دفعہ 370 کی برسی کے موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے شہدا کے ورثأ میں تقرر ی نامے تقسیم کئے

جنگ  نیوز 
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آج دہشت گردوں کے ہاتھوں بے دردی سے مارے گئے 37 شہریوں کے ورثأمیں تقرری نامے تقسیم کئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس تاریخی دِن پر دہشت گردی کے متاثرہ کنبوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے لئے باعثِ اعزاز ہے اور یہ صرف تقرری ناموں کی تقسیم نہیں بلکہ شہدأ کی یاد، متاثرہ کنبوں کے لئے اِنصاف، اور قومی عزم کی تجدید کی علامت ہے۔
اُنہوں نے کہا،’’میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے بے گناہ شہریوں کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور اُن کنبوں کو سلام پیش کرتا ہوں جوکئی دہائیوں کے درد، اذیت اور انتظار کے بعد آج تقرری نامے حاصل کر رہے ہیں جو ان کی عزت او رروزگار کو بحال کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں تک دہشت گردی سے متاثرہ کنبوں کے دُکھ کو نظر انداز کیا گیا اور اُن کے زخم ان دیکھے رہے۔ دہشت گردی نے گھروں کو اجاڑا اور مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا۔ کوئی اعداد و شمار ان کنبوں کی اذیت اور تکلیف بیان کو نہیں کر سکتے۔ یہ درد اُن لوگوں کی یادوں اور خاموش حوصلے میں زندہ ہے جن کے سہارے وہ ناقابلِ برداشت نقصان کے باوجود زِندگی گزارتے رہے۔ آج دئیے گئے تقرری نامے صرف ملازمت کے کاغذات نہیں بلکہ سماجی اِنصاف، قومی اعتراف اور اس پختہ عہد کی علامت ہیں کہ ہمارے شہدأ کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن کے کنبوں کو تنہا چھوڑا جائے گا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کا عزم صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں نمایاں ہے۔ 5 ؍اگست 2019 ء کے بعد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک ختم کیا گیا، امن و امان کی صورتحال مضبوط ہوئی، مساوی حقوق بحال کئے گئے اور ایسے مواقع پیدا کئے گئے جن سے کنبے اعتماد کے ساتھ اَپنی زِندگی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔
اُنہوں نے کہا،’’آج جموں و کشمیر میں جو تبدیلی نظر آ رہی ہے وہ 5 ؍اگست 2019 ء کی تاریخی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ دِن آئینی اصلاح اور یونین ٹیریٹری کے لئے ایک نئی شروعات تھی۔ امتیازی رُکاوٹیں ختم کی گئیں، اُن لوگوں کو مساوی حقوق دئیے گئے جو امتیازی قوانین کی وجہ سے متاثر تھے۔ ایک قوم، ایک پرچم اور ایک آئین کے اصول کو مکمل طور پر عملایا گیا اور تمام ہندوستانی شہریوں کے لئے عزت، اِنصاف اور مواقع کے یکساں معیار کو یقینی بنایا گیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پسماندہ طبقات، قبائلی کمیونٹیوں، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) اور چھمب سے بے گھر ہوئے اَفراد اور مائیگرنوں کوہندوستانی آئین کے تحت مکمل شہریت، حقِ رائے دہی اور جائیداد کی ملکیت جیسے قانونی حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسان اور کاریگر نئے مواقع پیدا کر رہے ہیںجبکہ یونیورسٹیاں، کالج، تحقیقی اور انکوبیشن سینٹرنئی نسل عالمی مسابقت کے لئے تیار کر رہے ہیں۔
اُنہوںنے کہا کہ آج تقرری نامے حاصل کرنے والے دہشت گردی کے متاثرہ کنبے، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد وجود میں آنے والے نئے نظام سے فائدہ اُٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ان کے مقدمات جو کئی دہائیوں سے اِلتوأ کا شکار تھے، اَب نمٹا دئیے گئے ہیں۔ یہ کسی نقصان کا معاوضہ نہیںہے کیوں کہ نہ کوئی رقم، نہ ملازمت اور نہ ہی کوئی دستاویز کسی عزیز کی کمی پوری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی زندگی کی بحالی اور وقار کی واپسی کے لئے پُرعزم ہے۔‘‘
اُنہوںنے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی وجہ سے دہشت گردی کا نیٹ ورک بلا روک ٹوک سرگرم تھا جس کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، خوف پھیلانا اور اُمید و خوابوں کو ختم کرنا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پڑوسی ملک اور وادی میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سازشیں ناکام بنا دی گئیں۔ جموں و کشمیر کے لوگوںنے تشدد کے بجائے امن، گمراہ کن نظریات کے بجائے تعلیم، انحصار کے بجائے روزگار اور مایوسی کے بجائے عزت و وقار کا اِنتخاب کیا ہے۔ نوجوان نسل خوف سے پاک مستقبل کی حقدار ہے اور یہی وہ مستقبل ہے جسے ہم معزز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مل کر تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘
اُنہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد اِنصاف، ترقی اور شمولیت کو فروغ دینا ہے، اوردیرپا اَمن کو مواقع سے جوڑنا ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے مزید کہا،’’جو معاشرہ اَپنے اِداروں پر اعتماد کرتا ہے وہ خوف کے خلاف مضبوط ہوتا ہے۔ جو کنبہ بلاامتیاز سرکاری سہولیات حاصل کرتا ہے وہ امن و ترقی کا شراکت دار بنتا ہے۔ تعلیم اور روزگار سے بااِختیار نوجوان علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کے لئے اِنصاف تیزی اورخلوص کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کیوں کہ یہ قومی فریضہ ہے۔ کسی شکایت کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی کسی کنبے کو فراموش کیا جائے گا۔ اِنصاف میں تاخیر نے بہت تکلیف دی لیکن اَب اِنصاف بروقت، اِنسانی ہمدردی، جوابدہی اور تسلسل کے ساتھ فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ دن دشمنانِ امن کو بھی واضح پیغام دیتا ہے کہ دہشت گردی ایک پُرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔ سرحد پار بیٹھے اس کے سرپرست خواہ کتنی ہی سازشیں کریں، اِنصاف کی روشنی انہیں ضرور بے نقاب کرے گی۔ جموں و کشمیر کا مستقبل اس کے نوجوان، مزدور، کسان، اَساتذہ، خواتین اور اَمن و ترقی پر یقین رکھنے والے عوام رقم کریں گے۔‘‘
اُنہوںنے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو ایک تاریخی موڑ کے طور پر یاد رکھیں جب عام لوگوں کے زخموں کو تسلیم کیا گیا، ان کے دکھ کا فوری ازالہ کیا گیا، سب کو مساوی حقوق دئیے گئے، امتیازی قوانین ختم کئے گئے اور جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کے لئے قومی عزم کی تجدید کی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہم دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے، اس کے مجرموں اور سہولیت کاروں کو اِنصاف کے کٹہرے میں لانے اور جموں و کشمیر کے ہر شہری کو اَمن، مساوات اور اُمید سے بھرپور زِندگی فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2019 ء میں امتیازی سلوک کے سائے ختم ہوئے اور سماجی اِنصاف اور ہمہ گیر ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ آج جموں و کشمیر نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ہمہ جہت ترقی اَمن اور خوشحالی کو فروغ دے رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا ،’’امتیازی سلوک اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے نظام کو ختم کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیا کہ جموں و کشمیر میں خوشحالی کے چراغ صرف چندمحلوں میں نہیں بلکہ غریبوں کی جھونپڑیوں میں بھی روشن ہوں گے۔ آج 33 برس بعد شوپیاں کے شہید ولی محمد وانی کے گھر بھی اُمید کا چراغ روشن ہوا ہے۔ 16؍ جولائی 1993 ء کو ولی محمد وانی دہشت گردوں کی گولیوں سے شہید ہوگئے۔ آج نہ صرف ان کاکنبہ بلکہ پورا شوپیاں قومی دھارے سے جُڑا ہوا محسوس کر رہا ہے۔‘‘
منوج سِنہانے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میںجو صنعتی ترقی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر سے کنیا کماری تک ریل رابطے کا دہائیوں پرانا خواب بھی پورا کیا۔
اُنہوں نے کہا،’’مالی برس 2025-26 کے دوران جموں و کشمیر میں 5,824 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی جو 2021 سے پہلے کی اوسط سرمایہ کاری سے 13 گنا زیادہ ہے۔ جموں اور سری نگر ہوائی اڈوں کی توسیع کی جا رہی ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے رابطہ نظام مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 2028 ء تک ہائیڈرو الیکٹرک پاور جنریشن کو دوگنا کرنے کے لئے پُر عزم ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مفاد پرست عناصر کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوان عزائم رکھنے والوں اور نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے والوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تقریب کے دوران ایس آر او۔43 اور رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم (آر اے ایس) کے تحت مزید 32 مستفیدین میں بھی تقرری نامے تقسیم کئے گئے۔
اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ڈِی جی پی نلین پربھات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، آئی جی پی کشمیر وِی کے بردی، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، چیئرمین سیو یوتھ سیو فیوچر فاؤنڈیشن وجاہت فاروق بٹ، فاؤنڈیشن کے دیگر اَراکین، سینئر سرکاری اَفسران، مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے اور دہشت گردی کے متاثرہ کنبوںکے اَفراد بھی موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج کا حق، انصاف کا اصول

اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

لداخ میں بڑی سیاسی پیش رفت: سونم وانگچک کا اہم اعلان، کرگل-لہہ پدیاترا مؤخر

  سرینگر: جنگ نیوز ڈیسک لداخ میں طویل عرصے سے جاری مطالبات...

ایک دہشت گرد ہلاک، اے کے رائفل برآمد

  بڈگام، 4 ستمبر: ضلع بڈگام کے اشدر گلی علاقے میں...

سرینگر ایئرپورٹ پر پارکنگ کے دوران انڈی گو کا طیارہ وی ڈی جی ایس پول سے ٹکرا گیا

سرینگر تمام مسافر اور عملہ محفوظ؛ کوئی زخمی نہیں ہوا،...

تازہ ترین خبریں

احتجاج کا حق، انصاف کا اصول

اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

لداخ میں بڑی سیاسی پیش رفت: سونم وانگچک کا اہم اعلان، کرگل-لہہ پدیاترا مؤخر

  سرینگر: جنگ نیوز ڈیسک لداخ میں طویل عرصے سے جاری مطالبات...

ایک دہشت گرد ہلاک، اے کے رائفل برآمد

  بڈگام، 4 ستمبر: ضلع بڈگام کے اشدر گلی علاقے میں...

سرینگر ایئرپورٹ پر پارکنگ کے دوران انڈی گو کا طیارہ وی ڈی جی ایس پول سے ٹکرا گیا

سرینگر تمام مسافر اور عملہ محفوظ؛ کوئی زخمی نہیں ہوا،...

دفعہ 370 کی برسی کے موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے شہدا کے ورثأ میں تقرر ی نامے تقسیم کئے

جنگ  نیوز 
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آج دہشت گردوں کے ہاتھوں بے دردی سے مارے گئے 37 شہریوں کے ورثأمیں تقرری نامے تقسیم کئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس تاریخی دِن پر دہشت گردی کے متاثرہ کنبوں کے ساتھ کھڑا ہونا ان کے لئے باعثِ اعزاز ہے اور یہ صرف تقرری ناموں کی تقسیم نہیں بلکہ شہدأ کی یاد، متاثرہ کنبوں کے لئے اِنصاف، اور قومی عزم کی تجدید کی علامت ہے۔
اُنہوں نے کہا،’’میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے بے گناہ شہریوں کو دلی خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں اور اُن کنبوں کو سلام پیش کرتا ہوں جوکئی دہائیوں کے درد، اذیت اور انتظار کے بعد آج تقرری نامے حاصل کر رہے ہیں جو ان کی عزت او رروزگار کو بحال کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں تک دہشت گردی سے متاثرہ کنبوں کے دُکھ کو نظر انداز کیا گیا اور اُن کے زخم ان دیکھے رہے۔ دہشت گردی نے گھروں کو اجاڑا اور مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا۔ کوئی اعداد و شمار ان کنبوں کی اذیت اور تکلیف بیان کو نہیں کر سکتے۔ یہ درد اُن لوگوں کی یادوں اور خاموش حوصلے میں زندہ ہے جن کے سہارے وہ ناقابلِ برداشت نقصان کے باوجود زِندگی گزارتے رہے۔ آج دئیے گئے تقرری نامے صرف ملازمت کے کاغذات نہیں بلکہ سماجی اِنصاف، قومی اعتراف اور اس پختہ عہد کی علامت ہیں کہ ہمارے شہدأ کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اُن کے کنبوں کو تنہا چھوڑا جائے گا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کا عزم صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات میں نمایاں ہے۔ 5 ؍اگست 2019 ء کے بعد دہشت گردی کے نیٹ ورک کو بڑی حد تک ختم کیا گیا، امن و امان کی صورتحال مضبوط ہوئی، مساوی حقوق بحال کئے گئے اور ایسے مواقع پیدا کئے گئے جن سے کنبے اعتماد کے ساتھ اَپنی زِندگی دوبارہ تعمیر کر سکیں۔
اُنہوں نے کہا،’’آج جموں و کشمیر میں جو تبدیلی نظر آ رہی ہے وہ 5 ؍اگست 2019 ء کی تاریخی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔ یہ دِن آئینی اصلاح اور یونین ٹیریٹری کے لئے ایک نئی شروعات تھی۔ امتیازی رُکاوٹیں ختم کی گئیں، اُن لوگوں کو مساوی حقوق دئیے گئے جو امتیازی قوانین کی وجہ سے متاثر تھے۔ ایک قوم، ایک پرچم اور ایک آئین کے اصول کو مکمل طور پر عملایا گیا اور تمام ہندوستانی شہریوں کے لئے عزت، اِنصاف اور مواقع کے یکساں معیار کو یقینی بنایا گیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں پسماندہ طبقات، قبائلی کمیونٹیوں، پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) اور چھمب سے بے گھر ہوئے اَفراد اور مائیگرنوں کوہندوستانی آئین کے تحت مکمل شہریت، حقِ رائے دہی اور جائیداد کی ملکیت جیسے قانونی حقوق حاصل ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کسان اور کاریگر نئے مواقع پیدا کر رہے ہیںجبکہ یونیورسٹیاں، کالج، تحقیقی اور انکوبیشن سینٹرنئی نسل عالمی مسابقت کے لئے تیار کر رہے ہیں۔
اُنہوںنے کہا کہ آج تقرری نامے حاصل کرنے والے دہشت گردی کے متاثرہ کنبے، آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد وجود میں آنے والے نئے نظام سے فائدہ اُٹھانے والوں میں شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ان کے مقدمات جو کئی دہائیوں سے اِلتوأ کا شکار تھے، اَب نمٹا دئیے گئے ہیں۔ یہ کسی نقصان کا معاوضہ نہیںہے کیوں کہ نہ کوئی رقم، نہ ملازمت اور نہ ہی کوئی دستاویز کسی عزیز کی کمی پوری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اس بات کی یقین دہانی ہے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی زندگی کی بحالی اور وقار کی واپسی کے لئے پُرعزم ہے۔‘‘
اُنہوںنے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی وجہ سے دہشت گردی کا نیٹ ورک بلا روک ٹوک سرگرم تھا جس کا مقصد معاشرے کو تقسیم کرنا، خوف پھیلانا اور اُمید و خوابوں کو ختم کرنا تھا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پڑوسی ملک اور وادی میں سرگرم دہشت گردی کے نیٹ ورک کی سازشیں ناکام بنا دی گئیں۔ جموں و کشمیر کے لوگوںنے تشدد کے بجائے امن، گمراہ کن نظریات کے بجائے تعلیم، انحصار کے بجائے روزگار اور مایوسی کے بجائے عزت و وقار کا اِنتخاب کیا ہے۔ نوجوان نسل خوف سے پاک مستقبل کی حقدار ہے اور یہی وہ مستقبل ہے جسے ہم معزز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں مل کر تعمیر کر رہے ہیں۔‘‘
اُنہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد اِنصاف، ترقی اور شمولیت کو فروغ دینا ہے، اوردیرپا اَمن کو مواقع سے جوڑنا ضروری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے مزید کہا،’’جو معاشرہ اَپنے اِداروں پر اعتماد کرتا ہے وہ خوف کے خلاف مضبوط ہوتا ہے۔ جو کنبہ بلاامتیاز سرکاری سہولیات حاصل کرتا ہے وہ امن و ترقی کا شراکت دار بنتا ہے۔ تعلیم اور روزگار سے بااِختیار نوجوان علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کے لئے اِنصاف تیزی اورخلوص کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے کیوں کہ یہ قومی فریضہ ہے۔ کسی شکایت کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی کسی کنبے کو فراموش کیا جائے گا۔ اِنصاف میں تاخیر نے بہت تکلیف دی لیکن اَب اِنصاف بروقت، اِنسانی ہمدردی، جوابدہی اور تسلسل کے ساتھ فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہ دن دشمنانِ امن کو بھی واضح پیغام دیتا ہے کہ دہشت گردی ایک پُرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتی۔ سرحد پار بیٹھے اس کے سرپرست خواہ کتنی ہی سازشیں کریں، اِنصاف کی روشنی انہیں ضرور بے نقاب کرے گی۔ جموں و کشمیر کا مستقبل اس کے نوجوان، مزدور، کسان، اَساتذہ، خواتین اور اَمن و ترقی پر یقین رکھنے والے عوام رقم کریں گے۔‘‘
اُنہوںنے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس دن کو ایک تاریخی موڑ کے طور پر یاد رکھیں جب عام لوگوں کے زخموں کو تسلیم کیا گیا، ان کے دکھ کا فوری ازالہ کیا گیا، سب کو مساوی حقوق دئیے گئے، امتیازی قوانین ختم کئے گئے اور جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کے لئے قومی عزم کی تجدید کی گئی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہم دہشت گردی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے، اس کے مجرموں اور سہولیت کاروں کو اِنصاف کے کٹہرے میں لانے اور جموں و کشمیر کے ہر شہری کو اَمن، مساوات اور اُمید سے بھرپور زِندگی فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2019 ء میں امتیازی سلوک کے سائے ختم ہوئے اور سماجی اِنصاف اور ہمہ گیر ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ آج جموں و کشمیر نئے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے اور ہمہ جہت ترقی اَمن اور خوشحالی کو فروغ دے رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا ،’’امتیازی سلوک اور دہشت گردی کو فروغ دینے والے نظام کو ختم کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے واضح کر دیا کہ جموں و کشمیر میں خوشحالی کے چراغ صرف چندمحلوں میں نہیں بلکہ غریبوں کی جھونپڑیوں میں بھی روشن ہوں گے۔ آج 33 برس بعد شوپیاں کے شہید ولی محمد وانی کے گھر بھی اُمید کا چراغ روشن ہوا ہے۔ 16؍ جولائی 1993 ء کو ولی محمد وانی دہشت گردوں کی گولیوں سے شہید ہوگئے۔ آج نہ صرف ان کاکنبہ بلکہ پورا شوپیاں قومی دھارے سے جُڑا ہوا محسوس کر رہا ہے۔‘‘
منوج سِنہانے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میںجو صنعتی ترقی ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی جبکہ وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر سے کنیا کماری تک ریل رابطے کا دہائیوں پرانا خواب بھی پورا کیا۔
اُنہوں نے کہا،’’مالی برس 2025-26 کے دوران جموں و کشمیر میں 5,824 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی جو 2021 سے پہلے کی اوسط سرمایہ کاری سے 13 گنا زیادہ ہے۔ جموں اور سری نگر ہوائی اڈوں کی توسیع کی جا رہی ہے اور مرکزی حکومت کی جانب سے رابطہ نظام مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی 2028 ء تک ہائیڈرو الیکٹرک پاور جنریشن کو دوگنا کرنے کے لئے پُر عزم ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے مفاد پرست عناصر کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بدعنوان عزائم رکھنے والوں اور نظام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرنے والوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی خلل ڈالنے کی کوشش کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تقریب کے دوران ایس آر او۔43 اور رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم (آر اے ایس) کے تحت مزید 32 مستفیدین میں بھی تقرری نامے تقسیم کئے گئے۔
اِس موقعہ پر چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ڈِی جی پی نلین پربھات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو، آئی جی پی کشمیر وِی کے بردی، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، چیئرمین سیو یوتھ سیو فیوچر فاؤنڈیشن وجاہت فاروق بٹ، فاؤنڈیشن کے دیگر اَراکین، سینئر سرکاری اَفسران، مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندے اور دہشت گردی کے متاثرہ کنبوںکے اَفراد بھی موجود تھے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں