جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی، یکم اپریل: ملک بھر میں مردم شماری کے عمل کا باضابطہ آغاز یکم اپریل سے ہو گیا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی انتظامی اور شماریاتی مشقوں میں شمار ہوتا ہے۔
مردم شماری 2027 دو مراحل میں مکمل کی جائے گی، جس کے لیے حکومت نے 11,718.24 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے۔
پہلا مرحلہ یکم اپریل سے 30 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا، جس میں گھروں کی حالت، سہولیات اور اثاثوں سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی۔ دوسرا مرحلہ فروری 2027 میں ہوگا، جس میں آبادی کی مکمل گنتی کی جائے گی، جبکہ پہاڑی ریاستوں اور کچھ یونین ٹیریٹریز میں یہ عمل پہلے مکمل کیا جائے گا۔
یہ ہندوستان کی پہلی مکمل ڈیجیٹل مردم شماری ہوگی، جس میں شہریوں کو خود آن لائن اندراج کی سہولت بھی دی گئی ہے، جبکہ عملہ موبائل ایپ کے ذریعے ڈیٹا جمع کرے گا۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 30 لاکھ اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر مرتیونجے کمار نارائن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام ذاتی معلومات مردم شماری ایکٹ کے تحت محفوظ اور خفیہ رہیں گی اور انہیں کسی قانونی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
مردم شماری کے اعداد و شمار تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات سے متعلق پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور حکومت نے عوام سے درست معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔


