
عبدالغفارصدیقی
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کی شناخت صرف اس کے جغرافیہ سے نہیں بلکہ اس کی تہذیبی اور معاشرتی روایت سے بھی ہوتی ہے۔ یہاں صدیوں سے خاندان سماج کی بنیادی اکائی رہا ہے۔ والدین اور اولاد، استاد اور شاگرد، شوہر اور بیوی، بزرگ اور نوجوان—یہ محض رشتے نہیں تھے بلکہ ذمہ داریوں، محبت، احترام، وفاداری اور باہمی تعاون کا ایک پورا نظام تھا۔ عورت گھر کی عزت اور خاندان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی تھی، مرد پر خاندان کی کفالت اور حفاظت کی ذمہ داری تھی، والدین اولاد کی تربیت کرتے تھے اور اولاد بڑھاپے میں والدین کا سہارا بنتی تھی۔ استاد صرف کتاب پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار سازی کرنے والا مربی سمجھا جاتا تھا۔ حیا، عفت، وفاداری، بزرگوں کا احترام اور خاندان سے وابستگی ہندوستانی معاشرت کی نمایاں اقدار میں شمار ہوتی تھیں۔
مگر آج یہ اقدار بکھر رہی ہیں ۔والدین اپنی اولاد کے ہاتھوں رسوا ہورہے ہیں ،میاں بیوی کا اعتماد مجروح ہورہا ہے ۔لیو ان ریلیشن شپ اور ہم جنس پرستی کے ناگ نے سماجی تانے بانے کو اس طرح ڈس لیا ہے کہ کوئی تریاق کام نہیں کررہا ہے ؟ یہ سوال کسی ایک مذہب، جماعت یا سیاسی نظریے کا نہیں، بلکہ پورے ہندوستانی سماج کے مستقبل کا سوال ہے۔
بھارتی آئین نے شہریوں کو بنیادی حقوق عطا کیے ہیں۔ آرٹیکل 14 مساوات، آرٹیکل 19 اظہار اور دیگر آزادیوں، اور آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے وقتاً فوقتاً ان دفعات کی تشریح کرتے ہوئے فرد کی عزت، رازداری، انتخاب اور شخصی خودمختاری کے دائرے کو وسیع کیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ بالغ افراد کو اپنی زندگی اور شریکِ حیات کے انتخاب کا حق حاصل ہے اور خاندان یا برادری کی مرضی کسی بالغ فرد کے انتخاب پر غالب نہیں آسکتی۔
یہ اصول اپنی جگہ اہم ہیں لیکن یہاں سے ایک دوسری بحث بھی شروع ہوتی ہے: فرد کی آزادی کی حفاظت کرتے ہوئے خاندان اور معاشرتی ذمہ داریوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے؟ کیا قانون صرف فرد کے حق کو دیکھے گا یا خاندان کے اجتماعی مفاد کو بھی اہمیت دے گا؟
سپریم کورٹ کے 2023 کے ایک اہم فیصلے میں بالغ افراد کے باہمی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنے اور ساتھ رہنے کے حق کو رازداری، انتخاب اور شخصی خودمختاری کے اصولوں سے جوڑا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ شریکِ حیات یا ساتھی کے انتخاب اور ساتھ رہنے کا معاملہ فرد کی آزادی سے متعلق ہے۔
بھارت میں ہم جنس پرستی کی قانونی حیثیت کے حوالے سے سپریم کورٹ کے دو فیصلے اہم ہیں۔ 6 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے بالغ افراد کے درمیان باہمی رضامندی سے نجی طور پر قائم ہم جنس جنسی تعلقات کو جرم قرار دینے والی تعزیراتِ ہند کی دفعہ 377 کو اس حد تک غیر آئینی قرار دے دیاکہ یہ دفعہ بالغ افراد کے ایسے رضامندانہ جنسی تعلقات کو جرم نہیں بنا سکتی۔ البتہ نابالغوں کے ساتھ جنسی عمل، عدم رضامندی پر مبنی عمل اور حیوانوں کے ساتھ جنسی عمل سے متعلق اس دفعہ کی دفعات بدستور قابلِ اطلاق رہیں گی۔ بعد ازاں 17 اکتوبر 2023 کو عدالت نے ہم جنس شادی کو قانونی شناخت دینے کی درخواستیں منظور نہیں کیں اور اس معاملے کو قانون سازی کے لئے پارلیمان کے دائرہ اختیار سے متعلق قرار دیا۔ (نو تیج سنگھ جوہر بنام یونین آف انڈیا، 2018؛ سُپریو بنام یونین آف انڈیا، 2023۔)
یہاں ہندوستانی معاشرے کے لئے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ شادی ہندوستانی تہذیب میں صرف دو افراد کے ساتھ رہنے کا نام نہیں رہی،یہ دو خاندانوں کے درمیان ایک ذمہ دارانہ رشتہ بھی رہی ہے، جس کے ساتھ وفاداری، اولاد، کفالت، خاندان اور سماجی ذمہ داری کے تصورات وابستہ رہے ہیں۔ اگربغیر شادی کے ساتھ رہنے کو بھی شخصی آزادی کے دائرے میں قانونی تحفظ حاصل ہونے لگے تو اس کے معاشرتی اثرات پر بحث کرنا بھی ضروری ہے۔ قانون کسی تعلق کو جرم نہ قرار دے، یہ ایک قانونی مسئلہ ہے لیکن معاشرہ اسے اپنی تہذیبی اقدار کے پیمانے پر کیسے دیکھے، یہ ایک الگ سماجی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔
اسی طرح عورتوں کے حقوق کے میدان میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہندوستان میں اہم قانونی پیش رفت ہوئی ہے۔ گھریلو تشدد سے تحفظ کا قانون، کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی سے تحفظ کا قانون اور دیگر قوانین عورت کو ظلم، استحصال اور ہراسانی سے بچانے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ Protection of Women from Domestic Violence Act, 2005 عورت کو shared household میں رہائش، تحفظی احکامات اور دیگر قانونی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ 2013 کا Sexual Harassment of Women at Workplace Act کام کی جگہ پر جنسی ہراسانی کے خلاف شکایت اور تدارک کا نظام فراہم کرتا ہے۔
اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ عورت کو تشدد اور استحصال سے محفوظ ہونا چاہیے۔ لیکن حقوق کے اس پورے نظام کے ساتھ ایک دوسرا سوال بھی ضروری ہے: کیا عورت کی آزادی کا تصور خاندان سے آزادی کے مترادف ہوجانا چاہیے؟ کیا معاشرے میں عورت اور مرد دونوں کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرکے صرف انفرادی خواہش کو بنیادی قدر بنا دینا خاندان کے لئے مفید ہوگا؟
قانون میں لڑکی کی شادی کی عمر 18 سال ہے، جبکہ لڑکے کے لئے 21 سال ہے۔ ایک طرف قانون کم عمری کی شادی سے بچانے کے لئے 18 سال کی حد مقرر کرتا ہے، دوسری طرف بالغ افراد کی شخصی آزادی اور باہمی رضامندی سے قائم ہونے والے جنسی تعلقات کو آئینی تحفظ دیتاہے۔ اس پورے نظام کے سماجی اثرات، خصوصاً نوجوانوں، خاندان اور ازدواجی ادارے پر اثرات کا غیر جانب دارانہ مطالعہ وقت کی ضرورت ہے۔
تولیدی حقوق کا معاملہ بھی اسی بحث کا حصہ ہے۔ Medical Termination of Pregnancy Act میں 18 سال سے کم عمر حاملہ لڑکی کے لئے سرپرست کی تحریری رضامندی کا اصول موجود ہے، جبکہ بالغ عورت کے لئے اس کی اپنی رضامندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 18سال سے کم عمر لڑکی حاملہ تو ہوسکتی ہے لیکن وضع حمل کے لئے والدین یا سرپرست کی رضامندی ضروری ہے ۔یعنی 18سال سے کم عمر کی لڑکی بغیر شادی کے حاملہ ہوسکتی ہے مگر وہ شادی نہیں کرسکتی۔
بچوں کے حقوق کے میدان میں بھی ہندوستانی قانون نے نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ Right to Education Act کی دفعہ 17 بچے کو جسمانی سزا اور ذہنی ہراسانی سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔ قانون نے صاف طور پر physical punishment اور mental harassment کو ممنوع قرار دیا ہے۔
یہ ایک ضروری تحفظ ہے۔ کسی استاد کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ بچے کو تشدد کا نشانہ بنائے یا اسے ذلت اور خوف میں مبتلا کرے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسمانی سزا کی ممانعت کو بعض اوقات اس طرح سمجھ لیا جاتا ہے کہ استاد کے پاس تربیتی اختیارات ہی باقی نہ رہے۔ تعلیم صرف معلومات منتقل کرنے کا نام نہیں؛ تعلیم میں کردار سازی، نظم و ضبط، اخلاق اور ذمہ داری کا احساس بھی شامل ہے۔
ایک استاد کا بچے کو مارنا اور بچے کو نظم و ضبط کا پابند کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اسی طرح والدین کا بچے پر ظلم کرنا اور بچے کی غلطی پر اسے سختی سے سمجھانا بھی ایک چیز نہیں۔ اگر ہم ان دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھ دیں تو ہم تشدد سے تو بچے کو بچا سکتے ہیں، لیکن شاید تربیت کے ایک اہم وسیلے کو بھی کمزور کردیں۔
یہی سوال والدین اور بچوں کے تعلق میں بھی پیدا ہوتا ہے۔ بچوں کو تشدد، جنسی استحصال اور ظلم سے مکمل تحفظ ملنا چاہیے، لیکن بچے کا حق یہ بھی ہے کہ اسے ذمہ دار، بااخلاق اور باکردار انسان بنانے کے لئے والدین اور استاد کی نگرانی حاصل ہو۔ بچوں کے حقوق کا مقصد والدین اور استاد کے احترام کو ختم کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ بچے کو ظلم سے محفوظ رکھتے ہوئے صحت مند تربیتی ماحول فراہم کرنا ہونا چاہیے۔
اگر والدین کو ہر تربیتی اقدام کے سلسلے میں یہ خوف لاحق رہے کہ کہیں بچہ اسے قانونی شکایت کا موضوع نہ بنا دے، اور استاد ہر تنبیہ کو ممکنہ قانونی خطرے کے طور پر دیکھنے لگے، تو اس کا نقصان بالآخر تعلیمی اور تربیتی نظام ہی کو ہوگا۔
شخصی آزادی کے نام پر بنائے جانے والے قوانین کا نتیجہ بزرگوں کی قابل رحم حالت کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ روایتی ہندوستانی خاندان میں ماں باپ کو گھر کا سب سے محترم حصہ سمجھا جاتا تھا۔ بڑھاپا اولاد کے لئے بوجھ نہیں بلکہ والدین کی خدمت کا زمانہ سمجھا جاتا تھا۔ لیکن آج بزرگوں کے لئے institutional care اور retirement homes کا دائرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
حکومتِ ہند کے مطابق Atal Vayo Abhyuday Yojana کے تحت اگست 2025 تک ملک بھر میں 696 Senior Citizen Homes کام کررہے تھے اور 2025-26 کے دوران مزید 84 نئے Senior Citizen Homes منتخب کیے گئے۔ جولائی 2026 میں حکومت نے 734 Senior Citizen Homes کی معاونت کی اطلاع دی، جبکہ ستمبر 2026 میں مزید 142 نئے Senior Citizen Homes منظور کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔
یہ اعداد ایک بڑے سماجی سوال کی طرف ضرور توجہ دلاتے ہیں: کیا ہندوستانی معاشرہ اس مقام کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں بزرگ والدین کے لئے خاندان کے بجائے ادارہ جاتی نگہداشت زیادہ نمایاں ہوتی جارہی ہے؟
بے حیائی اور اخلاقی بے راہ روی کا سبب حقوق اور آزادی کے نام پر آئین میں درج دفعات کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا بھی ہے۔ موبائل فون، سوشل میڈیا، فلمیں، OTT پلیٹ فارم، اشتہارات، صارفیت اور عالمی ثقافتی اثرات نے نوجوان نسل کے سامنے ایک ایسی دنیا کھول دی ہے جس میں جنسی مواد اور جسمانی نمائش پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسانی سے دستیاب ہے۔ اس لئے اگر ہندوستانی معاشرے میں اخلاقی اقدار کے زوال پر گفتگو کرنی ہے تو قانون کے ساتھ میڈیا، بازار، تعلیم، خاندان اور ٹیکنالوجی سب کا جائزہ لینا ہوگا۔آج جنسی ویڈیوز ،فحش لٹریچر،جنسی فرینڈ شپ کے مواقع ،بغیر کسی روک ٹوک کے دستیاب ہیں۔جس کے نتیجہ میں جسم فروشی میں اضافہ ہوا ہے ۔بعض شہروں اور قصبوں میں ہوٹلوں، فارم ہاؤسز اور دیگر نجی مقامات کے غیر قانونی استعمال، جسم فروشی اور منشیات کے کاروبار سے متعلق شکایات اور پولیس کارروائیاں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔
اس صورتِ حال میں ہندوستان کے اہلِ حل و عقد کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم آزادی اور تہذیب، حقوق اور ذمہ داری، فرد اور خاندان، بچے اور تربیت، عورت اور خاندان، بزرگ اور گھر—ان سب کے درمیان ایک نیا متوازن رشتہ قائم کرسکتے ہیں؟
ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں عورت کو ظلم سے تحفظ حاصل ہو مگر خاندان کی قدر بھی باقی رہے، بچے کو تشدد سے آزادی حاصل ہو مگر تربیت اور نظم و ضبط بھی ملے،استاد کو ظلم کی اجازت نہ ہو مگر اس کا تربیتی وقار بھی محفوظ رہے، بالغ انسان کو اپنے جائز فیصلوں کی آزادی ہو مگر ذمہ داری کا احساس بھی زندہ رہے، اور بزرگ شہری کو سرکاری یا نجی ادارے کی سہولت ملے تو وہ خاندان سے بے دخل ہونے کی علامت نہ بنے بلکہ ضرورت کے وقت اضافی سہارا ہو۔
خاندان کو بچانا کسی ایک مذہب یا طبقے کی ضرورت نہیں،یہ پورے سماج کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مضبوط خاندان ہی مضبوط نسل تیار کرتا ہے، مضبوط نسل ہی مضبوط سماج بناتی ہے اور مضبوط سماج ہی ایک مضبوط ملک کی بنیاد بنتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ ملک کی پارلیمان نے جو قانون سازی کی ہے یا عدالتوں نے جو فیصلہ دیے ہیں وہ غلط ہیں،شاید ایک ترقی یافتہ ہندوستان کے لئے مغربی اقدار کو اپنانا ہماری مجبوری ہو،لیکن ایسے ترقی یافتہ ہندوستان کا کیا فائدہ جہاں رشتوں کی ڈوریاں ٹوٹ چکی ہوں ،عریانیت قابل قبول ہو،حجاب پابند سلاسل ہواور خاندان کا لفظ ڈکشنریوں سے غائب ہوچکا ہو۔


