مولانا غلام محی الدین نقیب
کشمیری سے ترجمہ و تلخیص : سیّد آصف رضا (ناربل)
حضرت فقیر ملت سید میرک شاہ صاحب کاشانیؒ 6؍ ستمبر1895ءمیں تولد ہوئے۔ جب آپؒ کی عمر دو سال کی ہوئی تو والدہ محترمہ کا انتقال ہوا اور جب پانچ سال کے ہوئے تو والد محترم کا سایہ سر سے اُٹھ گیا جس کے بعد آپؒ کی پرورش کی ذمہ داری آپؒ کے برادر نے سنبھالی۔ اُس زمانے میں کشمیر میں ایسے مکاتیب قائم کئے گئے تھے جہاں قرآن وحدیث کے علاوہ فارسی ادب کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ چنانچہ آپؒ کو شہر کے ایک مکتب ’’عمہ کلیُن مدرسہٕ‘‘ میں داخل کیا گیا جہاں آپؒ نے گلستان و بوستان پڑھنی شروع کی۔ ایک روزاُستاد گلستان کے یہ اشعار پڑھا رہے تھے:
گلے خوشبوئے در حمام روزے
رسید از دستِ محبوبے بدستم
یعنی ایک دن حمام میں ایک خوشبودار مٹی ایک مہربان محبوب کے ہاتھ سے میرے ہاتھ میں آئی۔
بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری
کہ از بوئے دل آویز تو مستم
میں نے اس سے کہا تو تو مشک ہے یا عنبر تیری دلکش خوشبو نے مجھے مست کر دیا ہے۔
بگفتا من گلے ناچیز بودم
ولیکن مدتے با گل نشستم
اس نے کہا میں تو ناچیز مٹی ہوں مگر کچھ عرصہ پھولوں کی ہم نشینی کا موقع میسر رہا ہے ۔
جمال ہمنشین در من اثر کرد
وگر نہ مَن ہماں خاکم کہ ہستم
یہ سب ساتھی(پھولوں) کی صحبت کا اثر ہے ورنہ میں تو وہی مٹی کی مٹی ہوں۔
حضرت میرک صاحبؒ ان اشعار کی تشریح سن کر بہت متاثر ہوئے اور آپؒ کا دل نُور سے بھر گیا۔ چنانچہ کتاب کو بند کیا اور چل دئیے! اُستاد نے پوچھا: کہاں چل دئیے؟ آپؒ نے جواب دیا: ’’جمالِ ہمنشین کی تلاش میں!‘‘
اپنے برادران کے اصرار کے باوجود اس کے بعد آپؒ کسی مدرسے میں نہیں گئے۔ دراصل آپؒ پر غیبی پرتو رحمانی پڑ چکا تھا۔ جب آپؒ سے پوچھا گیا اگر آپؒ پڑھیں گے نہیں تو کیا کریں گے؟ آپؒ نے جواب دیا: ’’میں ملازم لگ گیا ہوں۔‘‘ پوچھا گیا: کیا ملازم؟ جواب دیا: ’’پولیس میں۔‘‘ یہ سمجھ سے بالاتر عجیب کلام سن کر سب حیران ہو گئے۔ روز بروز آپؒ کے حالات بدلتے گئے۔ آپؒ پر جو پرتو رحمانی پڑا تھا وہ اب سامنے آ رہا تھا مگر یہ صرف وہی لوگ دیکھ سکتے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت سے نوازا تھا۔ شہر کے اکثر اہلِ بصیرت قلندر ، فقیر اور درویش آپؒ سے ملنے آتے اور آپؒ کے پاس دنوں ٹھہرتے اور آپؒ کے پاس راتیں گزارتے۔ یہ حال دیکھ کر آپؒ کے برادر دل ملول ہوئے کیونکہ فقیروںاور مجازیب کا اس طرح روز روز آنا اُن کے برداشت سے باہر تھا! اس لئے حضرت میرک صاحبؒ کے لئے گھر کے تہہ خانے میں جگہ خالی کی گئی۔ اس طرح آپؒ تہہ خانہ کے خانہ دار ہوگئے اور وہاں آنے والے اللہ کے پیارے مجازیب و فقیر گھر والے! چنانچہ آپؒ دن رات ان مہمانوں کی خدمت کرنے لگے۔ آپؒ قرآنی آیات اپنے ہاتھ سے لکھتے اور پھر کسی تاجر کو دیتے۔ جو کچھ حاصل ہوتا اس سے ان فقیروں کے لئے کھانے پینے کا انتظام کرتے۔ جناب دین محمد صاحبؒ فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ان مہمانان کے لئے اپنی کشت لئے دور دور جاتے اور ان کے لئے کھانے کا سامان جمع کر کے لاتے۔ دراصل حضرتؒ اس بات سے واقف تھے کہ’’ الخلق عیال اللہ‘‘ کہ ساری مخلوقات خدائی عیال ہے۔ یہی پرتو روزِ اوّل سے ہی ان پر پڑا تھا اور اسی کا سوز دل میں تھا اور اسی محبت کا پیالہ نوش فرمایا تھا۔ اس کا اظہار ان کے کلام سے بخوبی ہوتا ہے:
عیال اللہ خلق زان
صراط اللہ ژہ تی مان
حبہ دِکھنا لوب لبابے
بے تابے کورتھس وولو
پرس پانس فرق زانکھ
حقیقت دون کُنے مانکھ
معرفت گار بہ ہر عالم
کرکھ سرخم سَرکھ مولا
محبت عالمینن ہُند چھ لازم
خدا ناظم چھُ ہر جا بر صداقت
حق یہ ہے کہ حضرت میرک صاحبؒ درد و محبت سے پُر تھے۔ عشق و محبت ان کا سرمایہ تھا۔ کیوں نہ ہوں آپؒ ازل سے مقبول تھے۔ اس کا اظہار اُس وقت ہوتا ہے جب حضرت لعل صاحبؒ اپنے مرشد پاک حضرت فضل اللہ صاحب گردیزی رحمۃ اللہ علیہ سے واپسی کی اجازت حاصل کرنے جاتے ہیں تو حضرتؒ آپ سے فرماتے ہیں: یہ خلعتِ ولایت آپ کو ایک سید (سید فضل اللہ صاحبؒ) سے ملا ہے اور اس کو ایک سید تک پہنچانا ہے، جس کا اسم گرامی حضرت سیّد میرک شاہ صاحبؒ ہوگا اور جو حضرت سیّد حبیب اللہ کاشانیؒ کی اولاد میں سے ہوگا۔ سبحان اللہ! یہ حضرت میرک شاہ صاحبؒ کے ازلی سید ہونے کا ثبوت ہے۔
جناب لعل صاحبؒ جب حضرت سید فضل اللہ صاحبؒ کے دربار میں جاتے ہیں تو مُدعا صرف معرفت اِلٰہی حاصل کرنا ہو تا ہے۔ چنانچہ آپؒ کو اپنے پیر کی طرف سے دربار کی جاڑو کشی کا حکم ملا اور آپؒ اپنے کام میں لگ گئی۔ حضرت فضل اللہ صاحب گردیذیؒ کے پاس لوگ اپنی دینی و دنیاوی ضروریات کے آتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آپؒ اکثر استغراق کی حالت میں ہوا کرتے تھے اور ساتھ ساتھ اپنی چشمانِ مبارک کو کشادہ کرتے۔ عاشق دائیں بائیں اپنے پیر کامل کی نظر عنایت کے منتظر رہتے۔ جس کی طرف دائیں طرف نظر پڑتی وہ صاحبِ ولایت بن جاتا اور جس پر بائیں طرف نظر پڑتی وہ دین و دنیا کا مالک بن جاتا۔
حضرت میرک صاحبؒ فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب لعل صاحبؒ کی قسمت چمک اُٹھی ۔ ہوا یوں کہ جس دن حضرت فضل اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو چشم کشادہ کرنے کا وقت تھا آپؒ کے خادم خاص جناب جان ایشان رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت لعل صاحبؒ کو دائیں طرف اور کشمیر سے ہی آئے ایک تاجر جناب امیر الدین پکھچوال بائیں طرف رہنے کو کہا۔ باقی لوگ بھی پیر کاملؒ کی نظر عنایت کی تڑپ لئے آپؒ کی طرف محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ اتنے میں حضرت سید فضل اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دائیں طرف نظر کرم فرمایا اور لعل صاحبؒ کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’ایں لعل خوب است‘‘ اور دوسری طرف جناب امیر الدین پکھچوال کی طرف دیکھ کر فرمایا: ’’شما دو عالم فدا کردیم‘‘۔ اُس وقت سے جناب عبدالقادر لعل صاحبؒ نام سے مشہور ہوئے۔ جناب لعل صاحبؒ سالوں سال اپنے پیر کاملؒ کی خدمت کرتے رہے اور اس بارگاہ میں اتنے مقبول ہوئے کہ ان کو خلافت اور خرقہ ولایت بھی عطا ہوئے۔ ایک روز سید فضل اللہ صاحب ؒ نے لعل صاحبؒ کو بلایا اور فرمایا: ’’ یہ خلافت اور خرقۂ ولایت آپ کو ایک سید سے حاصل ہوئے اور اب اس کو سید تک ہی پہنچانا ہے جس کا نام نامی سید میرک شاہؒ ہوگا جو حضرت سید حبیب اللہ کاشانیؒ کی اولاد میں سے ہوگا، وہ آپ کے زمانے میں پیدا ہوگا اور آپ کا جانشین اُن کو پا لے گا۔‘‘اس فرمان کے ساتھ ہی آپؒ کو کشمیر واپس جانے کی اجازت دی اور ساتھ ہی ایک کشت جس میں آپؒ غذا تناول فرماتے تھے عطا فرمائی۔ (یہ کشت آج بھی دربار کاشانیہ میں موجود ہے۔)
جناب لعل صاحبؒ واپس آنے کے بعد موجودہ دربارِ کاشانیہ میں تشریف فرما ہوئے۔ یہیں پر آپؒ کی ابدی قیام گاہ ہے۔ آپؒ کا وصال ۱۲؍ ربیع الثانی ۱۳۰۶ھ کو ہوا۔ آپؒ نے اپنا جانشین اپنے خلیفہ خاص حضرت عبدالقدوس صاحبؒ کو بنایا۔ جناب عبدالقدوس صاحبؒ اصل میں شالیمار کے ہی رہنے والے تھے اور شالیمار باغ کے جمادار ہوا کرتے تھے۔ صحبتِ پیر میں رہ کردنیا بدل گئی اورایک اونچا مقام حاصل کرلیا ۔
اسی دور میں حضرت سید میرک شاہ صاحب کاشانیؒ صراف کدل سری نگر میں پیدا ہوئے۔ حضرت میرک صاحبؒ بارہ یا تیرہ سال کے ہوئے تو عبد القدوس صاحبؒ اپنے پیر کامل حضرت لعل صاحبؒ کے باطنی اشارہ سے میرک شاہ صاحبؒ کی تلاش میں صراف کدل پہنچ گئے۔ جہاں حضرت میرک صاحبؒ کے برادر اکبر جناب قادر صاحب آپ کا استقبال کرتے ہیں اور گھر آنے کا اصرار کرتے ہیں اور محفل سماع کا انعقاد کرتے ہیں۔ قادر صاحب کو خواب میں اس کا اشارہ مل چکا تھا۔ آپ نے خواب دیکھا تھا کہ میرک صاحبؒ کا انتقال ہو گیا اور اعلان ہوتا ہے کہ کوئی صاحب میرک صاحبؒ کو غسل نہ دے جب تک ایک گھوڑے پر سوار ایک صاحب تشریف نہ لائیں اور ان کے ساتھ اور بھی صاحبان ہوں گے۔ چنانچہ وہ میرک صاحبؒ کو غسل دیتے ہیں، کفن پہناتے ہیں اور اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ قادر صاحب خواب میں ہی پوچھتے ہیں کہ یہ گھوڑے پر سوار شخصیت کون ہیں؟ آپ کو جواب ملتا ہے کہ یہ حضرت محبوب سبحانی جناب شیخ سید عبد القادر الجیلانی رضی اللہ عنہ ہیں۔ صبح آپ نے یہ خواب وقت کے صاحبِ دل بزرگ میرواعظ جناب عمہ صاحب کو بیان کیا جنہوں اس کی تعبیر یہ بتائی کہ آپ کا تعلق نقشبندی سلسلہ کے ساتھ ہے مگر اس معصوم کو حضرت پیران پیرؒ نے اپنایا۔ چنانچہ حضرت عبدالقدوس صاحب پر نظر پڑتے ہی آپ کو اپنا خواب اور اس کی تعبیر یاد آئے۔ حضرت عبد القدوس صاحب میرک صاحبؒ کو طلب کرتے ہیں ۔ آپؒ باقی مجذوب ساتھیوں کے ساتھ محفل میں تشریف آور ہوئے۔ اسی دوران اچانک نُور صاحب نام کے ایک صاحب دل نے حضرت عبدالقدوس صاحبؒ کا گریبان پکڑ کر کہا: ’’ہمارے دلوں کو گرا رہے ہیں اور اپنے دلوں کو آباد کر رہے ہیں۔‘‘ حاضرین مجلس حیران تھے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ عبدالقدوس صاحبؒ نے جواب دیا: جب آپ کو یہ سمجھ میں آگیا کہ میں کس لئے آیا ہوں، یہ کیوں نہ سمجھے کہ مجھے کس نے بھیجا ہے! بہرحال میرک صاحبؒ کو قدوس صاحبؒ اپنے دائرہ میں داخل کرتے ہیں۔ اس کے بعد میرک صاحبؒ اللہ کی یاد میں اور زیادہ محو ہوگئے،خدمت حلق میں لگے گئے اور دُنیا داری میں میلان نہ رہا۔
یہ صورتحال دیکھ کر آپؒ کے برادر پریشان ہو گئے۔ چنانچہ انہوں نے آپؒ پر جبر کرکے آپؒ کو شالوں پر چھاپ لگانے کے کام پر رکھا۔آپ کچھ کپڑا بچا کر ٹوپیاں بنانے والوں کو دیتے جس سے جو رقم آتی اُس سے مساکین کے لئے کھانے کا انتظام کرتے۔ یہ دیکھ کر گھر والے ناراض ہو گئے اور آپؒ کو اس کام سے نجات مل گئی! اب گھر والوں نے آپؒ کے نکاح کا فیصلہ کیا۔ آپؒ نکاح کے لئے ذاتی طور تیار نہ تھے مگر سنّتِ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ چنانچہ آپؒ کا نکاح غلام نبی نقاش صاحب کی دختر نیک اختر سے ہوا۔ دو سال کے بعد آپؒ کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ بہرحال شادی کے بعد بھی آپؒ کے معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔ آپؒ کئی کئی دن اور رات گھر سے دور تلاش مولیٰ ورضائے مولیٰ میں لگے رہتے۔ چنانچہ ایک روز جب کہ آپؒ کئی دن بعد گھر آئے تھے آپؒ کے برادر گھر سے دور رہنے کے لئے سختی سے پیش آئے۔دوسرے دن آپؒکو بیٹی کی وفات کی اطلاع مل گئی۔ آپؒ کی آنکھوں سے آنسوں چھلک گئے اور آپؒ اللہ کے سامنے صبر و شکر کا پیکر بن کر سجدہ ریز ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد آپؒ نے بیوی کو طلاق دے دی۔
طلاق کے بعد حضرت فقیر ملتؒ ظاہری دنیاوی زنجیروں سے آزاد ہوگئے اور اس طرح زیادہ سے زیادہ قربِ خداوندی کی طرف محو ہو گئے۔ آپؒ نے پہاڑوں، جنگلوں اور آستانوں کا رُخ کیا۔ چنانچہ ایک دن آپؒ چرار شریف کے آستانِ عالیہ کے قریب تھے کہ ایک معمر خاتون نے آپؒ کو اپنے ساتھ ایک نزدیکی جنگل کی طرف لایا جہاں آپؒ کی ملاقات ایک صاحبِ دل بزرگ جناب احد صاحب کے ساتھ ہوئی جو اُس خاتون کے شوہر تھے۔ نو، دس ماہ تک اُن کی صحبت میں رہنے کے بعد جناب احد صاحبؒ نے آپؒ سے فرمایا کہ آپؒ واپس شہر کی طرف جائیں ۔ جب حضرت میرک صاحبؒ نے واپس جانے سے انکار کیا تو جناب احد صاحبؒ نے فرمایا کہ مجھے یہ حکم حضرت غوث پاک رضی اللہ عنہ کی طرف سے ملا ہے کہ میرک صاحبؒ کو چھوڑ دو تاکہ یہ لوگوں کی خدمت کر سکیں۔ لہٰذا میرک صاحبؒ شہر آگئے اور قدوس صاحبؒ کے پاس آنا جانا شروع ہو گیا۔
جناب قدوس صاحبؒ حضرت میرک صاحبؒ کو اپنا جانشین بنا کر اور امانت حوالہ کرکے ۹؍ ذی قعدہ ۱۳۴۲ھ کو وصال فرماتے ہیں۔ چنانچہ ستائیس سال کی عمر میں آپؒ نے دربارِ قادریہ شالیمار میں امانت دار کی ذمہ داری سنبھالی۔ آپؒ نے اپنے حصے کی ساری جائیداد اپنے بھائیوں اور رشتہ داروں میں تقسیم کی ۔ تکیہ لعل صاحب کی آبیاری کے لئے آپؒ نے خود مزدوری کی،صحن کو ٹھیک کیا اور دربار تک جانے والی سڑک کو بھی قابل آمد و رفت بنایا۔ اس کےساتھ ساتھ آپ برق رفتار گھوڑے پر سوار، ترکی ٹوپی پہنے اور اچھے کپڑوں میں ملبوس ہو کر شہر و گام گشت کرنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد یہاں ڈوگرہ شاہی کے خلاف بغاوت کا آغار ہوا۔ ان دنوں میں آپؒ فوجی لباس پہنے ہاتھ میں تلوار لئے گشت کیا کرتے جو اس بات کا اشارہ تھا کہ ڈوگرہ شاہی ختم ہونے والی ہے!
اب آپؒ نے شالیمار میں ہی قیام کرنا مناسب جانا۔ لوگ جوق در جوق اپنے حاجات لئے آجاتے اور کامیابی لے کر وہاں سے جاتے۔ ان لوگوں میں سماج کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہوتے۔حضرت فقیر ملتؒ اپنے پاس آنے والوں کو اسلام کی تبلیغ کرتے ۔ سبھی کو نماز پڑھنے کی تلقین کرتے اور مستورات کو پردہ کرنے پر زور دیتے۔ نفرت، حسد، عداوت اور بغض جیسی صفاتِ بد سے دور رہنے کی سختی کے ساتھ تلقین فرماتے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی ہدایت اور مسلمانوں میں عشقِ رسول پاک ﷺ پیدا کرنے کے لئے حکومت سے اجازت حاصل کرکے شالیمار باغ میں عید میلاد النبی ﷺ کی تقریبِ مقدّس کا انعقاد کرتے۔ ہر مکتبِ فکر سے وابستہ علماء و فضلاء کو اس تقریب میں شریک ہونے کی دعوت دیتے اور خود اُن کا والہانہ استقبال کرتے۔ اس دن لنگر سے خاص ضیافت کا اہتمام فرماتے۔ اس مقدّس تقریب میں وادی کے مختلف علاقوں سے کثیر تعداد میں لوگ شریک ہوتے اور قال اللہ و قال رسول اللہ ﷺ سے محظوظ ہوتے۔ لوگوں کا حضرت فقیر ملت کے ساتھ ایسی محبت تھی کہ وہ آپؒ کے پائے مبارک زمین کے ساتھ لگنے ہی نہیں دیتے تھے اور لوگ اپنے آپ کو راستے میں بچھا دیتے۔ محفل کے اختتام پر آپؒ کے رقت آمیز دعائوں کے ساتھ ہوتا۔
حضرت فقیر بہت سارے اسلامی اداروں کی سرپرستی فرماتے اور اُن کی محافل کی صدارت فرماتے۔ آپؒ نے انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کی آخری لمحات تک سرپرستی فرمائی۔انجمن تبلیغ الاسلام کے سابق صدر محترم حضرت امیر شریعت علامہ سید محمد قاسم بخاری صاحبؒ (۱۹۱۰ء – ۲۰۰۰ء) کے ساتھ محبت کا اظہار فرماتے اور آپؒ کے قائم کردہ ادارے(حنفی عربی کالج نور باغ سری نگر) کے لئے ذاتی طور پر ہدیہ پیش فرماتے۔
حضرت فقیر ملتؒ نے اپنے دربار میں لنگر خانے میں ایک مدرسہ قائم کیا تھا جہاں ایک امام صاحب محترم مولاناغلام رسول صاحب بچوں کو قرآن و حدیث کی تعلیم دیتے تھے۔کچھ سال بعد آپؒ کی سرپرستی میں ایک دارالمطالعہ اور اسلامی لائبریری کا قیام عمل لایا گیا۔ دارالمطالعہ میں جناب طیب شاہ صاحب کو مدرس مقرر کیا گیا۔ آہستہ آہستہ یہ مشن آگے بڑھتا گیا اور حضرت فقیر دین محمد صاحبؒ کی سرپرستی میں ایک ہائی اسکول قائم کیا گیا۔
غرض حضرت فقیر ملت سید میرک شاہ صاحب کاشانیؒ ہر لحاظ سے ہماری رہنمائی فرماتے رہے۔ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لائے۔ کتنے ہی لوگ فسق و فجور میں مبتلا تھے اور میرک صاحبؒ کی برکت و صحبت کی وجہ سے صالح اور نیکوکار بلکہ صاحبِ دل بن گئے۔
جناب میرک صاحبؒ طریقت کے ہر سلسلے کے رہبر تھے۔ مگراکثر قادری، چشتی، کبروی، سہروردی اور نقشبندی سلاسل کی تعلیم دیتے۔ اسی کی برکت سے آپؒ کے بہت سارے اولادِ صادق لوگوں کی تربیت کرتے ہیں۔ آپؒ نے جناب دین محمد صاحبؒ کو اپنا نائب منتخب فرمایا۔
جناب میرک صاحبؒ نے مخلوق خدا کی خدمت کرکے بہت ہی اونچا مقام حاصل کیا۔ آخری سالوں میں آپؒ کا حال حیران کُن رہا۔ نازُک بدن اور کمزور جسم ہونے کے باوجود صرف برف تناول فرماتے۔ یہ صورت دیکھ کر ڈاکٹر بھی حیران ہو گئے۔ آخر یہ عاشق صادق، پیر کامل، ہادی سُبل حضرت فقیر ملت سید میرک شاہ صاحب کاشانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی روحانی اولاد اور محبان کو اشکبار و غمناک بنا کر بروزِ سوموار ۲۴ شوال المکرم ۱۳۹۱ہجری مطابق 13؍ دسمبر1971ء انتقال پُر ملال کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو آپؒ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(جامِ عرفان، صفحہ 14 تا 34، اشاعت: 1994)


