عالمی یوم انسدادخودکشی: خاموشی توڑنے کا وقت

تصویر: وادی بالخصوص سرینگر میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے شہر میں دریائے جہلم کے تمام پلوں پر حفاظتی باڑ لگانے پر لاکھوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

جنگ فیچر ڈیسک

ہر سال 10 ستمبر کو عالمی یومِ انسدادِ خودکشی منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر توجہ دلانا نہیں بلکہ اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ خودکشی قابلِ روک تھام ہے۔ اس سال کا پیغام بھی یہی ہے کہ خاموشی کے بجائے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سانحے کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان، دوستوں اور پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔

جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ مسئلہ مزید حساس ہوجاتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق 25-2024کے دوران جموں و کشمیر میں گھریلو تشدد کے درج مقدمات میں 121 فیصد کا تشویش ناک اضافہ ہوا اور ایک ہی سال میں 1,979 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ گھریلو تشدد، خوف، تنہائی اور مسلسل ذہنی دباؤ بعض افراد کو ایسی کیفیت تک پہنچا سکتے ہیں جہاں انہیں زندگی کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

حقیقتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ قومی صحت مشن کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے 11 اضلاع میں کوئی ماہرِ نفسیات تعینات نہیں ہے، جن میں شوپیاں، بانڈی پورہ، کپواڑہ، جموں، سامبا، کٹھوعہ، راجوری، پونچھ، رام بن، کشتواڑ اور ریاسی شامل ہیں۔ پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ تمام زمروں کے ماہرین کی مجموعی تعداد محض 65 ہے۔ سات ملین سے زائد آبادی کے لیے بمشکل چند درجن ماہرینِ نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں ہیلپ لائن کے استعمال کی شرح ملک میں نمایاں بتائی جاتی ہے۔ لیکن ایک عمومی ہیلپ لائن ہر قسم کے پیچیدہ اور بدنامی سے جڑے صدمات کا مکمل حل نہیں ہوسکتی۔ گھریلو تشدد، خاندانی تنازعات، تنہائی، سماجی دباؤ اور دیگر مخصوص مسائل سے دوچار افراد کو خصوصی تربیت یافتہ مشیر، محفوظ مقامات اور ضرورت پڑنے پر فوری پیشہ ورانہ مدد بھی درکار ہوتی ہے۔

خودکشی کے پیچھے عموماً ایک نہیں بلکہ متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ شدید ذہنی دباؤ، تنہائی، ناامیدی، مالی مشکلات، رشتوں کا ٹوٹنا، صدمہ اور مسلسل پریشانی انسان کو خطرناک حد تک مایوسی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ ایسے وقت میں تنقید، طعنہ یا خاموشی کے بجائے توجہ، ہمدردی اور بروقت مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کے رویوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ کسی شخص کا سماجی میل جول سے دور ہونا، شدید ناامیدی کا اظہار کرنا یا موت اور خودکشی کے بارے میں بات کرنا سنجیدگی سے لینے کی علامات ہوسکتی ہیں۔ کسی پریشان شخص سے بات کرنا، اسے توجہ سے سننا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ ذہنی صحت تک پہنچانا ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

خودکشی کی روک تھام صرف حکومت یا ماہرینِ نفسیات کی ذمہ داری نہیں۔ گھر، اسکول، کالج، دفتر، سماجی ادارے اور میڈیا سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں ذہنی پریشانی کا اظہار کمزوری نہ سمجھا جائے اور مدد طلب کرنا باعثِ شرمندگی نہ ہو۔

عالمی یومِ انسدادِ خودکشی کا اصل پیغام یہی ہے کہ خاموشی توڑی جائے، گفتگو شروع کی جائے اور مدد کو آسان بنایا جائے۔ ایک ہمدردانہ گفتگو، ایک بروقت فون کال یا کسی شخص کو تنہا نہ چھوڑنے کا فیصلہ ایک قیمتی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

زندگی کے بحران کو صرف ایک ہیلپ لائن نمبر نہیں، بلکہ ایک ایسے مضبوط اور حساس نظام کی ضرورت ہے جو انسان کو سنے، سمجھے، محفوظ رکھے اور بروقت مدد تک پہنچائے۔


انجمن نصرت الاسلام کے زیر اہتمام اسلامیہ ہائر سیکنڈری اسکول، راجوری کدل، سرینگر کے آڈیٹوریم میںبدھوار کو ’’سیرتِ رسول اکرم ﷺ اور عصرِ حاضر میں نوجوانوں کو درپیش چیلنجز‘‘کے عنوان سے یک روزہ سیرتی سیمینار منعقد ہوا۔اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے شریک طلبہ، اساتذہ اور منتظمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ نوجوانوں کو سنجیدہ مسائل پر غور، تحقیق اور اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کرنا ایک بااعتماد، ذمہ دار اور سماجی شعور رکھنے والی نسل کی تعمیر کے لیے نہایت ضروری ہے۔

میرواعظ نے کہا کہ آج کے نوجوان سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر، مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت، مادہ پرستی، فوری کامیابی کی خواہش، اخلاقی الجھن اور بڑھتے ذہنی و جذباتی دباؤ جیسے غیر معمولی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ influencers، trends اور algorithms کو اپنی شناخت، خواہشات اور کامیابی کے تصور کا تعین نہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ مادی کامیابی ہی کامیاب زندگی کا واحد معیار نہیں ہو سکتی۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اسکرین پر دکھائی جانے والی زندگیوں کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مقصد زندگی کو پہچانیں۔ حقیقی کامیابی کو کردار، علم، بامعنی تعلقات، خدمت اور معاشرے کے لیے مفید ہونے سے بھی ناپا جانا چاہیے۔

میرواعظ نے نوجوانوں میںبالخصوص خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع پورے معاشرے کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی امتحان، ناکام رشتہ، ردِعمل، بے روزگاری، مالی دشواری یا وقتی ناکامی کسی نوجوان کو اس مقام تک نہ لے جائے کہ وہ اپنی زندگی کو بے وقعت سمجھنے لگے۔

انہوں نے زور دیا کہ ذہنی اور جذباتی پریشانی کو بدنامی کے بجائے ہمدردی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ خاندانوں، اسکولوں، دینی اداروں اور معاشرے کو ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں نوجوان anxiety، loneliness اور despair کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر بروقت counselling، طبی مدد یا دیگر professional support حاصل کر سکیں۔

میرواعظ نے کہا کہ سیرتِ رسول اکرم ﷺ نوجوانوں کو صبر، ثابت قدمی، اخلاقی برتری، ضبطِ نفس، مقصد اور امید کا دائمی درس دیتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ technology کو استعمال کریں مگر اس کے تابع نہ بنیں، آزادانہ سوچ اپنائیں، اپنی اقدار سے جڑے رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار اور خدمت کا ذریعہ بنیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

عالمی یوم انسدادخودکشی: خاموشی توڑنے کا وقت

تصویر: وادی بالخصوص سرینگر میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کی جانب سے شہر میں دریائے جہلم کے تمام پلوں پر حفاظتی باڑ لگانے پر لاکھوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

جنگ فیچر ڈیسک

ہر سال 10 ستمبر کو عالمی یومِ انسدادِ خودکشی منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد صرف خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر توجہ دلانا نہیں بلکہ اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ خودکشی قابلِ روک تھام ہے۔ اس سال کا پیغام بھی یہی ہے کہ خاموشی کے بجائے گفتگو کا آغاز کیا جائے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر سال لاکھوں افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سانحے کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ خاندان، دوستوں اور پورے معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔

جموں و کشمیر کے تناظر میں یہ مسئلہ مزید حساس ہوجاتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے اعداد و شمار کے مطابق 25-2024کے دوران جموں و کشمیر میں گھریلو تشدد کے درج مقدمات میں 121 فیصد کا تشویش ناک اضافہ ہوا اور ایک ہی سال میں 1,979 مقدمات رپورٹ ہوئے۔ گھریلو تشدد، خوف، تنہائی اور مسلسل ذہنی دباؤ بعض افراد کو ایسی کیفیت تک پہنچا سکتے ہیں جہاں انہیں زندگی کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

حقیقتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ قومی صحت مشن کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے 11 اضلاع میں کوئی ماہرِ نفسیات تعینات نہیں ہے، جن میں شوپیاں، بانڈی پورہ، کپواڑہ، جموں، سامبا، کٹھوعہ، راجوری، پونچھ، رام بن، کشتواڑ اور ریاسی شامل ہیں۔ پورے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں ذہنی صحت کے شعبے سے وابستہ تمام زمروں کے ماہرین کی مجموعی تعداد محض 65 ہے۔ سات ملین سے زائد آبادی کے لیے بمشکل چند درجن ماہرینِ نفسیات خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ جموں و کشمیر میں ہیلپ لائن کے استعمال کی شرح ملک میں نمایاں بتائی جاتی ہے۔ لیکن ایک عمومی ہیلپ لائن ہر قسم کے پیچیدہ اور بدنامی سے جڑے صدمات کا مکمل حل نہیں ہوسکتی۔ گھریلو تشدد، خاندانی تنازعات، تنہائی، سماجی دباؤ اور دیگر مخصوص مسائل سے دوچار افراد کو خصوصی تربیت یافتہ مشیر، محفوظ مقامات اور ضرورت پڑنے پر فوری پیشہ ورانہ مدد بھی درکار ہوتی ہے۔

خودکشی کے پیچھے عموماً ایک نہیں بلکہ متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ شدید ذہنی دباؤ، تنہائی، ناامیدی، مالی مشکلات، رشتوں کا ٹوٹنا، صدمہ اور مسلسل پریشانی انسان کو خطرناک حد تک مایوسی کی طرف لے جاسکتی ہے۔ ایسے وقت میں تنقید، طعنہ یا خاموشی کے بجائے توجہ، ہمدردی اور بروقت مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کے رویوں میں غیر معمولی تبدیلیوں کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ کسی شخص کا سماجی میل جول سے دور ہونا، شدید ناامیدی کا اظہار کرنا یا موت اور خودکشی کے بارے میں بات کرنا سنجیدگی سے لینے کی علامات ہوسکتی ہیں۔ کسی پریشان شخص سے بات کرنا، اسے توجہ سے سننا اور ضرورت پڑنے پر ماہرِ ذہنی صحت تک پہنچانا ایک اہم قدم ہوسکتا ہے۔

خودکشی کی روک تھام صرف حکومت یا ماہرینِ نفسیات کی ذمہ داری نہیں۔ گھر، اسکول، کالج، دفتر، سماجی ادارے اور میڈیا سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہمیں ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں ذہنی پریشانی کا اظہار کمزوری نہ سمجھا جائے اور مدد طلب کرنا باعثِ شرمندگی نہ ہو۔

عالمی یومِ انسدادِ خودکشی کا اصل پیغام یہی ہے کہ خاموشی توڑی جائے، گفتگو شروع کی جائے اور مدد کو آسان بنایا جائے۔ ایک ہمدردانہ گفتگو، ایک بروقت فون کال یا کسی شخص کو تنہا نہ چھوڑنے کا فیصلہ ایک قیمتی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

زندگی کے بحران کو صرف ایک ہیلپ لائن نمبر نہیں، بلکہ ایک ایسے مضبوط اور حساس نظام کی ضرورت ہے جو انسان کو سنے، سمجھے، محفوظ رکھے اور بروقت مدد تک پہنچائے۔


انجمن نصرت الاسلام کے زیر اہتمام اسلامیہ ہائر سیکنڈری اسکول، راجوری کدل، سرینگر کے آڈیٹوریم میںبدھوار کو ’’سیرتِ رسول اکرم ﷺ اور عصرِ حاضر میں نوجوانوں کو درپیش چیلنجز‘‘کے عنوان سے یک روزہ سیرتی سیمینار منعقد ہوا۔اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے شریک طلبہ، اساتذہ اور منتظمین کو مبارکباد دی اور کہا کہ نوجوانوں کو سنجیدہ مسائل پر غور، تحقیق اور اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کرنا ایک بااعتماد، ذمہ دار اور سماجی شعور رکھنے والی نسل کی تعمیر کے لیے نہایت ضروری ہے۔

میرواعظ نے کہا کہ آج کے نوجوان سوشل میڈیا کے بڑھتے اثر، مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت، مادہ پرستی، فوری کامیابی کی خواہش، اخلاقی الجھن اور بڑھتے ذہنی و جذباتی دباؤ جیسے غیر معمولی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ influencers، trends اور algorithms کو اپنی شناخت، خواہشات اور کامیابی کے تصور کا تعین نہ کرنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ مادی کامیابی ہی کامیاب زندگی کا واحد معیار نہیں ہو سکتی۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اسکرین پر دکھائی جانے والی زندگیوں کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی صلاحیتوں، دلچسپیوں اور مقصد زندگی کو پہچانیں۔ حقیقی کامیابی کو کردار، علم، بامعنی تعلقات، خدمت اور معاشرے کے لیے مفید ہونے سے بھی ناپا جانا چاہیے۔

میرواعظ نے نوجوانوں میںبالخصوص خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع پورے معاشرے کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی امتحان، ناکام رشتہ، ردِعمل، بے روزگاری، مالی دشواری یا وقتی ناکامی کسی نوجوان کو اس مقام تک نہ لے جائے کہ وہ اپنی زندگی کو بے وقعت سمجھنے لگے۔

انہوں نے زور دیا کہ ذہنی اور جذباتی پریشانی کو بدنامی کے بجائے ہمدردی اور سمجھ بوجھ کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ خاندانوں، اسکولوں، دینی اداروں اور معاشرے کو ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں نوجوان anxiety، loneliness اور despair کے بارے میں کھل کر بات کر سکیں اور ضرورت پڑنے پر بروقت counselling، طبی مدد یا دیگر professional support حاصل کر سکیں۔

میرواعظ نے کہا کہ سیرتِ رسول اکرم ﷺ نوجوانوں کو صبر، ثابت قدمی، اخلاقی برتری، ضبطِ نفس، مقصد اور امید کا دائمی درس دیتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ technology کو استعمال کریں مگر اس کے تابع نہ بنیں، آزادانہ سوچ اپنائیں، اپنی اقدار سے جڑے رہیں اور معاشرے میں مثبت کردار اور خدمت کا ذریعہ بنیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں