ہندوستان-نیونیوزی لینڈ معاہدہ

 

پیر کے روز دستخط ہونے والانیوزی لینڈ -بھارت FTA بظاہر ایک معمولی پیش رفت محسوس ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے تنہا دیکھ کر اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جائے۔ نیوزی لینڈکی معیشت بھارت کے مقابلے میں محض ایک سولہواں حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کے ایک فیصد سے بھی کم بنتی ہے، مگر اس معاہدے کو اسی محدود زاویے سے دیکھنا حقیقت کا ادھورا عکس پیش کرتا ہے۔
یہ FTA دراصل پچھلے چند برسوں میں طے پانے والے متعدد تجارتی معاہدوں کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب عالمی معیشت میں زیادہ فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ COVID-19 وبا اور امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی نے یہ واضح کر دیا کہ کسی ایک یا چند ممالک پر حد سے زیادہ انحصار معاشی خطرات کو جنم دے سکتا ہے، اسی لئے بھارت اپنی سپلائی چینز کو درآمدات اور برآمدات دونوں سطحوں پر متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین پر انحصار کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ضرور ہے، کیونکہ بھارت کی کل درآمدات میں اس کا حصہ تقریباً 16% ہے، لیکن اس میں معمولی کمی بھی طویل مدت میں ایک مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب عالمی تجارتی ماحول غیر یقینی کا شکار ہو اور بڑی معیشتوں کی پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔
مختلف مماملک کے ساتھ ہونے والے معاہدے بھارت کے برآمد کنندگان کے لئے نئے دروازے کھولتے ہیں اور انہیں عالمی منڈی میں بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ بھارت کی معاشی خودمختاری اور استحکام کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔
لہٰذا India-New Zealand FTA کو صرف اس کے محدود حجم کی بنیاد پر کم تر سمجھنا درست نہیں۔ یہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط، متوازن اور زیادہ مؤثر بنانے کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

تازہ ترین خبریں

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ڈیجیٹل خودمختاری، جمہوریت، اور سوشل میڈیا احتساب

  ایڈوکیٹ کشن سنمکھداس عالمی سطح پر ہندوستان میں این ای...

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

ہندوستان-نیونیوزی لینڈ معاہدہ

 

پیر کے روز دستخط ہونے والانیوزی لینڈ -بھارت FTA بظاہر ایک معمولی پیش رفت محسوس ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر اسے تنہا دیکھ کر اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جائے۔ نیوزی لینڈکی معیشت بھارت کے مقابلے میں محض ایک سولہواں حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کے ایک فیصد سے بھی کم بنتی ہے، مگر اس معاہدے کو اسی محدود زاویے سے دیکھنا حقیقت کا ادھورا عکس پیش کرتا ہے۔
یہ FTA دراصل پچھلے چند برسوں میں طے پانے والے متعدد تجارتی معاہدوں کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اب عالمی معیشت میں زیادہ فعال اور متحرک کردار ادا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ COVID-19 وبا اور امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی نے یہ واضح کر دیا کہ کسی ایک یا چند ممالک پر حد سے زیادہ انحصار معاشی خطرات کو جنم دے سکتا ہے، اسی لئے بھارت اپنی سپلائی چینز کو درآمدات اور برآمدات دونوں سطحوں پر متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین پر انحصار کم کرنا ایک مشکل مرحلہ ضرور ہے، کیونکہ بھارت کی کل درآمدات میں اس کا حصہ تقریباً 16% ہے، لیکن اس میں معمولی کمی بھی طویل مدت میں ایک مثبت تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی برآمدی منڈیوں میں تنوع پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب عالمی تجارتی ماحول غیر یقینی کا شکار ہو اور بڑی معیشتوں کی پالیسیوں میں اچانک تبدیلیاں رونما ہوتی رہیں۔
مختلف مماملک کے ساتھ ہونے والے معاہدے بھارت کے برآمد کنندگان کے لئے نئے دروازے کھولتے ہیں اور انہیں عالمی منڈی میں بہتر مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ان معاہدوں کے ذریعے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ بھارت کی معاشی خودمختاری اور استحکام کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔
لہٰذا India-New Zealand FTA کو صرف اس کے محدود حجم کی بنیاد پر کم تر سمجھنا درست نہیں۔ یہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بھارت عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط، متوازن اور زیادہ مؤثر بنانے کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں