جنگ نیوز ڈیسک
میلیال/ پہاڑی زبان اور اس کے ثقافتی ورثے کے فروغ، تحفظ اور مزید استحکام کے مقصد سے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز کے پہاڑی شعبے کی جانب سے آج گورنمنٹ ہائی اسکول میلیال، کپواڑہ میں ایک روزہ پہاڑی ادبی و ثقافتی میلے کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر اعلیٰ انتظامی افسران، ممتاز ادیبوں، شاعروں، ماہرینِ تعلیم، فنکاروں، اساتذہ اور زبان سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ تقریب نے پہاڑی ادب، موسیقی اور ثقافتی روایات کے فروغ کے لئے ایک مؤثر اور بامقصد پلیٹ فارم فراہم کیا۔
سینئر جے کے اے ایس افسر اور محکمہ اطلاعات و ٹیکنالوجی، جموں و کشمیر کے اسپیشل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالحفیظ شاہ تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ سینئر لیکچرر اور معروف ماہرِ تعلیم گلزار احمد شیخ نے تقریب کی صدارت کی۔ صدر نشینوں میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ میر دردپوری، ریٹائرڈ زیڈ ای او ممتاز احمد خان، گورنمنٹ ہائی اسکول میلیال کی ہیڈمسٹریس شفقت بانو اور جے کے بینک برانچ منیجر منصور احمد مسعودی شامل تھے۔
استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے عبدالواحد منہاس، ریسرچ اسسٹنٹ، پہاڑی شعبہ، جے کے اے سی ایل، جنہوں نے تقریب کی نظامت بھی انجام دی، نے پہاڑی شعبے کی سرگرمیوں اور کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سیکریٹری جے کے اے سی ایل کی رہنمائی میں پہاڑی زبان کے فروغ، تحفظ، احیا اور اس کی ادبی سرگرمیوں کو وسیع پیمانے پر فروغ دینے کے لئے اٹھائے جانے والے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
پروگرام کا ایک اہم اور دلچسپ حصہ موسیقی کی محفل تھی، جس میں معروف پہاڑی فنکاروں یونس لولابی، عبید یونس، یوسف شاہین، جاوید وارثانی اور خورشید حجام نے روایتی اور جدید پہاڑی گیت پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔
ادبی نشست کے دوران ایک شاندار پہاڑی مشاعرہ بھی منعقد ہوا، جس میں معروف شعراء اکیلے عباسی، رفیق خان رفیق، طالب حسین طالب، خواجہ پرویز دلبر، راجہ ذاکر خان، ممتاز احمد خان، ارشاد احمد، محمد شفیع خان، عبد الہادی قریشی، عبد الحمید کٹاریہ اور لیاقت عباس نے اپنا کلام پیش کیا۔ شعراء نے اپنی تخلیقات کے ذریعے عصرِ حاضر کے پہاڑی ادب کی وسعت، تنوع اور تخلیقی قوت کو اجاگر کیا۔
معروف ادیب راجہ افلاک خان نے اس موقع پر پہاڑی زبان میں اپنا افسانہ بھی پیش کیا، جسے سامعین نے سراہا اور اس نے تقریب کے ادبی مباحث میں ایک اہم اضافہ کیا۔
پروگرام کے اختتام پر عبدالوحید منہاس نے باضابطہ اظہارِ تشکر پیش کیا۔ انہوں نے مہمانِ خصوصی، صدرِ تقریب، صدر نشینوں، شریک ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، ماہرینِ تعلیم، اسکول انتظامیہ اور عوام کا شکریہ ادا کیا، جن کی بھرپور شرکت اور تعاون سے یہ پروگرام کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
اس موقع پر اس امر کو اجاگر کیا گیا کہ جے کے اے سی ایل جموں و کشمیر کے لسانی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ پہاڑی ادب اور فنونِ لطیفہ کے فروغ، ترقی اور اعتراف کے لئے مسلسل مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔


