مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں نے سعودی عرب میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ دمام ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں ایک بھارتی شہری کی ہلاکت اس خطرے کی تازہ مثال ہے۔ دوسری جانب پروازوں میں خلل اور بھارتی زائرین کے پھنس جانے نے نئی دہلی کے لئے صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بنا دیا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازعہ برسوں سے جاری ہے، لیکن فوجی کارروائیوں سے اب تک پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا۔ مسلسل بمباری اور جوابی حملوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے، جبکہ عام شہری اس تصادم کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کی موجودگی کے پیش نظر اس جنگ کے اثرات ہندوستان کے لئے بھی اہم ہیں۔
ہندوستان کو سب سے پہلے پھنسے ہوئے زائرین کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے ہنگامی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، نئی دہلی کو سعودی عرب، ایران اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کو مضبوط بناتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے لئے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
مغربی ایشیا میں امن صرف فوجی طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انسانی جانوں کے ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فریق تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں، کیونکہ خلیج میں پائیدار امن ہی خطے کے عوام اور وہاں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔ہندوستان کے لئے یہ بحران ایک اہم سفارتی امتحان بھی ہے، کیونکہ اسے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک سے بھی متوازن روابط قائم رکھنے ہیں۔ تیل کی فراہمی، سمندری تجارتی راستوں اور بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کا انحصار خلیج میں استحکام پر ہے۔ اس لئے ہندوستان کو محض واقعات پر ردِعمل دینے کے بجائے پیشگی حکمتِ عملی اپنانی چاہیے اور جنگ بندی، انسانی امداد اور بامعنی مذاکرات کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو موقع دینا ہی اس بحران سے نکلنے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔
سفارت کاری ہی واحد راستہ
سفارت کاری ہی واحد راستہ
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں نے سعودی عرب میں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ دمام ہوائی اڈے پر حوثی حملے میں ایک بھارتی شہری کی ہلاکت اس خطرے کی تازہ مثال ہے۔ دوسری جانب پروازوں میں خلل اور بھارتی زائرین کے پھنس جانے نے نئی دہلی کے لئے صورتِ حال کو مزید تشویش ناک بنا دیا ہے۔ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازعہ برسوں سے جاری ہے، لیکن فوجی کارروائیوں سے اب تک پائیدار امن قائم نہیں ہو سکا۔ مسلسل بمباری اور جوابی حملوں نے خطے میں عدم استحکام کو بڑھایا ہے، جبکہ عام شہری اس تصادم کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کی موجودگی کے پیش نظر اس جنگ کے اثرات ہندوستان کے لئے بھی اہم ہیں۔
ہندوستان کو سب سے پہلے پھنسے ہوئے زائرین کی بحفاظت واپسی یقینی بنانے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے ہنگامی منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی، نئی دہلی کو سعودی عرب، ایران اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کو مضبوط بناتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے لئے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
مغربی ایشیا میں امن صرف فوجی طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں۔ اگر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو انسانی جانوں کے ساتھ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی بھی متاثر ہوگی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام فریق تصادم کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دیں، کیونکہ خلیج میں پائیدار امن ہی خطے کے عوام اور وہاں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔ہندوستان کے لئے یہ بحران ایک اہم سفارتی امتحان بھی ہے، کیونکہ اسے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تزویراتی اور اقتصادی تعلقات برقرار رکھنے کے ساتھ ایران سمیت خطے کے دیگر ممالک سے بھی متوازن روابط قائم رکھنے ہیں۔ تیل کی فراہمی، سمندری تجارتی راستوں اور بیرونِ ملک مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی کا انحصار خلیج میں استحکام پر ہے۔ اس لئے ہندوستان کو محض واقعات پر ردِعمل دینے کے بجائے پیشگی حکمتِ عملی اپنانی چاہیے اور جنگ بندی، انسانی امداد اور بامعنی مذاکرات کے لئے بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔ طاقت کے بجائے سفارت کاری کو موقع دینا ہی اس بحران سے نکلنے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔


