
فیضان پنجابی
وادیِ کشمیر کے حسین مناظر اور دلکش وادیاں صدیوں سے دنیا بھر کے لاکھوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ تاہم، اس قدرتی خوبصورتی کے پیچھے خطے کی سڑکوں پر ایک خاموش اور تیزی سے بڑھتا ہوا المیہ جنم لے رہا ہے۔ ہر سال ہزاروں مسافر وادی بھر میں اس بات سے بے خبر سفر کا آغاز کرتے ہیں کہ ایک معمول کا سفر کسی بھی وقت تباہی پر ختم ہو سکتا ہے۔ جموں و کشمیر میں سڑک حادثات سالانہ بنیادوں پر سینکڑوں قیمتی جانیں نگل رہے ہیں، جس کے باعث اہم قومی شاہراہیں اور شہری سڑکیں خونی راہداریوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
بنیادی اسباب: وادی کی سڑکیں خونی کیوں بن رہی ہیں؟
وادیِ کشمیر میں سڑک حادثات میں تشویشناک حد تک اضافہ کسی ایک وجہ سے نہیں، بلکہ انسانی لاپرواہی، ناقص بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) اور کمزور انتظامی نظام کے مجموعی اثرات کا نتیجہ ہے:
بے ہنگم ڈرائیونگ اور تیز رفتاری: تنگ، بل کھاتی پہاڑی سڑکوں اور سرینگر-جموں قومی شاہراہ جیسے کشادہ ایکسپریس ویز پر تیز رفتاری ہی ہلاکت خیز تصادم کی بنیادی وجہ ہے۔
سٹنٹ بائیکنگ اور کمسن بچوں کی ڈرائیونگ: سرینگر، اننت ناگ اور بارہمولہ جیسے شہری مراکز میں ہیلمٹ یا ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر نو عمر لڑکوں کا خطرناک اسٹنٹس کرنا اور بائیک چلانا ایک شدید مسئلہ بن چکا ہے۔
ناقص بنیادی ڈھانچہ: غیر نشان زدہ حادثاتی نقاط (Black Spots)، سڑکوں پر روشنی کا ناقص انتظام، پہاڑی موڑوں پر حفاظتی باڑ (Crash Barriers) کی عدم موجودگی اور گڑھے اکثر ڈرائیوروں کے لئے حادثات کا باعث بنتے ہیں۔
اوور لوڈنگ اور پبلک ٹرانسپورٹ کی خلاف ورزیاں: مسافر گاڑیاں اور مقامی منی بسیں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے مقررہ حد سے کہیں زیادہ سواریاں بٹھاتی ہیں، جس سے موڑ کاٹتے وقت گاڑی کا توازن اور بریکنگ سسٹم جواب دے جاتا ہے۔
شدید سردی اور نامساعد موسم: خریف کے موسم میں چھائی دھند اور چلے کلاں کے دوران سڑکوں پر جمنے والی برف وژن (دید) کو شدید متاثر کرتی ہے اور سڑکوں پر پھسلن پیدا کر کے حادثات کے خطرے کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
اعداد و شمار کے پیچھے انسانی المیہ
"ایک روڈ حادثے میں ہونے والی ہلاکت صرف ایک فرد کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ پورے خاندان کو مالی، جذباتی اور سماجی طور پر تباہ کر دیتی ہے۔”
گزشتہ ایک دہائی کے دوران، یونین ٹیریٹری میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ ہزاروں افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں پیدل چلنے والے افراد شامل ہیں، جو محفوظ فٹ پاتھ اور زیبرا کراسنگ کی عدم موجودگی کے باعث حادثات کا آسان شکار بنتے ہیں۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں ٹریفک پولیس کی سخت چیکنگ اور جدید ہائی وے مانیٹرنگ سسٹم سے کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے، لیکن دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات کا فقدان اب بھی برقرار ہے، جس کے باعث حادثے کے شکار افراد کو ابتدائی "سنہرے گھنٹے” (Golden Hour) میں بروقت طبی امداد نہیں مل پاتی۔
پیش رفت: ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت
کشمیر کے روڈ سیفٹی بحران پر قابو پانے کے لئے سرکاری شعبوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کے مابین فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے:
ٹریفک قوانین کا سخت نفاذ: ٹریفک پولیس کو خودکار رڈار چیلنجنگ سسٹم کو وسعت دینی چاہیے، سٹنٹ ڈرائیونگ پر لائسنس منسوخ کرنے اور کمسن بچوں کو گاڑیاں دینے والے والدین کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
انجینئرنگ اور حادثاتی نقاط کی اصلاح: محکمہ برائے تعمیرات عامہ (PWD) اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ترجیحی بنیادوں پر خطرناک موڑوں پر سائن بورڈز، رفتار توڑنے والے سپیڈ بمپس اور مضبوط حفاظتی جنگلے نصب کرنے چاہئیں۔
طبی ایمرجنسی سہولیات میں بہتری: اہم شاہراہوں پر تمام تر جدید سہولیات سے لیس ٹراما کیئر سینٹرز اور تیز رفتار ایمبولینس سروس کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ زخمیوں کی جان بچائی جا سکے۔
عوامی اور یوتھ بیداری مہم: تعلیمی اداروں اور مقامی سماجی رہنماؤں کے تعاون سے ہیلمٹ کے استعمال، سیٹ بیلٹ کی پابندی اور محتاط ڈرائیونگ کے حوالے سے مسلسل آگاہی مہمات چلائی جانی چاہئیں۔
سڑکوں پر تحفظ کو محض ٹریفک محکمہ کی ذمہ داری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ وادی کے ہر شہری کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کو اپنائے۔ جب تک ڈرائیونگ کی عادت میں تبدیلی نہیں آئے گی اور انفراسٹرکچر میں بہتری نہیں ہوگی، کشمیر کی سڑکیں اسی طرح قیمتی جانیں نگلتی رہیں گی۔


