حمدِ باری تعالیٰ بقلم ریاض فردوسی نجمؔ
تو ہی مالک،تو ہی خالق،تو ہی پروردگار ہے
تیری رحمت سے یہ سارا خوب صورت دیار ہے
تُو نے سورج کو دیا ہے روشنی کا اک سفر
تُو ہی چاند و تاروں کا روشن نگار ہے
دے رہا ہے رزق سب کو،بے طلب،بے حساب
ہر کسی کے حال سے مولا،تُو ہی باخبر ہے
ہم خطا کاروں پہ مولا،رحم فرما ہر گھڑی
تیری رحمت کے سوا اپنا کہاں کوئی قرار ہے
دل کو دے ایمان کی دولت،لب پہ اپنا ذکر دے
تیری یادِ پاک ہی تو زندگی کا افتخار ہے
تو ہی مشکل کشا،تو ہی ہر گھڑی فریاد رس
تیرے در سے مانگنا ہی بندے کا حق دار ہے
تیری قدرت کی نشانی دیکھتا ہوں چار سو
ذرّہ ذرّہ تیری قدرت کا عجب اظہار ہے
نجمؔ تیرے نام سے روشن رہے یہ دل سدا
تُو ہی میرا رب،تُو ہی میرا آخری سہارا ہے


