شہر خاص جو کبھی ثقافت و تجارت کا دل مانا جاتا تھا، آج ٹریفک کے عذاب کی علامت بن چکا ہے۔ گوجوارہ سے خانیار تک کا سفر جو چند منٹوں میں طے ہونا چاہیے، اب گھنٹوں کی اذیت بن گیا ہے۔ صدیوں پرانی یہ سڑکیں آج بھی جوں کی توں ہیں تنگ، خستہ اور زمانے کی رفتار سے بے خبر۔
گاڑیوں کی تعداد پچھلی چند دہائیوں میں بے انتہا بڑھ گئی ہے، مگر سڑکوں کی توسیع یا پارکنگ کے بہتر انتظام پر کبھی کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ زینہ کدل، مہاراج گنج، بہوری کدل، راجوری کدل، کاوڈارہ ،حول، گوجوارہ، نوہٹہ اور ملارٹہ جیسے علاقے اب سڑکوں سے زیادہ پارکنگ لاٹ محسوس ہوتے ہیں۔ گلیوں میں کھڑی گاڑیاں ٹریفک کو جام کر دیتی ہیں اور پیدل چلنے والوں کے لئے بھی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب تک اسمبلی میںشہر خاص کے اس بنیادی اور روزمرہ مسئلے پر کسی نمائندے نے آواز نہیں اٹھائی۔ عوامی نمائندگی کا تقاضا یہی تھا کہ ایسے مسائل ایوان میں ترجیح کے ساتھ زیرِ بحث آتے، مگر شاید شہرِ خاص کے باسیوں کی مشکلات کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
وقت آگیا ہے کہ انتظامیہ اور منتخب نمائندے مل کر پرانے شہر کے لئے ایک سنجیدہ اور عملی ٹریفک و شہری منصوبہ بندی تیار کریں۔ ورنہ شہر خاص کی یہ تاریخی گلیاں محض ماضی کی یادگار بن کر رہ جائیں گی اور موجودہ نسل صرف جمود، افراتفری اور دھوئیں کے بادلوں میں سانس لیتی رہے گی۔
شہر خاص کی سڑکیں جمود کی علامت
شہر خاص کی سڑکیں جمود کی علامت
شہر خاص جو کبھی ثقافت و تجارت کا دل مانا جاتا تھا، آج ٹریفک کے عذاب کی علامت بن چکا ہے۔ گوجوارہ سے خانیار تک کا سفر جو چند منٹوں میں طے ہونا چاہیے، اب گھنٹوں کی اذیت بن گیا ہے۔ صدیوں پرانی یہ سڑکیں آج بھی جوں کی توں ہیں تنگ، خستہ اور زمانے کی رفتار سے بے خبر۔
گاڑیوں کی تعداد پچھلی چند دہائیوں میں بے انتہا بڑھ گئی ہے، مگر سڑکوں کی توسیع یا پارکنگ کے بہتر انتظام پر کبھی کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ زینہ کدل، مہاراج گنج، بہوری کدل، راجوری کدل، کاوڈارہ ،حول، گوجوارہ، نوہٹہ اور ملارٹہ جیسے علاقے اب سڑکوں سے زیادہ پارکنگ لاٹ محسوس ہوتے ہیں۔ گلیوں میں کھڑی گاڑیاں ٹریفک کو جام کر دیتی ہیں اور پیدل چلنے والوں کے لئے بھی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ اب تک اسمبلی میںشہر خاص کے اس بنیادی اور روزمرہ مسئلے پر کسی نمائندے نے آواز نہیں اٹھائی۔ عوامی نمائندگی کا تقاضا یہی تھا کہ ایسے مسائل ایوان میں ترجیح کے ساتھ زیرِ بحث آتے، مگر شاید شہرِ خاص کے باسیوں کی مشکلات کسی کے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
وقت آگیا ہے کہ انتظامیہ اور منتخب نمائندے مل کر پرانے شہر کے لئے ایک سنجیدہ اور عملی ٹریفک و شہری منصوبہ بندی تیار کریں۔ ورنہ شہر خاص کی یہ تاریخی گلیاں محض ماضی کی یادگار بن کر رہ جائیں گی اور موجودہ نسل صرف جمود، افراتفری اور دھوئیں کے بادلوں میں سانس لیتی رہے گی۔


