اندرون گرام سبھا کا تاریخی فیصلہ، 550 جنگلاتی حقوق کے دعوے منظور

جنگ نیوز

گاندربل/ ضلع گاندربل کے اندرون، حلقہ A، حلقہ B اور ارہامہ پنچایتوں کی مشترکہ گرام سبھا میں فارسٹ رائٹس ایکٹ FRA، 2006 کے تحت 550 انفرادی جنگلاتی حقوق IFR کے دعووں کی منظوری دی گئی، جبکہ تقریباً 65 مربع کلومیٹر اراضی کو کمیونٹی فاریسٹ اور کمیونٹی چراگاہ کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
اجلاس میں فارسٹ رائٹس کولیشن جموں و کشمیر FRC–J&K کی معاونت سے جنگلاتی حقوق، کمیونٹی فاریسٹ رائٹس CFR اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ منظور شدہ اراضی میں ابھرتا ہوا سیاحتی مقام موہن مارگ بھی شامل ہے۔
فارسٹ رائٹس کولیشن کے کنوینر زاہد پرویز چودھری اور بانی و چیئرمین ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے گرام سبھا کو قانونی اور عملی طریقۂ کار سے آگاہ کیا، جبکہ CFR سے متعلق قراردادوں کو شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے کہا کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ حقیقی اور روایتی جنگلاتی باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہے اور اسے تجاوزات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے جنگلات، چراگاہوں، آبی وسائل اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں مقامی اور چرواہا برادریوں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
کولیشن کے مطابق یہ اس کی معاونت سے منعقد ہونے والی 33ویں CFR گرام سبھا تھی۔ اجلاس میں مقامی نمائندوں، فارسٹ رائٹس کمیٹیوں کے ارکان، سابق سرپنچوں اور جنگلاتی و چرواہا برادری کے افراد نے شرکت کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

تازہ ترین خبریں

موسم کی تازہ ترین صورتِ حال

  آج جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں مطلع...

JNUمیں ممتاز ادیب پروفیسر محمد حسن کی صدسالہ تقریبات کا آغاز

جنگ نیوز نئی دہلی /ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل...

ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول کی دو روزہ سالانہ تعلیمی کانفرنس اختتام پذیر

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر: ٹائمز ماسٹر پبلک اسکول، عالمگیری بازار،...

اندرون گرام سبھا کا تاریخی فیصلہ، 550 جنگلاتی حقوق کے دعوے منظور

جنگ نیوز

گاندربل/ ضلع گاندربل کے اندرون، حلقہ A، حلقہ B اور ارہامہ پنچایتوں کی مشترکہ گرام سبھا میں فارسٹ رائٹس ایکٹ FRA، 2006 کے تحت 550 انفرادی جنگلاتی حقوق IFR کے دعووں کی منظوری دی گئی، جبکہ تقریباً 65 مربع کلومیٹر اراضی کو کمیونٹی فاریسٹ اور کمیونٹی چراگاہ کے طور پر تسلیم کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔
اجلاس میں فارسٹ رائٹس کولیشن جموں و کشمیر FRC–J&K کی معاونت سے جنگلاتی حقوق، کمیونٹی فاریسٹ رائٹس CFR اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ منظور شدہ اراضی میں ابھرتا ہوا سیاحتی مقام موہن مارگ بھی شامل ہے۔
فارسٹ رائٹس کولیشن کے کنوینر زاہد پرویز چودھری اور بانی و چیئرمین ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے گرام سبھا کو قانونی اور عملی طریقۂ کار سے آگاہ کیا، جبکہ CFR سے متعلق قراردادوں کو شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کیا۔
ڈاکٹر شیخ غلام رسول نے کہا کہ فارسٹ رائٹس ایکٹ حقیقی اور روایتی جنگلاتی باشندوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ہے اور اسے تجاوزات کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے جنگلات، چراگاہوں، آبی وسائل اور پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں مقامی اور چرواہا برادریوں کے کردار کو اہم قرار دیا۔
کولیشن کے مطابق یہ اس کی معاونت سے منعقد ہونے والی 33ویں CFR گرام سبھا تھی۔ اجلاس میں مقامی نمائندوں، فارسٹ رائٹس کمیٹیوں کے ارکان، سابق سرپنچوں اور جنگلاتی و چرواہا برادری کے افراد نے شرکت کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں