
شوبھا کرندلاجے
وزیرِ مملکت
MSME اور محنت و روزگار
جب میں نے پہلی بار وزیرِ مملکت کے طور پر حلف لیا تھا، تو میں نے بھرے ہال پر نظر ڈالی اور گنتی کی۔ اس ہال میں موجود خواتین کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی تھی۔ یہ منظر میرے لیے کسی ذاتی کامیابی کی علامت نہیں تھا، بلکہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ عوامی میدان میں خواتین کو ابھی کتنا طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
میرا تعلق ساحلی کرناٹک کے شہر پُتّور کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے، جو اپنے روایتی وسائل سے مالا مال خطے اور ثقافت کے لیے جانا جاتا ہے، جہاں خواتین نے ہمیشہ اپنی مضبوط کارکردگی اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ اس طاقت کو عوامی زندگی میں ڈھالنے کا کیا مطلب ہوتا ہے، ایک ایسی راہ پر چلنا جس پر بہت کم لوگ پہلے چلے ہوں اور یہ بھی کہ ہر خاتون کو اسی جذبے کے ساتھ یکساں مواقع حاصل نہیں ہوتے ہیں۔
اب جبکہ ناری شکتی وندن ادھینیم پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ ستمبر 2023 میں پارلیمنٹ نے اپنی رائے دے دی ہے، آئین میں ترمیم ہو چکی ہے، مگر اب اصل مشکل مرحلہ شروع ہوتا ہے: اس عزم کو پورا کرنے کا مرحلہ۔
اپنے عوام کی نمائندگی کرنے والی جمہوریت
ہندوستان میں 67 کروڑ خواتین رہتی ہیں، لیکن کئی برسوں تک ہماری خواتین قانون ساز اراکین صرف 15 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتی رہی ہیں۔ ایک ایسی جمہوریت جو مسلسل اپنی نصف آبادی کو فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھے، حقیقی جمہوریت نہیں کہلا سکتی ہے؛ وہ محض ایک ادھورا سفر ہے۔ ناری شکتی وندن ادھینیم اس سفر کو مکمل کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے، لیکن کاغذ پر موجود قانون کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے، جب تک اسے مؤثر طریقے سے نافذ نہ کیا جائے۔ مردم شماری ضروری ہے۔ اس کے بعد حلقہ بندی ہونی چاہیے اور مقررہ میعاد کے اندر پارلیمنٹ اور تمام ریاستی اسمبلیوں کی ایک تہائی نشستیں خواتین کے لیے مختص کی جانی چاہئیں۔
جب خواتین ان میزوں پر بیٹھتی ہیں جہاں قوانین بنائے جاتے ہیں، تو قانون سازی کی ترجیحات بدلتی ہیں۔ پنچایتی راج کے اداروں میں، جہاں دہائیوں پہلے خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کیا گیا تھا، ان کی ترجیحات میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ پانی، صحت، تعلیم اور بچوں کے تغذیہ کے لیے زیادہ بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ بدعنوانی کے تئیں عدم برداشت اور برادریوں کے سامنے زیادہ جوابدہی سامنے آئی۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ نمائندگی کا عملی اطلاق ہے۔
طرز کہن سے نکلنا
میں نے یہ بحث سنی ہے کہ خواتین کو “اپنی قابلیت کی بنیاد پر” آگے بڑھنا چاہیے۔ میں اس جذبے کی قدر کرتی ہوں، لیکن اس دلیل کو مسترد کرتی ہوں۔ قابلیت خلاء میں پیدا نہیں ہوتی ہے؛ بلکہ یہ وہاں پروان چڑھتی ہے جہاں مواقع موجود ہوں۔
نسلوں سے، ساختیاتی رکاوٹیں،سماجی، معاشی اور ثقافتی—باصلاحیت خواتین کو سیاست سے دور رکھتی آئی ہیں۔ امیدواروں کے انتخاب کا عمل ہمیشہ ان لوگوں کے حق میں رہا ہے جن کے پاس مضبوط روابط، خاندانی سیاسی سرمایہ اور گھریلو ذمہ داریوں سے آزادی ہو۔ خواتین کو عموماً یہ سہولیات میسر نہیں رہیں۔
ریزرویشن سے معیار کم نہیں ہوتا، بلکہ رکاوٹیں ختم ہوتی ہیں
جب خواتین بڑی تعداد میں پنچایتوں میں آئیں، تو پہلے پہل انہیں نظرانداز کیا گیا۔ مگر وقت کے ساتھ مختلف مطالعات میں انہیں اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر، زیادہ قابلِ رسائی اور زیادہ دیانت دار قرار دیا گیا۔ جب خواتین کو منصفانہ مواقع میسر ہوں، تو وہ صرف حصہ نہیں لیتیں بلکہ قیادت بھی کرتی ہیں۔
پالیسی کے تناظر میں اس کا مطلب
حکومت میں اپنے وسیع تجربے سے میں نے یہ سیکھا ہے کہ کمرے میں موجود لوگ ہی یہ طے کرتے ہیں کہ کن امور پر بات ہوگی۔ خواتین قانون سازوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ ماؤں کی صحت کے لیے فنڈنگ کی وکالت کریں گی، جب کہ بصورتِ دیگر اسے کم کیا جا سکتا ہے۔ وہ پالیسیوں کے صنفی اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں جو عملی طور پر خواتین پر زیادہ اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ وہ اپنے حلقوں کے ایسے مسائل کو اٹھاتی ہیں جن کا مردوں کوکبھی سامنا نہیں ہوتا ہے۔
پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں 33 فیصد ریزرویشن کا مطلب ہے کہ پہلی بار خواتین کی آوازیں خصوصی نہیں رہیں گی، بلکہ نظام کا مستقل حصہ بن جائیں گی، جن کو نظرانداز کرنا ناممکن ہوگا۔
ناری شکتی: تصور سے قانون تک
وزیر اعظم نریندر مودی طویل عرصے سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ ہندوستان اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا جب تک خواتین کی مکمل اور مساوی شرکت نہ ہو۔ یہ محض نعرہ نہیں بلکہ ایک یقین ہے جس سے متعدد پالیسیاں بنی ہیں، جیسے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اور جن دھن، اجولا اور پی ایم آواس یوجنا میں خواتین کی ریکارڈ شمولیت۔ انہوں نے ناری شکتی کو ایک نعرہ نہیں بلکہ وکست بھارت کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ناری شکتی وندن ادھینیم اس وژن کا مکمل اظہار ہے، جو خواتین کے بااختیار بنانے کو فلاحی اقدامات سے نکال کر حکمرانی کے ڈھانچے کا حصہ بناتا ہے۔
پارٹی سطح سے بالا ترتمام ساتھیوں کے نام میرا پیغام
یہ وہ تاریخی لمحہ ہے جس کا تعلق ہم سب سے ہے، کسی ایک جماعت سےنہیں بلکہ بطور ادارہ پارلیمنٹ سے سروکار رکھتا ہے۔ حکومت کی ہر سطح پر اس ملک کی خدمت کرنے والی خاتون کے طور پر میں سب لوگوں سے اپیل کرتی ہوں اور مجھے یقین ہےکہ ہم سب کی یہی خواہش ہے کہ ہندوستان کی جمہوریت مزید مضبوط اور مکمل ہو۔ آج ہمیں ہندوستان کی خواتین کو جو کچھ دینا ہے، وہ ہے فوری اقدام—مردم شماری کا انعقاد، حلقہ بندی کی تکمیل اور اس بات کو یقینی بنانا کہ اس عرصے کا ایک دن بھی بلاوجہ ضائع نہ ہو۔
مجھے نفاذ سے متعلق خدشات کا علم ہے—مختص نشستوں کی گردش، پراکسی امیدوار اور مقررہ مدت کی حد جیسے مسائل درپیش ہوں گے۔ یہ جائز بحثیں ہیں، لیکن ہمیں یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان پر فوری توجہ دی جائے۔ اصول درست ہے، ضرورت فوری ہے۔ ہمیں کامل اقدام کو انقلاب آفریں تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔
منصفانہ طرز اپنانے والا ملک
ستمبر 2023 میں تاریخ رقم ہوئی، لیکن تاریخ رقم کرنے کی اہمیت اس کے بعد کے اقدامات سے ہوتی ہے۔ ایک ایسا ملک جو منصفانہ طرز اپنانے کا انتخاب کرتا ہے، وہ اپنے بنائے گئے قوانین پر عمل کر کے خاموش مگر دیرپا تبدیلی لاتا ہے۔ ہر اس بچی کے لیے جو اپنے ملک کی خدمت کا خواب دیکھتی ہے، ہر اس رہنما کے لیے جسے کبھی پلیٹ فارم نہیں ملا اور ہر اس آواز کے لیے جسے کبھی مائیکرو فون پکڑنے کا موقع نہیں دیا گیا، اب عملی اقدام کا وقت آچکا ہے۔
اس قانون کو نافذ کریں۔ گنجائش میں اضافہ کریں۔ ہندوستان منتظر ہے۔


