
ڈاکٹر جہاں گیر حسن
حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمٰعیل علیہم السلام کی زندگی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان، تسلیم و رضا اور محبتِ الٰہی کا وہ اعلیٰ ترین نمونہ ہے جس پر دینِ اسلام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ ان تینوں عظیم ہستیوں کے کردار کی معنویت کو مندرجہ ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے:
۱۔ حضرت ابراہیم: امامِ حنیف اور پیکرِ تسلیم
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت کی اصل معنویت ’’عقل سے عشق‘‘ تک کے سفر میں پوشیدہ ہے، مثلاً:
توحیدِ خالص: آپ نے ستارہ پرستی اور بت پرستی کے ماحول میں بھی تن تنہا اللہ سبحانہ کو پہچانا اور خالص توحید کی دعوت عام کی۔ آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ سچ کی تلاش میں اکثریت کی پیروی ضروری نہیں، بلکہ تنہا ایک فرد بھی ایک اُمت بن سکتا ہے۔
امتحان اور قربانی: ضعیفی میں عطا ہونے والے شیرخوار اِکلوتے بیٹے کو اللہ سبحانہ کے حکم پر ایک بنجر وادی میں چھوڑ دینا اور پھر بڑے ہونے پر اُسی جان سے عزیز بیٹے کی قربانی کے لئے تیار ہو جانا، اِس بات کی دلیل ہے کہ مومن کے نزدیک اللہ سبحانہ کی رضا تمام دنیوی رشتوں اور تمناؤں پر مقدم ہونی چاہیے۔
۲۔ حضرت ہاجرہ: صبر، توکل اور جدوجہد
حضرت ہاجرہ کا کردار خواتین کے لئے عزم و ہمت کا سب سے بڑا اِستعارہ ہے، مثلاً:
بے مثال توکل: جب مکہ مکرمہ کی بیابان اور چٹیل وادی میں حضرت ہاجرہ علیہاالسلام کو بےیار ومددگارچھوڑا گیا تو آپ کا یہ سوال کہ ’’اےابراہیم! کیا اللہ سبحانہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟‘‘ اور حضرت ابراہیم کی طرف سے ’’ہاں‘‘ میں جواب ملنے پر یہ کہنا کہ ’’پھر اللہ سبحانہ ہمیں ضائع نہیں فرمائےگا‘‘ توکل کی اِنتہا ہے۔( يَا إِبْرَاهِيْمُ! إِلَى مَنْ تَتْرُكُنَا؟ قَالَ: إِلَى اللهِ، قَالَتْ: رَضِيْتُ بِاللهِ)(صحیح بخاری، حدیث:۳۳۶۵)
سعی پیہم: حضرت ہاجرہ علیہا السلام صرف اللہ سبحانہ پر توکل کر کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی نہیں رہیں، بلکہ پانی کی تلاش میں ’’صفا‘‘ اور’’ مروہ‘‘ کے درمیان سات چکر لگائیں۔ آپ کایہ عمل، اللہ سبحانہ کو اِتنا پسند آیا کہ اُس (سعی/دوڑ ) کو رہتی دنیا تک کے لئے ’’حج و عمرہ‘‘ کا لازمی حصہ بنا دیا گیا۔ آپ کا جرأت مندانہ عمل یہ سکھاتا ہے کہ دعا کے ساتھ ’’دوا‘‘ اور’’ توکل‘‘ کے ساتھ جدوجہد اور مسلسل کوشش بھی لازم ہے۔
۳۔ حضرت اسمٰعیل: اطاعت اور اِیثار
حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اِس مثلث کا وہ اٹوٹ حصہ ہیں جو جوانی اور جذبے کی نمائندگی کرتے ہیں، مثلاً: جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے والد مکرم حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا خواب آپ کو سنایا، تو آپ کا جواب تھا: ’’اے ابا جان! آپ وہ کر گزریے جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، بے شک آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے اِن شاءاللہ۔‘‘ (قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰى قَالَ یٰاَبَتِ افْعَلْ مَاتُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ) (الصفت:۱۰۲)
حضرت اسمٰعیل کا یہ تابعدارانہ کردار ہمیں سکھاتا ہے کہ جب والدین، اللہ کی راہ میں کوئی حکم دیں، تو اَولاد کو سرکشی ونافرمانی کی بجائے اطاعت و فرماں برداری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ نیز آپ کی قربانی کے بدلے اللہ سبحانہ نے دنبہ بھیج کر یہ پیغام دیا کہ اصل مقصود خون بہانا نہیں، بلکہ تقویٰ و عشق کا امتحان لینا تھا، جس میں باپ اور بیٹے دونوں کامیاب نظرآتے ہیں۔
معنویت واہمیت
حضرت ابراہیم، حضرت اسمٰعیل اور حضرت ہاجرہ تینوں عظیم ہستیوں کا اجتماع ایک ’’مقدس خاندان‘‘ کی تعمیر وتشکیل کرتا ہے جس کی بنیادیں درج ذیل اُصولوں پر مبنی ہیں، مثلاً:
۱۔ مرکزیتِ کعبہ و اِتحاد اُمت: اِس خاندان نے مل کرخانۂ کعبہ کی تعمیر مکمل کی، جو آج پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ اور اِتحاد واتفاق کی علامت ہے۔
۲۔ مناسکِ حج کی حقیقت: حج کے تمام ارکان (سعی، قربانی، رمی جمار) دراصل اُسی مقدس خاندان کی اداؤں کی نقالی ہیں۔ اللہ سبحانہ نے اُن سب کی یادگار کو عبادت بنادیا ۔
۳۔ عشق و بندگی کا توازن: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حوصلہ وجذبہ سکھایا، حضرت ہاجرہ علیہا السلام نے صبر اورعمل پیہم کی تعلیم دی اور حضرت اِسمٰعیل علیہ السلام نے سرِ تسلیم خم کرنا اور اِطاعت شعاری سکھائی۔
حاصلِ کلام یہ کہ حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمٰعیل علیہم السلام کی زندگی کا یہ پیغام ہے کہ انسان جب خود کو مکمل طور پر اللہ سبحانہ کے سپرد کر دیتا ہے، تو اللہ سبحانہ بھی اُسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، بلکہ اُسے رہتی دنیا تک کے لئے انسانیت کا پیشوا بنا دیتا ہے۔ خاندان براہیمی کی معنویت صرف ماضی کی یادگار نہیں، بلکہ ہر دور کے مومن کے لئے ایک عملی سبق ہے کہ وہ اپنی خواہشات کو اللہ سبحانہ کے حکم پر قربان کرنا سیکھیں۔
ززز


