سوشل میڈیا کا شور، سچائی کی خاموشی

 

محمد عرفات وانی
ترال، پلوامہ کشمیر

ایک وقت تھا جب صبح کی خاموشی اخبار کے صفحات پلٹنے کی آواز سے ٹوٹتی تھی۔ گھروں میں چائے کے ساتھ تازہ اخبار پڑھا جاتا، بچے کہانیوں کی کتابوں میں کھو جاتے، نوجوان ناول، افسانے اور شاعری کا مطالعہ کرتے جبکہ بزرگ لائبریریوں اور ادبی نشستوں میں علم و ادب کی شمع روشن رکھتے تھے۔ کتابیں صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں بلکہ شعور، کردار، تہذیب اور فکر کی تعمیر کا ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔ مگر آج وہی ہاتھ جو کبھی کتابیں تھامتے تھے، زیادہ تر موبائل فون تھامے نظر آتے ہیں۔ اخبارات کی جگہ سوشل میڈیا، لائبریریوں کی جگہ مختصر ویڈیوز اور مطالعے کی جگہ مسلسل اسکرولنگ نے لے لی ہے۔ شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے خاموش مگر سب سے خطرناک المیہ ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی صرف مضبوط معیشت، جدید عمارتوں یا سائنسی ایجادات سے نہیں بلکہ باشعور، صاحب فکر اور صاحبِ مطالعہ افراد سے وابستہ ہوتی ہے۔ یونان، اندلس، بغداد اور یورپ کی نشاۃ ثانیہ اس حقیقت کی روشن مثالیں ہیں کہ جب قوموں نے کتاب کو اپنا سرمایہ بنایا تو علم، تہذیب اور ترقی کے نئے باب رقم کیے اور جب مطالعے سے دور ہوئیں تو فکری جمود، سطحی سوچ اور تہذیبی زوال نے جنم لیا۔

اسلام نے بھی انسان کی رہنمائی کا آغاز تلوار سے نہیں بلکہ قلم اور مطالعے سے کیا۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی اقرَا یعنی پڑھو جو اس حقیقت کا اعلان ہے کہ علم ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے بغداد کے بیت الحکمہ، اندلس کی عظیم لائبریریوں اور بے شمار علمی مراکز قائم کیے اور طب، فلکیات، فلسفہ، ریاضی اور ادب میں دنیا کی رہنمائی کی۔
چند دہائیاں پہلے ہمارے معاشرے میں مطالعہ زندگی کا لازمی حصہ تھا۔ اخبار کے اداریے پڑھے جاتے، ملکی اور عالمی حالات پر سنجیدہ گفتگو ہوتی، نوجوان ناول، تاریخ، شاعری اور سوانح عمریوں کا شوق رکھتے جبکہ رسائل و جرائد نئے خیالات سے روشناس کراتے تھے۔ کتاب تحفے میں دینا ایک خوبصورت روایت تھی اور لائبریریاں علمی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی تھیں۔ اس وقت مطالعہ صرف امتحان میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی، زبان کی بہتری، اخلاقی تربیت اور فکری وسعت کا وسیلہ تھا۔
آج صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی بیشتر لوگ موبائل فون اٹھا لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، ریلز اور مسلسل نوٹیفکیشن ہماری توجہ کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں کہ گھنٹوں گزر جاتے ہیں مگر ایک اچھی کتاب کے چند صفحات پڑھنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں بلکہ مطالعے کی کم ہوتی عادت ہے۔ ٹیکنالوجی بذات خود ایک نعمت ہے مگر جب علم کی جگہ محض تفریح، تحقیق کی جگہ مختصر ویڈیوز اور معیاری اخبارات کی جگہ غیر مصدقہ معلومات لے لیں تو گہرائی سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔
ماہرین نفسیات موجودہ دور کو Attention Economy کا دور قرار دیتے ہیں جہاں ہر پلیٹ فارم انسان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مسلسل بدلتی تصاویر، مختصر ویڈیوز اور نوٹیفکیشن ذہن کو فوری دلچسپی کا عادی بنا دیتے ہیں جس کے باعث طویل تحریر پڑھنا، یکسوئی برقرار رکھنا اور کسی موضوع پر گہرائی سے غور کرنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین نئی نسل میں کم ہوتی توجہ اور مطالعے کے زوال پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

اس بحران کی وجوہات صرف موبائل فون نہیں بلکہ امتحان پر مبنی تعلیمی نظام، گھروں میں کتابی ماحول کا فقدان، لائبریریوں کی کمی، کتابوں کی بڑھتی قیمتیں، والدین کی مطالعے سے دوری اور ہر چیز فوری حاصل کرنے کی عادت بھی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مہنگا موبائل خریدنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوتی مگر ایک اچھی کتاب خریدنے کو اکثر غیر ضروری خرچ سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ نئی نسل کو آہستہ آہستہ کتاب سے دور اور اسکرین سے قریب لے آئی ہے۔
مطالعہ صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ سوچنے، سوال کرنے، اختلافِ رائے کا احترام سیکھنے، صحیح اور غلط میں تمیز پیدا کرنے اور زندگی کو وسیع زاویۂ نظر سے دیکھنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے عظیم مفکرین نے ہمیشہ کتاب کو انسان کا سب سے مخلص دوست اور مطالعے کو ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔
دنیا کے عظیم مفکرین اور کامیاب شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے کتابوں سے گہرا تعلق تھا۔ انگریز فلسفی فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ Reading maketh a full man یعنی مطالعہ انسان کو مکمل بناتا ہے۔ علامہ محمد اقبال نے نوجوانوں کو علم، تحقیق اور مسلسل جستجو کی تلقین کی، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کتابوں کو خاموش استاد قرار دیتے تھے جبکہ وارن بفیٹ اور بل گیٹس آج بھی اپنی روزمرہ زندگی کا ایک بڑا حصہ مطالعے کے لئے وقف کرتے ہیں۔ ابراہام لنکن نے محدود وسائل کے باوجود کتابوں سے ایسا رشتہ قائم کیا کہ تاریخ کے عظیم رہنماؤں میں شمار ہوئے۔
بین الاقوامی تعلیمی اور نفسیاتی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ باقاعدہ مطالعہ یادداشت، زبان دانی، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، توجہ اور بہتر فیصلہ سازی کو فروغ دیتا ہے جبکہ ذہنی دباؤ میں بھی کمی لاتا ہے۔ اس کے برعکس مختصر ویڈیوز، تیز رفتار معلومات اور مسلسل نوٹیفکیشن کا عادی ذہن آہستہ آہستہ یکسوئی اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ یونیسکو سمیت متعدد تحقیقی ادارے بھی مطالعے کو فکری اور سماجی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔ ہمارے علمی ورثے میں بھی علم کو غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ دولت کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے۔
کتاب انسان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ کردار، بصیرت اور زندگی کو سمجھنے کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔ ناول مختلف معاشروں اور انسانی نفسیات سے روشناس کراتے ہیں، افسانے مختصر انداز میں زندگی کی بڑی حقیقتیں بیان کرتے ہیں، سوانح عمریاں عظیم شخصیات کی جدوجہد سے سبق دیتی ہیں، تاریخ قوموں کے عروج و زوال سے آگاہ کرتی ہے، فلسفہ دلیل کے ساتھ سوچنا سکھاتا ہے جبکہ شاعری احساس، زبان اور تخیل کو جلا بخشتی ہے۔ اسی لئے جو شخص کتابوں سے رشتہ جوڑے رکھتا ہے اس کی شخصیت زیادہ متوازن، وسیع النظر اور باوقار ہوتی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان ادب، اخبارات اور سنجیدہ مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پریم چند، سعادت حسن منٹو، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، ابن انشا اور قرۃ العین حیدر جیسے ادیبوں کی کتابیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتی تھیں مگر آج ان کی جگہ مختصر ویڈیوز اور لمحاتی تفریح نے لے لی ہے۔ اس کا اثر صرف زبان اور اظہارِ خیال پر نہیں بلکہ فکر، برداشت اور تجزیاتی صلاحیت پر بھی پڑ رہا ہے۔
اخبارات سے دوری بھی ایک بڑا نقصان ہے۔ ایک ذمہ دار اخبار صرف خبر نہیں دیتا بلکہ اس کا پس منظر، حقائق، مختلف زاویہ نظر اور متوازن تجزیہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر اطلاع نہ مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیشہ درست۔ جب نوجوان صرف غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی رائے بھی اکثر ادھوری معلومات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
کشمیر جیسے علمی، ادبی اور ثقافتی خطے میں مطالعے کا کم ہوتا رجحان مزید تشویش کا باعث ہے۔ اس سرزمین نے بے شمار شاعر، ادیب، محقق اور صحافی پیدا کیے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لائبریریاں آباد، ادبی نشستیں پررونق، کتاب میلے مقبول اور اخبارات و رسائل کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا مگر آج یہ روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہم صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اپنی فکری اور تہذیبی میراث سے بھی دور ہوتے جائیں گے۔
مطالعے کا زوال صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کا خسارہ ہے۔ جب لوگ کم پڑھتے ہیں تو تحقیق کم کرتے ہیں، افواہوں پر جلد یقین کرتے ہیں، اختلافِ رائے کو کم برداشت کرتے ہیں اور دلیل کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعے کا زوال درحقیقت فکری زوال کی بھی ایک علامت ہے۔

اس صورت حال کی ذمہ داری صرف نوجوانوں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، حکومت، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے ہر فرد پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اگر گھروں میں کتابوں کی جگہ صرف موبائل فون اور ٹیلی ویژن ہوں، اگر والدین خود مطالعہ نہ کریں، اگر اسکول اور کالج طلبہ کو صرف امتحانات تک محدود رکھیں اور اگر لائبریریاں ویران پڑی رہیں تو مطالعے کی عادت کیسے پروان چڑھے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں میں کم عمری سے کتاب دوستی پیدا کی جائے، گھروں میں مطالعے کا ماحول بنایا جائے، لائبریریوں کو فعال کیا جائے، کتاب میلوں، ادبی نشستوں اور مطالعہ جاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جبکہ اخبارات اور رسائل بھی نوجوان نسل کے لئے معیاری علمی صفحات اور تخلیقی مواد زیادہ سے زیادہ شائع کریں۔
نوجوانوں کو بھی یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کامیابی صرف ڈگریوں سے نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے کی عادت سے حاصل ہوتی ہے۔ روزانہ صرف بیس سے تیس منٹ کسی اچھی کتاب، اخبار، اداریے، تحقیقی مضمون، افسانے یا سوانح عمری کا مطالعہ زبان، اظہار، اعتماد، تنقیدی سوچ اور شخصیت میں نمایاں نکھار پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کو رد کرنا بھی دانشمندی نہیں۔ اگر موبائل فون کو ای کتابوں، تحقیقی مضامین، معیاری اخبارات، علمی جرائد اور تعلیمی مواد تک رسائی کے لئے استعمال کیا جائے تو یہی علم کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن اور بے مقصد استعمال ہے۔ اس لئے اسکرین اور مطالعے کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت کشمیر میں (Chinar Book Festival) چنار بک فیسٹیول منعقد ہو رہا ہے جو کتاب دوستوں اور مطالعے کے شوقین افراد کے لئے ایک بہترین موقع ہے۔ اس میلے میں مختلف موضوعات پر معیاری اردو، انگریزی اور کشمیری کتابیں مناسب قیمتوں اور خصوصی رعایت کے ساتھ دستیاب ہیں۔ میری بالخصوص کشمیر کے نوجوانوں، طلبہ، والدین اور اساتذہ سے اپیل ہے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، کتابیں خریدیں اور مطالعے کی اس خوبصورت روایت کو دوبارہ زندہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج ہمیں خود سے ایک سادہ مگر اہم سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ آخری بار ہم نے موبائل کے علاوہ کوئی کتاب، اخبار، رسالہ، ناول یا افسانہ کب پڑھا تھا۔ اگر اس سوال کا جواب ہمیں خاموش کر دے تو یہ خاموشی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری خاموشی ہے۔ کتابیں صرف کاغذ پر چھپے الفاظ نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات، مفکرین کی بصیرت، سائنس دانوں کی تحقیق، شاعروں کے احساسات اور انسانیت کے اجتماعی شعور کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ جو قوم کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہے وہ اپنے مستقبل کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا بحران یہ نہیں کہ لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل فون آ گئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں سے کتابیں چھوٹ گئی ہیں۔ موبائل ہمیں لمحاتی معلومات دے سکتا ہے مگر کتاب مستقل بصیرت عطا کرتی ہے۔ اسکرین ہمیں مصروف رکھ سکتی ہے مگر مطالعہ ہمیں بہتر انسان بناتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ باشعور، بااخلاق، صاحب فکر اور صاحب کردار بھی ہو تو ہمیں کتاب، اخبار، لائبریری اور مطالعے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

سوشل میڈیا کا شور، سچائی کی خاموشی

 

محمد عرفات وانی
ترال، پلوامہ کشمیر

ایک وقت تھا جب صبح کی خاموشی اخبار کے صفحات پلٹنے کی آواز سے ٹوٹتی تھی۔ گھروں میں چائے کے ساتھ تازہ اخبار پڑھا جاتا، بچے کہانیوں کی کتابوں میں کھو جاتے، نوجوان ناول، افسانے اور شاعری کا مطالعہ کرتے جبکہ بزرگ لائبریریوں اور ادبی نشستوں میں علم و ادب کی شمع روشن رکھتے تھے۔ کتابیں صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں بلکہ شعور، کردار، تہذیب اور فکر کی تعمیر کا ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔ مگر آج وہی ہاتھ جو کبھی کتابیں تھامتے تھے، زیادہ تر موبائل فون تھامے نظر آتے ہیں۔ اخبارات کی جگہ سوشل میڈیا، لائبریریوں کی جگہ مختصر ویڈیوز اور مطالعے کی جگہ مسلسل اسکرولنگ نے لے لی ہے۔ شاید یہی ہمارے عہد کا سب سے خاموش مگر سب سے خطرناک المیہ ہے۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی ترقی صرف مضبوط معیشت، جدید عمارتوں یا سائنسی ایجادات سے نہیں بلکہ باشعور، صاحب فکر اور صاحبِ مطالعہ افراد سے وابستہ ہوتی ہے۔ یونان، اندلس، بغداد اور یورپ کی نشاۃ ثانیہ اس حقیقت کی روشن مثالیں ہیں کہ جب قوموں نے کتاب کو اپنا سرمایہ بنایا تو علم، تہذیب اور ترقی کے نئے باب رقم کیے اور جب مطالعے سے دور ہوئیں تو فکری جمود، سطحی سوچ اور تہذیبی زوال نے جنم لیا۔

اسلام نے بھی انسان کی رہنمائی کا آغاز تلوار سے نہیں بلکہ قلم اور مطالعے سے کیا۔ قرآنِ کریم کی پہلی وحی اقرَا یعنی پڑھو جو اس حقیقت کا اعلان ہے کہ علم ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کی ترغیب دی جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے بغداد کے بیت الحکمہ، اندلس کی عظیم لائبریریوں اور بے شمار علمی مراکز قائم کیے اور طب، فلکیات، فلسفہ، ریاضی اور ادب میں دنیا کی رہنمائی کی۔
چند دہائیاں پہلے ہمارے معاشرے میں مطالعہ زندگی کا لازمی حصہ تھا۔ اخبار کے اداریے پڑھے جاتے، ملکی اور عالمی حالات پر سنجیدہ گفتگو ہوتی، نوجوان ناول، تاریخ، شاعری اور سوانح عمریوں کا شوق رکھتے جبکہ رسائل و جرائد نئے خیالات سے روشناس کراتے تھے۔ کتاب تحفے میں دینا ایک خوبصورت روایت تھی اور لائبریریاں علمی سرگرمیوں کا مرکز سمجھی جاتی تھیں۔ اس وقت مطالعہ صرف امتحان میں کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی، زبان کی بہتری، اخلاقی تربیت اور فکری وسعت کا وسیلہ تھا۔
آج صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی بیشتر لوگ موبائل فون اٹھا لیتے ہیں۔ سوشل میڈیا، مختصر ویڈیوز، ریلز اور مسلسل نوٹیفکیشن ہماری توجہ کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں کہ گھنٹوں گزر جاتے ہیں مگر ایک اچھی کتاب کے چند صفحات پڑھنا بھی مشکل محسوس ہوتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں بلکہ مطالعے کی کم ہوتی عادت ہے۔ ٹیکنالوجی بذات خود ایک نعمت ہے مگر جب علم کی جگہ محض تفریح، تحقیق کی جگہ مختصر ویڈیوز اور معیاری اخبارات کی جگہ غیر مصدقہ معلومات لے لیں تو گہرائی سے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہونے لگتی ہے۔
ماہرین نفسیات موجودہ دور کو Attention Economy کا دور قرار دیتے ہیں جہاں ہر پلیٹ فارم انسان کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مسلسل بدلتی تصاویر، مختصر ویڈیوز اور نوٹیفکیشن ذہن کو فوری دلچسپی کا عادی بنا دیتے ہیں جس کے باعث طویل تحریر پڑھنا، یکسوئی برقرار رکھنا اور کسی موضوع پر گہرائی سے غور کرنا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین نئی نسل میں کم ہوتی توجہ اور مطالعے کے زوال پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔

اس بحران کی وجوہات صرف موبائل فون نہیں بلکہ امتحان پر مبنی تعلیمی نظام، گھروں میں کتابی ماحول کا فقدان، لائبریریوں کی کمی، کتابوں کی بڑھتی قیمتیں، والدین کی مطالعے سے دوری اور ہر چیز فوری حاصل کرنے کی عادت بھی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مہنگا موبائل خریدنے میں ہچکچاہٹ نہیں ہوتی مگر ایک اچھی کتاب خریدنے کو اکثر غیر ضروری خرچ سمجھا جاتا ہے۔ یہی سوچ نئی نسل کو آہستہ آہستہ کتاب سے دور اور اسکرین سے قریب لے آئی ہے۔
مطالعہ صرف معلومات حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ سوچنے، سوال کرنے، اختلافِ رائے کا احترام سیکھنے، صحیح اور غلط میں تمیز پیدا کرنے اور زندگی کو وسیع زاویۂ نظر سے دیکھنے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے عظیم مفکرین نے ہمیشہ کتاب کو انسان کا سب سے مخلص دوست اور مطالعے کو ترقی کی بنیاد قرار دیا ہے۔
دنیا کے عظیم مفکرین اور کامیاب شخصیات کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت نمایاں نظر آتی ہے کہ ان کی کامیابی کے پیچھے کتابوں سے گہرا تعلق تھا۔ انگریز فلسفی فرانسس بیکن نے کہا تھا کہ Reading maketh a full man یعنی مطالعہ انسان کو مکمل بناتا ہے۔ علامہ محمد اقبال نے نوجوانوں کو علم، تحقیق اور مسلسل جستجو کی تلقین کی، ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کتابوں کو خاموش استاد قرار دیتے تھے جبکہ وارن بفیٹ اور بل گیٹس آج بھی اپنی روزمرہ زندگی کا ایک بڑا حصہ مطالعے کے لئے وقف کرتے ہیں۔ ابراہام لنکن نے محدود وسائل کے باوجود کتابوں سے ایسا رشتہ قائم کیا کہ تاریخ کے عظیم رہنماؤں میں شمار ہوئے۔
بین الاقوامی تعلیمی اور نفسیاتی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہیں کہ باقاعدہ مطالعہ یادداشت، زبان دانی، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت، توجہ اور بہتر فیصلہ سازی کو فروغ دیتا ہے جبکہ ذہنی دباؤ میں بھی کمی لاتا ہے۔ اس کے برعکس مختصر ویڈیوز، تیز رفتار معلومات اور مسلسل نوٹیفکیشن کا عادی ذہن آہستہ آہستہ یکسوئی اور گہرائی سے سوچنے کی صلاحیت کھونے لگتا ہے۔ یونیسکو سمیت متعدد تحقیقی ادارے بھی مطالعے کو فکری اور سماجی ترقی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں۔ ہمارے علمی ورثے میں بھی علم کو غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ علم تمہاری حفاظت کرتا ہے جبکہ دولت کی حفاظت تمہیں کرنی پڑتی ہے۔
کتاب انسان کو صرف معلومات نہیں دیتی بلکہ کردار، بصیرت اور زندگی کو سمجھنے کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔ ناول مختلف معاشروں اور انسانی نفسیات سے روشناس کراتے ہیں، افسانے مختصر انداز میں زندگی کی بڑی حقیقتیں بیان کرتے ہیں، سوانح عمریاں عظیم شخصیات کی جدوجہد سے سبق دیتی ہیں، تاریخ قوموں کے عروج و زوال سے آگاہ کرتی ہے، فلسفہ دلیل کے ساتھ سوچنا سکھاتا ہے جبکہ شاعری احساس، زبان اور تخیل کو جلا بخشتی ہے۔ اسی لئے جو شخص کتابوں سے رشتہ جوڑے رکھتا ہے اس کی شخصیت زیادہ متوازن، وسیع النظر اور باوقار ہوتی ہے۔

افسوس یہ ہے کہ آج بہت سے نوجوان ادب، اخبارات اور سنجیدہ مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب پریم چند، سعادت حسن منٹو، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، ابن انشا اور قرۃ العین حیدر جیسے ادیبوں کی کتابیں نوجوانوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتی تھیں مگر آج ان کی جگہ مختصر ویڈیوز اور لمحاتی تفریح نے لے لی ہے۔ اس کا اثر صرف زبان اور اظہارِ خیال پر نہیں بلکہ فکر، برداشت اور تجزیاتی صلاحیت پر بھی پڑ رہا ہے۔
اخبارات سے دوری بھی ایک بڑا نقصان ہے۔ ایک ذمہ دار اخبار صرف خبر نہیں دیتا بلکہ اس کا پس منظر، حقائق، مختلف زاویہ نظر اور متوازن تجزیہ بھی فراہم کرتا ہے۔ اس کے برعکس سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر اطلاع نہ مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیشہ درست۔ جب نوجوان صرف غیر مصدقہ معلومات پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی رائے بھی اکثر ادھوری معلومات کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
کشمیر جیسے علمی، ادبی اور ثقافتی خطے میں مطالعے کا کم ہوتا رجحان مزید تشویش کا باعث ہے۔ اس سرزمین نے بے شمار شاعر، ادیب، محقق اور صحافی پیدا کیے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب لائبریریاں آباد، ادبی نشستیں پررونق، کتاب میلے مقبول اور اخبارات و رسائل کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا مگر آج یہ روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہم صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اپنی فکری اور تہذیبی میراث سے بھی دور ہوتے جائیں گے۔
مطالعے کا زوال صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے معاشرے کا خسارہ ہے۔ جب لوگ کم پڑھتے ہیں تو تحقیق کم کرتے ہیں، افواہوں پر جلد یقین کرتے ہیں، اختلافِ رائے کو کم برداشت کرتے ہیں اور دلیل کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مطالعے کا زوال درحقیقت فکری زوال کی بھی ایک علامت ہے۔

اس صورت حال کی ذمہ داری صرف نوجوانوں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، حکومت، ذرائع ابلاغ اور معاشرے کے ہر فرد پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اگر گھروں میں کتابوں کی جگہ صرف موبائل فون اور ٹیلی ویژن ہوں، اگر والدین خود مطالعہ نہ کریں، اگر اسکول اور کالج طلبہ کو صرف امتحانات تک محدود رکھیں اور اگر لائبریریاں ویران پڑی رہیں تو مطالعے کی عادت کیسے پروان چڑھے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں میں کم عمری سے کتاب دوستی پیدا کی جائے، گھروں میں مطالعے کا ماحول بنایا جائے، لائبریریوں کو فعال کیا جائے، کتاب میلوں، ادبی نشستوں اور مطالعہ جاتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے جبکہ اخبارات اور رسائل بھی نوجوان نسل کے لئے معیاری علمی صفحات اور تخلیقی مواد زیادہ سے زیادہ شائع کریں۔
نوجوانوں کو بھی یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ کامیابی صرف ڈگریوں سے نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے کی عادت سے حاصل ہوتی ہے۔ روزانہ صرف بیس سے تیس منٹ کسی اچھی کتاب، اخبار، اداریے، تحقیقی مضمون، افسانے یا سوانح عمری کا مطالعہ زبان، اظہار، اعتماد، تنقیدی سوچ اور شخصیت میں نمایاں نکھار پیدا کر سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کو رد کرنا بھی دانشمندی نہیں۔ اگر موبائل فون کو ای کتابوں، تحقیقی مضامین، معیاری اخبارات، علمی جرائد اور تعلیمی مواد تک رسائی کے لئے استعمال کیا جائے تو یہی علم کا بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن اور بے مقصد استعمال ہے۔ اس لئے اسکرین اور مطالعے کے درمیان توازن قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس وقت کشمیر میں (Chinar Book Festival) چنار بک فیسٹیول منعقد ہو رہا ہے جو کتاب دوستوں اور مطالعے کے شوقین افراد کے لئے ایک بہترین موقع ہے۔ اس میلے میں مختلف موضوعات پر معیاری اردو، انگریزی اور کشمیری کتابیں مناسب قیمتوں اور خصوصی رعایت کے ساتھ دستیاب ہیں۔ میری بالخصوص کشمیر کے نوجوانوں، طلبہ، والدین اور اساتذہ سے اپیل ہے کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، کتابیں خریدیں اور مطالعے کی اس خوبصورت روایت کو دوبارہ زندہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آج ہمیں خود سے ایک سادہ مگر اہم سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔ آخری بار ہم نے موبائل کے علاوہ کوئی کتاب، اخبار، رسالہ، ناول یا افسانہ کب پڑھا تھا۔ اگر اس سوال کا جواب ہمیں خاموش کر دے تو یہ خاموشی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری خاموشی ہے۔ کتابیں صرف کاغذ پر چھپے الفاظ نہیں بلکہ صدیوں کے تجربات، مفکرین کی بصیرت، سائنس دانوں کی تحقیق، شاعروں کے احساسات اور انسانیت کے اجتماعی شعور کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ جو قوم کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہے وہ اپنے مستقبل کو بھی مضبوط بناتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا بحران یہ نہیں کہ لوگوں کے ہاتھوں میں موبائل فون آ گئے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھوں سے کتابیں چھوٹ گئی ہیں۔ موبائل ہمیں لمحاتی معلومات دے سکتا ہے مگر کتاب مستقل بصیرت عطا کرتی ہے۔ اسکرین ہمیں مصروف رکھ سکتی ہے مگر مطالعہ ہمیں بہتر انسان بناتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل صرف ڈگری یافتہ نہیں بلکہ باشعور، بااخلاق، صاحب فکر اور صاحب کردار بھی ہو تو ہمیں کتاب، اخبار، لائبریری اور مطالعے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں