
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی، سرینگر
نفس عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے بہت سے معنی ہیں، مثلاً روح، ذات، جان، اصل شے، لبِ لباب، وجود، ہستی، حقیقت، اصلیت وغیرہ وغیرہ۔ انسانی نفس یا انسانی روح کا تعلق عالمِ امر سے ہے۔ انسان کو اس کے متعلق تھوڑا سا علم دیا گیا ہے (سورۂ اسراء، آیت 85)۔ روح عالمِ ارواح میں آدم کے ہیولا میں پھونکی گئی، اور فرشتوں کو آدم کے سامنے سجدے میں گر پڑنے کا حکم ہوا۔ سب سجدے میں گر پڑے سوائے ابلیس کے۔ وہ جنات میں سے تھا۔ حقیقت میں فرشتوں نے آدم کو سجدہ نہیں کیا بلکہ روح کو پہچان کر سجدے میں گر پڑے، جبکہ ابلیس روح کو پہچاننے سے محروم رہا اور تا قیامِ قیامت دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا۔ ہر انسانی روح عالمِ ارواح میں اللہ سے عہد کرکے دنیا میں اپنی مستعار زندگی آزمائش کے طور پر گزارنے آئی ہے۔ یہاں آکر انسانی روح یا نفس تین حصوں میں بٹ گیا۔
(1) نفسِ امارہ:
وہ نفس جو بدی کی طرف رغبت دلائے، سرکش، ظالم اور بری بات کا حکم دینے والا ہو۔ قرآن میں (سورۂ یوسف، آیت 53) میں اس کا ذکر کیا گیا ہے:
“اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی، بے شک نفس تو برائی کا حکم دیتا ہے۔”
عزیزِ مصر کی بیوی نے جب حضرت یوسف علیہ السلام پر تہمت لگائی اور حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل ہوئی، پھر بادشاہِ وقت کے خواب دیکھنے پر حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل سے رہائی ملی، اور حضرت یوسف علیہ السلام کی شرط پر عزیزِ مصر کی بیوی نے اپنا جرم قبول کیا، تو اللہ نے قرآن میں مذکورہ بالا آیت میں نفسِ امارہ کا ذکر فرمایا۔
(2) نفسِ لوامہ:
وہ نفس جو سخت ملامت کرنے والا ہو، جو انسان کو برے کام کرنے پر ملامت کرتا ہے۔ قرآن میں (سورۂ القیامہ، آیت 2) میں اس کا ذکر ہے۔ اس سے مراد انسان کا وہ نفس ہے جسے ہم عرفِ عام میں ضمیر کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مسلمان، کافر یا دہریہ انکار نہیں کرسکتا۔
“میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے”
“My conscience is biting me”
سوچنے کی بات ہے کہ جب کوئی غلط یا برا کام کیا جائے تو اندر ہی اندر دل و دماغ میں چبھن پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ نیند بھی اڑ جاتی ہے۔ ہر انسان کو اس کے اچھے اور برے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دینے کے لیے آخرت کا وجود میں لایا جانا ناگزیر ہے۔ چنانچہ قیامت کی سب سے بڑی دلیل خود انسان کے اندر موجود ہے، اور وہ ہے انسان کا نفسِ لوامہ یا اس کا ضمیر۔
(3) نفسِ مطمئنہ:
انسان کا وہ نفس جو اس امتحانی زندگی میں مطمئن ہوکر یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی میں لگا رہے اور اس کے دین کے ساتھ چمٹا رہے۔ قرآن میں (سورۂ الفجر، آیت 27) میں اس کا ذکر ہے۔
ایک اور مثال سے سمجھانے کی کوشش ضروری ہے:
(1) حق تلفی، لوٹ کھسوٹ، ظلم و جبر، مار دھاڑ، فحاشی، بے حیائی اور روگردانی، نفسِ امارہ کے زمرے میں آتے ہیں۔
(2) نفسِ لوامہ:
برے کام انجام دے کر پچھتانا، اندر ہی اندر بے قرار رہنا، دل و دماغ میں چبھن محسوس کرنا، نادم و پشیماں ہونا، نفسِ لوامہ کے زمرے میں آتا ہے۔
(3) نفسِ مطمئنہ:
ایک آسان مثال یہ ہے کہ کسی شادی پر ڈھیر سارا کھانا اور مختلف قسم کے پکوان کھا کر پیٹ بھر چکا ہو۔ اس کے بعد باقی لوگوں کے لیے آپ کے سامنے کھانا پروسا جائے اور مختلف قسم کے پکوان ہوں، تو کیا آپ کا دل مزید کھانے کو چاہے گا؟ نہیں، کیونکہ آپ کا پیٹ بھرا ہوا ہے، مزید کھانے کی ضرورت نہیں، کوئی جگہ خالی نہیں۔ یہی نفسِ مطمئنہ ہے۔
قرآن میں اللہ تعالیٰ (سورۂ الواقعہ، آیت 7 سے 10 تک) انسانی نفس کی تینوں اقسام بیان کرتا ہے۔ فرماتا ہے:
قیامت کے روز تم تین گروہوں میں منقسم ہوجاؤ گے۔
(1) دائیں والے:
جن کو اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ یہ جماعت حشر کے روز پیدل چلتی ہوگی۔
(2) بائیں والے:
تو کیا برا حال ہوگا بائیں والوں کا۔ وہ حشر کے روز سر کے بل چلتے ہوں گے۔
(3) آگے نکل جانے والے:
وہ مقربین میں سے ہوں گے۔ حشر کے روز یہ جماعت گھوڑوں پر سوار ہوگی۔
پھر اللہ تعالیٰ اسی سورہ کے آخر میں (آیت 88 سے 94 تک) نفسِ انسانی کے ان تین گروہوں کا ذکر یوں فرماتا ہے کہ جب موت آتی ہے:
(1) اگر مرنے والا مقربین میں سے ہوگا تو اس کے لیے راحت، سرور اور نعمتوں والی جنت ہے۔
(2) اور اگر مرنے والا اصحابُ الیمین میں سے ہوگا تو اصحابُ الیمین کی طرف سے اس کے لیے سلامتی ہوگی، یعنی اصحابُ الیمین بھی عیش میں ہوں گے اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔
(3) اور اگر مرنے والا جھٹلانے والوں اور گمراہوں میں سے ہوگا تو اس کی مہمان نوازی کھولتے پانی سے ہوگی، اس کے بعد اسے جہنم کے اصل عذاب میں جھونک دیا جائے گا۔
یہ انسانی نفس کی تین اقسام ہیں، جنہیں میں نے قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں اپنے فہم کے مطابق قلم بند کیا ہے۔
ززز


