فکری افسانچہ: داغ غلامی کا

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی سرینگر

ایک دعوتی محفل میں میرے اچانک داخل ہونے پر سب ہکا بکا رہ گئے اور مجھے گھورنے لگے، اور ایک دوسرے کی طرف دزدیدہ نگاہوں سے میرے ماتھے پر لگے غلامی کے داغ کی طرف اشاروں کنایوں میں آگاہ کرنے لگے۔ سب حیرت زدہ ہو کر میرے اردگرد جمع ہو گئے اور غلامی کے داغ کے متعلق مجھ سے استفسار کرنے لگے۔
میں نے دم سنبھالا، کچھ دیر تک چپ سادھ لی۔ وہ میرا غلامی کا داغ جاننے کے لیے بے قرار ہوئے۔ میں نے بھی حقیقت بیان کرنا غنیمت جانا اور ان کے سامنے یوں بیان کرنے لگا:
"دیکھو بھائیو بہنو! میرے مالک کے لاتعداد غلام ہیں۔ سب کو اس نے الگ الگ کاموں پر مامور رکھا ہے، مثلاً کسی کو اپنے غلاموں کو مناسب وقت پر نابود کرنے پر رکھا، کسی کو اپنے دشمنوں سے انتقام لینے پر رکھا۔ الغرض، سب کو الگ الگ عہدوں پر فائز رکھا ہے۔
کچھ مدت تک میں بھی مالک کا فرمان بردار، اس کے ہر حکم کی تعمیل میں زندگی گزارتا رہا۔ مالک بھی میرے کام سے خوش اور مجھ پر مہربان رہا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ مالک کا کام انجام دے کر اچانک میری نظر ایک میلے کی طرف گئی، جہاں کوئی شخص عوام کو بھڑکا رہا تھا کہ:
کیوں اس قدر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہو؟ کبھی ان زنجیروں کو ڈھیلا کر کے دیکھو کہ دنیا کس قدر حسین ہے۔ وہ سب دستیاب ہے جس کی تم کو چاہت ہے۔ صرف ایک بار غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر دیکھو، عیش و عشرت کی زندگیوں سے روشناس ہو جاؤ گے۔
میں بھی میلے میں گیا۔ کچھ مدت تک میں بھی اس کی باتوں میں آ گیا اور محسوس کیا کہ کسی حد تک صحیح بول رہا ہے۔ اسے مجھ پر نظر پڑی، تخلیے میں بلایا اور اپنے کام میں پھنسانے کی پیش کش کی۔
میں نے جب چھان بین کی تو اصل میں وہ لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی دلا کر اپنے جال میں پھنسا رہا تھا۔ جب کوئی پھنستا تو نکلتا نہیں تھا۔ یہاں عیش و عشرت، ناچ نغمے، فحش اور بے حیائی عروج پر تھی۔
میں اس کے خلاف رہا اور اس کے کام میں روڑے اٹکانے لگا۔
مالک کے پاس پہنچنے میں مجھے بہت دیر لگی۔ جہاں میرے مالک نے مجھے بھیجا تھا، وہاں مجھے نہیں پایا تو نابود کرنے والے کو ٹوکا کہ:
تم نے میرے غلام کو نابود کر ڈالا؟
نابود کرنے والے غلام نے قسمیں کھائیں اور عرض کیا:
آپ میرے سر الزام چڑھاتے ہیں، ذرا اپنے اس غلام کو میلے میں تلاش کرو، شاید رنگ رلیاں مناتا ہوگا۔
مالک کی نظر جب میلے پر پڑی اور مجھے دیکھا تو اپنے قاصد کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا، اور ساتھ ہی میلے والے کو مجھے بھڑکانے پر زبردست ڈانٹ پلانے کا اپنے قاصد کو حکم دیا۔
مالک کا قاصد آتے ہی میلے والے پر برس پڑا اور کہا:
تیری اتنی ہمت! تُو نے مالک کے غلام کو اپنے نرغے میں کیوں پھنسایا؟
قاصد کی ڈانٹ پر میلے والا کہنے لگا:
جب سے مالک کا یہ غلام یہاں آیا، اس نے میرا جینا حرام کیا۔ میرے ہر کام میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ ایک مہینے کی رخصت پر جاؤں اور اپنا کام وزیر کے سپرد کروں تو یہ مالک کا غلام لوگوں کو میرے وزیر کے فتنے سے پہلے ہی آگاہ کرتا رہتا ہے۔ میں لوگوں کو آٹھ بیس میں مبتلا کرنے کا سوچتا ہوں، مالک کا یہ غلام لوگوں کو پہلے ہی آگاہ کرتا رہتا ہے۔ کبھی میں خطباء کو منبر سے گھسیٹنا چاہتا ہوں، یہ غلام وہاں بھی روڑے اٹکا رہا ہے۔ یہاں کے اخبارات اس کی جیب میں ہیں۔ اخبارات کے ذریعے یہ سب کو میرے منصوبے کے بارے میں جانکاری دیتا ہے۔ اخبار والے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ ان سب کا میرے خلاف چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب مہربانی کر کے اسے یہاں سے واپس لے جائیے تاکہ میں بھی سکون سے اپنے منصوبے انجام دوں۔
میلے والے کی عرض داشت پر مجھے واپس بلایا گیا اور میرے ماتھے پر غلامی کا داغ ڈالا گیا، تاکہ میں پھر سے نہ بھڑکوں اور مالک کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جاؤں۔
یہ ہے اصل حقیقت میرے ماتھے پر غلامی کے داغ کی۔
محفل میں موجود سب لوگ مجھے ہمدردانہ نگاہوں سے تکنے لگے۔ اکثر آنکھیں آبدیدہ بھی ہوئیں، اور اکثر زبانیں مرحبا سے گونج اٹھیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

فکری افسانچہ: داغ غلامی کا

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی سرینگر

ایک دعوتی محفل میں میرے اچانک داخل ہونے پر سب ہکا بکا رہ گئے اور مجھے گھورنے لگے، اور ایک دوسرے کی طرف دزدیدہ نگاہوں سے میرے ماتھے پر لگے غلامی کے داغ کی طرف اشاروں کنایوں میں آگاہ کرنے لگے۔ سب حیرت زدہ ہو کر میرے اردگرد جمع ہو گئے اور غلامی کے داغ کے متعلق مجھ سے استفسار کرنے لگے۔
میں نے دم سنبھالا، کچھ دیر تک چپ سادھ لی۔ وہ میرا غلامی کا داغ جاننے کے لیے بے قرار ہوئے۔ میں نے بھی حقیقت بیان کرنا غنیمت جانا اور ان کے سامنے یوں بیان کرنے لگا:
"دیکھو بھائیو بہنو! میرے مالک کے لاتعداد غلام ہیں۔ سب کو اس نے الگ الگ کاموں پر مامور رکھا ہے، مثلاً کسی کو اپنے غلاموں کو مناسب وقت پر نابود کرنے پر رکھا، کسی کو اپنے دشمنوں سے انتقام لینے پر رکھا۔ الغرض، سب کو الگ الگ عہدوں پر فائز رکھا ہے۔
کچھ مدت تک میں بھی مالک کا فرمان بردار، اس کے ہر حکم کی تعمیل میں زندگی گزارتا رہا۔ مالک بھی میرے کام سے خوش اور مجھ پر مہربان رہا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ مالک کا کام انجام دے کر اچانک میری نظر ایک میلے کی طرف گئی، جہاں کوئی شخص عوام کو بھڑکا رہا تھا کہ:
کیوں اس قدر غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہو؟ کبھی ان زنجیروں کو ڈھیلا کر کے دیکھو کہ دنیا کس قدر حسین ہے۔ وہ سب دستیاب ہے جس کی تم کو چاہت ہے۔ صرف ایک بار غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر دیکھو، عیش و عشرت کی زندگیوں سے روشناس ہو جاؤ گے۔
میں بھی میلے میں گیا۔ کچھ مدت تک میں بھی اس کی باتوں میں آ گیا اور محسوس کیا کہ کسی حد تک صحیح بول رہا ہے۔ اسے مجھ پر نظر پڑی، تخلیے میں بلایا اور اپنے کام میں پھنسانے کی پیش کش کی۔
میں نے جب چھان بین کی تو اصل میں وہ لوگوں کو غلامی کی زنجیروں سے آزادی دلا کر اپنے جال میں پھنسا رہا تھا۔ جب کوئی پھنستا تو نکلتا نہیں تھا۔ یہاں عیش و عشرت، ناچ نغمے، فحش اور بے حیائی عروج پر تھی۔
میں اس کے خلاف رہا اور اس کے کام میں روڑے اٹکانے لگا۔
مالک کے پاس پہنچنے میں مجھے بہت دیر لگی۔ جہاں میرے مالک نے مجھے بھیجا تھا، وہاں مجھے نہیں پایا تو نابود کرنے والے کو ٹوکا کہ:
تم نے میرے غلام کو نابود کر ڈالا؟
نابود کرنے والے غلام نے قسمیں کھائیں اور عرض کیا:
آپ میرے سر الزام چڑھاتے ہیں، ذرا اپنے اس غلام کو میلے میں تلاش کرو، شاید رنگ رلیاں مناتا ہوگا۔
مالک کی نظر جب میلے پر پڑی اور مجھے دیکھا تو اپنے قاصد کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا، اور ساتھ ہی میلے والے کو مجھے بھڑکانے پر زبردست ڈانٹ پلانے کا اپنے قاصد کو حکم دیا۔
مالک کا قاصد آتے ہی میلے والے پر برس پڑا اور کہا:
تیری اتنی ہمت! تُو نے مالک کے غلام کو اپنے نرغے میں کیوں پھنسایا؟
قاصد کی ڈانٹ پر میلے والا کہنے لگا:
جب سے مالک کا یہ غلام یہاں آیا، اس نے میرا جینا حرام کیا۔ میرے ہر کام میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ ایک مہینے کی رخصت پر جاؤں اور اپنا کام وزیر کے سپرد کروں تو یہ مالک کا غلام لوگوں کو میرے وزیر کے فتنے سے پہلے ہی آگاہ کرتا رہتا ہے۔ میں لوگوں کو آٹھ بیس میں مبتلا کرنے کا سوچتا ہوں، مالک کا یہ غلام لوگوں کو پہلے ہی آگاہ کرتا رہتا ہے۔ کبھی میں خطباء کو منبر سے گھسیٹنا چاہتا ہوں، یہ غلام وہاں بھی روڑے اٹکا رہا ہے۔ یہاں کے اخبارات اس کی جیب میں ہیں۔ اخبارات کے ذریعے یہ سب کو میرے منصوبے کے بارے میں جانکاری دیتا ہے۔ اخبار والے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ ان سب کا میرے خلاف چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اب مہربانی کر کے اسے یہاں سے واپس لے جائیے تاکہ میں بھی سکون سے اپنے منصوبے انجام دوں۔
میلے والے کی عرض داشت پر مجھے واپس بلایا گیا اور میرے ماتھے پر غلامی کا داغ ڈالا گیا، تاکہ میں پھر سے نہ بھڑکوں اور مالک کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو جاؤں۔
یہ ہے اصل حقیقت میرے ماتھے پر غلامی کے داغ کی۔
محفل میں موجود سب لوگ مجھے ہمدردانہ نگاہوں سے تکنے لگے۔ اکثر آنکھیں آبدیدہ بھی ہوئیں، اور اکثر زبانیں مرحبا سے گونج اٹھیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں