امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی 35 برس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اسے دنیا کے سب سے جوان ممالک میں شامل کرتی ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں میں نوجوانوں کے حوالے سے حکومتی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب نوجوانوں کو محض سرکاری اسکیموں کے فائدہ اٹھانے والے افراد نہیں بلکہ ترقی یافتہ بھارت 2047 کے معمار اور شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تصور کے تحت انہیں "امرت پیڑھی” کا نام دیا گیا ہے۔
بھارت کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ وہ اپنی نوجوان آبادی کو کس حد تک تعلیم، مہارت، روزگار اور قیادت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کو صحیح سمت، مناسب وسائل اور یکساں مواقع میسر آئیں تو وہ ملک کی اقتصادی، سماجی اور سائنسی ترقی کی سب سے بڑی قوت بن سکتی ہے۔
تعلیم اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے تعلیمی نظام کو زیادہ جامع، لچکدار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل سہولیات، اسمارٹ کلاس رومز اور جدید تدریسی ذرائع متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں اکیڈمک بینک آف کریڈٹس، متعدد داخلہ و اخراج کے مواقع اور بین الشعبہ جاتی تعلیم جیسے اقدامات نوجوانوں کو زیادہ اختیارات فراہم کر رہے ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد صرف ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو بدلتی ہوئی دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ مہارت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اسکل انڈیا مشن، پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم اور صنعتی تربیتی اداروں کی توسیع نے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنایا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی، گرین انرجی، الیکٹرانکس اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت مستقبل کی معیشت کے لئے افرادی قوت تیار کر رہی ہے۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھارتی نوجوانوں کی مسابقتی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی ہے۔
روزگار اور کاروبار کے میدان میں بھی نوجوانوں کے لئے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اسٹارٹ اپ انڈیا، مدرا یوجنا اور مختلف مالی معاونت پروگراموں نے نوجوانوں کو ملازمت کے متلاشی کے بجائے روزگار پیدا کرنے والا بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔ آج بھارت دنیا کے بڑے اسٹارٹ اپ مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کامیابی میں نوجوان اختراع کاروں اور کاروباری افراد کا بنیادی کردار ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے ابھرنے والے نوجوان بھی کاروباری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، جو معاشی ترقی کے دائرے کو مزید وسیع بنا رہا ہے۔
کھیل، صحت اور سماجی شمولیت کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ کھیلو انڈیا، فٹ انڈیا اور مختلف صحت پروگراموں نے نوجوانوں میں صحت مند طرز زندگی، نظم و ضبط اور مسابقتی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے۔ اسی طرح "میرا یووا بھارت” جیسے پلیٹ فارم نوجوانوں کو قیادت، رضاکارانہ خدمات، سماجی سرگرمیوں اور قومی ترقی کے عمل میں فعال شرکت کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں ذمہ داری، اعتماد اور قومی شعور پروان چڑھ رہا ہے۔
عالمی سطح پر بھی بھارتی نوجوانوں کی موجودگی اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف بین الاقوامی تبادلہ پروگراموں، تعلیمی اشتراک اور عالمی پلیٹ فارمز پر شرکت نے انہیں نئی سوچ، جدید تجربات اور بین الاقوامی روابط سے جوڑا ہے۔ یہ رجحان مستقبل میں بھارت کی نرم طاقت اور عالمی کردار کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آبادی کا بڑا حجم خود بخود ترقی کی ضمانت نہیں بنتا۔ اس نوجوان قوت کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں، روزگار کے مواقع اور مثبت قیادت سے جوڑنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ اہداف حاصل کر لئے جائیں تو بھارت کا آبادیاتی فائدہ ایک مضبوط قومی طاقت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہی قوت ایک بڑے سماجی و اقتصادی چیلنج میں بھی بدل سکتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران نوجوانوں کی تعلیم، مہارت، صحت، کھیل اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے جو بنیاد رکھی گئی ہے، وہ مستقبل کے بھارت کی سمت متعین کرتی ہے۔ امرت پیڑھی صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا وژن ہے جس کے ذریعے نوجوان نسل کو قومی ترقی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی عزم اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو یہی نسل ترقی یافتہ بھارت 2047 کے خواب کو حقیقت میں بدلنے اور ملک کو عالمی قیادت کی صف میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ملک کی تقریباً 65 فیصد آبادی 35 برس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو اسے دنیا کے سب سے جوان ممالک میں شامل کرتی ہے۔ گزشتہ بارہ برسوں میں نوجوانوں کے حوالے سے حکومتی سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب نوجوانوں کو محض سرکاری اسکیموں کے فائدہ اٹھانے والے افراد نہیں بلکہ ترقی یافتہ بھارت 2047 کے معمار اور شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تصور کے تحت انہیں "امرت پیڑھی” کا نام دیا گیا ہے۔
بھارت کی ترقی کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہے کہ وہ اپنی نوجوان آبادی کو کس حد تک تعلیم، مہارت، روزگار اور قیادت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اگر نوجوان نسل کو صحیح سمت، مناسب وسائل اور یکساں مواقع میسر آئیں تو وہ ملک کی اقتصادی، سماجی اور سائنسی ترقی کی سب سے بڑی قوت بن سکتی ہے۔
تعلیم اس تبدیلی کی بنیاد ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 نے تعلیمی نظام کو زیادہ جامع، لچکدار اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اسکولوں میں ڈیجیٹل سہولیات، اسمارٹ کلاس رومز اور جدید تدریسی ذرائع متعارف کرائے گئے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم میں اکیڈمک بینک آف کریڈٹس، متعدد داخلہ و اخراج کے مواقع اور بین الشعبہ جاتی تعلیم جیسے اقدامات نوجوانوں کو زیادہ اختیارات فراہم کر رہے ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد صرف ڈگریاں فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا ہے جو بدلتی ہوئی دنیا کے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکیں۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ مہارت سازی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اسکل انڈیا مشن، پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم اور صنعتی تربیتی اداروں کی توسیع نے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنایا ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈرون ٹیکنالوجی، گرین انرجی، الیکٹرانکس اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت مستقبل کی معیشت کے لئے افرادی قوت تیار کر رہی ہے۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے بلکہ عالمی منڈی میں بھارتی نوجوانوں کی مسابقتی صلاحیت بھی مضبوط ہوئی ہے۔
روزگار اور کاروبار کے میدان میں بھی نوجوانوں کے لئے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ اسٹارٹ اپ انڈیا، مدرا یوجنا اور مختلف مالی معاونت پروگراموں نے نوجوانوں کو ملازمت کے متلاشی کے بجائے روزگار پیدا کرنے والا بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔ آج بھارت دنیا کے بڑے اسٹارٹ اپ مراکز میں شمار ہوتا ہے اور اس کامیابی میں نوجوان اختراع کاروں اور کاروباری افراد کا بنیادی کردار ہے۔ چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں سے ابھرنے والے نوجوان بھی کاروباری سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، جو معاشی ترقی کے دائرے کو مزید وسیع بنا رہا ہے۔
کھیل، صحت اور سماجی شمولیت کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ کھیلو انڈیا، فٹ انڈیا اور مختلف صحت پروگراموں نے نوجوانوں میں صحت مند طرز زندگی، نظم و ضبط اور مسابقتی صلاحیتوں کو فروغ دیا ہے۔ اسی طرح "میرا یووا بھارت” جیسے پلیٹ فارم نوجوانوں کو قیادت، رضاکارانہ خدمات، سماجی سرگرمیوں اور قومی ترقی کے عمل میں فعال شرکت کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں ذمہ داری، اعتماد اور قومی شعور پروان چڑھ رہا ہے۔
عالمی سطح پر بھی بھارتی نوجوانوں کی موجودگی اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف بین الاقوامی تبادلہ پروگراموں، تعلیمی اشتراک اور عالمی پلیٹ فارمز پر شرکت نے انہیں نئی سوچ، جدید تجربات اور بین الاقوامی روابط سے جوڑا ہے۔ یہ رجحان مستقبل میں بھارت کی نرم طاقت اور عالمی کردار کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ آبادی کا بڑا حجم خود بخود ترقی کی ضمانت نہیں بنتا۔ اس نوجوان قوت کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں، روزگار کے مواقع اور مثبت قیادت سے جوڑنا ناگزیر ہے۔ اگر یہ اہداف حاصل کر لئے جائیں تو بھارت کا آبادیاتی فائدہ ایک مضبوط قومی طاقت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہی قوت ایک بڑے سماجی و اقتصادی چیلنج میں بھی بدل سکتی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران نوجوانوں کی تعلیم، مہارت، صحت، کھیل اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے جو بنیاد رکھی گئی ہے، وہ مستقبل کے بھارت کی سمت متعین کرتی ہے۔ امرت پیڑھی صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسا وژن ہے جس کے ذریعے نوجوان نسل کو قومی ترقی کا مرکز بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی عزم اور تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو یہی نسل ترقی یافتہ بھارت 2047 کے خواب کو حقیقت میں بدلنے اور ملک کو عالمی قیادت کی صف میں کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں