ارشد احمد ارشٓد
عطا کی آپؐ نے وہ آگ جو ایماں میں روشن ہے
اسی سے آج تک ہر ذرّۂ امکاں میں روشن ہے
نہ تاج و تخت سے نسبت، نہ جاہ و مال سے رغبت
تری چوکھٹ کا اک ذرّہ مرے امکاں میں روشن ہے
تری نسبت نے بخشی آدمی کو رفعتِ مقصد
تری تعلیم کا خورشید ہر وجداں میں روشن ہے
تری تعلیم نے بخشا غلاموں کو شعورِ ذات
تری نسبت کا جوہر آج بھی انساں میں روشن ہے
تری سیرت عمل کا درس دیتی ہے زمانے کو
تری حکمت کا چشمہ اہلِ حق کی جاں میں روشن ہے
تری امت اگر پھر آشنا ہو اپنی ہستی سے
تری تعلیم کا پرتو نئے امکاں میں روشن ہے
جہانِ کفر کی ظلمت سے گھبرانا نہیں لازم
تری آمد کا رکھا نور ہر طوفاں میں روشن ہے
بلند پرواز کی خواہش اگر تجھ میں ہے اے ارشٓد
نبیﷺ کا عشق رازِ قوّتِ انساں میں روشن ہے
ززز


