جنگ نیوز
پارلیمنٹ نے جمعرات کو پرچہ لیک مخالف قانون میں ترمیمی بل منظور کر لیا، جس کے تحت سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طلبہ کو متاثر کرنے والے بڑے مسئلے کے حل کے لئے آگے بڑھ رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام فریقوں کے تعاون سے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) (ترمیمی) بل، 2026 کو مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا میں پیش کیا، جہاں اپوزیشن کے واک آؤٹ کے دوران اسے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔ ایک روز قبل یہ بل لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا تھا۔
بل کے مطابق امتحانات میں پرچہ لیک یا ناجائز ذرائع استعمال کرنے کے مرتکب افراد کو کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کے ساتھ 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
منظم جرائم میں ملوث افراد کے لئے کم از کم سات سال قید اور 10 کروڑ روپے تک جرمانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد مقدمے کا فیصلہ تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کی بھی شق شامل کی گئی ہے۔
وزیر اعظم کا ویڈیو پیغام
وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ سے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری کے بعد ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے اسے شفاف، قابلِ اعتماد اور مضبوط امتحانی نظام کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "ہم پرچہ لیک مافیا کے خلاف مضبوط کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسا امتحانی نظام تشکیل دے رہے ہیں جس پر ہر طالب علم اعتماد کر سکے۔”
وزیر اعظم نے کہا کہ خصوصی ٹاسک فورسز کے قیام، فاسٹ ٹریک عدالتوں، ریاستوں کی تجاویز کو شامل کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت متعدد اصلاحات پر مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے پرچہ لیک کے واقعات نے طلبہ کے مستقبل کو نقصان پہنچایا، لیکن اب حکومت اس لعنت کے خاتمے اور امتحانی نظام میں شفافیت لانے کے لئے پُرعزم ہے۔


