توبہ:آنسوؤں سے روشنی تک کا سفر!

 

 

ریاض فردوسی

کل خطاؤں سے بھرا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں
اشک آنکھوں میں لیے ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

دل گناہوں سے سیاہ ہے، روح بھی بے چین ہے
تیرے در پر آ گرا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

زندگی گزری خطاؤں میں، ندامت ساتھ ہے
اپنے ماضی سے ڈرا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

اب تری رحمت کا طالب، تیرے در کا ہوں فقیر
اپنی توبہ لے کھڑا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

تیرے آگے سر جھکا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

دنیا میں اگر کوئی شخص نہایت گندہ ہو تو ہر ایک انسان اسے دور رکھتا ہے،لیکن کوئی انسان اپنے گناہوں میں ڈوب کر اللہ تعالی کی رحمت کے آغوش میں پناہ لینا چاہتا ہے،تو رحمت خداوندی اس کا دونوں باہوں کو پھیلا کر استقبال کرتی ہے۔بندے گندگی اور گندے انسانوں سے دور رہنا چاہتے ہیں،لیکن اللہ وحدہ لا شریک کی بے انتہا رحمت اپنے ان گنہگار اور سیاہ کار بندوں کی کپکپاتی ولرزاتی ہوئی الفاظ میں ان کے دلوں کا حال دیکھتے ہوئے ان کے گناہوں کی گندگی کو فراموش کرتے ہوئے انھیں قرب خاص میں جگہ دیتی ہے۔
کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آکھڑا ہوتا ہے،جہاں اسے اپنے ہی وجود سے شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے۔دل میں یادوں کا ایک ہجوم ہوتا ہے،آنکھوں میں پچھتاوے کی نمی اور روح پر گناہوں کا ایسا بوجھ ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت ہلکا نہیں کر سکتی۔انسان لوگوں کے سامنے مسکراتا رہتا ہے،اپنی غلطیوں کو چھپاتا رہتا ہے،مگر جب رات کی خاموشی میں تنہا ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اس سے سوال کرتا ہے:’’کیا تم واقعی وہی انسان ہو جو کبھی نیکی کا خواب دیکھا کرتا تھا؟‘‘
یہی وہ لمحہ ہوتا ہےجب دل کے کسی کونے میں توبہ کی پہلی صدا جنم لیتی ہے۔
توبہ محض چند الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں،بلکہ یہ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آنے کا نام ہے۔یہ وہ سفر ہے،جس میں انسان اپنے ماضی کے اندھیروں کو تسلیم کرتا ہے،اپنی غلطیوں کے سامنے سر جھکاتا ہے اور اپنے رب کے حضور اس امید کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے کہ شاید اس کی رحمت اسے پھر سے جینے کا حوصلہ دے دے۔توبہ اس دل کی پکار ہے جو گناہوں کی گرد میں اپنا سکون کھو چکا ہو اور اب پاکیزگی کی بارش میں بھیگنا چاہتا ہو۔
ذرا تصور کیجیے،ایک ایسا شخص جو اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنے رب سے دور ہو گیا ہو۔جس نے کئی مرتبہ نیکی کا ارادہ کیا ہو،مگر ہر بار نفس کی کمزوری کے سامنے ہار گیا ہو۔جس نے نمازوں میں غفلت کی ہو،کسی کا دل دکھایا ہو،کسی کا حق مارا ہو،زنا کیاہو،شراب نوشی کی ہو،یا تنہائی میں ایسے گناہ کیے ہوں جن کا راز دنیا کے کسی انسان پر ظاہر نہ ہوا ہو۔وہ شخص جب ایک دن اپنے اندر جھانکتا ہےتو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے دنیا کو خوش کرنے کی کوشش میں اپنے دل کا سکون کہیں کھو دیا ہے۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں،اس کے لب خاموش ہو جاتے ہیں اور اس کا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے:’’یا اللہ! میں تھک گیا ہوں،اپنے ہی گناہوں سے،بدکاری کرتے کرتے‌تنگ آچکا ہوں،اپنی ہی کمزوریوں سے،اپنے ہی نفس سے۔اب مجھے اپنے در سے دور نہ کرنا۔‘‘
یہی پکار توبہ کی روح ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ انسان جب دنیا کے دروازوں سے مایوس ہو جاتا ہے، تب بھی اس کے رب کا دروازہ اس کے لیے کھلا رہتا ہے۔ انسان اپنے ماضی کو بدل نہیں سکتا،مگر اپنے مستقبل کا راستہ ضرور بدل سکتا ہے۔وہ اپنے کیے ہوئے گناہوں کو مٹا نہیں سکتا،مگر سچے دل سے توبہ کرکے مغفرت کی امید رکھ سکتا ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔‘‘(سورۃ الزمر: 53)
یہ آیت صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں،بلکہ ان ٹوٹے ہوئے دلوں کے لیے امید کی کرن ہےجو اپنی خطاؤں کے اندھیروں میں روشنی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ پیغام ہے کہ تمہاری غلطیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں،اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔تم کتنی ہی بار گرے ہو،اگر سچے دل سے پلٹنے کا ارادہ رکھتے ہو تو اٹھنے کی کوشش کرو۔ تمہارا ماضی تمہاری پہچان کا آخری فیصلہ نہیں ہے۔
مگر توبہ کا راستہ صرف آنسو بہانے سے مکمل نہیں ہوتا۔ سچی توبہ انسان سے تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے۔اگر کسی کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو ہوں،مگر اس کے ہاتھ اب بھی دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہوں،اگر اس کی زبان معافی مانگتی ہو مگر اس کا کردار پھر وہی پرانی کہانی دہراتا ہو،تو اسے اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔توبہ کا اصل حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہےجب انسان اپنے گناہ سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے،برائی کے راستے بند کرتا ہے، نیکی کی طرف قدم بڑھاتا ہے اور اگر کسی انسان کا حق پامال کیا ہو تو اسے واپس کرنے یا اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
توبہ انسان کو صرف گناہوں سے دور نہیں کرتی،بلکہ اسے دوسروں کے درد کو سمجھنا بھی سکھاتی ہے۔جو شخص خود اپنی غلطیوں پر رو چکا ہو،وہ دوسروں کی لغزشوں پر فیصلہ سنانے سے پہلے ٹھہر کر سوچتا ہے۔اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے سکون نہیں ہوتا اور ہر گناہ گار انسان کے دل سے امید ختم نہیں ہو جاتی۔شاید اسی لیے توبہ کرنے والا دل پہلے سے زیادہ نرم،پہلے سے زیادہ عاجز اور پہلے سے زیادہ رحم دل ہو جاتا ہے۔
زندگی میں سب سے بڑا المیہ گناہ کر بیٹھنا نہیں،بلکہ گناہ کو اپنی عادت بنا لینا اور پھر اس پر شرمندہ ہونا بھی چھوڑ دینا ہے۔جب انسان کا ضمیر اسے ملامت کرنا بند کر دے،جب آنکھوں سے ندامت کے آنسو خشک ہو جائیں اور جب دل کو اپنی برائی میں بھی کوئی برائی محسوس نہ ہو،تب اسے اپنے اندر کی خاموشی سے ڈرنا چاہیے۔اس کے برعکس،اگر کسی غلطی کے بعد دل بے چین ہو، آنکھیں نم ہو جائیں اور انسان اپنے رب کی طرف پلٹنے کا ارادہ کرے،تو اسے اپنی اس کیفیت کو نیکی کی ابتدا بنانا چاہیے۔
یاد رکھیے،شیطان کی ایک بڑی چال یہ بھی ہےکہ وہ پہلے انسان کو گناہ کی طرف بلاتا ہے اور پھر اسی گناہ کے بعد اسے مایوسی میں دھکیل دیتا ہے۔وہ دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ اب تمہاری معافی ممکن نہیں،اب تم عبادت کے لائق نہیں رہے،اب تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔مگر انسان کو اپنی کمزوری سے زیادہ اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے۔مایوسی انسان کو گناہ کے اندھیرے میں قید کرتی ہے،جبکہ امید اسے روشنی کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔توبہ کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے لیے کسی خاص عمر،خاص مقام یا خاص لباس کی شرط نہیں۔انسان جہاں بھی ہو،جس حال میں بھی ہو،اپنے رب کی طرف لوٹ سکتا ہے۔وہ تنہائی میں اپنے آنسوؤں کے ساتھ دعا کر سکتا ہے،اپنے بستر پر لیٹے ہوئے دل سے معافی مانگ سکتا ہے،یا سجدے میں اپنا سر رکھ کر اپنی بے بسی کا اعتراف کر سکتا ہے۔اصل اہمیت ظاہری نمائش کی نہیں،بلکہ دل کی سچائی اور عمل کی تبدیلی کی ہے۔کبھی کبھی انسان سوچتا ہےکہ کاش وقت واپس آ جائے،کاش وہ الفاظ زبان سے نہ نکلے ہوتے،کاش وہ قدم اس راستے پر نہ اٹھے ہوتے،کاش کسی کا دل نہ ٹوٹا ہوتا۔مگر وقت پیچھے نہیں لوٹتا۔جو گزر گیا،وہ ہماری اصلاح کا سبق بن سکتا ہے،بشرطیکہ ہم اسے اپنی تباہی کا بہانہ نہ بنائیں۔ماضی کی غلطیوں پر روتے رہنے سے بہتر ہے کہ ہم ان سے سیکھیں،اپنے رب سے معافی مانگیں اور آج کا دن پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
اور پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب وہی انسان،جو کبھی اپنی غلطیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا،اپنے دل میں ایک نئی کیفیت محسوس کرتا ہے۔وہ نماز میں سکون تلاش کرتا ہے،قرآن کے الفاظ میں اپنے لیے رہنمائی پاتا ہے، دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہےاور ہر روز اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے زخم شاید ایک ہی دن میں نہیں بھرتے،اس کی عادتیں شاید فوراً نہیں بدلتیں،مگر اب اس کے پاس ایک سمت ہوتی ہے،ایک امید ہوتی ہے اور ایک ایسا در ہوتا ہے جس پر وہ بار بار دستک دے سکتا ہے۔توبہ دراصل اندھیروں سے روشنی کی طرف واپسی ہے،یہ شکست خوردہ انسان کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔
آخر میں،میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر تم سے غلطیاں ہوئی ہیں تو اپنی غلطیوں کو اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہ بننے دو۔اگر تم نے کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگو،اگر کسی کا حق دبایا ہے تو اسے ادا کرنے کی کوشش کرو،اگر اپنے رب سے دور ہو گئے ہو تو اس کی طرف پلٹ آؤ۔اپنے آنسوؤں کو مایوسی کا سبب نہیں، تبدیلی کی ابتدا بناؤ۔یاد رکھو،تمہارے پاس ابھی سانس باقی ہے،دعا کے لیے ہاتھ باقی ہیں اور نیکی کی طرف بڑھنے کے لیے قدم باقی ہیں۔کیا معلوم تمہاری زندگی کا سب سے خوب صورت باب وہی ہو جس کا آغاز تم اپنی سب سے بڑی غلطی کا اعتراف کرنے کے بعد کرو۔اور جب کبھی دل تمہیں یہ کہے کہ تم بہت دور نکل آئے ہو،تو اپنے دل کو سمجھانا کہ اللہ کی رحمت سے امید رکھنے والا مسافر کبھی واپسی کا راستہ تلاش کرنا نہ چھوڑے۔
کیونکہ توبہ صرف گناہوں سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے رب سے بچھڑے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے، اپنے ضمیر کو جگانے اور اپنے وجود کو ایک نئی سمت دینے کا نام ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے ماضی کے سامنے روتا ہے،اپنے حال کو سنوارتا ہے اور اپنے مستقبل کو اللہ کی رحمت کے حوالے کر دیتا ہے۔بے شک،کبھی کبھی ایک سچی توبہ انسان کی پوری زندگی کی سمت بدل دیتی ہے۔
گناہوں سے ندامت کا سفر ہے
مرے دل میں ابھی کچھ تو اثر ہے

خطاؤں پر مری آنکھیں ہیں نم اب
مرے مولیٰ! تری رحمت نظر ہے

بہت بھٹکا ہوں میں راہوں میں اپنی
تری جانب پلٹنے کی سحر ہے

نہ جانے کتنی لغزش کر چکا ہوں
مگر دل میں ابھی خوف و خطر ہے

نجمؔ اب چھوڑ دے دنیا کی چاہت
تری توبہ ہی تیری رہ گزر ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

توبہ:آنسوؤں سے روشنی تک کا سفر!

 

 

ریاض فردوسی

کل خطاؤں سے بھرا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں
اشک آنکھوں میں لیے ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

دل گناہوں سے سیاہ ہے، روح بھی بے چین ہے
تیرے در پر آ گرا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

زندگی گزری خطاؤں میں، ندامت ساتھ ہے
اپنے ماضی سے ڈرا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

اب تری رحمت کا طالب، تیرے در کا ہوں فقیر
اپنی توبہ لے کھڑا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

تیرے آگے سر جھکا ہوں، یا الٰہی! کیا کروں

دنیا میں اگر کوئی شخص نہایت گندہ ہو تو ہر ایک انسان اسے دور رکھتا ہے،لیکن کوئی انسان اپنے گناہوں میں ڈوب کر اللہ تعالی کی رحمت کے آغوش میں پناہ لینا چاہتا ہے،تو رحمت خداوندی اس کا دونوں باہوں کو پھیلا کر استقبال کرتی ہے۔بندے گندگی اور گندے انسانوں سے دور رہنا چاہتے ہیں،لیکن اللہ وحدہ لا شریک کی بے انتہا رحمت اپنے ان گنہگار اور سیاہ کار بندوں کی کپکپاتی ولرزاتی ہوئی الفاظ میں ان کے دلوں کا حال دیکھتے ہوئے ان کے گناہوں کی گندگی کو فراموش کرتے ہوئے انھیں قرب خاص میں جگہ دیتی ہے۔
کبھی کبھی انسان اپنی زندگی کے ایسے موڑ پر آکھڑا ہوتا ہے،جہاں اسے اپنے ہی وجود سے شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے۔دل میں یادوں کا ایک ہجوم ہوتا ہے،آنکھوں میں پچھتاوے کی نمی اور روح پر گناہوں کا ایسا بوجھ ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی دولت ہلکا نہیں کر سکتی۔انسان لوگوں کے سامنے مسکراتا رہتا ہے،اپنی غلطیوں کو چھپاتا رہتا ہے،مگر جب رات کی خاموشی میں تنہا ہوتا ہے تو اس کا ضمیر اس سے سوال کرتا ہے:’’کیا تم واقعی وہی انسان ہو جو کبھی نیکی کا خواب دیکھا کرتا تھا؟‘‘
یہی وہ لمحہ ہوتا ہےجب دل کے کسی کونے میں توبہ کی پہلی صدا جنم لیتی ہے۔
توبہ محض چند الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں،بلکہ یہ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ آنے کا نام ہے۔یہ وہ سفر ہے،جس میں انسان اپنے ماضی کے اندھیروں کو تسلیم کرتا ہے،اپنی غلطیوں کے سامنے سر جھکاتا ہے اور اپنے رب کے حضور اس امید کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے کہ شاید اس کی رحمت اسے پھر سے جینے کا حوصلہ دے دے۔توبہ اس دل کی پکار ہے جو گناہوں کی گرد میں اپنا سکون کھو چکا ہو اور اب پاکیزگی کی بارش میں بھیگنا چاہتا ہو۔
ذرا تصور کیجیے،ایک ایسا شخص جو اپنی خواہشات کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنے رب سے دور ہو گیا ہو۔جس نے کئی مرتبہ نیکی کا ارادہ کیا ہو،مگر ہر بار نفس کی کمزوری کے سامنے ہار گیا ہو۔جس نے نمازوں میں غفلت کی ہو،کسی کا دل دکھایا ہو،کسی کا حق مارا ہو،زنا کیاہو،شراب نوشی کی ہو،یا تنہائی میں ایسے گناہ کیے ہوں جن کا راز دنیا کے کسی انسان پر ظاہر نہ ہوا ہو۔وہ شخص جب ایک دن اپنے اندر جھانکتا ہےتو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس نے دنیا کو خوش کرنے کی کوشش میں اپنے دل کا سکون کہیں کھو دیا ہے۔اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں،اس کے لب خاموش ہو جاتے ہیں اور اس کا دل بے اختیار پکار اٹھتا ہے:’’یا اللہ! میں تھک گیا ہوں،اپنے ہی گناہوں سے،بدکاری کرتے کرتے‌تنگ آچکا ہوں،اپنی ہی کمزوریوں سے،اپنے ہی نفس سے۔اب مجھے اپنے در سے دور نہ کرنا۔‘‘
یہی پکار توبہ کی روح ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت کی سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ انسان جب دنیا کے دروازوں سے مایوس ہو جاتا ہے، تب بھی اس کے رب کا دروازہ اس کے لیے کھلا رہتا ہے۔ انسان اپنے ماضی کو بدل نہیں سکتا،مگر اپنے مستقبل کا راستہ ضرور بدل سکتا ہے۔وہ اپنے کیے ہوئے گناہوں کو مٹا نہیں سکتا،مگر سچے دل سے توبہ کرکے مغفرت کی امید رکھ سکتا ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔‘‘(سورۃ الزمر: 53)
یہ آیت صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں،بلکہ ان ٹوٹے ہوئے دلوں کے لیے امید کی کرن ہےجو اپنی خطاؤں کے اندھیروں میں روشنی تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔یہ پیغام ہے کہ تمہاری غلطیاں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں،اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔تم کتنی ہی بار گرے ہو،اگر سچے دل سے پلٹنے کا ارادہ رکھتے ہو تو اٹھنے کی کوشش کرو۔ تمہارا ماضی تمہاری پہچان کا آخری فیصلہ نہیں ہے۔
مگر توبہ کا راستہ صرف آنسو بہانے سے مکمل نہیں ہوتا۔ سچی توبہ انسان سے تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے۔اگر کسی کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو ہوں،مگر اس کے ہاتھ اب بھی دوسروں کو تکلیف پہنچاتے ہوں،اگر اس کی زبان معافی مانگتی ہو مگر اس کا کردار پھر وہی پرانی کہانی دہراتا ہو،تو اسے اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔توبہ کا اصل حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہےجب انسان اپنے گناہ سے دور ہونے کی کوشش کرتا ہے،برائی کے راستے بند کرتا ہے، نیکی کی طرف قدم بڑھاتا ہے اور اگر کسی انسان کا حق پامال کیا ہو تو اسے واپس کرنے یا اس کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
توبہ انسان کو صرف گناہوں سے دور نہیں کرتی،بلکہ اسے دوسروں کے درد کو سمجھنا بھی سکھاتی ہے۔جو شخص خود اپنی غلطیوں پر رو چکا ہو،وہ دوسروں کی لغزشوں پر فیصلہ سنانے سے پہلے ٹھہر کر سوچتا ہے۔اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ ہر مسکراتے چہرے کے پیچھے سکون نہیں ہوتا اور ہر گناہ گار انسان کے دل سے امید ختم نہیں ہو جاتی۔شاید اسی لیے توبہ کرنے والا دل پہلے سے زیادہ نرم،پہلے سے زیادہ عاجز اور پہلے سے زیادہ رحم دل ہو جاتا ہے۔
زندگی میں سب سے بڑا المیہ گناہ کر بیٹھنا نہیں،بلکہ گناہ کو اپنی عادت بنا لینا اور پھر اس پر شرمندہ ہونا بھی چھوڑ دینا ہے۔جب انسان کا ضمیر اسے ملامت کرنا بند کر دے،جب آنکھوں سے ندامت کے آنسو خشک ہو جائیں اور جب دل کو اپنی برائی میں بھی کوئی برائی محسوس نہ ہو،تب اسے اپنے اندر کی خاموشی سے ڈرنا چاہیے۔اس کے برعکس،اگر کسی غلطی کے بعد دل بے چین ہو، آنکھیں نم ہو جائیں اور انسان اپنے رب کی طرف پلٹنے کا ارادہ کرے،تو اسے اپنی اس کیفیت کو نیکی کی ابتدا بنانا چاہیے۔
یاد رکھیے،شیطان کی ایک بڑی چال یہ بھی ہےکہ وہ پہلے انسان کو گناہ کی طرف بلاتا ہے اور پھر اسی گناہ کے بعد اسے مایوسی میں دھکیل دیتا ہے۔وہ دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ اب تمہاری معافی ممکن نہیں،اب تم عبادت کے لائق نہیں رہے،اب تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔مگر انسان کو اپنی کمزوری سے زیادہ اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا چاہیے۔مایوسی انسان کو گناہ کے اندھیرے میں قید کرتی ہے،جبکہ امید اسے روشنی کی طرف قدم بڑھانے کا حوصلہ دیتی ہے۔توبہ کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے لیے کسی خاص عمر،خاص مقام یا خاص لباس کی شرط نہیں۔انسان جہاں بھی ہو،جس حال میں بھی ہو،اپنے رب کی طرف لوٹ سکتا ہے۔وہ تنہائی میں اپنے آنسوؤں کے ساتھ دعا کر سکتا ہے،اپنے بستر پر لیٹے ہوئے دل سے معافی مانگ سکتا ہے،یا سجدے میں اپنا سر رکھ کر اپنی بے بسی کا اعتراف کر سکتا ہے۔اصل اہمیت ظاہری نمائش کی نہیں،بلکہ دل کی سچائی اور عمل کی تبدیلی کی ہے۔کبھی کبھی انسان سوچتا ہےکہ کاش وقت واپس آ جائے،کاش وہ الفاظ زبان سے نہ نکلے ہوتے،کاش وہ قدم اس راستے پر نہ اٹھے ہوتے،کاش کسی کا دل نہ ٹوٹا ہوتا۔مگر وقت پیچھے نہیں لوٹتا۔جو گزر گیا،وہ ہماری اصلاح کا سبق بن سکتا ہے،بشرطیکہ ہم اسے اپنی تباہی کا بہانہ نہ بنائیں۔ماضی کی غلطیوں پر روتے رہنے سے بہتر ہے کہ ہم ان سے سیکھیں،اپنے رب سے معافی مانگیں اور آج کا دن پہلے سے بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
اور پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب وہی انسان،جو کبھی اپنی غلطیوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا،اپنے دل میں ایک نئی کیفیت محسوس کرتا ہے۔وہ نماز میں سکون تلاش کرتا ہے،قرآن کے الفاظ میں اپنے لیے رہنمائی پاتا ہے، دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہےاور ہر روز اپنے کردار کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے زخم شاید ایک ہی دن میں نہیں بھرتے،اس کی عادتیں شاید فوراً نہیں بدلتیں،مگر اب اس کے پاس ایک سمت ہوتی ہے،ایک امید ہوتی ہے اور ایک ایسا در ہوتا ہے جس پر وہ بار بار دستک دے سکتا ہے۔توبہ دراصل اندھیروں سے روشنی کی طرف واپسی ہے،یہ شکست خوردہ انسان کے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے کا نام ہے۔
آخر میں،میں یہی کہنا چاہوں گا کہ اگر تم سے غلطیاں ہوئی ہیں تو اپنی غلطیوں کو اپنی پوری زندگی کا فیصلہ نہ بننے دو۔اگر تم نے کسی کا دل دکھایا ہے تو معافی مانگو،اگر کسی کا حق دبایا ہے تو اسے ادا کرنے کی کوشش کرو،اگر اپنے رب سے دور ہو گئے ہو تو اس کی طرف پلٹ آؤ۔اپنے آنسوؤں کو مایوسی کا سبب نہیں، تبدیلی کی ابتدا بناؤ۔یاد رکھو،تمہارے پاس ابھی سانس باقی ہے،دعا کے لیے ہاتھ باقی ہیں اور نیکی کی طرف بڑھنے کے لیے قدم باقی ہیں۔کیا معلوم تمہاری زندگی کا سب سے خوب صورت باب وہی ہو جس کا آغاز تم اپنی سب سے بڑی غلطی کا اعتراف کرنے کے بعد کرو۔اور جب کبھی دل تمہیں یہ کہے کہ تم بہت دور نکل آئے ہو،تو اپنے دل کو سمجھانا کہ اللہ کی رحمت سے امید رکھنے والا مسافر کبھی واپسی کا راستہ تلاش کرنا نہ چھوڑے۔
کیونکہ توبہ صرف گناہوں سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے رب سے بچھڑے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑنے، اپنے ضمیر کو جگانے اور اپنے وجود کو ایک نئی سمت دینے کا نام ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنے ماضی کے سامنے روتا ہے،اپنے حال کو سنوارتا ہے اور اپنے مستقبل کو اللہ کی رحمت کے حوالے کر دیتا ہے۔بے شک،کبھی کبھی ایک سچی توبہ انسان کی پوری زندگی کی سمت بدل دیتی ہے۔
گناہوں سے ندامت کا سفر ہے
مرے دل میں ابھی کچھ تو اثر ہے

خطاؤں پر مری آنکھیں ہیں نم اب
مرے مولیٰ! تری رحمت نظر ہے

بہت بھٹکا ہوں میں راہوں میں اپنی
تری جانب پلٹنے کی سحر ہے

نہ جانے کتنی لغزش کر چکا ہوں
مگر دل میں ابھی خوف و خطر ہے

نجمؔ اب چھوڑ دے دنیا کی چاہت
تری توبہ ہی تیری رہ گزر ہے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں