا۔
پہلگام سانحے پرآج باشندگانِ ہند بلا امتیاز مذہب وملت بالخصوص ایک پلیٹ فارم پر نظر آرہے ہیں،یہ ملک ومعاشرت دونوں کےلیے خوش آئند بات ہےکہ ایسے حالات ملک کے اندرخال خال ہی دیکھنے میں آتے ہیں، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرگیا ہے پھر بھی وزیراعظم کی طرف سے پہلگام کے مجرموں کی تفتیش کے تعلق سےکوئی تشفی بخش نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اِس کے برعکس جس ذاتی مردم شماری کی مخالفت میں وزیراعظم اور اُن کے حواریوںنے سارا آسمان اپنےسر پراُٹھا رکھا تھا اور کل تک جولوگ قطعی طورپر ذاتی مردم شماری کے حق میں نہیں تھےآج وہی لوگ ذاتی مردم شماری کی وکالت کررہے ہیں۔حد تویہ ہے کہ جس ملک وقوم کے تحفظ کو لےکر اپوزیشن سے لے کر اقلیت تک ہرایک کو غدارِوطن کہتے نہیں تھکتے تھے آج اُسی ملک وقوم کیسلامتی کے لیےقدم اُٹھانے کےنام پر بغلیں جھانکتے نظرآتے ہیںاوراپوزیشن و عوام الناس کو گمراہ کرنے پر آمادہ ہیں۔دراصل یہ پہلگام سانحے سے بھٹکانے کی ایک منظم چال ہے۔ آج جس طرح سے اپوزیشن اور عوام الناس ملک وقوم کی بقا کے لیے ہرممکن قدم اُٹھانے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، لہٰذاہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم اِس موقع کو غنیمت جانتے اور ملک دشمن عناصر کومنھ توڑ جواب دیتے،تاکہ شرپسندعناصر پھرکبھی ہمارے ملک وقوم کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرتے۔لیکن اپوزیشن کے مطابق پہلگام سانحے پرجب حکومت کی پالیسی ہی واضح نہیں ہے تو وہ اقدام کیا کریں گے!
لیکن ایسے وحشت ناک عالم میں بھی کچھ عقلمند اَیسے ہیں جو حکومت کی بےجاطرفداری کرنےمیں مصروف ہیں،توایسے لوگ پہلےجناب مودی کے اُن سوالات کو بغورسن لیں جواُنھوںنےماقبل میں کانگریس اور ڈاکٹر منموہن سنگھ سے کیا تھاکہ’’مجھے بتائیےکہ دہشت گردوںکے پاس ہتھیار اور گولہ بارود کہاں سے آتےہیں؟ وہ تو دوسرے ملکوں سے آتے ہیں اور سرحدیں اورفوجی دستےمکمل طور سےآپ(منموہن سنگھ) کے قبضے میں ہیں۔دہشت گردوں کے پاس مال کہاں سے آتا ہے؟ وہ توحوالے سے آتا ہے اورمنی ٹرانزکشن کاپورا نظام آپ کے قبضے میں ہےکہ یہ تمام لین دین بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ کیا آپ اتنی نگرانی نہیں رکھ سکتے؟دوسرے ملکوں سےمال دہشت گردوں کے پاس جاتا ہے،آپ اُسے روک سکتے ہیں،کیوں نہیں روکتے ہیں؟باہری ملکوںسےغیرقانونی طورپر آنےوالے لوگ دہشت گردی کرتے ہیںاورفرار ہوجاتے ہیں۔جب ہرطرح کےفوجی دستےآپ کے قبضے میں ہیں،تویہ دہشت گرد غیرقانونی طورپر ملک کے اندرکیسے داخل ہوجاتے ہیں؟ رابطہ عامہ کاتمام نظام حکومت ہند کے ماتحت ہے۔کوئی بھی ٹیلیفون،موبائل، ای میل وغیرہ سے پیغامات کی ترسیل وتبلیغ کرتا ہےتو حکومت اُس پر نظر رکھ سکتی ہےاور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا پتا لگاسکتی ہے، آپ نے ایساکیوں نہیں کیا؟‘‘لہٰذا جس وزیراعظم کے عہد میں پہلگام، پلواما، امرناتھ اور گاندر بل کے اندر دہشت گردی انجام پذیر ہوئی، تو کیا وہ وزیراعظم جواب دہ نہیں؟
قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت کی طرف سےجویہ حکم نامہ صادر ہوا ہے کہ جتنے بھی پاکستانی ہیں وہ اوّل فرصت میں ہندوستان چھوڑدیں،تویہ کہاں تک درست ہے؟کیا اِس کے باعث دہشت گردوں کی کمرٹوٹ جائےگی ؟ ایک تو ۲۲؍ اپریل پہلگام میںہوئےسانحے کے دوران دہشت گردوں کی طرف سے جو کچھ جانی ومالی نقصان ہوا ،عوام ہی کا ہوا، اَورآج انتقال مکانی کے نام پرجوکچھ نقصانات ہورہے ہیںوہ بھی عوام ہی کو اُٹھانے پڑ رہے ہیں۔ پھرجس طرح پاکستانی لوگ واپس جارہے ہیں اُسی طرح ہندوستانی لوگ بھی واپس آرہے ہیں۔ہندوپاک سرحد کے حالات دیدنی ہے۔شوہرکی بیوی سے جدائی ہورہی ہے اور بیوی کی شوہرسے۔بچےاپنےوالد ووالدہ سے بچھڑرہے ہیں اور والدو والدہ اپنے بچوں سے۔بڑوں کا اقتصادومعاش چرمرارہا ہے،تو بچوں کی تعلیم وتربیت کا خسارہ ہورہا ہے۔ عجب افراتفری کا عالم ہے، لیکن کوئی نہیں جوعوام الناس کےدکھ- درد اورکسک کو سمجھ سکے۔سوال یہ ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے ؟ والدہ ووالدہ کا کیا جرم ہے؟ بچوں کی کیا غلطی ہے؟ یہ کیسا انصاف ہےکہ جرم تو شرپسند اوردہشت پسند کریں اور سزا بےگناہ عوام کو ملے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

پہلگام سانحہ: عوام کا کیا قصورہے؟

ڈاکٹر جہاں گیر حسن

پہلگام سانحہ بلاشبہ سخت قابل مذہب ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ معمولی ہمدردی بھی روا نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ لوگ نہ کسی سماج کے ہوتے ہیں اور نہ کسی مذہب کے۔ بلکہ یہ لوگ سماج و مذہب دونوں کے لیے ایک بدنما داغ ہوتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ سوالات بھی کھڑے ہوتے ہیں کہ جب یہ معلوم ہے کہ کشمیر،ہمیشہ دہشت گردوں کے نشانے پررہتا ہےاور اُس کی آڑ میں ملک دشمن عناصرہندوستان کے ماحول کو خراب کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے، تو پھر پہلگام جیسے مشہورومعروف سیاحت کے مقام پر حفاظتی دستے تعینات کیوں نہیں تھے،اور وہ بھی اُس وقت جب کہ تقریباً دوہزار سیاح، سیروسیاحت پر نکلے ہوں؟پھر یہ کسے پتا نہیں کہ اپریل سے جون کے مہینے تک وادیٔ کشمیر، سیاحوں کا خاص ٹھکانہ بنارہتاہے۔اِن تین مہینوں میں سیاحوں کوبالخصوص کشمیرکے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع میسر آتا ہے اور یہی وہ مہینےہیں جن میں کشمیر کی پُرکشش چیزیں ملک کےدوردراز مقامات سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لاتی ہیں۔اِس سے جہاں لوگوں کو سیرو سیاحت کا ایک عجیب وغریب لطف ملتا ہے،وہیں کشمیریوں کےلیے معاشی اعتبارسے فصل بہار کا موسم بھی ہوتا ہے۔لہٰذاکہیں ایسا تو نہیں ہےکہ پہلگام سانحے کےنام پرشرپسند طبقہ،جوہمیشہ ایک خاص کمیونٹی کے معاشی بائیکاٹ کے درپے نظر آتا ہے، وہ کشمیریوں کے معاشی برآمدات پر چوٹ کرناچاہتا ہو اور اِس سانحے کےپردے میں سیاحوں کو کشمیر جانے سےروکناچاہتاہو، جیساکہ ملک کے دیگررِیاستوں میں کچھ اِس طرح کا ماحول بنادیاگیا ہےکہ اکثریتی طبقےکے شدت پسند افراد، اقلیتی طبقے سے خرید وفروخت کرنا مذہبی گناہ سمجھتےہیں۔ بلکہ اکثریتی طبقےکے سنجیدہ لوگ اگرمسلم دوکانوںسےکچھ خریدنابھی چاہتے ہیں تو شرپسندعاصر بزورِبازو اُنھیں روکتے ہیں، یہاں تک کہ اُن کے سامنے ایسی دیواریں کھڑی کردیتے ہیںکہ جنھیں خوش فکر اوراَمن پسند افرادپھلانگ نہیںپاتے۔
دوسرا سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حمایتی ممالک بہتی گنگا میںہاتھ دھوناچاہتےہوںاورہندوستان میں موجود ہندو-مسلم نفرتی فضا کافائدہ اٹھانا چاہتے ہوں، لہٰذابہت ممکن ہے کہ دہشت گردوں نے پہلگام سانحےمیںمذہب کو اِسی لیےدرمیان میںلایا ہو،تاکہ ہندوستان ازخودخانہ جنگی کاشکار ہوجائے اور یوں بڑی آسانی سےملک دشمن عناصر کو اُن کےمقاصد حاصل ہوجائیں،بلکہ اِس کے بھیانک اثرات رونما ہونے شروع ہوچکے ہیں۔ آگرہ میں مذہب پوچھنے کے بعدایک اقلیتی نوجوان کو قتل کردیاگیا، بنارس میں ایک مسلم نوجوان کو پیٹ پیٹ کر اَدھ مراکردیا گیا،علاوہ ازیںملک کے مختلف گوشوں میں کشمیریوں اور مسلموں پرمذہب کے نام ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔لیکن اِس کے باوجوداگرصاحبانِ اقتداراِس پر قدغن نہیں لگاتے اورملک دشمن عناصر کی چال کو سمجھنا نہیں چاہتے، تو ہمارے ملک کو برباد ہونے سے کوئی طاقت نہیں بچاسکتی ہے۔پھر اِسے ملک کی بدقسمتی ہی کہاجاسکتاہے کہ آج کی میڈیانے پہلگام سانحےکے سلسلے میںجس طرزِ تشہیرکو اِختیار کررکھا ہے اُس سے نہ صرف ملک دشمن عناصر کی شاطرانہ چال کامیاب ہوتی نظر آتی ہے بلکہ ملک ومعاشرے کی بنیاد بھی ہلتی نظر آتی ہے۔
سیاسی وسماجی دانشوروںکی طرف سے بھی یہ سوال سامنے آرہا ہے کہ جب پہلگام حملہ ہواتو وزیراعظم غیرملکی دورہ ترک کرکے ملک واپس آگئے، لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ جس وزیراعظم کو کشمیرجانا چاہیے اوردہشت گردانہ حملے کاجائزہ لیناچاہیے وہ ریاست بہار چلے گئے اور اِنتخابی جلسے میںمصروف نظرآئے۔ ایسے موقع پر تو وزیراعظم کو سنجیدہ ہونا چاہیے اور کچھ ٹھوس کارگر قدم اٹھانا چاہیےکہ جس سے دہشت گردوں کا حوصلہ پست ہو سکے،اُن کی سرکوبی ہوسکےاور اہل وطن کا حوصلہ بلندہوسکے۔ وزیراعظم نے آرٹیکل ۳۷۰؍ کاخاتمہ اِسی لیے کیا تھاکہ کشمیر میں امن وسکون کا ماحول بن سکے اور بلاامتیاز مذہب وملت ہرفرد بشر کو ترقیات اور ملکی وقومی دھارے سے جوڑا جاسکے، مگر پہلگام حملے کی وجہ سے اُن تمام منصوبوں پر پانی پھرتا نظر آرہا ہے جس کاخواب وزیراعظم نے دیکھا تھا۔
پہلگام سانحے پرآج باشندگانِ ہند بلا امتیاز مذہب وملت بالخصوص ایک پلیٹ فارم پر نظر آرہے ہیں،یہ ملک ومعاشرت دونوں کےلیے خوش آئند بات ہےکہ ایسے حالات ملک کے اندرخال خال ہی دیکھنے میں آتے ہیں، لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزرگیا ہے پھر بھی وزیراعظم کی طرف سے پہلگام کے مجرموں کی تفتیش کے تعلق سےکوئی تشفی بخش نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اِس کے برعکس جس ذاتی مردم شماری کی مخالفت میں وزیراعظم اور اُن کے حواریوںنے سارا آسمان اپنےسر پراُٹھا رکھا تھا اور کل تک جولوگ قطعی طورپر ذاتی مردم شماری کے حق میں نہیں تھےآج وہی لوگ ذاتی مردم شماری کی وکالت کررہے ہیں۔حد تویہ ہے کہ جس ملک وقوم کے تحفظ کو لےکر اپوزیشن سے لے کر اقلیت تک ہرایک کو غدارِوطن کہتے نہیں تھکتے تھے آج اُسی ملک وقوم کیسلامتی کے لیےقدم اُٹھانے کےنام پر بغلیں جھانکتے نظرآتے ہیںاوراپوزیشن و عوام الناس کو گمراہ کرنے پر آمادہ ہیں۔دراصل یہ پہلگام سانحے سے بھٹکانے کی ایک منظم چال ہے۔ آج جس طرح سے اپوزیشن اور عوام الناس ملک وقوم کی بقا کے لیے ہرممکن قدم اُٹھانے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں، لہٰذاہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم اِس موقع کو غنیمت جانتے اور ملک دشمن عناصر کومنھ توڑ جواب دیتے،تاکہ شرپسندعناصر پھرکبھی ہمارے ملک وقوم کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کرتے۔لیکن اپوزیشن کے مطابق پہلگام سانحے پرجب حکومت کی پالیسی ہی واضح نہیں ہے تو وہ اقدام کیا کریں گے!
لیکن ایسے وحشت ناک عالم میں بھی کچھ عقلمند اَیسے ہیں جو حکومت کی بےجاطرفداری کرنےمیں مصروف ہیں،توایسے لوگ پہلےجناب مودی کے اُن سوالات کو بغورسن لیں جواُنھوںنےماقبل میں کانگریس اور ڈاکٹر منموہن سنگھ سے کیا تھاکہ’’مجھے بتائیےکہ دہشت گردوںکے پاس ہتھیار اور گولہ بارود کہاں سے آتےہیں؟ وہ تو دوسرے ملکوں سے آتے ہیں اور سرحدیں اورفوجی دستےمکمل طور سےآپ(منموہن سنگھ) کے قبضے میں ہیں۔دہشت گردوں کے پاس مال کہاں سے آتا ہے؟ وہ توحوالے سے آتا ہے اورمنی ٹرانزکشن کاپورا نظام آپ کے قبضے میں ہےکہ یہ تمام لین دین بینکوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ کیا آپ اتنی نگرانی نہیں رکھ سکتے؟دوسرے ملکوں سےمال دہشت گردوں کے پاس جاتا ہے،آپ اُسے روک سکتے ہیں،کیوں نہیں روکتے ہیں؟باہری ملکوںسےغیرقانونی طورپر آنےوالے لوگ دہشت گردی کرتے ہیںاورفرار ہوجاتے ہیں۔جب ہرطرح کےفوجی دستےآپ کے قبضے میں ہیں،تویہ دہشت گرد غیرقانونی طورپر ملک کے اندرکیسے داخل ہوجاتے ہیں؟ رابطہ عامہ کاتمام نظام حکومت ہند کے ماتحت ہے۔کوئی بھی ٹیلیفون،موبائل، ای میل وغیرہ سے پیغامات کی ترسیل وتبلیغ کرتا ہےتو حکومت اُس پر نظر رکھ سکتی ہےاور دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا پتا لگاسکتی ہے، آپ نے ایساکیوں نہیں کیا؟‘‘لہٰذا جس وزیراعظم کے عہد میں پہلگام، پلواما، امرناتھ اور گاندر بل کے اندر دہشت گردی انجام پذیر ہوئی، تو کیا وہ وزیراعظم جواب دہ نہیں؟
قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت کی طرف سےجویہ حکم نامہ صادر ہوا ہے کہ جتنے بھی پاکستانی ہیں وہ اوّل فرصت میں ہندوستان چھوڑدیں،تویہ کہاں تک درست ہے؟کیا اِس کے باعث دہشت گردوں کی کمرٹوٹ جائےگی ؟ ایک تو ۲۲؍ اپریل پہلگام میںہوئےسانحے کے دوران دہشت گردوں کی طرف سے جو کچھ جانی ومالی نقصان ہوا ،عوام ہی کا ہوا، اَورآج انتقال مکانی کے نام پرجوکچھ نقصانات ہورہے ہیںوہ بھی عوام ہی کو اُٹھانے پڑ رہے ہیں۔ پھرجس طرح پاکستانی لوگ واپس جارہے ہیں اُسی طرح ہندوستانی لوگ بھی واپس آرہے ہیں۔ہندوپاک سرحد کے حالات دیدنی ہے۔شوہرکی بیوی سے جدائی ہورہی ہے اور بیوی کی شوہرسے۔بچےاپنےوالد ووالدہ سے بچھڑرہے ہیں اور والدو والدہ اپنے بچوں سے۔بڑوں کا اقتصادومعاش چرمرارہا ہے،تو بچوں کی تعلیم وتربیت کا خسارہ ہورہا ہے۔ عجب افراتفری کا عالم ہے، لیکن کوئی نہیں جوعوام الناس کےدکھ- درد اورکسک کو سمجھ سکے۔سوال یہ ہے کہ عوام کا کیا قصور ہے ؟ والدہ ووالدہ کا کیا جرم ہے؟ بچوں کی کیا غلطی ہے؟ یہ کیسا انصاف ہےکہ جرم تو شرپسند اوردہشت پسند کریں اور سزا بےگناہ عوام کو ملے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں