حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدائش سے ہجرت فلسطین تک

 

 


ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید کی 25 سورتوں میں آیا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش طوفان نوح علیہ السلام کے 1709 سال کے بعد اور حضرت عیسی علیہ السلام سے تقریبأ 2300 سال قبل شہر بابل کے قریب قصبہ کوثی میں ہوئی (تفسیر عزیزی )۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انبیاء کا باپ کہا جاتا ہے ،کیونکہ ان کے بعد آنے والے تمام نبیوں کی پیدائش ان کی نسل سے ہوئی ۔ان کے والد کا نام آزر تھا ،وہ بت بناتے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن میں والد کے کہنے پر بتوں کو بازار میں بیچنے جاتے تو یہ آواز لگاتے تھے، "ایسے بت لےلو جو نہ نفع پہنچاتے ہیں نہ نقصان۔ عراق کا بادشاہ نمرود خدائی کا دعوے دار تھا،اس کی قوم مختلف بتوں کی پوجا کرتی تھی ۔نمرود کے دربار میں نجومی اور جادوگر تھے ،وہ اسے غیب کی باتیں بتاتے تھے۔ایک روز نجومیوں نے بادشاہ سے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ آپ کے ملک میں ایک ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو لوگوں کو آپ کی اور بتوں کی پوجا سے روکے گا اور آپ کی حکومت کو تباہ کردے گا ۔یہ سنتے ہی بادشاہ نے حکم دیا کہ شہر کی ساری عورتوں کو ایک مکان میں جمع کردیا جائے اور جس کے بھی لڑکا پیدا ہو فورأ مار ڈالا جائے ۔سپاہیوں نے نمرود کے حکم پر ہزاروں بچوں کو قتل کیا ،دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو معلوم ہوا کہ ان کے یہاں بچہ کی پیدائش ہونے والی ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ آزر نے اپنی بیوی کو ایک پہاڑ کے غار میں چھپا دیا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ کو جب دردزہ ہوا تو رات کو نکل کر قریب کے ایک غار میں چلی گئی ،غار کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔پھر اس کی ماں غار کا دروازہ بند کرکے گھر کو لوٹ آئیں۔جب بھی وہاں جاتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ انگوٹھا چوستے پاتیں جب اس کی والدہ نے انگلیاں دیکھیں تو آپ علیہ السلام ایک انگلی سے پانی ،دوسری سے شہد، تیسری سے دودھ، چوتھی سے چھوارہ اور پانچویں سے گھی چوس رہے تھے ۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ آزر نے اپنی بیوی سے کہا کہ حمل کا کیا ہوا اس نے کہا لڑکا پیدا ہوا تھا مگر مرگیا۔ایک روایت میں آیا ہے سرنگ یا غار کے اندر آپ علیہ السلام دس سال رہے ،دوسری روایت میں سات سال اور تیسری میں سترہ سال رہنے کا ذکر آتا ہے ،*تفسیر مظہری 120/4* غار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پلتے بڑھتے رہے حتی کہ جوان ہوگئے تو باپ انہیں گھر لے گیا ۔وہ بت بنا کر بیچا کرتا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی باپ کے کہنے پر بتوں کو بازار میں بیچنے لے گئے تو آواز لگائی "کوئی ہے جو ایسی چیز خریدے جو اسے فائدہ نہ پہنچا سکے اور نہ نقصان۔لوگوں نے اس کے باپ سے شکایت کی وہ بہت ناراض ہوا ۔عید کے روز آزر نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے ساتھ بتوں کی زیارت کے لئے چلو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بیماری کا بہانہ بنا کر پیچھے رہ گئے پھر ابراہیم علیہ السلام نے کلہاڑی سے سارے بتوں کو توڑ دیا اور کلہاڑی بڑے بت کی گردن میں ڈال دی لوگوں نے جب واپس آکر بتوں کی یہ حالت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ کام ابراہیم علیہ السلام نے کیا ہے بادشاہ سے شکایت کی تو ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں بلایا گیا بادشاہ نے حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جھونک دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا پھر اگلے روز لوگوں نے دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام اچھے خاصے بیٹھے ہیں۔یہ دیکھ کر کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے معتقد ہوگئے بادشاہ نے ان کو ستانا شروع کردیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے معتقدوں کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر گئے ۔ "راقم نے مندرجہ بالا معلومات قرآن مجید اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ کی ہیں۔ ” ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدائش سے ہجرت فلسطین تک

 

 


ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید کی 25 سورتوں میں آیا ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیدائش طوفان نوح علیہ السلام کے 1709 سال کے بعد اور حضرت عیسی علیہ السلام سے تقریبأ 2300 سال قبل شہر بابل کے قریب قصبہ کوثی میں ہوئی (تفسیر عزیزی )۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انبیاء کا باپ کہا جاتا ہے ،کیونکہ ان کے بعد آنے والے تمام نبیوں کی پیدائش ان کی نسل سے ہوئی ۔ان کے والد کا نام آزر تھا ،وہ بت بناتے تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن میں والد کے کہنے پر بتوں کو بازار میں بیچنے جاتے تو یہ آواز لگاتے تھے، "ایسے بت لےلو جو نہ نفع پہنچاتے ہیں نہ نقصان۔ عراق کا بادشاہ نمرود خدائی کا دعوے دار تھا،اس کی قوم مختلف بتوں کی پوجا کرتی تھی ۔نمرود کے دربار میں نجومی اور جادوگر تھے ،وہ اسے غیب کی باتیں بتاتے تھے۔ایک روز نجومیوں نے بادشاہ سے ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ آپ کے ملک میں ایک ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو لوگوں کو آپ کی اور بتوں کی پوجا سے روکے گا اور آپ کی حکومت کو تباہ کردے گا ۔یہ سنتے ہی بادشاہ نے حکم دیا کہ شہر کی ساری عورتوں کو ایک مکان میں جمع کردیا جائے اور جس کے بھی لڑکا پیدا ہو فورأ مار ڈالا جائے ۔سپاہیوں نے نمرود کے حکم پر ہزاروں بچوں کو قتل کیا ،دوسری طرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو معلوم ہوا کہ ان کے یہاں بچہ کی پیدائش ہونے والی ہے چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ آزر نے اپنی بیوی کو ایک پہاڑ کے غار میں چھپا دیا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ کو جب دردزہ ہوا تو رات کو نکل کر قریب کے ایک غار میں چلی گئی ،غار کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے ۔پھر اس کی ماں غار کا دروازہ بند کرکے گھر کو لوٹ آئیں۔جب بھی وہاں جاتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ انگوٹھا چوستے پاتیں جب اس کی والدہ نے انگلیاں دیکھیں تو آپ علیہ السلام ایک انگلی سے پانی ،دوسری سے شہد، تیسری سے دودھ، چوتھی سے چھوارہ اور پانچویں سے گھی چوس رہے تھے ۔
محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ آزر نے اپنی بیوی سے کہا کہ حمل کا کیا ہوا اس نے کہا لڑکا پیدا ہوا تھا مگر مرگیا۔ایک روایت میں آیا ہے سرنگ یا غار کے اندر آپ علیہ السلام دس سال رہے ،دوسری روایت میں سات سال اور تیسری میں سترہ سال رہنے کا ذکر آتا ہے ،*تفسیر مظہری 120/4* غار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پلتے بڑھتے رہے حتی کہ جوان ہوگئے تو باپ انہیں گھر لے گیا ۔وہ بت بنا کر بیچا کرتا تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی باپ کے کہنے پر بتوں کو بازار میں بیچنے لے گئے تو آواز لگائی "کوئی ہے جو ایسی چیز خریدے جو اسے فائدہ نہ پہنچا سکے اور نہ نقصان۔لوگوں نے اس کے باپ سے شکایت کی وہ بہت ناراض ہوا ۔عید کے روز آزر نے ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ہمارے ساتھ بتوں کی زیارت کے لئے چلو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بیماری کا بہانہ بنا کر پیچھے رہ گئے پھر ابراہیم علیہ السلام نے کلہاڑی سے سارے بتوں کو توڑ دیا اور کلہاڑی بڑے بت کی گردن میں ڈال دی لوگوں نے جب واپس آکر بتوں کی یہ حالت دیکھی تو سمجھ گئے کہ یہ کام ابراہیم علیہ السلام نے کیا ہے بادشاہ سے شکایت کی تو ابراہیم علیہ السلام کو دربار میں بلایا گیا بادشاہ نے حکم دیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں جھونک دیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا پھر اگلے روز لوگوں نے دیکھا کہ ابراہیم علیہ السلام اچھے خاصے بیٹھے ہیں۔یہ دیکھ کر کچھ لوگ آپ علیہ السلام کے معتقد ہوگئے بادشاہ نے ان کو ستانا شروع کردیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے معتقدوں کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کر گئے ۔ "راقم نے مندرجہ بالا معلومات قرآن مجید اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ کی ہیں۔ ” ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں