نیا ہجری سال اور ہماری ترجیحات

نئے اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرم سے ہوتا ہے، جو اسلامی تاریخ اور روحانی ورثے میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں نہ صرف وقت کی قدر، احتسابِ نفس اور ایمان کی تجدید کا درس دیتا ہے بلکہ تاریخِ اسلام کے ایک عظیم اور دردناک باب، واقعۂ کربلا، کی یاد بھی تازہ کرتا ہے۔ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق، انصاف، اصول پسندی اور ظلم کے خلاف استقامت کی علامت ہے۔ افسوس کہ صدیوں گزرنے کے باوجود ہم اس واقعے سے سبق حاصل کرنے کے بجائے اسے فرقہ وارانہ کشمکش کا ذریعہ بناتے رہے ہیں۔ محرم کا چاند نظر آتے ہی مختلف مسالک کے ماننے والوں کے درمیان بحث و تکرار، الزام تراشی اور نفرت انگیز گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ تاریخ کے اصل حقائق سے واقف ہوئے بغیر اپنے اپنے گروہی بیانیوں کا دفاع کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے علم، تحقیق اور تدبر کی تعلیم دی ہے، اندھی تقلید کی نہیں۔ اگر مسلمان اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے تاریخ، دین اور سیرت کے سنجیدہ مطالعے پر صرف کریں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے مذہبی خطیبوں اور مقررین کی باتوں کو بلا تحقیق قبول کر لیتے ہیں جن کا مقصد بعض اوقات اصلاح سے زیادہ جذبات کو بھڑکانا ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جن مسائل پر ہم گھنٹوں بحث کرتے ہیں، ان کے مقابلے میں اپنی بنیادی دینی ذمہ داریوں پر کم توجہ دیتے ہیں۔ نماز، جو اسلام کا ستون اور بندے اور رب کے درمیان سب سے مضبوط تعلق ہے، ہماری زندگیوں میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہے۔ اگر ہم اپنی عبادات، اخلاق، کردار اور علم میں بہتری پیدا کریں تو امت کے بہت سے داخلی اختلافات اپنی شدت کھو دیں گے۔
نئے ہجری سال کے آغاز پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محرم کے پیغام کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کربلا ہمیں سچائی، دیانت، عدل اور شعور کا درس دیتی ہے۔ اس درس کا تقاضا ہے کہ ہم اندھی وابستگیوں سے نکل کر علم و تحقیق کا راستہ اختیار کریں، دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے دین کی اصل تعلیمات، خصوصاً نماز، اخلاق اور انسان دوستی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔
اگر ہم نے محرم سے یہی سبق سیکھ لیا تو نیا اسلامی سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ ہماری فکری اور روحانی تجدید کا آغاز بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

جموں و کشمیر کوIITMگوا 2026 میں بہترین سیاحتی مقام کا اعزاز

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے آئی...

تازہ ترین خبریں

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

جموں و کشمیر کوIITMگوا 2026 میں بہترین سیاحتی مقام کا اعزاز

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے آئی...

نیا ہجری سال اور ہماری ترجیحات

نئے اسلامی سال کا آغاز ماہِ محرم سے ہوتا ہے، جو اسلامی تاریخ اور روحانی ورثے میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں نہ صرف وقت کی قدر، احتسابِ نفس اور ایمان کی تجدید کا درس دیتا ہے بلکہ تاریخِ اسلام کے ایک عظیم اور دردناک باب، واقعۂ کربلا، کی یاد بھی تازہ کرتا ہے۔ کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حق، انصاف، اصول پسندی اور ظلم کے خلاف استقامت کی علامت ہے۔ افسوس کہ صدیوں گزرنے کے باوجود ہم اس واقعے سے سبق حاصل کرنے کے بجائے اسے فرقہ وارانہ کشمکش کا ذریعہ بناتے رہے ہیں۔ محرم کا چاند نظر آتے ہی مختلف مسالک کے ماننے والوں کے درمیان بحث و تکرار، الزام تراشی اور نفرت انگیز گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اکثر لوگ تاریخ کے اصل حقائق سے واقف ہوئے بغیر اپنے اپنے گروہی بیانیوں کا دفاع کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے علم، تحقیق اور تدبر کی تعلیم دی ہے، اندھی تقلید کی نہیں۔ اگر مسلمان اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے تاریخ، دین اور سیرت کے سنجیدہ مطالعے پر صرف کریں تو بہت سے تنازعات خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے مذہبی خطیبوں اور مقررین کی باتوں کو بلا تحقیق قبول کر لیتے ہیں جن کا مقصد بعض اوقات اصلاح سے زیادہ جذبات کو بھڑکانا ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ جن مسائل پر ہم گھنٹوں بحث کرتے ہیں، ان کے مقابلے میں اپنی بنیادی دینی ذمہ داریوں پر کم توجہ دیتے ہیں۔ نماز، جو اسلام کا ستون اور بندے اور رب کے درمیان سب سے مضبوط تعلق ہے، ہماری زندگیوں میں وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہے۔ اگر ہم اپنی عبادات، اخلاق، کردار اور علم میں بہتری پیدا کریں تو امت کے بہت سے داخلی اختلافات اپنی شدت کھو دیں گے۔
نئے ہجری سال کے آغاز پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم محرم کے پیغام کو محض جذباتی نعروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ کربلا ہمیں سچائی، دیانت، عدل اور شعور کا درس دیتی ہے۔ اس درس کا تقاضا ہے کہ ہم اندھی وابستگیوں سے نکل کر علم و تحقیق کا راستہ اختیار کریں، دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اپنے دین کی اصل تعلیمات، خصوصاً نماز، اخلاق اور انسان دوستی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں۔
اگر ہم نے محرم سے یہی سبق سیکھ لیا تو نیا اسلامی سال محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں بلکہ ہماری فکری اور روحانی تجدید کا آغاز بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں