جنگ نیوز
سرینگر/جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خزاں اجلاس پہلے ہی روز شدید ہنگامے اور نعروں کی گونج میں شروع ہوا، جہاں BJP ارکان نے بجلی کے نرخوں میں اضافے، ڈیلی ویجرز کی مستقلی اور NHM ملازمین کے مطالبات پر احتجاج کیا، جبکہ NC اور کانگریس ارکان نے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ اٹھایا۔
تعزیتی حوالوں کے بعد اپوزیشن لیڈر سنیل کمار شرما کی قیادت میں BJP ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی شروع کردی۔ بعد ازاں کئی BJP ارکان ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور احتجاج جاری رکھا۔
BJP ارکان نے بجلی، پانی، ڈیلی ویجرز اور NHM ملازمین سے متعلق نعرے لگائے۔ شور شرابے کے باوجود وزرا سوالات کے جوابات دیتے رہے۔
اسی دوران CPI(M) رہنما محمد یوسف تاریگامی نے BJP ارکان سے ریاستی حیثیت کی بحالی کا نعرہ بھی بلند کرنے کو کہا، جس کے بعد NC ارکان نے بھی ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے بارہا احتجاج کرنے والے ارکان کو اپنی نشستوں پر واپس جانے کی ہدایت کی اور کارروائی کا انتباہ دیا، تاہم ہنگامہ جاری رہا۔
ہنگامے کے دوران نذیر گوریزی نے BJP پر ایوان کا وقت ضائع کرنے کا الزام عائد کیا، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل پر جواب دینے کے لئے تیار ہے۔
بالآخر مسلسل شور و احتجاج کے باعث اسپیکر نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔


