کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے مہاجر کشمیری پنڈتوں کو وادی میں صنعتیں، تعلیمی ادارے اور ثقافتی مراکز قائم کرنے کی دعوت ایک خوش آئند اور بروقت پیش رفت ہے۔ یہ اپیل صرف سرمایہ کاری کی دعوت نہیں بلکہ کشمیر کی اُس مشترکہ تہذیبی وراثت کی بحالی کی خواہش بھی ہے جس میں کشمیری پنڈتوں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔
تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا مسئلہ جموں و کشمیر کے سب سے اہم اور حساس موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔ سیاسی بیانات اور وعدوں کی کمی کبھی نہیں رہی، مگر عملی پیش رفت اب بھی توقعات سے بہت کم ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عام کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی سرزمین سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے اور مناسب حالات میں واپسی کی خواہش مند ہے۔ ان کے لئے کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ یادوں، شناخت اور تہذیبی ورثے کا مرکز ہے۔
اسی طرح وادی کے بیشتر مسلمانوں کی بھی یہ خواہش ہے کہ کشمیری پنڈت واپس آئیں تاکہ کشمیر کی صدیوں پرانی مشترکہ ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کو نئی زندگی مل سکے۔ تاہم اس راستے میں بعض رکاوٹیں ایسی بھی ہیں جو غیر ضروری طور پر فاصلے بڑھاتی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنڈت برادری کی بعض نمایاں شخصیات، دانستہ یا نادانستہ طور پر، ایسے بیانیوں کو فروغ دیتی رہی ہیں جو واپسی کے عمل کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ بعض حلقوں میں سیاسی موقف اور جذباتی بیانیہ عملی اقدامات پر غالب آ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اعتماد سازی اور مصالحت کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پنڈت برادری کے دکھ، تکالیف اور سلامتی سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا جائے۔ ان کے زخم حقیقی ہیں اور انہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مستقبل کی تعمیر صرف ماضی کے زخموں کو دہراتے رہنے سے ممکن نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دی جائے۔ اگر کشمیری پنڈت وادی میں تعلیمی ادارے، صنعتیں، کاروباری مراکز، تحقیقی ادارے اور ثقافتی تنظیمیں قائم کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور روابط کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔ ایسی سرمایہ کاری واپسی کے عمل کو محض ایک سیاسی مطالبے کے بجائے ایک زندہ حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
کشمیری پنڈتوں کی واپسی محض ایک انتظامی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ کشمیر کی روح، اس کی تہذیب اور اس کی تاریخی شناخت کا سوال ہے۔ جب تک اس دھرتی کے بچھڑے ہوئے لوگ عزت، وقار اور اعتماد کے ساتھ واپس نہیں آتے، تب تک کشمیر کی ہمہ رنگ تہذیبی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔
منوج سنہا کا حالیہ بیان ایک اہم مکالمے کا آغاز بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محض ایک رسمی اپیل کے بجائے عملی اقدامات سے جوڑا جائے۔ کشمیر کا مستقبل اسی وقت زیادہ مضبوط، خوشحال اور پرامن ہوگا جب اس کے تمام باشندے خود کو اس سرزمین کے مشترکہ وارث اور مشترکہ مستقبل کا حصہ سمجھیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے مہاجر کشمیری پنڈتوں کو وادی میں صنعتیں، تعلیمی ادارے اور ثقافتی مراکز قائم کرنے کی دعوت ایک خوش آئند اور بروقت پیش رفت ہے۔ یہ اپیل صرف سرمایہ کاری کی دعوت نہیں بلکہ کشمیر کی اُس مشترکہ تہذیبی وراثت کی بحالی کی خواہش بھی ہے جس میں کشمیری پنڈتوں کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔
تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کشمیری پنڈتوں کی واپسی کا مسئلہ جموں و کشمیر کے سب سے اہم اور حساس موضوعات میں شمار ہوتا ہے۔ سیاسی بیانات اور وعدوں کی کمی کبھی نہیں رہی، مگر عملی پیش رفت اب بھی توقعات سے بہت کم ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عام کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی سرزمین سے جذباتی وابستگی رکھتی ہے اور مناسب حالات میں واپسی کی خواہش مند ہے۔ ان کے لئے کشمیر صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ یادوں، شناخت اور تہذیبی ورثے کا مرکز ہے۔
اسی طرح وادی کے بیشتر مسلمانوں کی بھی یہ خواہش ہے کہ کشمیری پنڈت واپس آئیں تاکہ کشمیر کی صدیوں پرانی مشترکہ ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کو نئی زندگی مل سکے۔ تاہم اس راستے میں بعض رکاوٹیں ایسی بھی ہیں جو غیر ضروری طور پر فاصلے بڑھاتی ہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنڈت برادری کی بعض نمایاں شخصیات، دانستہ یا نادانستہ طور پر، ایسے بیانیوں کو فروغ دیتی رہی ہیں جو واپسی کے عمل کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ بعض حلقوں میں سیاسی موقف اور جذباتی بیانیہ عملی اقدامات پر غالب آ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اعتماد سازی اور مصالحت کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پنڈت برادری کے دکھ، تکالیف اور سلامتی سے متعلق خدشات کو نظرانداز کیا جائے۔ ان کے زخم حقیقی ہیں اور انہیں تسلیم کرنا ضروری ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مستقبل کی تعمیر صرف ماضی کے زخموں کو دہراتے رہنے سے ممکن نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی نعروں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دی جائے۔ اگر کشمیری پنڈت وادی میں تعلیمی ادارے، صنعتیں، کاروباری مراکز، تحقیقی ادارے اور ثقافتی تنظیمیں قائم کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد اور روابط کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔ ایسی سرمایہ کاری واپسی کے عمل کو محض ایک سیاسی مطالبے کے بجائے ایک زندہ حقیقت میں بدل سکتی ہے۔
کشمیری پنڈتوں کی واپسی محض ایک انتظامی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ کشمیر کی روح، اس کی تہذیب اور اس کی تاریخی شناخت کا سوال ہے۔ جب تک اس دھرتی کے بچھڑے ہوئے لوگ عزت، وقار اور اعتماد کے ساتھ واپس نہیں آتے، تب تک کشمیر کی ہمہ رنگ تہذیبی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی۔
منوج سنہا کا حالیہ بیان ایک اہم مکالمے کا آغاز بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے محض ایک رسمی اپیل کے بجائے عملی اقدامات سے جوڑا جائے۔ کشمیر کا مستقبل اسی وقت زیادہ مضبوط، خوشحال اور پرامن ہوگا جب اس کے تمام باشندے خود کو اس سرزمین کے مشترکہ وارث اور مشترکہ مستقبل کا حصہ سمجھیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں