ہمانشی بابرا : سوشل میڈیا سے ادبی اُفق تک

بیسویں صدی میں اگر پروین شاکر نے نسائی احساس، محبت، خودداری اور نرم لہجے کو ایک نئی شناخت دی تو اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل دور میں چند نوجوان شاعرائیں بھی اپنی انفرادی آواز کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں نام ملکہء تحت اللفظ ہمانشی بابرا کا ہے، انہوں نے اپنے لئے’’کاتب‘‘ کا تخلص اختیار کیا ہے، جس کے معنی ہیں’’لکھنے والا‘‘ یا’’قلم کار‘‘ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا، مشاعروں اور ادبی محفلوں کے ذریعے مختصر مدت میں اپنی پہچان قائم کی ہے۔ آج ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ملک و بیرونِ ملک کے مشاعروں میں شعراء کی فہرست ان کے نام کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ ان کی غزلیں اور اشعار محبت، تنہائی، خود کلامی اور انسانی رشتوں کی لطافت سے عبارت ہیں، عوامی سطح پر اپنی غزل سرائی کا آغاز انہوں نے اوپن مائیکopen mic سے کیا ۔ اوپن مائیک ایک عوامی اور براہ راست لائیو پروگرام ہوتا ہے جہاں فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہمانشی بابرا کا تعلق میرٹھ، اتر پردیش سے ہے۔ اردو زبان اور غزل سے ان کی وابستگی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ اردو کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ آج جب نوجوان نسل کا بڑا حصہ سوشل میڈیا کے ذریعے ادب سے جڑ رہا ہے، ہمانشی نے بھی انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارموں کو اپنی شاعری کی ترسیل کا ذریعہ بنایا۔ اس سے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ عوامی مشاعروں میں ان کی شرکت کا آغاز ہی دبئی کے مشاعرے سے ہوا ۔ ان کے اشعار میں روایتی غزل کی شیرینی کے ساتھ موجودہ نسل کی بے چینی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں جشنِ ریختہ جیسے اہم ادبی پلیٹ فارم پر نوجوان شعراء کے مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا، جہاں نئی نسل کے نمایاں شعرا کے ساتھ ان کا کلام بھی پیش کیا گیا۔ہمانشی کی شاعری کا بنیادی حوالہ محبت ہے، لیکن یہ محبت صرف رومانوی جذبہ نہیں بلکہ انسان دوستی، خود شناسی اور داخلی کرب کا استعارہ بھی بن جاتی ہے۔ ان کے متعدد اشعار میں احساس کی نزاکت اور زبان کی سادگی نمایاں ہے۔ یہی خصوصیت انہیں نوجوان قارئین کے قریب لے آتی ہے۔ در اصل وہ جنریشن زی Gen Z کی سب سے پسندیدہ شاعرہ ہیں۔ ان کے یہاں وہ کیفیت دکھائی دیتی ہے جس نے کبھی پروین شاکر کو عام قارئین کا محبوب شاعر بنایا تھا۔
ہمانشی بابرا کو حالیہ عرصے میں صرف ان کی شاعری نے نہیں بلکہ ان کے ایک جرات مندانہ مؤقف نے بھی نمایاں کیا۔ اگرچہ وہ ہندو ہیں اور سناتن بھی اور اس پر فخر کرتی ہیں لیکن اردو کی شیدائی ہیں اور اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان ہونے کی تردید کرتی ہیں۔ ایک مشاعرے میں شرکت کے دوران انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک کوی سمیلن میں اپنی شرکت کو لے کر اپنے تاثرات بیان کئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب ایسے شاعرانہ اجتماعات میں شرکت نہیں کرنا چاہتیں جہاں شاعری کے نام پر نفرت، سیاسی پروپیگنڈا، مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ دیا جاتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ شاعر کا منصب دلوں کو جوڑنا ہے، تقسیم کرنا نہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ بعض لوگوں نے ان کی حمایت کی جبکہ بعض نے ان کو ٹرول کیا اور ان کے بیان پر ناز یبہ تبصرے کئے۔ ان کے مطابق، اگر مشاعرے نفرت، سیاسی نعرے بازی اور سنسنی خیزی کا ذریعہ بن جائیں تو ادب کی روح مجروح ہوتی ہے۔ ہمانشی بابرا کے بیان نے اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو جنم دیا۔
کچھ لوگ ہمانشی بابرا کا تقابل پروین شاکر سے بھی کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ پروین شاکر اردو شاعری کی ایک مسلمہ، بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرہ تھیں، جن کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے، جن پر تنقیدی ادب موجود ہے اور جن کی ادبی خدمات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہمانشی بابرا ابھی اپنے ادبی سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ بھی منظر عام پر نہیں آیا ہے اور ان پر تنقیدی سرمایہ بھی محدود ہے۔اس کے باوجود دونوں کے درمیان چند دلچسپ مماثلتیں ضرور دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں نے نرم لہجے، نسائی احساس اور محبت کو اپنی شاعری کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ دونوں کی شاعری میں داخلی مکالمہ، خود اعتمادی اور جذبات کی لطافت نمایاں ہے۔ فرق یہ ہے کہ پروین شاکر نے کتابوں، رسائل اور روایتی مشاعروں کے ذریعے شہرت حاصل کی، جبکہ ہمانشی بابرا کا بنیادی میدان ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا ہے، جہاں ایک شعر چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمانشی بابرا کی سب سے بڑی طاقت ان کی سادہ زبان، جذبات کی سچائی اور نوجوان نسل سے براہِ راست مکالمہ ہے۔ اگر وہ مطالعے کی گہرائی، فنی پختگی اور تخلیقی تنوع کو اسی طرح آگے بڑھاتی رہیں، اور ان کا باقاعدہ شعری مجموعہ بھی سامنے آئے، تو ان کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہر بڑا شاعر اپنی منفرد شناخت سے پہچانا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ نئی نسل کی ان اہم آوازوں میں شامل ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ڈیجیٹل دور میں نئی توانائی بخشی ہے، اور جن کے گرد ہونے والی ادبی بحثیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی آواز کو نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔ وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ وہ اردو شاعری کی تاریخ میں کس مقام تک پہنچتی ہیں، لیکن فی الحال ان کا نام ان نوجوان شاعرات میں ضرور شامل ہو چکا ہے جنہوں نے محبت، حساسیت اور ادبی وقار کے ساتھ اپنی موجودگی محسوس کرائی ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ الفاظ میں ایسا کون سا جادو ہوتا ہے جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے ۔ ان کی شاعری میں عشق بھی ہے، درد بھی، اور ایک ایسی دلکشی بھی جو قاری کو ان کی ہر نظم کے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔
ہمانشی بابرا کی زندگی کا آغاز بھی نہایت سادگی سے ہوا۔ ان کی پیدائش میرٹھ کے قرب میں ایک چھوٹے سے گائوں میں ہوئی، جہاں کھیتوں کی خوشبو اور مٹی کی مہک فضا میں رچی بسی تھی۔بچپن ہی سے انہیں گیتوں اور شاعری میں دلچسپی تھی اور گنگنانے کا شوق تھا۔ اگرچہ ان کے خاندان میں کوئی شاعر نہیں تھا اور نہ اردو سے واقفیت تھی، لیکن ان کے والد ان کی پہلی ادبی تحریک بنے۔ان کے بچپن کا ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر بارہ تیرہ سال تھی اور ساتویں کلاس کی طالب علم تھیں اسی دوران اسکول میں استاد نے طلبہ کو نظم لکھنے کے لئے کہا۔ ہمانشی نے ایسی نظم لکھی کہ استاد بھی حیران رہ گئے۔ یہ ان کی شاعری کی ابتدا تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ا اپنی بستی کے ایک عام اسکول سے حاصل کی، جہاں اساتذہ نے ان کے ادبی ذوق کو پہچانا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔اسی دوران ان کا تعارف اردو کے عظیم شعراء، جیسے مرزا غالب، میر تقی میر اور فیض احمد فیض کے کلام سے ہوا۔ ان کی تخلیقات کا گہرا مطالعہ کرتے ہوئے ہمانشی کو احساس ہوا کہ الفاظ میں کتنی طاقت اور تاثیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ احمد فراز ان کے پسندیدہ شاعر ہیں ۔انہوں نے خود مطالعہ، مسلسل مشق اور ادبی حلقوں سے وابستگی کے ذریعے اپنے فن کو نکھارا۔ کلاسیکی اردو شعراء کے ساتھ ساتھ جدید شاعروں سے بھی انہوں نے اثر قبول کیا اور روایتی شاعری کو عصری احساسات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنی پہلی غزل سنائی جو چھوٹی بحر میں بہترین غزل ہے۔
آنکھ کو آئینہ سمجھتے ہو
عکس کو جانے کیا سمجھتے ہو
دوست اب کیوں نہیں سمجھتے تم
تم تو کہتے تھے نا سمجھتے ہو
میری دنیا اجڑ گئی اس میں
تم اسے حادثہ سمجھتے ہو
آخری راستہ تو باقی ہے
آخری راستہ سمجھتے ہو ؟
کسی بھی شاعر کی اصل پہچان اس کے تعارف، شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت سے نہیں بلکہ اس کے کلام سے ہوتی ہے۔ ہمانشی بابرا کے بارے میں اگر ان کی شاعری کو معیار بنایا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کے یہاں جذبات کی سچائی، زبان کی سادگی اور اظہار کی روانی بنیادی خصوصیات ہیں۔ ان کی غزلوں میں کلاسیکی اردو غزل کی روایت بھی جھلکتی ہے اور موجودہ نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ہمانشی کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو محبت کو محض رومان نہیں بلکہ ایک مسلسل داخلی کیفیت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ان کے اشعار میں وصال سے زیادہ انتظار، جدائی، یاد، محرومی، خود احتسابی اور خاموش محبت کے رنگ نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں، کیونکہ وہ ان کے اپنے احساسات کی ترجمانی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ان کی غزل کا یہ مقبول ترین مطلع ملاحظہ کیجیے:
دل ایسے مبتلا ہوا تیرے ملال میں
زلفیں سفید ہو گئیں انیس سال میں
یہ شعر صرف ہجر کی شدت کا بیان نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ غمِ محبت انسان کی عمر سے زیادہ اس کی روح کو بوڑھا کر دیتا ہے۔ ”انیس سال” محض عدد نہیں بلکہ جوانی کی علامت ہے، جسے شاعرہ نے وقت سے پہلے بڑھاپے کے استعارے میں ڈھال دیا ہے۔اسی غزل کے یہ اشعار دیکھیں
اک بار مجھ کو اپنی نگہبانی سونپ دے
عمریں گزار دوں گی تری دیکھ بھال میں
وہ تو سوال پوچھ کے آگے نکل گیا
اٹکی ہوئی ہوں میں مگر اس کے سوال میں
یہ اشعار محبت کے ایثار، وفاداری اور بے غرض وابستگی کی بہترین مثال ہیں ۔ یہاں محبوب سے کسی صلے کی خواہش نہیں بلکہ صرف خدمت اور حفاظت کا حق مانگا گیا ہے۔ ان میں ایک رومانوی کیفیت نہیں بلکہ انسانی تعلقات کی نفسیات کی عکاسی بھی ہے۔ایک دوسری غزل میں وہ کہتی ہیں:
اپنی حالت کا مجھے دھیان نہیں ہوتا ہے
عشق سچا ہو تو آسان نہیں ہوتا ہے
یہاں محبت کے فلسفے کو نہایت سادہ زبان میں بیان کیا گیاہے کہ سچا عشق آسائش نہیں بلکہ مسلسل آزمائش کا نام ہے۔اسی غزل میں وہ کہتی ہیں:
خیریت پوچھتا ہے صرف دکھاوے کے لئے
وہ مرے حال سے انجان نہیں ہوتا ہے
اس میں انسانی تعلقات میں موجود منافقت اور رسمی ہمدردی پر ایک لطیف طنز بھی ہے اور محبوب کی بے اعتنائی کا اظہار بھی۔ہمانشی کے یہاں محبوب کی بے وفائی بھی مکمل مایوسی پیدا نہیں کرتی:
تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کے چل
دل رو پڑے گا تجھ کو پشیمان دیکھ کر
اس میں انتقام کی بجائے محبت کی عظمت اور اخلاقی برتری کا احساس دلا یا گیا ہے۔ ان کی ایک اور غزل کے اشعار محبت کے اس المیے کو بیان کیا گیا ہے جس میں انسان دل سے کسی کو اپنا مان لیتا ہے مگر حقیقت اس کی تائید نہیں کرتی۔ہمانشی کے کچھ اور مقبول اشعار:
میں نے الفت میں منا فع کا نہیں سوچا تھا
میرا نقصان زیادہ نہیں ہونے والا
وہ ہمارا ہے ہمارا ہے ہمارا ہے فقط
باوجود اس کے ہمارا نہیں ہونے والا
اس کہنا کہ مرا ساتھ نباہے آ کر
میرا یادوں سے گزارا نہیں ہونے والا
عشق اک بار ہو ایسی تو کوئی شرط نہیں
پہلا ناکام ہو تو عشق دوبارہ کرنا
ان کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف سادگی ہے۔ وہ نہ مشکل الفاظ استعمال کرتی ہیں، نہ مصنوعی تراکیب، نہ پیچیدہ استعاروں کا سہارا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار پہلی قرأت میں ہی قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں۔ ہمانشی بابرا کی شاعری ابھی زیادہ تر محبت، جدائی اور ذاتی احساسات کے گرد گردش کرتی ہے۔مجموعی طور پر ہمانشی بابرا کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو غزل آج بھی نئی نسل کے احساسات کو پوری توانائی کے ساتھ اپنے دامن میں سمو سکتی ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات کی صداقت، نسائی حساسیت، محبت کی پاکیزگی، زبان کی سلاست اور اظہار کی روانی ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں معاصر نوجوان شاعرات میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔ اگر مطالعہ، فنی ریاضت اور تخلیقی وسعت کا یہی سفر جاری رہا تو ہمانشی بابرا مستقبل میں اردو شاعری کے افق پر ایک مضبوط اور مستقل شناخت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

ہمانشی بابرا : سوشل میڈیا سے ادبی اُفق تک

بیسویں صدی میں اگر پروین شاکر نے نسائی احساس، محبت، خودداری اور نرم لہجے کو ایک نئی شناخت دی تو اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل دور میں چند نوجوان شاعرائیں بھی اپنی انفرادی آواز کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ انہی میں ایک نمایاں نام ملکہء تحت اللفظ ہمانشی بابرا کا ہے، انہوں نے اپنے لئے’’کاتب‘‘ کا تخلص اختیار کیا ہے، جس کے معنی ہیں’’لکھنے والا‘‘ یا’’قلم کار‘‘ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا، مشاعروں اور ادبی محفلوں کے ذریعے مختصر مدت میں اپنی پہچان قائم کی ہے۔ آج ان کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ ملک و بیرونِ ملک کے مشاعروں میں شعراء کی فہرست ان کے نام کے بغیر مکمل نہیں سمجھی جاتی۔ ان کی غزلیں اور اشعار محبت، تنہائی، خود کلامی اور انسانی رشتوں کی لطافت سے عبارت ہیں، عوامی سطح پر اپنی غزل سرائی کا آغاز انہوں نے اوپن مائیکopen mic سے کیا ۔ اوپن مائیک ایک عوامی اور براہ راست لائیو پروگرام ہوتا ہے جہاں فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہمانشی بابرا کا تعلق میرٹھ، اتر پردیش سے ہے۔ اردو زبان اور غزل سے ان کی وابستگی اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ اردو کسی ایک مذہب یا طبقے کی زبان نہیں بلکہ برصغیر کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ آج جب نوجوان نسل کا بڑا حصہ سوشل میڈیا کے ذریعے ادب سے جڑ رہا ہے، ہمانشی نے بھی انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارموں کو اپنی شاعری کی ترسیل کا ذریعہ بنایا۔ اس سے ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔ عوامی مشاعروں میں ان کی شرکت کا آغاز ہی دبئی کے مشاعرے سے ہوا ۔ ان کے اشعار میں روایتی غزل کی شیرینی کے ساتھ موجودہ نسل کی بے چینی بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں جشنِ ریختہ جیسے اہم ادبی پلیٹ فارم پر نوجوان شعراء کے مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا، جہاں نئی نسل کے نمایاں شعرا کے ساتھ ان کا کلام بھی پیش کیا گیا۔ہمانشی کی شاعری کا بنیادی حوالہ محبت ہے، لیکن یہ محبت صرف رومانوی جذبہ نہیں بلکہ انسان دوستی، خود شناسی اور داخلی کرب کا استعارہ بھی بن جاتی ہے۔ ان کے متعدد اشعار میں احساس کی نزاکت اور زبان کی سادگی نمایاں ہے۔ یہی خصوصیت انہیں نوجوان قارئین کے قریب لے آتی ہے۔ در اصل وہ جنریشن زی Gen Z کی سب سے پسندیدہ شاعرہ ہیں۔ ان کے یہاں وہ کیفیت دکھائی دیتی ہے جس نے کبھی پروین شاکر کو عام قارئین کا محبوب شاعر بنایا تھا۔
ہمانشی بابرا کو حالیہ عرصے میں صرف ان کی شاعری نے نہیں بلکہ ان کے ایک جرات مندانہ مؤقف نے بھی نمایاں کیا۔ اگرچہ وہ ہندو ہیں اور سناتن بھی اور اس پر فخر کرتی ہیں لیکن اردو کی شیدائی ہیں اور اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان ہونے کی تردید کرتی ہیں۔ ایک مشاعرے میں شرکت کے دوران انہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک کوی سمیلن میں اپنی شرکت کو لے کر اپنے تاثرات بیان کئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب ایسے شاعرانہ اجتماعات میں شرکت نہیں کرنا چاہتیں جہاں شاعری کے نام پر نفرت، سیاسی پروپیگنڈا، مذہبی اشتعال انگیزی کو فروغ دیا جاتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ شاعر کا منصب دلوں کو جوڑنا ہے، تقسیم کرنا نہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید بحث چھڑ گئی۔ بعض لوگوں نے ان کی حمایت کی جبکہ بعض نے ان کو ٹرول کیا اور ان کے بیان پر ناز یبہ تبصرے کئے۔ ان کے مطابق، اگر مشاعرے نفرت، سیاسی نعرے بازی اور سنسنی خیزی کا ذریعہ بن جائیں تو ادب کی روح مجروح ہوتی ہے۔ ہمانشی بابرا کے بیان نے اس موضوع پر سنجیدہ گفتگو جنم دیا۔
کچھ لوگ ہمانشی بابرا کا تقابل پروین شاکر سے بھی کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ پروین شاکر اردو شاعری کی ایک مسلمہ، بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعرہ تھیں، جن کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے، جن پر تنقیدی ادب موجود ہے اور جن کی ادبی خدمات کو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس ہمانشی بابرا ابھی اپنے ادبی سفر کے ابتدائی مرحلے میں ہیں، ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ بھی منظر عام پر نہیں آیا ہے اور ان پر تنقیدی سرمایہ بھی محدود ہے۔اس کے باوجود دونوں کے درمیان چند دلچسپ مماثلتیں ضرور دکھائی دیتی ہیں۔ دونوں نے نرم لہجے، نسائی احساس اور محبت کو اپنی شاعری کا مرکزی موضوع بنایا ہے۔ دونوں کی شاعری میں داخلی مکالمہ، خود اعتمادی اور جذبات کی لطافت نمایاں ہے۔ فرق یہ ہے کہ پروین شاکر نے کتابوں، رسائل اور روایتی مشاعروں کے ذریعے شہرت حاصل کی، جبکہ ہمانشی بابرا کا بنیادی میدان ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا ہے، جہاں ایک شعر چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمانشی بابرا کی سب سے بڑی طاقت ان کی سادہ زبان، جذبات کی سچائی اور نوجوان نسل سے براہِ راست مکالمہ ہے۔ اگر وہ مطالعے کی گہرائی، فنی پختگی اور تخلیقی تنوع کو اسی طرح آگے بڑھاتی رہیں، اور ان کا باقاعدہ شعری مجموعہ بھی سامنے آئے، تو ان کے امکانات مزید روشن ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہر بڑا شاعر اپنی منفرد شناخت سے پہچانا جاتا ہے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ وہ نئی نسل کی ان اہم آوازوں میں شامل ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ڈیجیٹل دور میں نئی توانائی بخشی ہے، اور جن کے گرد ہونے والی ادبی بحثیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان کی آواز کو نظر انداز کرنا آسان نہیں رہا۔ وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ وہ اردو شاعری کی تاریخ میں کس مقام تک پہنچتی ہیں، لیکن فی الحال ان کا نام ان نوجوان شاعرات میں ضرور شامل ہو چکا ہے جنہوں نے محبت، حساسیت اور ادبی وقار کے ساتھ اپنی موجودگی محسوس کرائی ہے۔کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ الفاظ میں ایسا کون سا جادو ہوتا ہے جو دل کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے ۔ ان کی شاعری میں عشق بھی ہے، درد بھی، اور ایک ایسی دلکشی بھی جو قاری کو ان کی ہر نظم کے ساتھ باندھے رکھتی ہے۔
ہمانشی بابرا کی زندگی کا آغاز بھی نہایت سادگی سے ہوا۔ ان کی پیدائش میرٹھ کے قرب میں ایک چھوٹے سے گائوں میں ہوئی، جہاں کھیتوں کی خوشبو اور مٹی کی مہک فضا میں رچی بسی تھی۔بچپن ہی سے انہیں گیتوں اور شاعری میں دلچسپی تھی اور گنگنانے کا شوق تھا۔ اگرچہ ان کے خاندان میں کوئی شاعر نہیں تھا اور نہ اردو سے واقفیت تھی، لیکن ان کے والد ان کی پہلی ادبی تحریک بنے۔ان کے بچپن کا ایک دلچسپ واقعہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر بارہ تیرہ سال تھی اور ساتویں کلاس کی طالب علم تھیں اسی دوران اسکول میں استاد نے طلبہ کو نظم لکھنے کے لئے کہا۔ ہمانشی نے ایسی نظم لکھی کہ استاد بھی حیران رہ گئے۔ یہ ان کی شاعری کی ابتدا تھی۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ا اپنی بستی کے ایک عام اسکول سے حاصل کی، جہاں اساتذہ نے ان کے ادبی ذوق کو پہچانا اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔اسی دوران ان کا تعارف اردو کے عظیم شعراء، جیسے مرزا غالب، میر تقی میر اور فیض احمد فیض کے کلام سے ہوا۔ ان کی تخلیقات کا گہرا مطالعہ کرتے ہوئے ہمانشی کو احساس ہوا کہ الفاظ میں کتنی طاقت اور تاثیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ احمد فراز ان کے پسندیدہ شاعر ہیں ۔انہوں نے خود مطالعہ، مسلسل مشق اور ادبی حلقوں سے وابستگی کے ذریعے اپنے فن کو نکھارا۔ کلاسیکی اردو شعراء کے ساتھ ساتھ جدید شاعروں سے بھی انہوں نے اثر قبول کیا اور روایتی شاعری کو عصری احساسات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنی پہلی غزل سنائی جو چھوٹی بحر میں بہترین غزل ہے۔
آنکھ کو آئینہ سمجھتے ہو
عکس کو جانے کیا سمجھتے ہو
دوست اب کیوں نہیں سمجھتے تم
تم تو کہتے تھے نا سمجھتے ہو
میری دنیا اجڑ گئی اس میں
تم اسے حادثہ سمجھتے ہو
آخری راستہ تو باقی ہے
آخری راستہ سمجھتے ہو ؟
کسی بھی شاعر کی اصل پہچان اس کے تعارف، شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت سے نہیں بلکہ اس کے کلام سے ہوتی ہے۔ ہمانشی بابرا کے بارے میں اگر ان کی شاعری کو معیار بنایا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کے یہاں جذبات کی سچائی، زبان کی سادگی اور اظہار کی روانی بنیادی خصوصیات ہیں۔ ان کی غزلوں میں کلاسیکی اردو غزل کی روایت بھی جھلکتی ہے اور موجودہ نسل کے جذباتی اور نفسیاتی مسائل بھی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ہمانشی کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو محبت کو محض رومان نہیں بلکہ ایک مسلسل داخلی کیفیت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ ان کے اشعار میں وصال سے زیادہ انتظار، جدائی، یاد، محرومی، خود احتسابی اور خاموش محبت کے رنگ نمایاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار نوجوان نسل میں تیزی سے مقبول ہوئے ہیں، کیونکہ وہ ان کے اپنے احساسات کی ترجمانی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ان کی غزل کا یہ مقبول ترین مطلع ملاحظہ کیجیے:
دل ایسے مبتلا ہوا تیرے ملال میں
زلفیں سفید ہو گئیں انیس سال میں
یہ شعر صرف ہجر کی شدت کا بیان نہیں بلکہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ غمِ محبت انسان کی عمر سے زیادہ اس کی روح کو بوڑھا کر دیتا ہے۔ ”انیس سال” محض عدد نہیں بلکہ جوانی کی علامت ہے، جسے شاعرہ نے وقت سے پہلے بڑھاپے کے استعارے میں ڈھال دیا ہے۔اسی غزل کے یہ اشعار دیکھیں
اک بار مجھ کو اپنی نگہبانی سونپ دے
عمریں گزار دوں گی تری دیکھ بھال میں
وہ تو سوال پوچھ کے آگے نکل گیا
اٹکی ہوئی ہوں میں مگر اس کے سوال میں
یہ اشعار محبت کے ایثار، وفاداری اور بے غرض وابستگی کی بہترین مثال ہیں ۔ یہاں محبوب سے کسی صلے کی خواہش نہیں بلکہ صرف خدمت اور حفاظت کا حق مانگا گیا ہے۔ ان میں ایک رومانوی کیفیت نہیں بلکہ انسانی تعلقات کی نفسیات کی عکاسی بھی ہے۔ایک دوسری غزل میں وہ کہتی ہیں:
اپنی حالت کا مجھے دھیان نہیں ہوتا ہے
عشق سچا ہو تو آسان نہیں ہوتا ہے
یہاں محبت کے فلسفے کو نہایت سادہ زبان میں بیان کیا گیاہے کہ سچا عشق آسائش نہیں بلکہ مسلسل آزمائش کا نام ہے۔اسی غزل میں وہ کہتی ہیں:
خیریت پوچھتا ہے صرف دکھاوے کے لئے
وہ مرے حال سے انجان نہیں ہوتا ہے
اس میں انسانی تعلقات میں موجود منافقت اور رسمی ہمدردی پر ایک لطیف طنز بھی ہے اور محبوب کی بے اعتنائی کا اظہار بھی۔ہمانشی کے یہاں محبوب کی بے وفائی بھی مکمل مایوسی پیدا نہیں کرتی:
تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کے چل
دل رو پڑے گا تجھ کو پشیمان دیکھ کر
اس میں انتقام کی بجائے محبت کی عظمت اور اخلاقی برتری کا احساس دلا یا گیا ہے۔ ان کی ایک اور غزل کے اشعار محبت کے اس المیے کو بیان کیا گیا ہے جس میں انسان دل سے کسی کو اپنا مان لیتا ہے مگر حقیقت اس کی تائید نہیں کرتی۔ہمانشی کے کچھ اور مقبول اشعار:
میں نے الفت میں منا فع کا نہیں سوچا تھا
میرا نقصان زیادہ نہیں ہونے والا
وہ ہمارا ہے ہمارا ہے ہمارا ہے فقط
باوجود اس کے ہمارا نہیں ہونے والا
اس کہنا کہ مرا ساتھ نباہے آ کر
میرا یادوں سے گزارا نہیں ہونے والا
عشق اک بار ہو ایسی تو کوئی شرط نہیں
پہلا ناکام ہو تو عشق دوبارہ کرنا
ان کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف سادگی ہے۔ وہ نہ مشکل الفاظ استعمال کرتی ہیں، نہ مصنوعی تراکیب، نہ پیچیدہ استعاروں کا سہارا لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار پہلی قرأت میں ہی قاری کے دل میں اتر جاتے ہیں۔ ہمانشی بابرا کی شاعری ابھی زیادہ تر محبت، جدائی اور ذاتی احساسات کے گرد گردش کرتی ہے۔مجموعی طور پر ہمانشی بابرا کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو غزل آج بھی نئی نسل کے احساسات کو پوری توانائی کے ساتھ اپنے دامن میں سمو سکتی ہے۔ ان کی شاعری میں جذبات کی صداقت، نسائی حساسیت، محبت کی پاکیزگی، زبان کی سلاست اور اظہار کی روانی ایسی خصوصیات ہیں جو انہیں معاصر نوجوان شاعرات میں ایک نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔ اگر مطالعہ، فنی ریاضت اور تخلیقی وسعت کا یہی سفر جاری رہا تو ہمانشی بابرا مستقبل میں اردو شاعری کے افق پر ایک مضبوط اور مستقل شناخت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں