
محمد عرفات وانی
ترال پلوامہ کشمیر
کشمیر کی سرزمین بھی ہمیشہ ایسی باصلاحیت اور صاحب فکر شخصیات سے مالا مال رہی ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں ادب، صحافت، تعلیم اور سماجی خدمت کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دے کر معاشرے کی رہنمائی کی۔ انہی نمایاں شخصیات میں منتظر مومن وانی کا نام بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی متوازن فکر، ذمہ دارانہ طرز اظہار، علمی بصیرت اور مسلسل سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ایک ایسے قلمکار کی حیثیت اختیار کی ہے جو معاشرے کے حساس مسائل پر نہ صرف توجہ دلاتا ہے بلکہ مثبت سوچ اور تعمیری فکر کو بھی فروغ دیتا ہے۔
منتظر مومن وانی کا تعلق شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے خوبصورت علاقے ٹنگمرگ کے گاؤں بہرام پورہ چوکر سے ہے۔ اگرچہ وہ اس وقت قطر میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں لیکن ان کی فکری وابستگی آج بھی اپنی سرزمین، اپنے معاشرے اور اپنے لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے قائم ہے۔ بیرون ملک قیام کے باوجود وہ کشمیر کے سماجی، تعلیمی، ثقافتی اور عوامی مسائل پر مسلسل لکھتے اور اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ ان کی یہ وابستگی اس بات کی عکاس ہے کہ حقیقی خدمت کا تعلق صرف جغرافیائی قربت سے نہیں بلکہ خلوص، احساس ذمہ داری اور اپنے معاشرے سے قلبی تعلق سے ہوتا ہے۔
ان کی شخصیت کا نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ مسائل کو سطحی انداز میں نہیں دیکھتے بلکہ ان کے اسباب، اثرات اور ممکنہ حل پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں جذبات اور حقیقت پسندی کے ساتھ دلیل، توازن اور تعمیری سوچ کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جن کا براہ راست تعلق عوامی زندگی، تعلیم، نوجوانوں، سماجی اقدار اور اجتماعی فلاح سے ہو۔ ان کے نزدیک قلم کی اصل ذمہ داری محض اظہار خیال نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا، مثبت سوچ کو فروغ دینا اور معاشرے میں اصلاح کی راہیں ہموار کرنا ہے۔
ان کی تعلیمی زندگی بھی ان کی فکری وسعت کی آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کلینیکل سائیکالوجی، انگریزی اور کشمیری زبان میں پوسٹ گریجویٹ ڈگریاں حاصل کیں۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مڈل اسکول بہرام پورہ میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ہائر سیکنڈری ہردوشورہ، ڈگری کالج بمنہ اور بعد ازاں کشمیر یونیورسٹی سے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ مختلف علمی شعبوں میں گہری دلچسپی اور مسلسل مطالعے نے ان کی شخصیت کو فکری پختگی، وسعت نظر اور تحقیقی مزاج عطا کیا جس کی جھلک ان کی تحریروں اور گفتگو میں نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔
وہ صرف کالم نگار ہی نہیں بلکہ ادیب، محقق اور تخلیقی مصنف بھی ہیں۔ ان کی تصانیف "ازک بامن پاگہک گلاب” اور "فکرِ اقبال” ان کی ادبی وابستگی، تحقیقی ذوق اور فکری سنجیدگی کی عکاس ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادب، سماجی شعور، اخلاقی اقدار اور فکری بصیرت کا خوبصورت امتزاج ملتا ہے۔ وہ مسائل کی نشاندہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مثبت سوچ، تعمیری مکالمے اور ذمہ دارانہ طرز فکر کو بھی فروغ دیتے ہیں جو ایک سنجیدہ قلمکار کی نمایاں خصوصیت سمجھی جاتی ہے۔
کالم نگاری اور صحافت کے میدان میں بھی منتظر مومن وانی نے اپنی سنجیدہ اور متوازن تحریروں کے ذریعے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کے مضامین کا بنیادی محور تعلیم، سماجی اصلاح، نوجوانوں کی رہنمائی، اخلاقی اقدار اور عوامی مسائل ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ہر تحریر میں جذبات کے بجائے دلیل، تحقیق اور حقیقت کو اہمیت دیتے ہیں اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کو ترجیح دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں کی یہی خصوصیات انہیں ایک ذمہ دار اور باوقار قلمکار کے طور پر نمایاں کرتی ہیں۔
ان کے مضامین سنگرمال، سرینگر جنگ، ہفتہ روزہ امت، گواہ ایکسپریس، روزنامہ اڑان، ایجوکیشنل کوئل، کشمیر عظمیٰ اور دیگر متعدد اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان کی تحریروں کا دائرۂ کار محض حالات کی عکاسی تک محدود نہیں بلکہ وہ مسائل کے اسباب، ان کے سماجی اثرات اور ممکنہ حل پر بھی مدلل انداز میں روشنی ڈالتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے مضامین مختلف طبقہ فکر کے قارئین میں توجہ حاصل کرتے ہیں۔
وہ تعلیم کو معاشرے کی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہیں اور کشمیر میں بڑھتے ہوئے تعلیمی بحران پر مسلسل آواز اٹھاتے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو کرکٹ میں ضرورت سے زیادہ وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی تعلیم اور مستقبل پر توجہ دینے کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کشمیر میں موسم گرما کی چھٹیوں کی ضرورت نہیں کیونکہ یہاں اتنی شدید گرمی نہیں ہوتی جتنی بیرونی ریاستوں یا دیگر ممالک میں ہوتی ہے۔ ان کے مطابق ہمارا مقابلہ انہی طلبہ سے ہے جو گرمی کے باوجود مسلسل تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اس لئے اساتذہ کو بھی پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے اپنا فرض ادا کرنا چاہیے تاکہ ایک باشعور، تعلیم یافتہ اور مضبوط نسل تیار ہو سکے۔
تعلیم ہمیشہ ان کی تحریروں کا ایک اہم موضوع رہی ہے۔ وہ اس یقین کے حامل ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی معیاری تعلیم، باشعور نوجوانوں اور مضبوط اخلاقی بنیادوں کے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لئے وہ تعلیمی نظام میں بہتری، طلبہ کی رہنمائی، مطالعے کے فروغ اور مثبت فکری ماحول کی تشکیل پر مسلسل لکھتے رہتے ہیں۔ ان کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ دار، باکردار اور باصلاحیت انسان کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کو بھی ذمہ داری اور مثبت مقصد کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ وہ فیس بک اور دیگر آن لائن پلیٹ فارموں کے ذریعے وقتاً فوقتاً عوامی مسائل، تعلیم، نوجوانوں، سماجی رویوں اور اخلاقی اقدار پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ ان کی گفتگو کا انداز سنجیدہ، متوازن اور تعمیری ہوتا ہے جس میں اختلاف کے باوجود احترام، دلیل اور شائستگی نمایاں رہتی ہے۔ ان کا مقصد محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ لوگوں میں شعور، ذمہ داری اور مثبت سوچ پیدا کرنا بھی ہے۔
موجودہ دور میں جہاں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات اور سنسنی خیزی تیزی سے پھیل رہی ہے وہاں منتظر مومن وانی ہمیشہ ذمہ دار صحافت اور تحقیق پر مبنی اظہار رائے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک صحافت ایک مقدس ذمہ داری ہے جس کی بنیاد سچائی، دیانت داری، تحقیق اور عوامی اعتماد پر قائم ہوتی ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خبر کی اشاعت سے پہلے اس کی تصدیق اور حقائق کی جانچ ہر ذمہ دار قلمکار کا بنیادی فرض ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو عوامی خدمت اور سماجی احساس بھی ہے۔ وہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اور جہاں کہیں عوام کو مشکلات کا سامنا ہو وہاں اپنی آواز بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چاہے مسئلہ تعلیم کا ہو، صحت کا، بنیادی سہولیات کا یا سماجی ناانصافی کا، وہ ان موضوعات پر ذمہ داری کے ساتھ اظہار خیال کرتے ہیں تاکہ متعلقہ اداروں اور عوام کی توجہ ان مسائل کی جانب مبذول ہو سکے۔
وہ نئے لکھنے والوں، نوجوان ادیبوں اور ابھرتے ہوئے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کو بھی اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اچھی تحریروں کی تعریف، مثبت رہنمائی اور ادبی ماحول کے فروغ کے لئے ان کی دلچسپی قابل ذکر ہے۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط ادبی معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب نئی نسل کو لکھنے، سوچنے اور اظہار خیال کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔
اگرچہ جدید دور میں سوشل میڈیا بہت سے لوگوں کے لئے شہرت اور مالی منفعت کا ذریعہ بن چکا ہے تاہم منتظر مومن وانی کی ترجیح ہمیشہ عوامی آگاہی، تعلیمی شعور اور سماجی بہتری رہی ہے۔ وہ اپنے پلیٹ فارم کو ذاتی تشہیر کے بجائے ایسے موضوعات کے لئے استعمال کرتے ہیں جو معاشرے کے لئے مفید اور تعمیری ہوں۔ یہی طرز فکر ان کی شخصیت کو ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور باوقار سماجی قلمکار کے طور پر نمایاں کرتا ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ تنقید کو محض اعتراض کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاح کا مؤثر وسیلہ سمجھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں اختلاف رائے ضرور ہوتا ہے مگر اسلوب ہمیشہ مہذب، متوازن اور شائستہ رہتا ہے۔ وہ افراد کے بجائے مسائل، رویوں اور سماجی کمزوریوں پر گفتگو کرتے ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کو اپنی فکری جدوجہد کا بنیادی مقصد قرار دیتے ہیں۔ یہی اعتدال اور سنجیدگی ان کی تحریروں کو محض تنقید نہیں بلکہ تعمیری مکالمہ بنا دیتی ہے۔
وہ نوجوان نسل کو مطالعہ، تحقیق، اعلیٰ تعلیم، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ طرز زندگی اختیار کرنے کی مسلسل ترغیب دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کے کردار، علم اور شعور سے وابستہ ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ نوجوانوں کو وقت کی قدر، اخلاقی اقدار کی پاسداری، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی خدمت کے لئے بروئے کار لانے کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کی فکر نوجوانوں کے لئے امید، حوصلے اور مثبت سمت کی نمائندگی کرتی ہے۔
ورلڈ ریڈیو ڈے کے موقع پر ان کی پیش کردہ ویڈیو سمیت مختلف عوامی پلیٹ فارموں پر ان کی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ ذرائع ابلاغ کو صرف معلومات کی ترسیل کا وسیلہ نہیں بلکہ علم، ثقافت، شعور اور مثبت اقدار کے فروغ کا موثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ وہ جدید ذرائع ابلاغ کے مثبت استعمال کے ذریعے سماجی ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے وسیع فکری وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کی شخصیت میں علم دوستی، سادگی، دیانت داری، سماجی احساس اور عوامی خدمت کا حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔ وہ پیچیدہ موضوعات کو بھی نہایت سادہ، موثر اور قابل فہم انداز میں پیش کرتے ہیں تاکہ معاشرے کا ہر فرد ان سے استفادہ کر سکے۔ یہی خوبی ان کی تحریروں کو عام قاری سے جوڑتی ہے اور انہیں محض ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیتی۔
آج کے دور میں جب ذاتی مفاد، فوری شہرت اور سطحی مقبولیت کو اکثر کامیابی کا معیار سمجھ لیا گیا ہے ایسے ماحول میں منتظر مومن وانی کا فکری اور سماجی کردار زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ اپنے قلم کو ذمہ داری، دیانت اور عوامی شعور کے فروغ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں معاشرے کے لئے خیر خواہی، نوجوانوں کے لئے رہنمائی اور اجتماعی فلاح کا جذبہ نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر کی ادبی، صحافتی اور سماجی فضا میں منتظر مومن وانی نے اپنی علمی وابستگی، مسلسل مطالعے، ذمہ دارانہ طرز اظہار اور عوامی مسائل سے گہری دلچسپی کے ذریعے ایک قابل احترام شناخت قائم کی ہے۔ ان کی تحریریں صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ قاری کو غور و فکر، خود احتسابی اور مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت بھی دیتی ہیں۔ یہی وصف ایک سنجیدہ قلمکار اور باشعور دانشور کی اصل پہچان ہوتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ منتظر مومن وانی ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو علم، ادب، صحافت اور سماجی خدمت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں، کالموں، تصانیف اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے شعور، تحقیق، دیانت اور مثبت فکر کو فروغ دینے کی مسلسل کوشش کی ہے۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اگر علم کے ساتھ اخلاص، قلم کے ساتھ دیانت اور فکر کے ساتھ خدمت خلق کا جذبہ شامل ہو تو ایک فرد بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی جذبے، خلوص اور عزم کے ساتھ علمی، ادبی اور سماجی خدمات انجام دیتے رہیں اور ان کا قلم آنے والی نسلوں کے لئے رہنمائی، امید اور مثبت فکر کا سرچشمہ ثابت ہو۔
ززز


