جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/ کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ اردو نے مرکزی کیمپس میں ’’اردو میں ماحولیاتی ادب اور تنقید‘‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز کیا۔
کانفرنس میں ملک اور بیرونِ ملک سے اساتذہ، محققین، طلبہ اور ادب سے وابستہ افراد شرکت کر رہے ہیں، جہاں اردو ادب میں ماحولیاتی ادب اور اس کے تنقیدی پہلوؤں پر غور و خوض کیا جائے گا۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان نے کانفرنس کے موضوع کو عصرِ حاضر کے اہم علمی مباحث میں شمار کرتے ہوئے کہا کہ ماحول اور فطرت سے متعلق ادبی و تحقیقی سرگرمیاں اردو ادب میں تحقیق اور تنقیدی فکر کے دائرے کو وسیع کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
کشمیر یونیورسٹی کے ڈین اکیڈمک افیئرز پروفیسر شرف الدین پیرزادہ نے فطرت، ماحول اور انسانی زندگی کے باہمی تعلق اور اردو ادب میں اس کی عکاسی پر روشنی ڈالتے ہوئے ماحولیاتی ادب اور تنقید کے حوالے سے مسلسل علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے سابق سربراہ پروفیسر ارتضا کریم نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ماحولیاتی ادب اور تنقید کی اہمیت کے ساتھ عصرِ حاضر کے ماحولیاتی چیلنجز اور انسانی زندگی و تہذیب پر ان کے اثرات کا ذکر کیا۔
جامعہ جموں کے شعبۂ اردو کے سربراہ پروفیسر شہاب عنایت احمد ملک، کشمیر یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈسٹنس اینڈ آن لائن ایجوکیشن کی سابق ڈائریکٹر پروفیسر شفیقہ پروین اور شعبۂ اردو کے سابق سربراہ و ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر نذیر احمد ملک نے بھی موضوع کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
اس سے قبل شعبۂ اردو کشمیر یونیورسٹی کے سربراہ پروفیسر عرفان احمد نے خطبۂ استقبالیہ میں کانفرنس کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عصرِ حاضر میں ماحولیاتی اور ماحولیاتیاتی مسائل انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
دو روزہ کانفرنس کے دوران اردو ادب میں ماحولیاتی مسائل کے مختلف ادبی اور تنقیدی پہلوؤں پر علمی مباحث جاری رہیں گے۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر مشتاق حیدر نے کی جبکہ اظہارِ تشکر ڈاکٹر کوثر رسول نے پیش کیا۔


