غلام نبی خیالؔ: کشمیر کی صحافت و ادب کا درخشندہ ستارہ اور پاسبان تہذیب

 

 

بلال بشیر بٹ

مدیر اعلیٰ

سرینگر جنگ

سرینگر کی سرزمین نے ہمیشہ علم و ادب کے ایسے تابندہ چراغ پیدا کیے ہیں جن کی روشنی نے نہ صرف وادیٔ کشمیر بلکہ برصغیر کے ادبی افق کو بھی منور کیا ہے۔ یہ شہر صدیوں سے علم و دانش، شعر و سخن، تہذیبی شعور اور فکری بالیدگی کا گہوارہ رہا ہے۔ اسی مردم خیز سرزمین نے غلام نبی خیالؔ جیسی صاحبِ فکر، صاحبِ طرز اور باوقار ادبی شخصیت کو جنم دیا، جنہوں نے اپنی صحافتی بصیرت اور ادبی خدمات سے سرینگر کی علمی روایت کو مزید وقار بخشا۔ خیالؔ کی شخصیت اس عظیم ادبی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے جس نے سرینگر کو اہلِ قلم، اربابِ دانش اور صاحبانِ فکر کی سرزمین کے طور پر ممتاز کیا۔ ان کا نام اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سرینگر کی اصل شناخت اس کے تاریخی آثار اور قدرتی حسن ہی میں نہیں، بلکہ اس کے علمی ورثے، ادبی عظمت اور تخلیقی صلاحیتوں میں بھی پنہاں ہے۔
غلام نبی خیالؔ کشمیر کی اُن نامور علمی و ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی صحافتی بصیرت، ادبی ذوق، فکری گہرائی اور زبان و ادب کی خدمت کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی۔ وہ محض ایک صحافی یا ادیب نہیں تھے، بلکہ کشمیری زبان و ثقافت کے امین، صاحبِ طرز قلم کار اور حق گوئی و اصول پسندی کے علم بردار بھی تھے۔ ان کی زندگی کشمیر کی صحافت اور ادب کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
غلام نبی خیالؔ 4 مارچ 1939ء کو پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں مطالعے، تحریر اور علم و ادب سے گہرا شغف تھا۔ یہی ذوق آگے چل کر ان کی شخصیت کا نمایاں وصف بن گیا۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف کشمیری معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا بلکہ زبان و ادب کے فروغ اور فکری شعور کی بیداری میں بھی قابلِ قدر کردار ادا کیا۔
غلام نبی خیالؔ نے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے معاشرتی شعور کی بیداری، حقائق کی ترجمانی اور عوامی مسائل کی نشان دہی کا وسیلہ بنایا۔ ان کی صحافتی تحریروں میں حالات و واقعات کا گہرا مشاہدہ، متوازن اندازِ فکر اور اظہار کی پختگی نمایاں تھی۔
وہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے صحافی تھے۔ ان کے نزدیک قلم کی حرمت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ وقار بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ یہی اوصاف انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتے تھے۔
غلام نبی خیالؔ نے کشمیری زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی ادبی کاوشوں میں کشمیری معاشرے کی تہذیبی شناخت، اجتماعی شعور اور فکری روایت کی جھلک ملتی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے مقامی زبان و ثقافت کو وسیع تر ادبی حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی تصنیف ’گاشِر منار‘ کو 1975ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی ادبی صلاحیتوں اور کشمیری زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ ان کی تحریریں اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ زبان کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں، بلکہ تہذیبی شناخت اور اجتماعی حافظے کا امین سمجھتے تھے۔
غلام نبی خیالؔ کی علمی و ادبی دلچسپیوں کا دائرہ کشمیری زبان تک محدود نہیں تھا۔ اردو اور انگریزی سمیت مختلف زبانوں سے ان کی واقفیت نے ان کے مطالعے اور اظہار کو وسعت بخشی۔ ترجمہ نگاری اور ادبی رابطوں کے ذریعے انہوں نے زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی حصہ لیا۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ ادب کو معاشرے سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تخلیق، فکر اور سماجی حقیقتوں کے درمیان گہرا رشتہ موجود تھا۔
غلام نبی خیالؔ کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر واقعہ 2015ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ تھا۔ یہ اقدام انہوں نے اس وقت ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا۔ ان کے اس فیصلے نے ادبی حلقوں میں بحث کو جنم دیا اور یہ واضح کیا کہ وہ اپنے ادبی اعزازات کو اصولی مؤقف سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔
اس واقعے نے ان کی شخصیت کے اس پہلو کو نمایاں کیا جس میں ادبی وابستگی کے ساتھ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس بھی شامل تھا۔
غلام نبی خیالؔ 15 اکتوبر 2023ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات سے کشمیر نے ایک ایسے صحافی، ادیب اور دانش ور کو کھو دیا جس نے اپنی عمر کا بڑا حصہ زبان، ادب، صحافت اور فکری بیداری کے لیے وقف کیا۔
ان کی علمی و ادبی خدمات آج بھی ان کی یاد کو زندہ رکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں، صحافتی اصول اور کشمیری زبان و ثقافت سے وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ مطالعہ سرمایہ ہیں۔
غلام نبی خیالؔ کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قلم کی اصل قوت اس کی سچائی، فکری دیانت اور معاشرے سے وابستگی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے صحافت کو ذمہ داری، ادب کو تہذیبی ورثے اور اصول پسندی کو شخصی وقار کا لازمی جزو سمجھا۔
کشمیر کی علمی و ادبی تاریخ میں ان کا نام ایک ایسے صاحبِ قلم کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنی تحریروں اور عملی مؤقف کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ ادب اور صحافت کی قدر محض اعزازات سے نہیں، بلکہ حق گوئی، کردار اور فکری استقلال سے متعین ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

غلام نبی خیالؔ: کشمیر کی صحافت و ادب کا درخشندہ ستارہ اور پاسبان تہذیب

 

 

بلال بشیر بٹ

مدیر اعلیٰ

سرینگر جنگ

سرینگر کی سرزمین نے ہمیشہ علم و ادب کے ایسے تابندہ چراغ پیدا کیے ہیں جن کی روشنی نے نہ صرف وادیٔ کشمیر بلکہ برصغیر کے ادبی افق کو بھی منور کیا ہے۔ یہ شہر صدیوں سے علم و دانش، شعر و سخن، تہذیبی شعور اور فکری بالیدگی کا گہوارہ رہا ہے۔ اسی مردم خیز سرزمین نے غلام نبی خیالؔ جیسی صاحبِ فکر، صاحبِ طرز اور باوقار ادبی شخصیت کو جنم دیا، جنہوں نے اپنی صحافتی بصیرت اور ادبی خدمات سے سرینگر کی علمی روایت کو مزید وقار بخشا۔ خیالؔ کی شخصیت اس عظیم ادبی تسلسل کی ایک اہم کڑی ہے جس نے سرینگر کو اہلِ قلم، اربابِ دانش اور صاحبانِ فکر کی سرزمین کے طور پر ممتاز کیا۔ ان کا نام اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سرینگر کی اصل شناخت اس کے تاریخی آثار اور قدرتی حسن ہی میں نہیں، بلکہ اس کے علمی ورثے، ادبی عظمت اور تخلیقی صلاحیتوں میں بھی پنہاں ہے۔
غلام نبی خیالؔ کشمیر کی اُن نامور علمی و ادبی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی صحافتی بصیرت، ادبی ذوق، فکری گہرائی اور زبان و ادب کی خدمت کے ذریعے ایک منفرد شناخت قائم کی۔ وہ محض ایک صحافی یا ادیب نہیں تھے، بلکہ کشمیری زبان و ثقافت کے امین، صاحبِ طرز قلم کار اور حق گوئی و اصول پسندی کے علم بردار بھی تھے۔ ان کی زندگی کشمیر کی صحافت اور ادب کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
غلام نبی خیالؔ 4 مارچ 1939ء کو پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں مطالعے، تحریر اور علم و ادب سے گہرا شغف تھا۔ یہی ذوق آگے چل کر ان کی شخصیت کا نمایاں وصف بن گیا۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف کشمیری معاشرے کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا بلکہ زبان و ادب کے فروغ اور فکری شعور کی بیداری میں بھی قابلِ قدر کردار ادا کیا۔
غلام نبی خیالؔ نے صحافت کو محض خبر رسانی کا ذریعہ نہیں سمجھا، بلکہ اسے معاشرتی شعور کی بیداری، حقائق کی ترجمانی اور عوامی مسائل کی نشان دہی کا وسیلہ بنایا۔ ان کی صحافتی تحریروں میں حالات و واقعات کا گہرا مشاہدہ، متوازن اندازِ فکر اور اظہار کی پختگی نمایاں تھی۔
وہ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے صحافی تھے۔ ان کے نزدیک قلم کی حرمت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ وقار بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ یہی اوصاف انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز کرتے تھے۔
غلام نبی خیالؔ نے کشمیری زبان و ادب کی ترویج و اشاعت کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی ادبی کاوشوں میں کشمیری معاشرے کی تہذیبی شناخت، اجتماعی شعور اور فکری روایت کی جھلک ملتی ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے مقامی زبان و ثقافت کو وسیع تر ادبی حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی تصنیف ’گاشِر منار‘ کو 1975ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ان کی ادبی صلاحیتوں اور کشمیری زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف تھا۔ ان کی تحریریں اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ وہ زبان کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں، بلکہ تہذیبی شناخت اور اجتماعی حافظے کا امین سمجھتے تھے۔
غلام نبی خیالؔ کی علمی و ادبی دلچسپیوں کا دائرہ کشمیری زبان تک محدود نہیں تھا۔ اردو اور انگریزی سمیت مختلف زبانوں سے ان کی واقفیت نے ان کے مطالعے اور اظہار کو وسعت بخشی۔ ترجمہ نگاری اور ادبی رابطوں کے ذریعے انہوں نے زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان فکری ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی حصہ لیا۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ ادب کو معاشرے سے جدا نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک تخلیق، فکر اور سماجی حقیقتوں کے درمیان گہرا رشتہ موجود تھا۔
غلام نبی خیالؔ کی زندگی کا ایک قابلِ ذکر واقعہ 2015ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ واپس کرنے کا فیصلہ تھا۔ یہ اقدام انہوں نے اس وقت ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا۔ ان کے اس فیصلے نے ادبی حلقوں میں بحث کو جنم دیا اور یہ واضح کیا کہ وہ اپنے ادبی اعزازات کو اصولی مؤقف سے بالاتر نہیں سمجھتے تھے۔
اس واقعے نے ان کی شخصیت کے اس پہلو کو نمایاں کیا جس میں ادبی وابستگی کے ساتھ سماجی اور اخلاقی ذمہ داری کا احساس بھی شامل تھا۔
غلام نبی خیالؔ 15 اکتوبر 2023ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی وفات سے کشمیر نے ایک ایسے صحافی، ادیب اور دانش ور کو کھو دیا جس نے اپنی عمر کا بڑا حصہ زبان، ادب، صحافت اور فکری بیداری کے لیے وقف کیا۔
ان کی علمی و ادبی خدمات آج بھی ان کی یاد کو زندہ رکھتی ہیں۔ ان کی تحریریں، صحافتی اصول اور کشمیری زبان و ثقافت سے وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ مطالعہ سرمایہ ہیں۔
غلام نبی خیالؔ کی زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ قلم کی اصل قوت اس کی سچائی، فکری دیانت اور معاشرے سے وابستگی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ انہوں نے صحافت کو ذمہ داری، ادب کو تہذیبی ورثے اور اصول پسندی کو شخصی وقار کا لازمی جزو سمجھا۔
کشمیر کی علمی و ادبی تاریخ میں ان کا نام ایک ایسے صاحبِ قلم کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے اپنی تحریروں اور عملی مؤقف کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ ادب اور صحافت کی قدر محض اعزازات سے نہیں، بلکہ حق گوئی، کردار اور فکری استقلال سے متعین ہوتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں