زکوٰۃ: تزکیۂ نفس اور معاشرتی فلاح کا ذریعہ

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
اسلام ایک جامع نظام حیات کا نام ہے۔ اس کے احکام محض چند رسمی عبادات یا ظاہری اعمال تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اس کے ہر حکم میں انسان کی انفرادی و اجتماعی فلاح کی کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ زکوٰۃ بھی اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔ یہ بظاہر مال کے ایک متعین حصے کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا نام ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی عبادت ہے اور ایسا الٰہی نظام ہے جس سے انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی پاکیزگی اور معا شرتی فلاح کی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ ایک طرف جہاں اس سے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی حاجت روائی ، دولت کی منصفانہ گردش، معاشی توازن کا قیام، ملی اخوت اور ایثار و ہمدردی کے جذبات کا فروغ مقصود ہے تو دوسری طرف اس کی چند دیگر حکمتیں بھی ہیں جو براہ راست انسان کے تزکیۂ نفس سے جڑی ہوئی ہیں۔ قرآن کریم نے زکوٰۃ کے مقصد تزکیہ کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ’’(اے نبیؐ!) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے، اس کے ذریعہ ان (کے اموال) کو پاک کردیجیے اور ان کا تزکیہ کیجیے ۔ ‘‘ (التوبۃ: ۱۰۳)۔ یہ آیت اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ زکوٰہ کا مقصد صرف مال کا ایک حصہ منتقل کرنا نہیں بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح اور معاشرے کی تطہیر بھی ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ کے حکم کی حکمتوں اور اس کی حقیقی روح کو سمجھا جائے تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے عظیم مقاصد کوبروئے کار لایا جاسکے۔
پہلی بات یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی بندوں کی اللہ سے محبت کا امتحان ہے۔ ایک مومن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کے دل میں سب سے زیادہ محبت اپنے رب کی ہو۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۱۶۵)۔ دوسری آیت میں قرآن کریم نے آٹھ چیزوں کی نشان دہی کرکے مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ کبھی بھی ان کی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے اور اللہ کی راہ میں جہاد سے جس میں کبھی جان عزیز کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے، زیادہ نہیں ہونی چاہیے ورنہ تم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ فرمان خداوندی ہے: ’’آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارا خاندان، اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں، اور وہ تجارت جس کی کساد بازاری کا تمھیں خوف لگا رہتا ہے، اور وہ مکان جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم (عذاب) لے آئے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ‘‘ (التوبۃ: ۲۴)۔
ان آیات کے تناظر میں ہر مسلمان یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔ دوسری طرف انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ مال و دولت سے بھی بے حد محبت کرتا ہے۔ قرآن اس کی گواہی یوں دیتا ہے: ’’ حقیقت یہ ہے کہ وہ (انسان) مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔‘‘ (العادیات: ۸)۔ اس لئے اللہ رب العزت نے زکوٰۃ و صدقات کا حکم دیا تاکہ وہ بندوں کو آزمائے کہ کون اس کی محبت کو مال ودولت کی محبت پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی محبوب چیز کو اللہ کی خوشنودی کے لئے قربان کرتا ہے ؟ جو لوگ اس آزمائش میں پورا اترتے ہیں اور اپنا مال اللہ کی محبت میں فقرا اور مساکین پر خرچ کرتے ہیں، انھیں ہی قرآن نے سچا مومن اور متقی قرار دیا ہے اور ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوںپر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے اور جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، اور سوال کرنے والوں کو دے اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور اپنے عہد کو پورا کرے جب وہ عہد کرے، اور تنگ دستی، تکلیف اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں ۔ ‘‘ (البقرۃ: ۱۷۷)۔ اس لئے ایک مال دار مومن کو چاہیے کہ وہ پوری خوش دلی سے زکوٰۃ و صدقات ادا کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی سچی محبت کا ثبوت دے۔ صدقات کی تو کوئی حد مقرر نہیںجو چیز بھی اپنی ضرورت سے زائد ہو راہ خدا میں تقسیم کی جاسکتی ہے لیکن زکوٰۃ کی شرح مقرر ہے جو کہ جمع سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت جس پر سال گزر جائے، کا ڈھائی فی صد یعنی چالیسواں حصہ ہے اور کھیت و باغات کی پیداوار جو تیار ہوجائے، کا دسواں حصہ (عشر) ہے اگر زمین قدرتی ذرائع سے سیراب ہو، اور اگر زمین مصنوعی ذرائع سے سیراب ہو تو پیداوار کا بیسواں حصہ (نصف عشر) زکوٰۃ ہے۔ اب اگر ایک شخص اپنی جمع پونجی کا چالیسواں حصہ یا غلوں اور پھلوں کی پیداور کا دسواں یا بیسواںحصہ بھی اللہ کے لئے نہ نکالے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کا اس کا دعویٰ بالکل کھوکھلا ہے۔
دوسری حکمت زکوٰۃ و صدقات کی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ بخل کے مرض سے انسان کے دل کو پاک کرنا مقصود ہے۔ بخل کو رسول اللہ ﷺ نے ایک سنگین بیماری قرار دیا ہے، جب بنو سلمہ قبیلے کے افراد نے آپؐ کی خدمت میں اپنی حاضری کے وقت اپنے سردار جد بن قیس کے بخل کی شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا: ’’بخل سے بڑھ کر بھی کوئی بیماری ہے؟‘‘، پھر آپؐ نے بشر بن البراء بن معرور رضی اللہ عنہ کو ان پر سردار مقرر کردیا۔ (المستدرک للحاکمؒ، حدیث نمبر ۴۹۶۵)۔ اسی طرح حضرت جابرؓ نے اپنے معاملے میں جب حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بخل سے کام لینے کی شکایت کی تو انھوں نے بیت المال سے لگ بھگ پندرہ سو درہم دے کر ان کی شکایت دور کی اور بعینہ یہی الفاظ دہرائے یعنی بخل سے زیادہ سنگین بیماری اور کیا ہوسکتی ہے؟ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۳۱۳۷، ۴۳۸۳)۔ ان روایات سے بالکل واضح ہے کہ بخل ایک سنگین قلبی مرض ہے اور یہ وہ مرض ہے جو کبھی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو مال و دولت کی محبت پر غالب نہیں ہونے دیتا جس کے نتیجے میں انسان کا ایمان کبھی کامل نہیں ہوپاتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہی رہ جاتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس مرض سے پناہ مانگی ہے اور اپنی امت کو بھی اس کی تعلیم دی ہے۔ آپؐ کی معمول کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی: ’’اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عجز و کمزوری سے، سستی سے، بخل سے ، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے، اور لوگوں کے غلبہ سے ۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر ۵۴۲۵)۔ آپؐ سے بخیل کے اخروی انجام کے سلسلے میں سخت وعید منقول ہے ۔ آپؐ نے اہل جہنم کے تذکرے میں فرمایا: ’’ہر بداخلاق، تندخو، متکبر، مال جمع کرکے رکھنے والا اور نیکی سے روکنے والا جہنم میں ہوگا۔‘‘ (مسند أحمدؒ، حدیث نمبر ۶۵۸۰)۔ اس لئے قرآن کریم نے ان لوگوں کو جو بخل و کنجوسی کے مرض سے بچالئے گئے ، کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (الحشر: ۹)۔
اس تناظر میں دیکھیں تو زکوٰۃ و صدقات بخل و کنجوسی کے لئے لازمی دوا کی مانند ہیں کہ ان کے بغیر اس مرض کا علاج محال ہے۔ اس لئے ہر صاحب مال کو چاہیے کہ اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر ان کا اہتمام کرے تاکہ بخل جیسی مہلک بیماری سے اسے نجات حاصل ہو، اس کا ایمان درجۂ کمال کو پہنچے، اللہ کا قرب اسے حاصل ہو اور بالآخر وہ اخروی فلاح پانے والوں میں شامل ہوجائے۔ جو لوگ اس مرض میں مبتلا رہ جاتے ہیں، ان کے سلسلے میں قرآن پاک میں بھی سخت وعیدیں ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ـ’’اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس (مال) میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دے رکھا ہے وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ ان کے لئے وہ بہتر ہے، بلکہ ان کے لئے وہ بہت ہی برا ہے، عنقریب وہ (مال) جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۰)۔ دوسری آیت میں کچھ لوگوں کے بخل اختیار کرنے ، اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے اور اطاعت سے روگردانی کرنے پر پوری قوم کو دوسری قوم سے بدل دینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’سنو! تم وہ لوگ ہوکہ جب تمھیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض لوگ بخل کرنے لگتے ہیں اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم محتاج ہو، اور اگر تم منہ موڑوگے تو وہ تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ ‘‘ (محمد: ۳۸)۔
یہاں یہ جو فرمایا کہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی بخل کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خرچ کرنے پر جوصلہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے خزانہ سے کئی گنا اضافہ کے ساتھ ملتا اور اُس مشکل گھڑی میں اسے کام آتا، وہ اس سے محروم رہے گا، تو دراصل اس نے اپنے آپ سے بخالت کی اور اخروی بچت نہ کرکے اپنا ہی نقصان کیا، اللہ تعالیٰ نے اسے یہ حکم اسی کے فائدے کے لئے دیا تھا ورنہ وہ تو غنی اوربے نیاز ہے۔ الغرض ایک طرف تو یہ محرومی ہوئی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال الگ بھگتنا پڑے گا۔ نیز دنیا میں بھی اس بخل کا انجام انسان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’کوئی قوم زکوٰۃ نہیں روک رکھتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔‘‘ (المستدرک للحاکمؒ، حدیث نمبر ۲۵۷۷)۔ دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ روئے زمین پر اگر جانور نہ ہوں تو ان کو بارش کا ایک قطرہ تک نہ ملے۔ (حوالہ سابق، حدیث نمبر ۸۶۲۳)۔ بارش نہ ہونے کا انجام قحط سالی کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ ایک اور روایت میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر مال کے ضائع ہونے کی وعید رسول اکرم ﷺ سے منقول ہے: ’’خشکی یا سمندر میں کوئی مال ضائع نہیں ہوتا سوائے زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ کے۔‘‘ (جامع الصغیر للسیوطیؒ، حدیث نمبر ۷۸۷۸، بروایت حضرت عمرؓ)۔ اس حدیث کو گو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن دوسری احادیث کی تائید کی وجہ سے اس میں بیان کردہ خطرے کو بالکلیہ رد نہیں کیا جاسکتا۔
نیز زکوٰۃ روکنے کے چند سماجی مضمرات بھی مرتب ہوتے ہیں، اگر لو گ عمومی طور پر زکوٰۃ و صدقات روک لیں تو فقر و فاقہ معاشرے میں عام ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں چوری، راہ زنی اور ڈاکا زنی جیسی واردات وقوع پذیر ہونے لگتی ہیں، لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے اور دولت مند طبقہ ہی اس سے سب زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل مال دار طبقہ جب زکوٰۃ و صدقات ادا کرتا ہے اور فقرا و مساکین تک متعلقہ رقم پہنچتی ہے تو ان کی قوت خرید (purchasing power)  بڑھ جاتی ہے، پھر وہ اپنی ضرورت کی چیزیں مال داروں سے ہی خریدتے ہیں، اس طرح کے مالی تبادلہ سے زکوٰۃ دینے والوں کا منافع بڑھ جاتا ہے اور زکوٰۃ میں دی ہوئی رقم پھر ان کے پاس واپس آجاتی ہے۔ یوں معاشرے میں ارتکاز دولت اور معاشی عدم مساوات کا مسئلہ بہت حد تک قابو میں رہتا ہے، فقرا و مساکین کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں اور اغنیا کو نفس و مال کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں زکوٰۃ و صدقات کی وجہ سے فقرا اور اغنیا کے درمیان محاسدت کے بجائے بھائی چارہ اور محبت و ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے اندر یکجہتی اور استحکام لاتا ہے۔ زکوٰۃ و صدقات روک لینے اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کے اجتماعی خسارے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے جہاد و قتال کا نظام معطل ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں دارالاسلام پر باطل طاقتوں کا غلبہ ہوسکتا ہے اور اس کے نتائج بد بھی سارے مسلمانوں کو بھگتنے پڑسکتے ہیں۔ اس لئے اس مرض کی سنگینی اور اس کے انجام بد کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس کے علاج کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے یعنی زکوٰۃکے ساتھ صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کا بھی خوب اہتمام کرنا چاہیے ۔
زکوٰۃ و صدقات کے حکم کی تیسری حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمت مال کا شکر ہے جس طرح نماز اور روزہ نعمت بدن کا شکر ہے۔ قرآن کریم نے مال و دولت کو ’’خیر ‘‘ (بھلائی) اور ’’ اللہ کا فضل‘‘ قرار دیا ہے اور اسے قیام زندگی کا ذریعہ بتایا ہے، مثال کے طور پر یہ آیت ملاحظہ فرمائیں: (ترجمہ) ’’اور اپنے وہ مال نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘ (النسآء: ۵)۔ اس آیت میں مال کے ضائع ہونے کے خدشے سے اسے کم عقل لوگوں کے حوالے کرنے سے روکا گیاہے کیوں کہ وہ قیام زندگی کا ذریعہ ہے۔ انسان اگر اسے شکر خداوندی کے ساتھ جائز طریقے پر استعمال کرے تو وہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعہ ایک مسلمان دنیوی زندگی میں بھی راحت حاصل کرسکتا ہے اور اپنی آخرت کو بھی بہتر سے بہتر بناسکتا ہے۔ قرآن کریم کا اعلان یہ ہے کہ دنیوی زندگی میں رزق و معیشت کی تقسیم اللہ رب العزت کی ہی طرف سے ہوتی ہے، وہ جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ فرمان خداوندی ہے: ’’دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت کو ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کیا ہے اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔‘‘ (الزخرف: ۳۲)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ ‘‘ (العنکبوت: ۶۲)۔
اب جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے، وہ اس بات پر غور کرے اور اللہ کا شکر بجا لائے کہ اس نے اسے تنگ دستی اور دوسروں کی محتاجی سے بچایا ہے جب کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس جیسے ہزاروں انسان نادار، خستہ حال اور عاجز ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے بھی ان جیسا بناسکتا تھا لیکن اس نے احسان و کرم کا معاملہ کیااور اسے محتاجی سے نجات دی، تو اس کے اوپر اس عنایت کا شکر لازم ہے جس کا تقاضا صرف یہی نہیں ہے کہ محض زبان سے ’’الحمد للّٰہ‘‘ یا ’’شکر اللہ کا ‘‘ جیسے الفاظ ادا کرتا رہے یا اپنے مکان کے دروازے پر ’’ھٰذا من فضل ربّي‘‘ کا کتبہ کرادے بلکہ حقیقی شکر یہ ہے کہ اپنے رب کی نعمتوں کا دل سے اعتراف کرے،ز بان سے بھی ان کا اظہار کرے، اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو ان ہی کاموں میں استعمال کرے جن کی اس نے ہدایت کی ہے۔ اس نے اپنے کلام میں بالکل واضح کردیا ہے کہ مال داروں کے اموال میں سوالی و بے سوالی فقرا و مساکین کا حق ہے : ’’اور ان کے اموال میں سائل اور محروم لوگوں کا حق تھا۔‘‘ (الذاریات: ۱۹)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال دار لوگ صرف اپنے اہل و عیال کی کفالت کے ذمے دار نہیں ہیں بلکہ ان کی جماعت اجتماعی طور پر ملت کے فقرا و مساکین کی کفالت کی بھی ذمے دار ہے۔ اگر یہ سمجھ ہوگی تو انسان زکوٰۃ و صدقات بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کے جذبے سے ادا کرے گا اور غریبوں، مسکینوں، محتاجوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کرے گا۔ وہ اس بات سے بھی خوف کھائے گا کہ ناشکری، نافرمانی اور غربا و مساکین کی حق تلفی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کہیںاس کی حالت نہ بدل دے اوراسے محتاجوں کی صف میں نہ کھڑا کردے، جو اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ پھر اس شکرگزاری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں میں اضافہ بھی کرے گا اور آخرت میں اسے اس کا بہترین بدلہ بھی عطا فرمائے گا۔پھر ان ساری حکمتوں کو پیش نظر رکھ کر زکوٰۃ ادا کرنے سے ایثار و ہمدردی پر مبنی ایک پاکیزہ، صالح،اور متوازن معاشرے کی تشکیل بھی ممکن ہوسکے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قارئین کے ساتھ ساتھ احقر کو بھی زکوٰۃکی مذکورہ حکمتوں کو پیش نظر رکھ کر اسے ادا کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! یارب العالمین!

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سمبا کی ٹیم نے ’اُڑان‘ پیش کیا، کیتھل نے پہلی پوزیشن حاصل کی

  جنگ نیوز ڈیسک پنچکولہ/ پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ...

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

تازہ ترین خبریں

سمبا کی ٹیم نے ’اُڑان‘ پیش کیا، کیتھل نے پہلی پوزیشن حاصل کی

  جنگ نیوز ڈیسک پنچکولہ/ پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ...

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

زکوٰۃ: تزکیۂ نفس اور معاشرتی فلاح کا ذریعہ

ڈاکٹر محمد واسع ظفر
اسلام ایک جامع نظام حیات کا نام ہے۔ اس کے احکام محض چند رسمی عبادات یا ظاہری اعمال تک محدود نہیں ہوتے بلکہ اس کے ہر حکم میں انسان کی انفرادی و اجتماعی فلاح کی کچھ حکمتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ زکوٰۃ بھی اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب نصاب مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔ یہ بظاہر مال کے ایک متعین حصے کو اس کے مستحقین تک پہنچانے کا نام ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی عبادت ہے اور ایسا الٰہی نظام ہے جس سے انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی پاکیزگی اور معا شرتی فلاح کی گہری حکمتیں پوشیدہ ہیں۔ ایک طرف جہاں اس سے غریبوں، مسکینوں اور محتاجوں کی حاجت روائی ، دولت کی منصفانہ گردش، معاشی توازن کا قیام، ملی اخوت اور ایثار و ہمدردی کے جذبات کا فروغ مقصود ہے تو دوسری طرف اس کی چند دیگر حکمتیں بھی ہیں جو براہ راست انسان کے تزکیۂ نفس سے جڑی ہوئی ہیں۔ قرآن کریم نے زکوٰۃ کے مقصد تزکیہ کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: ’’(اے نبیؐ!) آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے، اس کے ذریعہ ان (کے اموال) کو پاک کردیجیے اور ان کا تزکیہ کیجیے ۔ ‘‘ (التوبۃ: ۱۰۳)۔ یہ آیت اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ زکوٰہ کا مقصد صرف مال کا ایک حصہ منتقل کرنا نہیں بلکہ انسان کے باطن کی اصلاح اور معاشرے کی تطہیر بھی ہے۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ زکوٰۃ کے حکم کی حکمتوں اور اس کی حقیقی روح کو سمجھا جائے تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کے عظیم مقاصد کوبروئے کار لایا جاسکے۔
پہلی بات یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی بندوں کی اللہ سے محبت کا امتحان ہے۔ ایک مومن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس کے دل میں سب سے زیادہ محبت اپنے رب کی ہو۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔‘‘ (البقرۃ: ۱۶۵)۔ دوسری آیت میں قرآن کریم نے آٹھ چیزوں کی نشان دہی کرکے مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ کبھی بھی ان کی محبت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت سے اور اللہ کی راہ میں جہاد سے جس میں کبھی جان عزیز کو بھی قربان کرنا پڑتا ہے، زیادہ نہیں ہونی چاہیے ورنہ تم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔ فرمان خداوندی ہے: ’’آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارا خاندان، اور وہ اموال جو تم نے کمائے ہیں، اور وہ تجارت جس کی کساد بازاری کا تمھیں خوف لگا رہتا ہے، اور وہ مکان جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسولؐ اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم (عذاب) لے آئے اور اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ‘‘ (التوبۃ: ۲۴)۔
ان آیات کے تناظر میں ہر مسلمان یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔ دوسری طرف انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ مال و دولت سے بھی بے حد محبت کرتا ہے۔ قرآن اس کی گواہی یوں دیتا ہے: ’’ حقیقت یہ ہے کہ وہ (انسان) مال کی محبت میں بہت سخت ہے۔‘‘ (العادیات: ۸)۔ اس لئے اللہ رب العزت نے زکوٰۃ و صدقات کا حکم دیا تاکہ وہ بندوں کو آزمائے کہ کون اس کی محبت کو مال ودولت کی محبت پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی محبوب چیز کو اللہ کی خوشنودی کے لئے قربان کرتا ہے ؟ جو لوگ اس آزمائش میں پورا اترتے ہیں اور اپنا مال اللہ کی محبت میں فقرا اور مساکین پر خرچ کرتے ہیں، انھیں ہی قرآن نے سچا مومن اور متقی قرار دیا ہے اور ان کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ’’نیکی یہی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی اس کی ہے جو اللہ تعالیٰ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوںپر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے اور جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں، اور سوال کرنے والوں کو دے اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور اپنے عہد کو پورا کرے جب وہ عہد کرے، اور تنگ دستی، تکلیف اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی وہ لوگ ہیں جو سچے ہیں اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں ۔ ‘‘ (البقرۃ: ۱۷۷)۔ اس لئے ایک مال دار مومن کو چاہیے کہ وہ پوری خوش دلی سے زکوٰۃ و صدقات ادا کرکے اللہ تعالیٰ سے اپنی سچی محبت کا ثبوت دے۔ صدقات کی تو کوئی حد مقرر نہیںجو چیز بھی اپنی ضرورت سے زائد ہو راہ خدا میں تقسیم کی جاسکتی ہے لیکن زکوٰۃ کی شرح مقرر ہے جو کہ جمع سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت جس پر سال گزر جائے، کا ڈھائی فی صد یعنی چالیسواں حصہ ہے اور کھیت و باغات کی پیداوار جو تیار ہوجائے، کا دسواں حصہ (عشر) ہے اگر زمین قدرتی ذرائع سے سیراب ہو، اور اگر زمین مصنوعی ذرائع سے سیراب ہو تو پیداوار کا بیسواں حصہ (نصف عشر) زکوٰۃ ہے۔ اب اگر ایک شخص اپنی جمع پونجی کا چالیسواں حصہ یا غلوں اور پھلوں کی پیداور کا دسواں یا بیسواںحصہ بھی اللہ کے لئے نہ نکالے تو اللہ تعالیٰ کی محبت کا اس کا دعویٰ بالکل کھوکھلا ہے۔
دوسری حکمت زکوٰۃ و صدقات کی یہ ہے کہ اس کے ذریعہ بخل کے مرض سے انسان کے دل کو پاک کرنا مقصود ہے۔ بخل کو رسول اللہ ﷺ نے ایک سنگین بیماری قرار دیا ہے، جب بنو سلمہ قبیلے کے افراد نے آپؐ کی خدمت میں اپنی حاضری کے وقت اپنے سردار جد بن قیس کے بخل کی شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا: ’’بخل سے بڑھ کر بھی کوئی بیماری ہے؟‘‘، پھر آپؐ نے بشر بن البراء بن معرور رضی اللہ عنہ کو ان پر سردار مقرر کردیا۔ (المستدرک للحاکمؒ، حدیث نمبر ۴۹۶۵)۔ اسی طرح حضرت جابرؓ نے اپنے معاملے میں جب حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بخل سے کام لینے کی شکایت کی تو انھوں نے بیت المال سے لگ بھگ پندرہ سو درہم دے کر ان کی شکایت دور کی اور بعینہ یہی الفاظ دہرائے یعنی بخل سے زیادہ سنگین بیماری اور کیا ہوسکتی ہے؟ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر۳۱۳۷، ۴۳۸۳)۔ ان روایات سے بالکل واضح ہے کہ بخل ایک سنگین قلبی مرض ہے اور یہ وہ مرض ہے جو کبھی بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو مال و دولت کی محبت پر غالب نہیں ہونے دیتا جس کے نتیجے میں انسان کا ایمان کبھی کامل نہیں ہوپاتا اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب سے محروم ہی رہ جاتا ہے۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس مرض سے پناہ مانگی ہے اور اپنی امت کو بھی اس کی تعلیم دی ہے۔ آپؐ کی معمول کی دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی: ’’اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم و الم سے، عجز و کمزوری سے، سستی سے، بخل سے ، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے، اور لوگوں کے غلبہ سے ۔‘‘ (صحیح البخاریؒ، حدیث نمبر ۵۴۲۵)۔ آپؐ سے بخیل کے اخروی انجام کے سلسلے میں سخت وعید منقول ہے ۔ آپؐ نے اہل جہنم کے تذکرے میں فرمایا: ’’ہر بداخلاق، تندخو، متکبر، مال جمع کرکے رکھنے والا اور نیکی سے روکنے والا جہنم میں ہوگا۔‘‘ (مسند أحمدؒ، حدیث نمبر ۶۵۸۰)۔ اس لئے قرآن کریم نے ان لوگوں کو جو بخل و کنجوسی کے مرض سے بچالئے گئے ، کامیابی کی بشارت دی ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو وہی ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔‘‘ (الحشر: ۹)۔
اس تناظر میں دیکھیں تو زکوٰۃ و صدقات بخل و کنجوسی کے لئے لازمی دوا کی مانند ہیں کہ ان کے بغیر اس مرض کا علاج محال ہے۔ اس لئے ہر صاحب مال کو چاہیے کہ اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر ان کا اہتمام کرے تاکہ بخل جیسی مہلک بیماری سے اسے نجات حاصل ہو، اس کا ایمان درجۂ کمال کو پہنچے، اللہ کا قرب اسے حاصل ہو اور بالآخر وہ اخروی فلاح پانے والوں میں شامل ہوجائے۔ جو لوگ اس مرض میں مبتلا رہ جاتے ہیں، ان کے سلسلے میں قرآن پاک میں بھی سخت وعیدیں ہیں۔ ارشاد ربانی ہے: ـ’’اور جو لوگ بخل کرتے ہیں اس (مال) میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انھیں دے رکھا ہے وہ ہرگز گمان نہ کریں کہ ان کے لئے وہ بہتر ہے، بلکہ ان کے لئے وہ بہت ہی برا ہے، عنقریب وہ (مال) جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا۔‘‘ (آل عمران: ۱۸۰)۔ دوسری آیت میں کچھ لوگوں کے بخل اختیار کرنے ، اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے اور اطاعت سے روگردانی کرنے پر پوری قوم کو دوسری قوم سے بدل دینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے: ’’سنو! تم وہ لوگ ہوکہ جب تمھیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض لوگ بخل کرنے لگتے ہیں اور جو کوئی بھی بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ غنی ہے اور تم محتاج ہو، اور اگر تم منہ موڑوگے تو وہ تمھاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ ‘‘ (محمد: ۳۸)۔
یہاں یہ جو فرمایا کہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ سے ہی بخل کرتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ خرچ کرنے پر جوصلہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے خزانہ سے کئی گنا اضافہ کے ساتھ ملتا اور اُس مشکل گھڑی میں اسے کام آتا، وہ اس سے محروم رہے گا، تو دراصل اس نے اپنے آپ سے بخالت کی اور اخروی بچت نہ کرکے اپنا ہی نقصان کیا، اللہ تعالیٰ نے اسے یہ حکم اسی کے فائدے کے لئے دیا تھا ورنہ وہ تو غنی اوربے نیاز ہے۔ الغرض ایک طرف تو یہ محرومی ہوئی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا وبال الگ بھگتنا پڑے گا۔ نیز دنیا میں بھی اس بخل کا انجام انسان کو بھگتنا پڑتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’کوئی قوم زکوٰۃ نہیں روک رکھتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے۔‘‘ (المستدرک للحاکمؒ، حدیث نمبر ۲۵۷۷)۔ دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ روئے زمین پر اگر جانور نہ ہوں تو ان کو بارش کا ایک قطرہ تک نہ ملے۔ (حوالہ سابق، حدیث نمبر ۸۶۲۳)۔ بارش نہ ہونے کا انجام قحط سالی کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔ ایک اور روایت میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے پر مال کے ضائع ہونے کی وعید رسول اکرم ﷺ سے منقول ہے: ’’خشکی یا سمندر میں کوئی مال ضائع نہیں ہوتا سوائے زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ کے۔‘‘ (جامع الصغیر للسیوطیؒ، حدیث نمبر ۷۸۷۸، بروایت حضرت عمرؓ)۔ اس حدیث کو گو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن دوسری احادیث کی تائید کی وجہ سے اس میں بیان کردہ خطرے کو بالکلیہ رد نہیں کیا جاسکتا۔
نیز زکوٰۃ روکنے کے چند سماجی مضمرات بھی مرتب ہوتے ہیں، اگر لو گ عمومی طور پر زکوٰۃ و صدقات روک لیں تو فقر و فاقہ معاشرے میں عام ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں چوری، راہ زنی اور ڈاکا زنی جیسی واردات وقوع پذیر ہونے لگتی ہیں، لوگوں کا امن وسکون غارت ہوجاتا ہے اور دولت مند طبقہ ہی اس سے سب زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل مال دار طبقہ جب زکوٰۃ و صدقات ادا کرتا ہے اور فقرا و مساکین تک متعلقہ رقم پہنچتی ہے تو ان کی قوت خرید (purchasing power)  بڑھ جاتی ہے، پھر وہ اپنی ضرورت کی چیزیں مال داروں سے ہی خریدتے ہیں، اس طرح کے مالی تبادلہ سے زکوٰۃ دینے والوں کا منافع بڑھ جاتا ہے اور زکوٰۃ میں دی ہوئی رقم پھر ان کے پاس واپس آجاتی ہے۔ یوں معاشرے میں ارتکاز دولت اور معاشی عدم مساوات کا مسئلہ بہت حد تک قابو میں رہتا ہے، فقرا و مساکین کی ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں اور اغنیا کو نفس و مال کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں زکوٰۃ و صدقات کی وجہ سے فقرا اور اغنیا کے درمیان محاسدت کے بجائے بھائی چارہ اور محبت و ہمدردی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو معاشرے کے اندر یکجہتی اور استحکام لاتا ہے۔ زکوٰۃ و صدقات روک لینے اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے کے اجتماعی خسارے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس سے جہاد و قتال کا نظام معطل ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں دارالاسلام پر باطل طاقتوں کا غلبہ ہوسکتا ہے اور اس کے نتائج بد بھی سارے مسلمانوں کو بھگتنے پڑسکتے ہیں۔ اس لئے اس مرض کی سنگینی اور اس کے انجام بد کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس کے علاج کی ہر ممکن تدبیر کرنی چاہیے یعنی زکوٰۃکے ساتھ صدقات اور انفاق فی سبیل اللہ کا بھی خوب اہتمام کرنا چاہیے ۔
زکوٰۃ و صدقات کے حکم کی تیسری حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمت مال کا شکر ہے جس طرح نماز اور روزہ نعمت بدن کا شکر ہے۔ قرآن کریم نے مال و دولت کو ’’خیر ‘‘ (بھلائی) اور ’’ اللہ کا فضل‘‘ قرار دیا ہے اور اسے قیام زندگی کا ذریعہ بتایا ہے، مثال کے طور پر یہ آیت ملاحظہ فرمائیں: (ترجمہ) ’’اور اپنے وہ مال نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمھارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے۔‘‘ (النسآء: ۵)۔ اس آیت میں مال کے ضائع ہونے کے خدشے سے اسے کم عقل لوگوں کے حوالے کرنے سے روکا گیاہے کیوں کہ وہ قیام زندگی کا ذریعہ ہے۔ انسان اگر اسے شکر خداوندی کے ساتھ جائز طریقے پر استعمال کرے تو وہ اللہ کی بڑی نعمت ہے۔ اس کے ذریعہ ایک مسلمان دنیوی زندگی میں بھی راحت حاصل کرسکتا ہے اور اپنی آخرت کو بھی بہتر سے بہتر بناسکتا ہے۔ قرآن کریم کا اعلان یہ ہے کہ دنیوی زندگی میں رزق و معیشت کی تقسیم اللہ رب العزت کی ہی طرف سے ہوتی ہے، وہ جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ فرمان خداوندی ہے: ’’دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت کو ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کیا ہے اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔‘‘ (الزخرف: ۳۲)۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ ‘‘ (العنکبوت: ۶۲)۔
اب جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا ہے، وہ اس بات پر غور کرے اور اللہ کا شکر بجا لائے کہ اس نے اسے تنگ دستی اور دوسروں کی محتاجی سے بچایا ہے جب کہ اس کی آنکھوں کے سامنے اس جیسے ہزاروں انسان نادار، خستہ حال اور عاجز ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اسے بھی ان جیسا بناسکتا تھا لیکن اس نے احسان و کرم کا معاملہ کیااور اسے محتاجی سے نجات دی، تو اس کے اوپر اس عنایت کا شکر لازم ہے جس کا تقاضا صرف یہی نہیں ہے کہ محض زبان سے ’’الحمد للّٰہ‘‘ یا ’’شکر اللہ کا ‘‘ جیسے الفاظ ادا کرتا رہے یا اپنے مکان کے دروازے پر ’’ھٰذا من فضل ربّي‘‘ کا کتبہ کرادے بلکہ حقیقی شکر یہ ہے کہ اپنے رب کی نعمتوں کا دل سے اعتراف کرے،ز بان سے بھی ان کا اظہار کرے، اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو ان ہی کاموں میں استعمال کرے جن کی اس نے ہدایت کی ہے۔ اس نے اپنے کلام میں بالکل واضح کردیا ہے کہ مال داروں کے اموال میں سوالی و بے سوالی فقرا و مساکین کا حق ہے : ’’اور ان کے اموال میں سائل اور محروم لوگوں کا حق تھا۔‘‘ (الذاریات: ۱۹)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مال دار لوگ صرف اپنے اہل و عیال کی کفالت کے ذمے دار نہیں ہیں بلکہ ان کی جماعت اجتماعی طور پر ملت کے فقرا و مساکین کی کفالت کی بھی ذمے دار ہے۔ اگر یہ سمجھ ہوگی تو انسان زکوٰۃ و صدقات بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کے جذبے سے ادا کرے گا اور غریبوں، مسکینوں، محتاجوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کرے گا۔ وہ اس بات سے بھی خوف کھائے گا کہ ناشکری، نافرمانی اور غربا و مساکین کی حق تلفی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کہیںاس کی حالت نہ بدل دے اوراسے محتاجوں کی صف میں نہ کھڑا کردے، جو اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ پھر اس شکرگزاری کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں میں اضافہ بھی کرے گا اور آخرت میں اسے اس کا بہترین بدلہ بھی عطا فرمائے گا۔پھر ان ساری حکمتوں کو پیش نظر رکھ کر زکوٰۃ ادا کرنے سے ایثار و ہمدردی پر مبنی ایک پاکیزہ، صالح،اور متوازن معاشرے کی تشکیل بھی ممکن ہوسکے گی۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ قارئین کے ساتھ ساتھ احقر کو بھی زکوٰۃکی مذکورہ حکمتوں کو پیش نظر رکھ کر اسے ادا کرنے کی توفیق عنایت کرے۔ آمین! یارب العالمین!

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں