مولانا مبارک مبارکیؒ: بزمِ علم و عرفان کا چراغ گل ہوا

 
خان سحرش

وادیٔ کشمیر کی دینی، روحانی اور علمی فضا ایک بار پھر سوگوار ہے۔ علم و عرفان کا وہ چراغ جو برسوں سے دلوں کو منور کرتا رہا، آخر کار بجھ گیا۔ معروف عالمِ دین، خطیبِ بے مثال، داعیِ حق، اور بزار مسجد (بوہری کدل، سری نگر) کے روحِ رواں حضرت مولانا مبارک مبارکیؒ آج اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بزار مسجد، گاؤ کدل، رعناواری، صفاکدل، نوہٹہ، اور پورے شہر خاص میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
پیدائش و تعلیم:
مولانا مبارک مبارکیؒ 1950 کی دہائی میں سری نگر کے ایک دیندار، متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان پر دین داری کے آثار نمایاں تھے۔ مقامی مکتب سے قرآن پاک کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے شہر سری نگر کے معروف دینی ادارے جامعہ انوار العلوم میں داخلہ لیا جہاں سے آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ بعد ازاں آپ نے دارالعلوم دیوبند سمیت متعدد علمی مراکز سے استفادہ کیا۔
مولاناؒ کے اساتذہ میں مفتی محمد شفیعؒ، مولانا قاری محمد طیبؒ، اور کشمیر کے بزرگ عالم مولانا غلام حسن قاسمیؒ جیسے جید علما شامل تھے۔ ان عظیم شخصیات کی صحبت نے مولانا کی فکر و نظر کو جلا بخشی۔
دینی خدمات:
مولانا مبارکیؒ کی پوری زندگی دینی خدمات سے عبارت رہی۔ آپ نے بوہری کدل کی تاریخی بزار مسجد کو اپنا مرکز بنایا جہاں سے آپ نے نصف صدی تک قرآن و حدیث، فقہ و عقائد، اور اصلاحی بیانات کے ذریعے ہزاروں دلوں کو منور کیا۔ ان کے خطبات جمعہ و عیدین میں عقلی و نقلی دلائل کا حسین امتزاج، سادگی و اثر آفرینی، اور امت کا درد نمایاں ہوتا تھا۔
آپ نے صرف مسجد میں امامت و خطابت تک محدود نہیں رہے بلکہ شہر سری نگر کی درجنوں مساجد و مکاتب میں بھی وعظ و تبلیغ کے سلسلے کو جاری رکھا۔ خواتین، نوجوان، بچے، سبھی آپ کے مخاطب تھے۔ ان کی تقریریں فرقہ واریت سے پاک، دلنشین اور دعوتی مزاج کی حامل ہوتی تھیں۔
مدرسہ بزار مسجد:
مولانا نے بزار مسجد میں ایک دینی مکتب کی بنیاد رکھی، جہاں سینکڑوں طلبہ و طالبات نے قرآن و دینیات کی تعلیم حاصل کی۔ یہ مکتب آج بھی مولانا کے قائم کردہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہے۔
تبلیغی جماعت سے تعلق:
مولانا مبارک مبارکیؒ کا تعلق تبلیغی جماعت سے بھی گہرا تھا۔ آپ نے کئی بار دہلی، رائے ونڈ، بنگلور اور دیگر شہروں میں سالانہ اجتماعات میں شرکت کی اور وادی کے سینکڑوں نوجوانوں کو اللہ کے راستے کی طرف راغب کیا۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ سامعین کے دل پر اثر کرتا تھا۔
کردار و اخلاق:
مولاناؒ سادگی، خشیت، انکساری، اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے۔ وہ نہ صرف مساجد میں بلکہ بازاروں، نکڑوں، گھروں میں بھی دعوت و تبلیغ کے ذریعے نیکی کا پیغام پہنچاتے۔ ان کا لباس سفید، چہرہ پر نور، نگاہیں جھکی ہوئی، اور انداز انتہائی متواضع ہوتا تھا۔
مولانا کا ہر عمل سنت کے مطابق ہوتا، حتیٰ کہ کھانے پینے، بولنے چلنے، مجلس کے آداب، سبھی میں سنت کی پیروی نظر آتی۔ ان کے ہم عصر علما اور شاگرد سبھی ان کے خلوص، علم اور للّٰہیت کے معترف تھے۔
وفات:
۲ مئی ۲۰۲۵ کو مولانا مبارک مبارکیؒ نے اپنی آخری سانسیں لیں۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی لوگ جوق در جوق بزار مسجد کی طرف امڈنے لگے۔ جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے جن میں علما، طلبہ، عوام، تاجر، اور شہر کی معروف شخصیات شامل تھیں۔ ان کا جنازہ مسجد سے متصل قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
تعزیتی پیغامات:
ان کے انتقال پر وادی بھر سے علما کرام، سماجی کارکن، اور مختلف دینی جماعتوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ جامع مسجد کے امام، جامعہ کشمیر کے صدر، تبلیغی جماعت کے ناظم، اور جمعیت علما کشمیر کے سربراہ سمیت کئی اہم شخصیات نے مولانا کی دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
امیر تبلیغی جماعت کشمیر، مولانا سراج الدین:
"مولانا مبارکیؒ اس قافلہ کے آخری سپاہی تھے جو اخلاص، دعوت، محبت اور علم کا حسین امتزاج رکھتے تھے۔ ان کا خلا طویل عرصے تک پر نہ ہو سکے گا۔”
جامعہ انوار العلوم کے مہتمم، مولانا سمیع اللہ قاسمی:
"انہوں نے علم کو عمل میں ڈھالا، اور عمل کو اخلاص سے مزین کیا۔ ان کی دعاؤں سے کئی نوجوان گمراہی سے بچ گئے۔”
قوم و ملت کا نقصان:
مولانا مبارکیؒ کی رحلت صرف ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے جس خلوص، استقامت اور محبت کے ساتھ دین کا پیغام پھیلایا، وہ آج کے مادہ پرستانہ دور میں کم یاب ہے۔ ان کی تربیت یافتہ نسل آگے بڑھ کر ان کے مشن کو جاری رکھے گی، یہی ان کے لیے بہترین ایصالِ ثواب ہوگا۔
ذاتی زندگی:
مولاناؒ نے ہمیشہ سادہ زندگی گزاری۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بڑے بیٹے نے دینی تعلیم حاصل کر کے والد کی راہ اپنائی جبکہ چھوٹے بیٹے نے دنیاوی تعلیم میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مولاناؒ نے ہمیشہ ہمیں دیانت، تقویٰ، اور سچائی کی تعلیم دی۔
عوامی عقیدت:
مولاناؒ کے چاہنے والے صرف سری نگر میں نہیں بلکہ کپواڑہ، بارہمولہ، پلوامہ، اننت ناگ، شوپیاں، اور حتیٰ کہ لداخ اور جموں میں بھی موجود ہیں۔ آپ جب کبھی دیہی علاقوں میں تشریف لے جاتے تو لوگ دور دراز سے پیدل چل کر آپ کی مجلس میں شامل ہوتے۔
ان کے اقوالِ زریں:
* "اگر تم دنیا کی محبت دل سے نکال دو، تو رب تمہیں اپنی محبت دے دے گا۔”
* "جو نماز کا پابند نہیں، وہ کسی کا پابند نہیں ہو سکتا۔”
* "اپنے نفس کو عالم بناؤ، دوسروں پر حکم نہ چلاؤ۔”
وصیت:
مولانا مبارک مبارکیؒ کی وصیت یہ تھی کہ ان کی تدفین سادگی سے ہو، کوئی اسراف نہ ہو، اور ان کے مشن کو جاری رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ "میری قبر پر اگر کوئی آئے، تو قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر میرے لیے دعا ضرور کرے۔
مولانا مبارک مبارکیؒ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ صدیوں میں پُر ہونے والا نہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ قرآن و سنت کے لیے وقف رہا۔ ان کا اخلاص، للّٰہیت، تقویٰ، اور لوگوں سے محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور ان کی نسل اور شاگردوں کو ان کے مشن کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
*إنا لله وإنا إليه راجعون*

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

مولانا مبارک مبارکیؒ: بزمِ علم و عرفان کا چراغ گل ہوا

 
خان سحرش

وادیٔ کشمیر کی دینی، روحانی اور علمی فضا ایک بار پھر سوگوار ہے۔ علم و عرفان کا وہ چراغ جو برسوں سے دلوں کو منور کرتا رہا، آخر کار بجھ گیا۔ معروف عالمِ دین، خطیبِ بے مثال، داعیِ حق، اور بزار مسجد (بوہری کدل، سری نگر) کے روحِ رواں حضرت مولانا مبارک مبارکیؒ آج اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے بزار مسجد، گاؤ کدل، رعناواری، صفاکدل، نوہٹہ، اور پورے شہر خاص میں رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔
پیدائش و تعلیم:
مولانا مبارک مبارکیؒ 1950 کی دہائی میں سری نگر کے ایک دیندار، متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان پر دین داری کے آثار نمایاں تھے۔ مقامی مکتب سے قرآن پاک کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ نے شہر سری نگر کے معروف دینی ادارے جامعہ انوار العلوم میں داخلہ لیا جہاں سے آپ نے درسِ نظامی کی تکمیل کی۔ بعد ازاں آپ نے دارالعلوم دیوبند سمیت متعدد علمی مراکز سے استفادہ کیا۔
مولاناؒ کے اساتذہ میں مفتی محمد شفیعؒ، مولانا قاری محمد طیبؒ، اور کشمیر کے بزرگ عالم مولانا غلام حسن قاسمیؒ جیسے جید علما شامل تھے۔ ان عظیم شخصیات کی صحبت نے مولانا کی فکر و نظر کو جلا بخشی۔
دینی خدمات:
مولانا مبارکیؒ کی پوری زندگی دینی خدمات سے عبارت رہی۔ آپ نے بوہری کدل کی تاریخی بزار مسجد کو اپنا مرکز بنایا جہاں سے آپ نے نصف صدی تک قرآن و حدیث، فقہ و عقائد، اور اصلاحی بیانات کے ذریعے ہزاروں دلوں کو منور کیا۔ ان کے خطبات جمعہ و عیدین میں عقلی و نقلی دلائل کا حسین امتزاج، سادگی و اثر آفرینی، اور امت کا درد نمایاں ہوتا تھا۔
آپ نے صرف مسجد میں امامت و خطابت تک محدود نہیں رہے بلکہ شہر سری نگر کی درجنوں مساجد و مکاتب میں بھی وعظ و تبلیغ کے سلسلے کو جاری رکھا۔ خواتین، نوجوان، بچے، سبھی آپ کے مخاطب تھے۔ ان کی تقریریں فرقہ واریت سے پاک، دلنشین اور دعوتی مزاج کی حامل ہوتی تھیں۔
مدرسہ بزار مسجد:
مولانا نے بزار مسجد میں ایک دینی مکتب کی بنیاد رکھی، جہاں سینکڑوں طلبہ و طالبات نے قرآن و دینیات کی تعلیم حاصل کی۔ یہ مکتب آج بھی مولانا کے قائم کردہ اصول و ضوابط پر عمل پیرا ہے۔
تبلیغی جماعت سے تعلق:
مولانا مبارک مبارکیؒ کا تعلق تبلیغی جماعت سے بھی گہرا تھا۔ آپ نے کئی بار دہلی، رائے ونڈ، بنگلور اور دیگر شہروں میں سالانہ اجتماعات میں شرکت کی اور وادی کے سینکڑوں نوجوانوں کو اللہ کے راستے کی طرف راغب کیا۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ سامعین کے دل پر اثر کرتا تھا۔
کردار و اخلاق:
مولاناؒ سادگی، خشیت، انکساری، اور مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ تھے۔ وہ نہ صرف مساجد میں بلکہ بازاروں، نکڑوں، گھروں میں بھی دعوت و تبلیغ کے ذریعے نیکی کا پیغام پہنچاتے۔ ان کا لباس سفید، چہرہ پر نور، نگاہیں جھکی ہوئی، اور انداز انتہائی متواضع ہوتا تھا۔
مولانا کا ہر عمل سنت کے مطابق ہوتا، حتیٰ کہ کھانے پینے، بولنے چلنے، مجلس کے آداب، سبھی میں سنت کی پیروی نظر آتی۔ ان کے ہم عصر علما اور شاگرد سبھی ان کے خلوص، علم اور للّٰہیت کے معترف تھے۔
وفات:
۲ مئی ۲۰۲۵ کو مولانا مبارک مبارکیؒ نے اپنی آخری سانسیں لیں۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی لوگ جوق در جوق بزار مسجد کی طرف امڈنے لگے۔ جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامل ہوئے جن میں علما، طلبہ، عوام، تاجر، اور شہر کی معروف شخصیات شامل تھیں۔ ان کا جنازہ مسجد سے متصل قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
تعزیتی پیغامات:
ان کے انتقال پر وادی بھر سے علما کرام، سماجی کارکن، اور مختلف دینی جماعتوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ جامع مسجد کے امام، جامعہ کشمیر کے صدر، تبلیغی جماعت کے ناظم، اور جمعیت علما کشمیر کے سربراہ سمیت کئی اہم شخصیات نے مولانا کی دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
امیر تبلیغی جماعت کشمیر، مولانا سراج الدین:
"مولانا مبارکیؒ اس قافلہ کے آخری سپاہی تھے جو اخلاص، دعوت، محبت اور علم کا حسین امتزاج رکھتے تھے۔ ان کا خلا طویل عرصے تک پر نہ ہو سکے گا۔”
جامعہ انوار العلوم کے مہتمم، مولانا سمیع اللہ قاسمی:
"انہوں نے علم کو عمل میں ڈھالا، اور عمل کو اخلاص سے مزین کیا۔ ان کی دعاؤں سے کئی نوجوان گمراہی سے بچ گئے۔”
قوم و ملت کا نقصان:
مولانا مبارکیؒ کی رحلت صرف ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے جس خلوص، استقامت اور محبت کے ساتھ دین کا پیغام پھیلایا، وہ آج کے مادہ پرستانہ دور میں کم یاب ہے۔ ان کی تربیت یافتہ نسل آگے بڑھ کر ان کے مشن کو جاری رکھے گی، یہی ان کے لیے بہترین ایصالِ ثواب ہوگا۔
ذاتی زندگی:
مولاناؒ نے ہمیشہ سادہ زندگی گزاری۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بڑے بیٹے نے دینی تعلیم حاصل کر کے والد کی راہ اپنائی جبکہ چھوٹے بیٹے نے دنیاوی تعلیم میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مولاناؒ نے ہمیشہ ہمیں دیانت، تقویٰ، اور سچائی کی تعلیم دی۔
عوامی عقیدت:
مولاناؒ کے چاہنے والے صرف سری نگر میں نہیں بلکہ کپواڑہ، بارہمولہ، پلوامہ، اننت ناگ، شوپیاں، اور حتیٰ کہ لداخ اور جموں میں بھی موجود ہیں۔ آپ جب کبھی دیہی علاقوں میں تشریف لے جاتے تو لوگ دور دراز سے پیدل چل کر آپ کی مجلس میں شامل ہوتے۔
ان کے اقوالِ زریں:
* "اگر تم دنیا کی محبت دل سے نکال دو، تو رب تمہیں اپنی محبت دے دے گا۔”
* "جو نماز کا پابند نہیں، وہ کسی کا پابند نہیں ہو سکتا۔”
* "اپنے نفس کو عالم بناؤ، دوسروں پر حکم نہ چلاؤ۔”
وصیت:
مولانا مبارک مبارکیؒ کی وصیت یہ تھی کہ ان کی تدفین سادگی سے ہو، کوئی اسراف نہ ہو، اور ان کے مشن کو جاری رکھا جائے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ "میری قبر پر اگر کوئی آئے، تو قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر میرے لیے دعا ضرور کرے۔
مولانا مبارک مبارکیؒ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ صدیوں میں پُر ہونے والا نہیں۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ قرآن و سنت کے لیے وقف رہا۔ ان کا اخلاص، للّٰہیت، تقویٰ، اور لوگوں سے محبت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، اور ان کی نسل اور شاگردوں کو ان کے مشن کو زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
*إنا لله وإنا إليه راجعون*

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں