کھٹمنڈو:
بھوٹے کوشی علاقے میں سیلاب کی تباہی کے دس دن بعد ترشولی تھری اے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی ایک سرنگ سے دو لوگوں کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ ان کی شناخت 45 سالہ کبیر مہاراجن اور 30 سالہ سنجے ساہ کے طور پر کی گئی ہے۔ نیپالی فوج کے تعلقات عامہ کے ڈائریکٹوریٹ کے مطابق، مہاراجن اس پروجیکٹ پر مکینیکل سپروائزر کے طور پر کام کر رہے تھے، جب کہ ساہ ایک فورمین تھے۔ نیپال کی فوج کی قیادت میں ایک سیکورٹی کمانڈ خصوصی آلات کا استعمال کرتے ہوئے تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ ‘دی کھٹمنڈو پوسٹ’ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ریسکیو ٹیموں نے سرنگ کے اندر سے آوازیں سنیں اور وہاں پھنسے ہوئے لوگوں سے رابطہ قائم کیا، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کامیاب کے ساتھ مکمل کر لیا گیا آوازیں سنتے ہی نیپال کی فوج اور مسلح پولیس فورس نے ان تک پہنچنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ انہیں ہوائی جہاز سے کھٹمنڈو پہنچا دیا گیا ہے۔ فوجی حکام کے مطابق ساہ کا علاج چھونی کے بریندرا آرمی اسپتال میں ہوگا، جب کہ مہاراجن کو نیشنل ٹراما سینٹر لے جایا گیا۔ نیپالی فوج نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنے بچاؤ کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔


