ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
گواہ مطلب شاہد، ثبوت پہنچانے والا۔ اسی طرح "گواہی” فارسی لفظ ہے، جس کے معنی شہادت، گواہی کا بیان بلکہ بہت سارے اور بھی معنی ہیں۔ گواہی کی چند مندرجہ ذیل اقسام ہیں:
(1) اسلامی تناظر میں سب سے پہلی گواہی فرشتوں سے لی گئی، جب اللہ نے فرمایا کہ میں انسان کو بنانے والا ہوں، اور جب میں اس میں اپنی روح میں سے پھونکوں تو تم اس کے سامنے سجدے میں گر پڑنا۔ یہ پہلی گواہی اسلام میں تصور کی جاتی ہے۔
(2) دوسری گواہی عالمِ ارواح میں اولادِ آدم سے لی گئی تاکہ حشر کے روز کوئی عذر پیش نہ کریں۔ (الاعراف 172)
(3) تیسری گواہی تمام انبیاء کرام سے عالمِ ارواح میں لی گئی ہے۔ (آل عمران 81) انبیاء کرام کی اس گواہی میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں رہے، بلکہ اللہ نے تمام انبیاء سے یہ گواہی لی کہ اپنی اپنی باری پر دنیا میں اپنی اپنی امت کو تبلیغ کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی بشارت سے بھی آگاہ کرتے رہنا۔ امیر خسرو نے انبیاء کی اس مجلس کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
"خدا خود میرِ محفل بود، اندر لامکاں خسرو
محمد شمعِ محفل بود، شب جائے کہ من بودم”
(4) چوتھی گواہی، کسی سے قرض لیتے وقت مقررہ مدت تک لکھ لینا اللہ کا فرمان ہے۔ دو مرد بطور گواہ رہنا لازمی قرار دیا گیا۔ اگر ایک ہی مرد ہو تو اس کے ساتھ دو عورتوں کا گواہ رہنا ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلائے۔ وہ ناقص العقل ہے کیونکہ عورت میں نسیان (بھولنے) کا مادہ زیادہ ہے۔ (البقرہ 282)
(5) پانچویں گواہی، وہ بیوی جو کسی بے حیائی کا ارتکاب کرے تو اپنے میں سے چار گواہ پیش کرنا لازمی ہے، اور اگر وہ گواہی دے دیں تو اس بیوی کو گھر میں بند کرنے کا حکم ہے، پھر یا اس کو موت لے جائے یا اللہ کوئی اور راستہ نکال دے۔ (النساء 15)
(6) چھٹی گواہی، وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے سوا اور گواہ نہ ہوں، تو ایسے شخص کی گواہی یہ ہے کہ اللہ کی قسم کے ساتھ چار بار گواہی دے کہ وہ یقیناً سچا ہے، اور پانچویں بار یہ کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹا ہو۔ اور اس عورت سے یہ بات سزا کو ٹال سکتی ہے کہ وہ چار دفعہ اللہ کی قسم کے ساتھ گواہی دے کہ وہ (اس کا شوہر) یقیناً جھوٹا ہے، اور پانچویں دفعہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر وہ سچا ہو۔ اس کے بعد ان کے درمیان طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ دونوں بطور میاں بیوی اکٹھے نہیں رہ سکیں گے۔ (النور 6 تا 9)
(7) ساتویں گواہی، واقعۂ افک کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی گئی تو اللہ نے اسے ایک کھلا بہتان قرار دیا اور فرمایا: کیوں نہیں وہ اس پر چار گواہ لے کر آئے؟ تو جب وہ گواہ نہیں لائے تو اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔
(8) آٹھویں گواہی، حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں اور صحابہ کرام کے ایک بڑے مجمعِ عام سے شہادت لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! یاد رکھو، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، لہٰذا اپنے رب کی عبادت کرنا، پانچ وقت کی نماز پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، اپنے مال کی زکوٰۃ دینا، حج کرنا اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرنا۔ اور تم سے میرے متعلق پوچھا جانے والا ہے، تو تم لوگ کیا کہو گے؟
مجمعِ عام نے کہا: "ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کر دی، پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا فرمایا۔”
یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشتِ شہادت کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: "اے اللہ! گواہ رہ۔” اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آج یہاں موجود ہیں، یہ پیغام ان لوگوں تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں ہیں۔ یعنی قیامت قائم ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے کاندھوں پر یہ ذمہ داری ڈالی۔
(9) نویں گواہی، ہر رسول کی اپنی امت کے حق یا خلاف میں گواہی۔ (النساء 41) اکثر علماء کرام اور مفکروں نے رسول کی اس گواہی کو مختلف انداز میں بیان کیا ہے۔ مثلاً آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے قرآن تلاوت کرنے کی فرمائش کی۔ تو صحابی رضی اللہ عنہ سورۂ النساء کی تلاوت کرتے رہے۔ جب آیت 41 پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بس کر، بس کر۔” جب صحابی رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چشمانِ مبارک آنسوؤں سے تر تھے، اور فرمایا کہ حشر کے روز سب رسول اپنی امت کے حق میں یا اپنی امت کے خلاف بارگاہِ الٰہی میں گواہی دیں گے۔
(10) دسویں گواہی، حشر کے روز امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی۔ اکثر علماء کرام اور مفکروں نے سورۂ النساء آیت 41 کی اپنے اپنے انداز میں تفسیر لکھی ہے، اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ذکر ہے کہ حشر کے روز سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی امت کو بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا جائے گا۔ سوال و جواب ہوں گے۔ نوح علیہ السلام سے اپنی امت میں تبلیغ کے متعلق پوچھا جائے گا۔ وہ جواب دیں گے: "بارِ الٰہا! میں نے آپ کا پیغام اپنی امت کو پہنچایا۔” پھر نوح علیہ السلام کی امت سے بھی پوچھا جائے گا، لیکن وہ انکار کریں گے کہ نوح علیہ السلام نے اللہ کا کوئی بھی پیغام ہم کو نہیں بتایا، یعنی وہ انکاری ہوں گے۔ پھر نوح علیہ السلام سے گواہی طلب کی جائے گی تو وہ التجا کریں گے: "بارِ الٰہا! میری امت میں تبلیغ کی گواہی امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم دے گی۔”
اسی طرح ہر امت اپنے اپنے رسولوں کی تبلیغ کا انکار کرتی رہے گی۔ رسول لاجواب ہوں گے اور اپنی تبلیغ کی گواہی امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے طلب کریں گے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میری امت کو لایا جائے گا اور میری امت تمام رسولوں کے حق میں گواہی دے گی۔ اس کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا جائے گا اور کہا جائے گا: "یا نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس لائق ہے کہ ہم ان کی یہ گواہی تسلیم کریں؟”
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جواب میں عرض کریں گے کہ "ہاں، میری امت کی گواہی تسلیم کی جائے۔” یہ حشر کے روز امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا مقام ہے کہ سب عوام الناس ایسی فضیلت کی اپنے لئے تمنا کریں گے۔
یہ چند مندرجہ بالا گواہیاں قرآن اور صحیح احادیث کی روشنی میں قلمبند کی گئی ہیں۔


