
ہردیپ سنگھ پوری
ہوڑہ کو کبھی ’ایشیا کا شیفیلڈ ‘ کہا جاتا تھا۔ دریائے ہگلی کے کنارے پر واقع جوٹ کی ملیں برصغیر میں منظم صنعت کا سب سے بڑا مرکز تھیں۔ کولکاتہ ہندوستان کا تجارتی دارالحکومت تھا، جہاں بِرلا اور ٹاٹا جیسی بڑی کمپنیوں کے علاوہ آئی ٹی سی، بریطانیہ، کول انڈیا، ہندوستان موٹرس اور گارڈن ریچ شپ بلڈرس کے صدر دفاتر موجود تھے۔ برن پور میں ’آئی آئی سی او‘ کی بنیاد 1918 میں پڑی، جبکہ درگاپور اسٹیل پلانٹ دوسرے پنج سالہ اقتصادی منصوبے کی دین ہے۔ سال 51-1950 میں ملک کی کل صنعتی پیداوار کا تقریباً 27 فیصد حصہ بنگال سے آتا تھا۔ میں اس کلکتہ سے مانوس تھا۔ فارن سروس میں شامل ہونے سے پہلے، میری ابتدائی ملازمتوں میں سے ایک اسی شہر میں واقع ہندوستان لیور میں شروع ہوئی تھی اور اس وقت تک کلکتہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں اپنے بستے لے کر پہنچنے والے کسی بھی تاجر کو یہ یقین ہوتا تھا کہ وہ اس مقام پر آ گیا ہے جہاں ملک کی تجارت کا محور ہے۔ تب بجلی نہیں جاتی تھی، ٹرام چلتی تھیں اور کمپنیاں ملازمتیں فراہم کرتی تھیں۔
جس شہر کو تعمیر کرنے میں ایک صدی لگی تھی، اسے محض معاشی بدانتظامی سے بڑھ کر کسی سوچے سمجھے منصوبے سے تباہ کر دیا گیا۔ لیفٹ فرنٹ نے 1977 میں اقتدار سنبھالا اور 34 سال تک اس پر قابض رہا۔ محنت کش طبقے کی نمائندگی کرنے کی آڑ میں ایک منظم شیڈو اسٹیٹ کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ تعمیرات کی اجازت، دکان چلانے، بھٹہ لگانے، ٹرانسپورٹ روٹ رجسٹر کروانے یا پنچایت کا اجلاس منعقد کرنے تک، ہر کام کے بدلے کمیشن وصول کیا جاتا تھا۔ پارٹی کارکن پیسے اکٹھے کرتے اور پارٹی کے بینک بھرتے تھے۔ وہ یونین بازی جس سے سرمائے کو باہر نکالا گیا وہ تو نظر آیا، مگر وہ بھتہ خوری جس سےعام شہری کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، اس حصے کو کیمرے قید نہ کر سکے۔ سال 2000 کی دہائی تک، جب خود لیفٹ فرنٹ نے اپنا راستہ بدلنے اور ٹاٹا موٹرس کو سنگور لانے کی کوشش کی، تو اپوزیشن میں موجود ترنمول کانگریس نے بھوک ہڑتال شروع کی جس نے 2008 میں اس منصوبے کو گجرات منتقل ہونے پر مجبور کر دیا۔ مافیا نے بھیس بدلے، وہ کبھی ختم نہ ہوا۔
ترنمول کانگریس 2011 میں تبدیلی (پریبورتن) کے وعدے پر برسرِ اقتدار آئی۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ وہی پرانا نظام تھا جو نئے لباس میں رونما ہوا۔ کٹ (کمیشن) اب کٹ منی بن گیا اور پارٹی کارکن سنڈیکیٹ بن گئے۔ قومی مینوفیکچرنگ میں بنگال کا 27 فیصد حصہ اب 5 فیصد سے بھی نیچے آ چکا ہے۔ ریاست کی فی کس آمدنی، جو کبھی قومی اوسط کا 127 فیصد تھی، اب گھٹ کر 84 فیصد رہ گئی ہے۔ چھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ کمپنیوں نے اپنے صدر دفاتر کولکاتہ سے باہر منتقل کر لئے ہیں۔ بنگال کے وہ بچے جو کبھی ہوڑہ یا سالٹ لیک میں کام کرتے تھے، اب وہ بنگلور، حیدرآباد اور پونے میں رہتے ہیں۔ وہ ووٹر جو اپنی ملازمتوں اور اپنے پیسے کو ریاست سے باہر جاتے دیکھ رہا تھا، اسے اپنا حساب برابر کرنا تھا اور اس کے ہاتھ میں موجود ووٹ کا پرچہ اسی حساب کتاب کا ذریعہ تھا۔
اس اسکور برابر کرنے کی بنیاد میں خواتین کے خلاف واقعات کا وہ ریکارڈ ہے جس کا دفاع آزاد ہندوستان میں کسی بھی برسرِ اقتدار آنے والی حکومت کو نہیں کرنا پڑا۔ ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے دورِ حکومت میں اپنی ریاست کی خواتین پر تشدد ہوا اور انہیں قتل کیا گیا۔ اگست 2024 میں آر جی کار میڈیکل کالج میں ایک پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کا ریپ اور قتل کیا گیا۔ جائے وقوعہ پر پوری رات توڑ پھوڑ ہوتی رہی جسے کولکاتہ پولیس نے روکنے کی زحمت تک نہ کی۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم سے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کی گئیں، کیونکہ عدالت کے مطابق کولکاتہ پولیس کی انکوائری قابلِ بھروسہ نہیں تھی۔ جونیئر ڈاکٹروں کی ہڑتال بیالیس روز تک جاری رہی، جن میں بڑی تعداد خواتین کی تھی۔
سندیش کھلی میں جنوری 2024 کو سندر بن کے ایک جزیرے کی خواتین ترنمول کے ضلع کونسل ممبر کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں جو پچپن دنوں تک مفرور رہا جبکہ ریاستی پولیس نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ ایک ایسی وزیر اعلیٰ جن کی اپنی تحریک کبھی تبدیلی (پریبورتن) کے لئے تھی،وہ ایک ایسی حکومت کی سربراہ بن گئیں جس میں ان کی ریاست کی خواتین کو ان کے ہی کارکنوں کے خلاف عدالتوں، مرکزی ایجنسیوں کی پناہ لینی پڑی اور سڑکوں پر اترنا پڑا۔ یہ انتہائی قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول تھا۔
بنگال کی خواتین نے جو کچھ برداشت کیا، اس کا موازنہ صرف ان نقصانات سے کیا جا سکتا ہے جو ریاست کے نوجوانوں کو اٹھانے پڑے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے پہلے چھاپے کے دوران سالٹ لیک کے ایک مقفل فلیٹ سے اکیس کروڑ روپے نقد برآمد ہوئے۔ مزید متعلقہ ٹھکانوں سے برآمدگیوں کے بعد یہ رقم پچاس کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ برسرِ اقتدار کابینہ کے وزیر پارتھو چٹرجی کی گرفتاری ہوئی، جنہوں نے وزیرِ تعلیم کی حیثیت سے ویسٹ بنگال اسکول سروس کمیشن کی نگرانی کی تھی۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے اپریل 2024 میں 25,753 اساتذہ اور گروپ-سی و گروپ-ڈی اسٹاف کی تقرریوں کو منسوخ کر دیا، جن کی بھرتی کو ابتدا سے ہی غیر قانونی قرار دیا گیا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا اور 2025 میں وہاں بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔
اسکولوں میں عملہ کی بھرتی کا پورا عمل، جس کا مقصد بنگال کے نوجوانوں کو زندگی میں ایک سہارا فراہم کرنا تھا، ایک ایسے کاؤنٹر میں بدل گیا جہاں سے ملازمتیں فروخت کی گئیں اور اہل امیدواروں کو موقع نہیں دیا گیا۔ اس گھوٹالے سے پہلے راشن کا ایک بڑا گھوٹالہ ہوا تھا جس نے ایک دوسرے کابینہ وزیر، جیوتی پریہ ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے ساتھ مویشیوں کی اسمگلنگ کا گھوٹالہ، کٹ منی کلچر اور سنڈیکیٹ راج قائم تھا۔ ووٹر اس مسلسل جال کو سمجھ گیا ۔ کسی مافیا کے زیرِ انتظام ریاست میں سب سے پہلے وہ شہری متاثر ہوتا ہے جو رشوت دینے سے انکار کر تا ہے۔
اس ریکارڈ کے مقابلے ایک دوسرے طرز کا ریکارڈ موجود تھا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ’پردھان منتری آواس یوجنا‘ کے تحت چار کروڑ اکیس لاکھ مکانات مکمل کیے گئے۔ جل جیون مشن کے تحت پندرہ کروڑ نل سے پانی کے کنکشن دیے گئے، جبکہ 2019 میں یہ تعداد محض تین کروڑ تھی۔ ’آیوشمان بھارت‘ سے تقریباً پچپن کروڑ مستحقین کو سالانہ پانچ لاکھ روپے کا بیمہ فراہم کیا گیا۔ ’ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر‘ (ڈی بی ٹی) کے ذریعہ اس بدعنوانی اور خرد برد کا خاتمہ کیا گیاجو کبھی بنگال کے ہر فلاحی پروگرام کا امتیازی خاصہ ہوا کرتی تھی۔ ان میں سے کوئی بھی چیز محض خیالی نہیں تھی۔ یہ وہ بنیاد تھی جس پر بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہر کارکن ووٹ مانگتے وقت کھڑا تھا۔
اس بنیاد کے پیچھے ایک نیٹ ورک موجود تھا۔ پارٹی کے بوتھ لیول کیڈر، پنا پرمکھ اور وہ کارکنان جنہوں نے ہر انتخابی مرحلے میں ڈرانے دھمکانے، غنڈہ گردی اور جسمانی تشدد کا سامنا کیا، انہوں نے رجسٹریشن، ٹرانسپورٹ اور ووٹر ٹرن آؤٹ جیسے مشکل کام ان حالات میں کیے جن میں دیگر پارٹیاں میدان چھوڑ چکی تھیں۔ وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کو ملنے والی دھمکیاں، مرکزی افواج کے جانے کے بعد نتائج بھگتنے کے اعلانات اور انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد کے گزشتہ واقعات میں ضائع ہونے والی جانیں—یہ تلخ حقائق تھے جنہیں کارکنوں کو یاد دہانی کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ خود ان حالات سے گزرے تھے۔ معزز وزیرِ داخلہ جناب امت شاہ نے خود ضلع بہ ضلع بنگال کا دورہ کیا، بعض اوقات ہفتوں کے وقفے میں ایک ہی شہر میں دوبارہ واپس پہنچے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کا کیڈر کن حالات سے گزر رہا ہے۔ وہ جو کوشش کر رہے تھے وہ محض انتخابی الٹ پھیر نہیں تھا، بلکہ ایک مضبوط قلعے کو مسخر کرنا تھا۔
اس بڑی کامیابی کے پیچھے موجود چہرے اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ محترمہ رتنا دیبناتھ، جو ’آر جی کار کالج‘ کی متاثرہ ڈاکٹر کی والدہ ہیں، انہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پنی ہاٹی سے میدان میں اتارا اور انہوں نے ایسی برتری حاصل کی جس نے ترنمول کے پندرہ سالہ مضبوط گڑھ کو تہس نہس کر دیا۔ محترمہ ریکھا پاترا، جو سندیش کھلی کی اپنی سرزمین پر اس حق کا مطالبہ کرنے کھڑی ہوئیں جس سے ریاست نے انہیں محروم کر دیا تھا اور وہ اسی مطالبے کو ہنگل گنج کے انتخابی معرکے تک لے کر گئیں۔ ان اضلاع کے ووٹر، جو تیس سال تک لیفٹ اور پندرہ سال تک ترنمول کے وفادار رہے تھے، پہلی بار کمل کی طرف مائل ہوئے۔ اتوار، 4 مئی 2026 کو بنگال نے حساب برابر کر دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کردہ 293 نشستوں میں سے 206 پر کامیابی حاصل کی۔ مسلسل دو الگ بھیس میں چھپے مافیا راج کے49 سال تمام ہوئے۔ یہ محض ایک انتخابی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ایک اخلاقی فیصلہ تھا۔
اس کامیابی کو ابھی سے متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرِ ثانی، جس کے نتیجے میں ایک ایسی ریاست سے نوے لاکھ نااہل افراد کے نام نکالے گئے جہاں پندرہ سال سے ایسے ناموں کا انبار لگ رہا تھا، اسے ہارنے والی پارٹی کی جانب سے ووٹروں کو دبانے کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اعداد و شمار اس سوال کا حل نکلتا ہے۔ معائنہ کے دوران جن بیس حلقوں میں سب سے زیادہ نام نکالے گئے، ان میں سے تیرہ پر ترنمول کانگریس نے کامیابی حاصل کی۔ شمشیر گنج، لال گولہ، بھگوان گولہ، رگھوناتھ گنج اور مٹیابرج—وہ پانچ حلقے جہاں سب سے زیادہ نام نکالے گئے—ان سب میں 2021 اور 2026 دونوں میں ترنمول کے ہی ایم ایل اے منتخب ہوئے۔ وہ 49 حلقے جہاں جیت کا فرق نظرِ ثانی کے دوران نکالے گئے ووٹروں کی تعداد سے کم تھا، ان میں سے چھبیس پر بی جے پی نے21 پر ترنمول کانگریس اور دو پر کانگریس نے جیت حاصل کی۔ کسی مخصوص طبقے کو ووٹر لسٹ سے نکالنے کی کوشش جیتنے والی اور ہارنے والی پارٹی کے درمیان اس قدر برابر کے نتائج پیدا نہیں کرتی۔ 92.93 فیصد ٹرن آؤٹ، جو ریاست کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے، اس سے ووٹر لسٹ کی سالمیت پر اٹھنے والے تمام سوالات ختم ہوگئے۔ ووٹر کے دیے ہوئے فیصلے پر تنازع کھڑا کر کے، ہارنے والی پارٹی صرف اسی دادا گیری کی تصدیق کر رہی ہے جسے ووٹر مسترد کر چکا ہے۔
بنگال نے ووٹ کا فیصلہ دے دیا ہے، اور بنگال اپنا انتخاب کر چکا ہے۔ ووٹروں نے جو کچھ چاہا، اسے سمجھنا مشکل نہیں۔ امن اور اس تشدد سے آزادی جس کا سایہ اس کی گلیوں پر منڈلاتا رہا ہے۔ خوشحالی اور اس شہر میں روزگار کی واپسی جہاں وہ رہتے ہیں۔ استحکام اور ایسی انتظامیہ جو اسے زندگی جینے کے بدلے ’کمیشن‘ وصول نہ کرے۔ اس ریاست میں ثقافتی اور معاشی نشاۃ ثانیہ، جس نے ملک کو پہلا صنعتی خطہ، تجارتی دارالحکومت اور قومی انتظامیہ کے اولین معمار دیے۔ وہ کلکتہ جس میں میں نے کام کیا تھا، اسے دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ بنگال 2047 تک وِکست بھارت میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران فلاح و بہبود کی فراہمی اور بنیادی ڈھانچے کے ہر فیصلے کے پیچھے ایسے وزیرِ اعظم کا وژن کارفرما رہا ہے جو شہری کو ہی اصل بنیاد تسلیم کرتا ہے۔ اس شہری کے ساتھ اعتماد برقرار رکھنے کا صلہ اب (نتائج کی صورت میں) درج ہو چکا ہے۔
(مضمون نگار پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے مرکزی وزیر ہیں)
******


