کشمیر میں صحت کا بحران:ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی

 

 

پیر اقبال رشید

کشمیر، جو اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکش مناظر اور صاف و شفاف ماحول کے لئے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، ایک ایسے المیے سے دوچار ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ المیہ صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مشکلات، مہنگا علاج اور عام انسان کی بے بسی ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہم اس حقیقت پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت کی حفاظت نہ صرف ایک فرد کی ذمہ داری ہے بلکہ پورے معاشرے اور حکومت کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسلامی تعلیمات ہمیں بار بار اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہیں کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے۔ قرآن مجید میں ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ آج صحت کا شعبہ ایک مقدس خدمت کے بجائے ایک منافع بخش کاروبار بنتا جا رہا ہے۔
کشمیر میں علاج معالجہ دن بہ دن مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک عام مزدور یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں رہتی بلکہ یہ اس کے لئے ایک معاشی آزمائش بھی بن جاتی ہے۔ نجی ہسپتالوں کی فیس، مختلف ٹیسٹوں کے اخراجات اور ادویات کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ ایک عام انسان کے لئے علاج کروانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
یہاں سوال صرف حکومت کا نہیں بلکہ ان تمام افراد اور اداروں کا بھی ہے جو صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹ، لیبارٹری مالکان اور ہسپتال انتظامیہ سبھی اس نظام کا حصہ ہیں۔ ان سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا پیشہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم خدمت بھی ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر مریض کو صرف ایک "کیس” کے طور پر دیکھے گا تو وہ اس پیشے کی اصل روح سے دور ہو جائے گا۔
ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور دکان داروں کو چاہیے کہ وہ اپنی قیمتوں میں اعتدال رکھیں۔ ایک غریب انسان کے لئے ایک چھوٹی سی دوا بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔ اسلام میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ عملی طور پر اس کے برعکس ہو رہا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری اس سارے معاملے میں سب سے اہم ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، جن میں صحت سرفہرست ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وہاں سہولیات کی کمی، عملے کی قلت اور مناسب نگرانی کا فقدان ایک عام بات بن چکی ہے۔ اگر حکومت ان ہسپتالوں کی بہتری پر توجہ دے، جدید سہولیات فراہم کرے اور عملے کی تربیت کو یقینی بنائے تو بہت حد تک مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کا نظام بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ اگر کوئی ادارہ یا فرد مریضوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے یا غیر ضروری ٹیسٹ اور علاج تجویز کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
ہمیں بحیثیت معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہوگا، احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی اور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی اداروں کے ذریعے ہم غریب مریضوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک سماجی فریضہ ہے بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔
اسلام میں انسانیت کی خدمت کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں تو ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی دوسروں کے لئے آسانی پیدا کر رہے ہیں یا ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر صحت کے نظام میں بہتری کے لئے کام کریں۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرے، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اپنے پیشے کی روح کو سمجھیں اور عام لوگ بھی اپنی سطح پر کردار ادا کریں۔ اگر ہم نے اب بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والا وقت مزید مشکلات لے کر آ سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحت صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسانی جان کی قدر بہت زیادہ ہے۔ ہمیں اپنے اعمال، فیصلوں اور نظام کو اس اصول کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں جہاں ہر انسان کو باعزت اور معیاری علاج میسر ہو۔
یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر، منصفانہ اور انسان دوست معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

کشمیر میں صحت کا بحران:ہمیں اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی

 

 

پیر اقبال رشید

کشمیر، جو اپنی قدرتی خوبصورتی، دلکش مناظر اور صاف و شفاف ماحول کے لئے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، ایک ایسے المیے سے دوچار ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ المیہ صحت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مشکلات، مہنگا علاج اور عام انسان کی بے بسی ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہم اس حقیقت پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ صحت اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس نعمت کی حفاظت نہ صرف ایک فرد کی ذمہ داری ہے بلکہ پورے معاشرے اور حکومت کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اسلامی تعلیمات ہمیں بار بار اس بات کی یاد دہانی کرواتی ہیں کہ انسانی جان سب سے قیمتی ہے۔ قرآن مجید میں ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ اس تناظر میں اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ آج صحت کا شعبہ ایک مقدس خدمت کے بجائے ایک منافع بخش کاروبار بنتا جا رہا ہے۔
کشمیر میں علاج معالجہ دن بہ دن مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک عام مزدور یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے لئے بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں رہتی بلکہ یہ اس کے لئے ایک معاشی آزمائش بھی بن جاتی ہے۔ نجی ہسپتالوں کی فیس، مختلف ٹیسٹوں کے اخراجات اور ادویات کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ ایک عام انسان کے لئے علاج کروانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
یہاں سوال صرف حکومت کا نہیں بلکہ ان تمام افراد اور اداروں کا بھی ہے جو صحت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز، فارماسسٹ، لیبارٹری مالکان اور ہسپتال انتظامیہ سبھی اس نظام کا حصہ ہیں۔ ان سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا پیشہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک عظیم خدمت بھی ہے۔ اگر ایک ڈاکٹر مریض کو صرف ایک "کیس” کے طور پر دیکھے گا تو وہ اس پیشے کی اصل روح سے دور ہو جائے گا۔
ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ایک اور سنگین مسئلہ ہے۔ فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور دکان داروں کو چاہیے کہ وہ اپنی قیمتوں میں اعتدال رکھیں۔ ایک غریب انسان کے لئے ایک چھوٹی سی دوا بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن سکتی ہے۔ اسلام میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے، مگر بدقسمتی سے ہم دیکھتے ہیں کہ عملی طور پر اس کے برعکس ہو رہا ہے۔
حکومت کی ذمہ داری اس سارے معاملے میں سب سے اہم ہے۔ ایک فلاحی ریاست کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، جن میں صحت سرفہرست ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وہاں سہولیات کی کمی، عملے کی قلت اور مناسب نگرانی کا فقدان ایک عام بات بن چکی ہے۔ اگر حکومت ان ہسپتالوں کی بہتری پر توجہ دے، جدید سہولیات فراہم کرے اور عملے کی تربیت کو یقینی بنائے تو بہت حد تک مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، صحت کے شعبے میں شفافیت اور احتساب کا نظام بھی مضبوط ہونا چاہیے۔ اگر کوئی ادارہ یا فرد مریضوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے یا غیر ضروری ٹیسٹ اور علاج تجویز کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ اس سے نہ صرف بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
ہمیں بحیثیت معاشرہ بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں صحت کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہوگا، احتیاطی تدابیر اپنانا ہوں گی اور ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔ زکوٰۃ، صدقات اور فلاحی اداروں کے ذریعے ہم غریب مریضوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ایک سماجی فریضہ ہے بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔
اسلام میں انسانیت کی خدمت کو بہت بڑا درجہ دیا گیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لئے سب سے زیادہ فائدہ مند ہو۔ اس حدیث کی روشنی میں اگر ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں تو ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی دوسروں کے لئے آسانی پیدا کر رہے ہیں یا ان کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں؟
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر صحت کے نظام میں بہتری کے لئے کام کریں۔ حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرے، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اپنے پیشے کی روح کو سمجھیں اور عام لوگ بھی اپنی سطح پر کردار ادا کریں۔ اگر ہم نے اب بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والا وقت مزید مشکلات لے کر آ سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صحت صرف ایک ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ بحیثیت مسلمان، ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسانی جان کی قدر بہت زیادہ ہے۔ ہمیں اپنے اعمال، فیصلوں اور نظام کو اس اصول کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں جہاں ہر انسان کو باعزت اور معیاری علاج میسر ہو۔
یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بہتر، منصفانہ اور انسان دوست معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں