نشاط سانحہ: ہماری زبوں حالی کا مظہر

نشات میں پیش آنے والا اندوہناک واقعہ زیادتی اور قتل ایک سانحہ ہے۔ یہ ہماری اجتماعی اخلاقی زبوں حالی کا ایک خوفناک مظہر ہے۔ ہر ایسا جرم ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے، اور سوال اٹھاتا ہے،کیا ہم بحیثیت معاشرہ اپنے فرائض سے غافل ہو چکے ہیں؟جب بھی کسی دل دہلا دینے والے واقعے کی خبر آتی ہے، ہم چند روز کے لیے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر وقت کا بے رحم دریا ہمارے جذبات کو دھندلا دیتا ہے، اور سانحہ ہمارے حافظے سے محو ہو جاتا ہے۔ یوں ہم بے حسی کے عادی بنتے جاتے ہیں، اور ظلم کو معمول کا حصہ بنا بیٹھتے ہیں۔ہمیں ایک واضح فیصلہ کرنا ہوگا یا تو ہم پوری قوت سے اس اخلاقی زوال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، یا پھر تاریکی میں مزید ڈوبتے چلے جائیں، جہاں ایسے جرائم محض چند لمحوں کی سرخی بن کر رہ جائیں۔انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کو ہماری تہذیب، تعلیم، گفتار اور طرزِ حکومت میں رچ بس جانا چاہیے۔ سخت سزاؤں کا مطالبہ اہم ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا سماج تشکیل دیں جہاں اس قسم کے جرائم کا تصور بھی ناقابلِ برداشت ہو۔ہمیں سیاسی قیادتوں سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ ہمیں اپنے پولیس نظام کو وسائل، تربیت اور احتساب کے بہترین معیار پر استوار کرنا ہوگا۔ میڈیا کو چاہیے کہ ان واقعات پر مسلسل توجہ مرکوز رکھے، انہیں دیگر خبروں کی گرد تلے دفن نہ ہونے دے۔مگر سب سے بڑھ کر، ہر فرد کو چاہے وہ والدین ہوں، اساتذہ، محلے دار یا دوست — خاموشی توڑنی ہوگی۔ خاموشی جرم کی معاونت ہے۔ بے حسی خیانت ہے۔نشات کا یہ واقعہ محض ایک سانحہ نہ رہے، بلکہ ایک نقطۂ انقلاب بنے۔ایک زندہ ضمیر رکھنے والا معاشرہ صرف مقتولین کے لیے آنسو نہیں بہاتا، بلکہ زندوں کے لیے لڑتا ہے۔ وہ محفوظ گلیوں، جوابدہ حکمرانی اور ایک ایسے ماحول کا مطالبہ کرتا ہے جہاں عزت و حرمت ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو صرف چراغ جلاتے ہیں مگر اندھیرے کے خلاف لڑتے نہیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ وقت کم ہے۔ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

نشاط سانحہ: ہماری زبوں حالی کا مظہر

نشات میں پیش آنے والا اندوہناک واقعہ زیادتی اور قتل ایک سانحہ ہے۔ یہ ہماری اجتماعی اخلاقی زبوں حالی کا ایک خوفناک مظہر ہے۔ ہر ایسا جرم ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے، اور سوال اٹھاتا ہے،کیا ہم بحیثیت معاشرہ اپنے فرائض سے غافل ہو چکے ہیں؟جب بھی کسی دل دہلا دینے والے واقعے کی خبر آتی ہے، ہم چند روز کے لیے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔ پھر وقت کا بے رحم دریا ہمارے جذبات کو دھندلا دیتا ہے، اور سانحہ ہمارے حافظے سے محو ہو جاتا ہے۔ یوں ہم بے حسی کے عادی بنتے جاتے ہیں، اور ظلم کو معمول کا حصہ بنا بیٹھتے ہیں۔ہمیں ایک واضح فیصلہ کرنا ہوگا یا تو ہم پوری قوت سے اس اخلاقی زوال کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، یا پھر تاریکی میں مزید ڈوبتے چلے جائیں، جہاں ایسے جرائم محض چند لمحوں کی سرخی بن کر رہ جائیں۔انصاف صرف عدالتوں کے فیصلوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انصاف کو ہماری تہذیب، تعلیم، گفتار اور طرزِ حکومت میں رچ بس جانا چاہیے۔ سخت سزاؤں کا مطالبہ اہم ضرور ہے، مگر اس سے بڑھ کر ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا سماج تشکیل دیں جہاں اس قسم کے جرائم کا تصور بھی ناقابلِ برداشت ہو۔ہمیں سیاسی قیادتوں سے یہ مطالبہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ ہمیں اپنے پولیس نظام کو وسائل، تربیت اور احتساب کے بہترین معیار پر استوار کرنا ہوگا۔ میڈیا کو چاہیے کہ ان واقعات پر مسلسل توجہ مرکوز رکھے، انہیں دیگر خبروں کی گرد تلے دفن نہ ہونے دے۔مگر سب سے بڑھ کر، ہر فرد کو چاہے وہ والدین ہوں، اساتذہ، محلے دار یا دوست — خاموشی توڑنی ہوگی۔ خاموشی جرم کی معاونت ہے۔ بے حسی خیانت ہے۔نشات کا یہ واقعہ محض ایک سانحہ نہ رہے، بلکہ ایک نقطۂ انقلاب بنے۔ایک زندہ ضمیر رکھنے والا معاشرہ صرف مقتولین کے لیے آنسو نہیں بہاتا، بلکہ زندوں کے لیے لڑتا ہے۔ وہ محفوظ گلیوں، جوابدہ حکمرانی اور ایک ایسے ماحول کا مطالبہ کرتا ہے جہاں عزت و حرمت ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ہم ان لوگوں میں شامل نہ ہوں جو صرف چراغ جلاتے ہیں مگر اندھیرے کے خلاف لڑتے نہیں۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ وقت کم ہے۔ ذمہ داری ہم سب کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں