سراج نقوی
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوتو وادی جنونیوں کو اس بہانے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ مزید بھڑکانے کا ایک اورموقع مل گیا ہے۔جہاں ایک طرف اس حملے کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کو نفرت اور تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ،وہیں دوسری طرف پہلگام حملے کے دوران اور بعدمیں اپنی انسانیت نوازی کی اعلیٰ مثال پیش کرنے والے کشمیری مسلمانوں کے خلاف بھی کئی ریاستوں میں تشددکی خبریں آرہی ہیں۔یہ بے حسی کا مظاہرہ اور اظہار نفرت اس کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ جب کشمیر جانے والے غیر مسلم سیّاحوں نے دل کھول کر کشمیری عوام کی اس موقع پر انسانیت،تعاون اور سیاحوں کی بے لوث خدمت کی دل کھول کر تعریف کی ہے،لیکن یہ سب باتیں نفرت کے پجاریوں کے لیے اس لیے بے معنی ہیں کہ زعفرانی تنظیموں نے ان عناصر کی پرورش ہی نفرت کے خمیر سے کی ہے،اور خود کو رام بھکت کہنے والے یہ لوگ دراصل سفاکیت اور ظلم کی علامت بن چکے راون کے پیروکار ہیں۔یہی سبب ہے کہ کشمیر ان جیسے لوگوں کے لیے صرف زمین کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ جس پر یہ لوگ اپنے مالکانہ حق کی نفسیاتی بیماری میں تو مبتلا ہیں لیکن اسی کشمیر میں رہنے والی کشمیری مسلمانوں کی اکثریت ان کے لیے اپنی نہیں۔
جبکہ پہلگام حملے کے بہت سے چشم دید گواہوں کے بیانات ان منافرتی عناصر سے قطعی مختلف ہیں۔
اس تعلق سے لیفٹیننٹ ونے نروال کی اہلیہ ہمانشی نروال کا بیان قابلِ غور ہے۔اس انسانیت نواز خاتون نے پہلگام حملے میںاپنے جوان فوجی شوہر کو کھو دیا۔آپ تصور کر سکتے ہیںکہ اس دہشت گردانہ حملے پر اس کے جذبات کیا ہونگے،لیکن اس سنجیدہ اور معاملہ فہم خاتون نے دہشت گردوں کے تعلق سے اپنی نفرت کے باوجود بے قصور کشمیریوں کو نفرت کا نشانہ نہیں بنایا۔اس نے اپنی انسانیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے بیان دیا کہ ،’’مجھے کسی کے خلاف نفرت نہیں چاہیے۔ہم نہیں چاہتے کہ لوگ مسلمانوںیا کشمیریوں کے خلاف ہو جائیں۔ہمیں صرف امن اور انصاف چاہیے۔‘‘ہمانشی کا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والا یہ بیان منافرت کے سوداگروں کے منھ پر طمانچہ ہے۔یہ الگ بات کہ فرقہ پرستی کو ہی اپنا مذہب بنا چکے زعفرانی غنڈے ہمانشی نروال کے مذکورہ بیان کو بے حسی کے ساتھ نظر انداز کر دیں.
اور امن و انصاف کا قتل کرتے رہیں۔ کشمیر گھومنے گئے چھتیس گڑھ کے ایک بی جے پی لیڈر اور اس کی اہلیہ نے جس انسانی دردمندی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اور اپنے بچے و شوہر کو دہشت گردوں سے بچاکر محفوظ مقام تک لے جانے میں بے خوف ہو کر اپنا فرض نبھانے والے نزاکت علی کی تعریف کرتے ہوئے اس کے لیے دعائیں کی ہیں وہ بھی نفرت پھیلانے والے عناصر کے لیے قابلِ تقلید تھا،لیکن جن لوگوں کا مقصد ہی سماج میں زہر گھولنا ہو ،سماج میں آگ لگانا ہو،ان سے کسی انسانی رویے کی امید کرنا اور یہ توقع کرنا کہ وہ کشمیریوںکو بھی اپنا سمجھیں گے لا حاصل ہی ہے۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد غیر کشمیری مسلمانوں کو بھی ملک کی مختلف ریاستوں میں زعفرانی غنڈوں نے تشدد اور ظلم کا نشانہ بنایا،لیکن درباری میڈیا نے ایسے واقعات کو قطعی رپورٹ نہیں کیا ۔جبکہ ایسے واقعات کی رپورٹ کرنے والے سوشل میڈیا یا یو ٹیوب چینلوں پر سرکاری عتاب نازل ہونے کی بھی خبریں ہیں۔پریس کلب آف انڈیا نے ایسے معاملوں کی مذمت کی ہے۔لیکن زعفرانی غنڈوں کی سفاکیت اور غنڈہ گردی کا نشانہ مختلف ریاستوں میں کاروباری مقاصد کے تحت گئے ہوئے کشمیریوں کو سب سے زیادہ بننا پڑ رہا ہے۔سوشل میڈیا اور کئی یو ٹیوب چینلوں نے کشمیری طلباء پر ملک کی کئی ریاستوں کے تعلیمی اداروں میں ہوئے حملوں اور تشدد کو رپورٹ کیا ہے۔کشمیری مسلمانتاجروں، ڈرائیوروں کی املاک کو نقصان پہنچانے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔حالانکہ گودی میدیا میں ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی اور نہ ہی حکومت کی طرف سے ایسی واقعات کے خلاف کوئی سخت بیان ہی تادم تحریر سامنے آیا۔یہ صورتحال ۲۰۰۲ میں ہوئے گجرات فساد کی یاد دلاتی ہے۔خود کشمیر میں بھی جو حالات بتائے جا رہے ہیں وہ باعث تشویش ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس نے الزام لگایا ہے ’’کہ حکومت ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت کشمیریوں کو بے گھر کرکے خطے کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس مقصد کے لیے ہندوئوں کو ڈومیسائل جاری کیے جا رہے ہیں۔‘‘حریت کے اس الزام کی صداقت کی تصدیق تو نہیںکی جا سکتی لیکن اس الزام پر عام کشمیریوں کو مطمئن کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اس لیے کہ صرف کشمیر ہی ہمارا نہیں ہے بلکہ کشمیری بھی ہمارے ہیں،اور ایک عام بے قصور شہری کو پاکستان سے آکر دہشت گردانہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی۔جبکہ خبروں کے مطابق پہلگام حملے کے بعد کم از کم پانچ کشمیریوں کے گھروں کو دھماکے سے اور مزید ۷ گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کرنے کی بھی خبر ہے۔اس خبر کی صداقت پر یقین نہ بھی کریں تو بھی ایک بات تو واضح ہے کہ کشمیر کے بے قصورمسلمانوں کو بھی نشانہ بنا کر ریاست کا ماحول بگاڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اگر حکومت یا جانچ ایجنسیوں کو پہلگام حملے کے تعلق سے کسی شخص یا کچھ لوگوں پر شک بھی ہے تو اسے گرفتار کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے،لیکن سپریم کورٹ کے ذریعہ اس طرح کے معاملوں میں مکانوں کو بلڈوز کرنے کی کارروائی پر پابندی لگائے جانے کے باوجود ان کارروائیوں کو عدالت کی حکم کی خلاف ورزی ہی کہا جائیگا۔ ایسے معاملوں پر حکومت اور حکمراں جماعت کا رویہ افسوسناک سے بھی کچھ آگے کی کہانی بیان کرتا ہے۔
مسلمانوں کے خلاف تشدد برپا کرنے اور کشمیریوں کو نشانہ بنانے کے معاملے میں اتراکھنڈ اس وقت حد سے آگے بڑھ گیا ہے ۔یہاں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی دکانوں کو نذر آتش کرنے ،مسجد پر حملہ کرنے اور مسلمانوں پر تشدد کرنے کے علاوہ کشمیری تاجروں پر بھی حملہ کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔پہلگام حملے کے ایک روز بعد یعنی 23اپریل کو ہی ریاست کے مسوری شہر میں کشمیری شال بیچنے والے کشمیریوں پر حملہ کیا گیا اور انھیں کشمیر چھوڑنے کی وارننگ دی گئی ۔لا قانونیت کی انتہا یہ ہے کہ پولیس نے بھی ان کشمیریوں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔نتیجہ یہ کہ تقریباً سولہ کشمیری تاجروں نے شہر چھوڑ دیا۔حالانکہ پولیس نے تین افراد کو اس معاملے میں گرفتار کیا ہے اور خبر کے مطابق حملہ آوروں نے انتظامیہ سے معافی بھی مانگی ہے،لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ان معاملات اور واقعات پر واضح اور سخت موقف اپنانے سے کیوں گریزاں ہیں؟ کیوں کشمیریوں کو زعفرانی غنڈے یہ احساس کرا رہے ہیں کہ انھیں عام کشمیریوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد جس طرح بہت سے ہندو سیاحوں نے کشمیریوں کی تعریف کی اور ان کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ،اسے دیکھتے ہوئے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک میں اس کا ایک مثبت پیغام جاتا کیونکہ کشمیریوں کی تعریف کرنے والوں میںکئی ایسے سیاح بھی ہیں کہ جن کا تعلق بی جے پی سے ہے،لیکن بہرحال جن کا ضمیر زندہ ہیں اور وہ کشمیریوں کے بے لوث تعاون کا شکریہ ادا کرکے نفرت کے کاروباریوں کی مہم کی دھار کند کر رہے ہیں،لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو رہا ہے کہہندوتو عناصر کے ذریعہ پہلگام حملے کو کشمیریوں پر ظلم و تشدد روا رکھنے کا بہانہ بنا لیا گیا ہے اور انھیں قومی دھارے سے کاٹنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انھیں یہ احسا س دلایا جا رہا ہے کہ کشمیر تو ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے لیکن کشمیریوں کے لیے ان کے دل میں کوئی جگہ نہیں۔زیادہ باعث تشویش بات یہ ہے کہ اس طرح کے معاملوں میں حکومت خاموش نظر آتی ہے۔اس کے نتیجے میں فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں اور وہ ملک بھر میں کشمیریوں اور ان کے مالی مفادات کو نشانہ بنا کر امن کی طرف لوٹ رہی اس ریاست کے ماحول کو ایک مرتبہ پھر خراب کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔


