انسان کا خدا سے ٹکراؤ یہی ہے حقیقت سود

خامہ بکف محمد پالن پوری

سود تہذیبی بربادی اور انسانی ضمیر کی شکست و ریخت کا استعارہ ہے۔ قرآنِ مجید جب سود (ربا) کے خلاف لب کشائی کرتا ہے تو معاشرتی مقدمہ قائم کرتا ہے جس کی گونج رہتی دنیا تک سنائی دیتی ہے۔ سورۃ البقرہ کے آخری رکوع میں سود کے خلاف جو اعلان کیا گیا وہ انسانی تاریخ میں عدلِ معاشی کا سب سے بڑا منشور ہے۔۔۔ الذین یأکلون الربا سے لے کر فأذنوا بحرب من اللہ و رسولہ تک یہ آیات تہذیبی جنگ کا اعلان ہیں۔ ایک طرف سرمایہ پرستی اور استحصال کا نظام تو دوسری طرف عدل و ہمدردی کا ربانی نظام۔
ان آیات کی تفسیر پر ذرا گہری نظر ڈالئے تو ایک عجیب تدریجی شدت اور فکری ترتیب سامنے آتی ہے۔۔ آغاز میں سود خور کی باطنی و اخروی کیفیت کو اس تمثیل سے بیان کیا گیا کہ وہ قیامت میں ایسے اٹھے گا جیسے شیطان کے لمس سے دیوانہ ہو گیا ہو جیسا کہ امام قرطبی نے واضح کیا کہ یہ آخرت کا منظر تو ہے ہی لیکن الفاظ آیت دنیا میں اس کے فکری اضطراب کی طرف بھی نشاندہی کرتے ہیں پھر فوراً اس کی فکری گمراہی کا پردہ چاک کیا گیا انما البیع مثل الربا انہوں نے تجارت اور سود کو ایک جیسا سمجھ لیا حالانکہ تجارت میں محنت اور باہمی توازن ہے جبکہ سود میں نفع یکطرفہ اور ضمانت شدہ ہے اسی لئے فیصلہ کن خطِ امتیاز کھینچ دیا گیا وأحل اللہ البیع وحرم الربا اس کے بعد رحمت کا دروازہ کھولا گیا فمن جاءہ موعظۃ من ربہ فانتھی فلہ ما سلف جو باز آ جائے اس کا ماضی معاف لیکن ساتھ ہی حجت کی تکمیل ومن عاد فأولئک اصحاب النار پھر ایک کائناتی اصول بیان ہوا یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات جس کی تفسیر میں امام رازی نے لکھا کہ سود کا محق مال کی کمی کے ساتھ برکت اور معاشرتی توازن کا خاتمہ بھی ہے جبکہ صدقات کی افزائش عددی کے ساتھ روحانی و اجتماعی برکت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے پھر سود خور کی نفسیاتی و اخلاقی گراوٹ کو کل کفار أثیم کے الفاظ میں سمیٹ دیا گیا یعنی ناشکری اور مسلسل گناہ کی کیفیت۔ اس کے مقابل اہلِ ایمان کی صفات لا کر ایک واضح تقابل قائم کیا گیا پھر براہِ راست حکم ذروا ما بقی من الربا جو بقایا بھی ہے اسے چھوڑ دو یعنی اسلام جزوی اصلاح نہیں چاہتا بلکہ مکمل تطہیر چاہتا ہے اور آخرکار وہ لرزا دینے والا اعلان فأذنوا بحرب من اللہ و رسولہ مفسرین کے نزدیک یہ قرآن کی شدید ترین وعید ہے گویا سود پر اصرار خدائی نظامِ عدل کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے اور اسی کے ساتھ عدل کا سنہری اصول دے دیا گیا فلکم رءوس أموالکم لا تَظلِمون ولا تُظلَمون نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم ہو یہی تو توازن ہے جس پر ایک صالح معیشت کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔۔۔۔۔
جب ہم سود کی حقیقت کو کھولتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کو ہم اضافی رقم سمجھتے ہیں وہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں طاقتور کمزور کی مجبوری خرید لیتا ہے مزید برآں قرض دینے والا نفع کو یقینی بناتا ہے اور لینے والا نقصان کا مکمل بوجھ اٹھاتا ہے۔ اسی لئے تو اسلام اس نظام کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے کیونکہ یہاں عدل مفقود ہو جاتا ہے۔۔۔۔
احادیثِ نبویہ اس مسئلے کو مزید شدت کے ساتھ واضح کرتی ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف سود کھانے والے بلکہ اس پورے نظام میں شریک ہر فرد پر لعنت فرمائی کھانے والا، کھلانے والا، لکھنے والا، گواہ گویا اسلام پورے ڈھانچے کو منہدم کرنا چاہتا ہے۔ ایک روایت میں سود کے ایک درہم کو چھتیس مرتبہ زنا سے زیادہ سنگین قرار دینا اس گناہ کی اخلاقی قباحت کو واضح کرنا ہے کیونکہ سود سے پورا معاشرہ متأثر ہوتا ہے، نسلیں اس کے بوجھ تلے دبتی ہیں اور انسانیت کا اجتماعی توازن بگڑ جاتا ہے۔۔۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سودی نظام ہمیشہ کمزور طبقات کے استحصال کا ذریعہ رہا ہے۔ جاہلیتِ عرب میں سودی قرضے اس طرح بڑھتے تھے کہ اصل رقم سے کئی گنا ہو جاتے اور آخرکار مقروض اپنی آزادی تک کھو بیٹھتا۔ اسلام آیا تو اس نے سب سے پہلے اسی ناسور پر ضرب لگائی اور حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے اور سب سے پہلے اپنے خاندان کا سود معاف کرتا ہوں۔ یہ عملی انقلاب تھا جہاں اصول کو اپنے اوپر نافذ کر کے دکھایا گیا۔۔۔۔۔
معاشی اعتبار سے سود ایک ایسا زہر ہے جو بظاہر ترقی کا ذائقہ دیتا ہے مگر اندر سے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں بینکنگ سسٹم، عالمی قرضے، کریڈٹ کارڈز، اور مالیاتی ادارے سب اسی سودی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ ایک ملک قرض لیتا ہے۔ سود ادا کرنے کے لئے مزید قرض لیتا ہے اور یوں ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جاتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومیں اپنی خودمختاری تک گروی رکھ دیتی ہیں۔ افراد کی سطح پر بھی یہی کہانی ہے۔ ایک نوجوان تعلیم کے لئے قرض لیتا ہے، ایک مریض علاج کے لئے، ایک تاجر کاروبار کے لئے، ایک باپ گھریلو مسائل کو دفع کرنے کے لئے مگر سود کی زنجیر انہیں سالہا سال بلکہ نسلوں تک جکڑے رکھتی ہے۔
سود کا سب سے خطرناک پہلو اس کا اخلاقی اثر ہے۔ یہ انسان کے دل سے رحم نکال دیتا ہے۔ اسے نفع کا پجاری بنا دیتا ہے اور وہ دوسروں کی مجبوری میں بھی موقع تلاش کرنے لگتا ہے۔ جہاں سود عام ہو جاتا ہے وہاں معاشرہ ایک سرد مشین کی طرح چلنے لگتا ہے جس میں دل کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اسی کے برعکس اسلام زکوٰۃ، صدقات، قرضِ حسنہ اور مشارکت جیسے اصول دیتا ہے جس میں دینے والا اجر کا طالب ہوتا ہے اور لینے والا عزت کے ساتھ جیتا ہے، جس میں سرمایہ اور محنت شریک ہوتے ہیں پھر نفع و نقصان کو آپس میں بانٹا جاتا ہے۔
قرآن کا اصول نہایت واضح ہے یمحق اللہ الربا ویربی الصدوات اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے سودی نظام وقتی چمک دیتا ہے مگر آخرکار بحران، مہنگائی، بے روزگاری، عداوت اور عدم مساوات پیدا کرتا ہے جبکہ عدل پر مبنی نظام پائیدار ترقی اور برکت کو جنم دیتا ہے۔۔۔۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سود کو مجبوری اور معاشی ضرورت کے نام پر قبول کر لیا گیا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ حرام ہے مگر کہتے ہیں کیا کریں، زمانہ ہی ایسا ہے! گویا ہم نے زمانے کو معیار بنا لیا اور قرآن و سنت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر حرام کو زمانے کی مجبوری کہہ کر جائز کر لیا جائے تو پھر دین کا باقی رہنا کیسے ممکن ہوگا؟؟؟
لہٰذا سود کے مسئلے کو فقہی بحث تک محدود کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ ایک فکری اور تہذیبی چیلنج ہے۔ ہمیں اپنی انفرادی زندگیوں سے لے کر اجتماعی نظام تک اس کے خلاف بیداری پیدا کرنی ہوگی، حلال متبادل تلاش کرنے ہوں گے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں دولت کا بہاؤ منصفانہ ہو اور کمزور محفوظ ہو کیونکہ سود کا خاتمہ ایمان اور انسانیت کی بقا کی جنگ ہے۔
مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ سود ایک شوریدہ سمندر ہے باہر سے چمکتا ہوا اور لہروں میں طاقت مگر اس کی تہہ میں ہلاکت کے بھنور پلتے ہیں۔ جو اس کے کنارے کھڑا رہتا ہے وہ بھی اس کی نمی سے محفوظ نہیں رہتا اور جو اس میں اتر جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ اپنی سمت اور آخرکار اپنی نجات کھو دیتا ہے۔ اس کی موجیں کبھی نرمی سے بلاتی ہیں اور کبھی اچانک طوفان بن کر سب کچھ نگل جاتی ہیں مال بھی، سکون بھی حتیٰ کہ انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہیں جہاں وہ اپنے ہی رب کے بنائے ہوئے ساحلِ امن سے دور بغاوت کی بے کراں موجوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

انسان کا خدا سے ٹکراؤ یہی ہے حقیقت سود

خامہ بکف محمد پالن پوری

سود تہذیبی بربادی اور انسانی ضمیر کی شکست و ریخت کا استعارہ ہے۔ قرآنِ مجید جب سود (ربا) کے خلاف لب کشائی کرتا ہے تو معاشرتی مقدمہ قائم کرتا ہے جس کی گونج رہتی دنیا تک سنائی دیتی ہے۔ سورۃ البقرہ کے آخری رکوع میں سود کے خلاف جو اعلان کیا گیا وہ انسانی تاریخ میں عدلِ معاشی کا سب سے بڑا منشور ہے۔۔۔ الذین یأکلون الربا سے لے کر فأذنوا بحرب من اللہ و رسولہ تک یہ آیات تہذیبی جنگ کا اعلان ہیں۔ ایک طرف سرمایہ پرستی اور استحصال کا نظام تو دوسری طرف عدل و ہمدردی کا ربانی نظام۔
ان آیات کی تفسیر پر ذرا گہری نظر ڈالئے تو ایک عجیب تدریجی شدت اور فکری ترتیب سامنے آتی ہے۔۔ آغاز میں سود خور کی باطنی و اخروی کیفیت کو اس تمثیل سے بیان کیا گیا کہ وہ قیامت میں ایسے اٹھے گا جیسے شیطان کے لمس سے دیوانہ ہو گیا ہو جیسا کہ امام قرطبی نے واضح کیا کہ یہ آخرت کا منظر تو ہے ہی لیکن الفاظ آیت دنیا میں اس کے فکری اضطراب کی طرف بھی نشاندہی کرتے ہیں پھر فوراً اس کی فکری گمراہی کا پردہ چاک کیا گیا انما البیع مثل الربا انہوں نے تجارت اور سود کو ایک جیسا سمجھ لیا حالانکہ تجارت میں محنت اور باہمی توازن ہے جبکہ سود میں نفع یکطرفہ اور ضمانت شدہ ہے اسی لئے فیصلہ کن خطِ امتیاز کھینچ دیا گیا وأحل اللہ البیع وحرم الربا اس کے بعد رحمت کا دروازہ کھولا گیا فمن جاءہ موعظۃ من ربہ فانتھی فلہ ما سلف جو باز آ جائے اس کا ماضی معاف لیکن ساتھ ہی حجت کی تکمیل ومن عاد فأولئک اصحاب النار پھر ایک کائناتی اصول بیان ہوا یمحق اللہ الربا ویربی الصدقات جس کی تفسیر میں امام رازی نے لکھا کہ سود کا محق مال کی کمی کے ساتھ برکت اور معاشرتی توازن کا خاتمہ بھی ہے جبکہ صدقات کی افزائش عددی کے ساتھ روحانی و اجتماعی برکت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے پھر سود خور کی نفسیاتی و اخلاقی گراوٹ کو کل کفار أثیم کے الفاظ میں سمیٹ دیا گیا یعنی ناشکری اور مسلسل گناہ کی کیفیت۔ اس کے مقابل اہلِ ایمان کی صفات لا کر ایک واضح تقابل قائم کیا گیا پھر براہِ راست حکم ذروا ما بقی من الربا جو بقایا بھی ہے اسے چھوڑ دو یعنی اسلام جزوی اصلاح نہیں چاہتا بلکہ مکمل تطہیر چاہتا ہے اور آخرکار وہ لرزا دینے والا اعلان فأذنوا بحرب من اللہ و رسولہ مفسرین کے نزدیک یہ قرآن کی شدید ترین وعید ہے گویا سود پر اصرار خدائی نظامِ عدل کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے اور اسی کے ساتھ عدل کا سنہری اصول دے دیا گیا فلکم رءوس أموالکم لا تَظلِمون ولا تُظلَمون نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم ہو یہی تو توازن ہے جس پر ایک صالح معیشت کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔۔۔۔۔
جب ہم سود کی حقیقت کو کھولتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس کو ہم اضافی رقم سمجھتے ہیں وہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں طاقتور کمزور کی مجبوری خرید لیتا ہے مزید برآں قرض دینے والا نفع کو یقینی بناتا ہے اور لینے والا نقصان کا مکمل بوجھ اٹھاتا ہے۔ اسی لئے تو اسلام اس نظام کو جڑ سے کاٹ دیتا ہے کیونکہ یہاں عدل مفقود ہو جاتا ہے۔۔۔۔
احادیثِ نبویہ اس مسئلے کو مزید شدت کے ساتھ واضح کرتی ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف سود کھانے والے بلکہ اس پورے نظام میں شریک ہر فرد پر لعنت فرمائی کھانے والا، کھلانے والا، لکھنے والا، گواہ گویا اسلام پورے ڈھانچے کو منہدم کرنا چاہتا ہے۔ ایک روایت میں سود کے ایک درہم کو چھتیس مرتبہ زنا سے زیادہ سنگین قرار دینا اس گناہ کی اخلاقی قباحت کو واضح کرنا ہے کیونکہ سود سے پورا معاشرہ متأثر ہوتا ہے، نسلیں اس کے بوجھ تلے دبتی ہیں اور انسانیت کا اجتماعی توازن بگڑ جاتا ہے۔۔۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سودی نظام ہمیشہ کمزور طبقات کے استحصال کا ذریعہ رہا ہے۔ جاہلیتِ عرب میں سودی قرضے اس طرح بڑھتے تھے کہ اصل رقم سے کئی گنا ہو جاتے اور آخرکار مقروض اپنی آزادی تک کھو بیٹھتا۔ اسلام آیا تو اس نے سب سے پہلے اسی ناسور پر ضرب لگائی اور حجۃ الوداع کے موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ جاہلیت کا ہر سود ختم کیا جاتا ہے اور سب سے پہلے اپنے خاندان کا سود معاف کرتا ہوں۔ یہ عملی انقلاب تھا جہاں اصول کو اپنے اوپر نافذ کر کے دکھایا گیا۔۔۔۔۔
معاشی اعتبار سے سود ایک ایسا زہر ہے جو بظاہر ترقی کا ذائقہ دیتا ہے مگر اندر سے نظام کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ آج کی دنیا میں بینکنگ سسٹم، عالمی قرضے، کریڈٹ کارڈز، اور مالیاتی ادارے سب اسی سودی بنیاد پر کھڑے ہیں۔ ایک ملک قرض لیتا ہے۔ سود ادا کرنے کے لئے مزید قرض لیتا ہے اور یوں ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہو جاتا ہے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومیں اپنی خودمختاری تک گروی رکھ دیتی ہیں۔ افراد کی سطح پر بھی یہی کہانی ہے۔ ایک نوجوان تعلیم کے لئے قرض لیتا ہے، ایک مریض علاج کے لئے، ایک تاجر کاروبار کے لئے، ایک باپ گھریلو مسائل کو دفع کرنے کے لئے مگر سود کی زنجیر انہیں سالہا سال بلکہ نسلوں تک جکڑے رکھتی ہے۔
سود کا سب سے خطرناک پہلو اس کا اخلاقی اثر ہے۔ یہ انسان کے دل سے رحم نکال دیتا ہے۔ اسے نفع کا پجاری بنا دیتا ہے اور وہ دوسروں کی مجبوری میں بھی موقع تلاش کرنے لگتا ہے۔ جہاں سود عام ہو جاتا ہے وہاں معاشرہ ایک سرد مشین کی طرح چلنے لگتا ہے جس میں دل کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اسی کے برعکس اسلام زکوٰۃ، صدقات، قرضِ حسنہ اور مشارکت جیسے اصول دیتا ہے جس میں دینے والا اجر کا طالب ہوتا ہے اور لینے والا عزت کے ساتھ جیتا ہے، جس میں سرمایہ اور محنت شریک ہوتے ہیں پھر نفع و نقصان کو آپس میں بانٹا جاتا ہے۔
قرآن کا اصول نہایت واضح ہے یمحق اللہ الربا ویربی الصدوات اللہ سود کو مٹا دیتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ یہ ایک معاشی حقیقت ہے سودی نظام وقتی چمک دیتا ہے مگر آخرکار بحران، مہنگائی، بے روزگاری، عداوت اور عدم مساوات پیدا کرتا ہے جبکہ عدل پر مبنی نظام پائیدار ترقی اور برکت کو جنم دیتا ہے۔۔۔۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ سود کو مجبوری اور معاشی ضرورت کے نام پر قبول کر لیا گیا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ یہ حرام ہے مگر کہتے ہیں کیا کریں، زمانہ ہی ایسا ہے! گویا ہم نے زمانے کو معیار بنا لیا اور قرآن و سنت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ہر حرام کو زمانے کی مجبوری کہہ کر جائز کر لیا جائے تو پھر دین کا باقی رہنا کیسے ممکن ہوگا؟؟؟
لہٰذا سود کے مسئلے کو فقہی بحث تک محدود کرنا ایک بڑی غلطی ہے۔ یہ ایک فکری اور تہذیبی چیلنج ہے۔ ہمیں اپنی انفرادی زندگیوں سے لے کر اجتماعی نظام تک اس کے خلاف بیداری پیدا کرنی ہوگی، حلال متبادل تلاش کرنے ہوں گے اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں دولت کا بہاؤ منصفانہ ہو اور کمزور محفوظ ہو کیونکہ سود کا خاتمہ ایمان اور انسانیت کی بقا کی جنگ ہے۔
مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ سود ایک شوریدہ سمندر ہے باہر سے چمکتا ہوا اور لہروں میں طاقت مگر اس کی تہہ میں ہلاکت کے بھنور پلتے ہیں۔ جو اس کے کنارے کھڑا رہتا ہے وہ بھی اس کی نمی سے محفوظ نہیں رہتا اور جو اس میں اتر جاتا ہے وہ آہستہ آہستہ اپنی سمت اور آخرکار اپنی نجات کھو دیتا ہے۔ اس کی موجیں کبھی نرمی سے بلاتی ہیں اور کبھی اچانک طوفان بن کر سب کچھ نگل جاتی ہیں مال بھی، سکون بھی حتیٰ کہ انسان کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہیں جہاں وہ اپنے ہی رب کے بنائے ہوئے ساحلِ امن سے دور بغاوت کی بے کراں موجوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں