امبیڈکر جینتی: آئین اچھا ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے چلانے والے۔۔۔۔۔۔!

انجینئر محمود اقبال
اسٹرکچرل انجینئر و کنسلٹنٹ

ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر،ہندوستانی آئین کے معمارِاعظم کے طور پر جانے جاتے ہے۔وہ 14 اپریل، 1891کو ’’مہو‘‘ (بی آر امبیڈکر نگر)مدھیہ پردیش میں پیداہوئے تھے۔وہ بھارت کی تاریخ کے ایک عظیم مفکر، قانون دان، سماجی مصلح اور سیاست دان کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ بھارت کے پہلے وزیر قانون و انصاف بھی رہے ہیں۔ہندوستان کے پہلے ممتاز وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 15اگست،1947کو انہیں اپنی پہلی کیبینٹ میں جگہ دی تھی۔آئینِ ہند کی تیاری اوراس کے نفاذ کے بعد اور پہلے وزیر قانون بننے کے بعد جو دوسرے بڑے کام کا بیڑا انہوں نے اپنے سر لیا،وہ تھا ’’ہندو کوڈ ‘‘بل۔وہ خواتین کے حقوق کے حامی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وراثت میں عورتوں کوبرابر کا حصہ ملے۔شادی اورطلّاق کے معاملات میں انصاف ہو۔بیوہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو۔
ان کا مقصد اور ارادہ تھا کہ ہندو سماج میں سدھار ہو اور غیر مساوی رسم و رواج کا خاتمہ ہو۔مگر،سماج کے کچھ گوشوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت شروع ہو گیٔ تھی۔جب یہ بل مسلسل تعطل اور تاخیر کا شکار ہونے لگا تو، امبیڈکر جی نے مایوس ہوکر بالآخر، 1951میں ’’ہندو کوڈ بل‘‘ کی وجہ سے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔انہوں نے دلتوں اورنچلی ذات کے حقوق کے لئے بھرپور جدوجہد بھی کی تھی۔انہوں نے سماجی ناانصافی اور ذات پات کے نظام کے خلاف بھی آواز بلند کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کا بڑا کارنامہ’’آئین ہند‘‘(Constitution of India)کی دستاویز کی تیاری اور اسے نافذالعمل بنانے میں ہے۔1990میں وہ ہندوستان کے اعلیٰ ترین اعزاز’’ بھارت رتن‘‘ سے بھی بعد از مرگ نوازے گئے تھے۔ان کی یومِ پیدائیش پر ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکرکو آئینِ ہند لکھنے کی ذمہ داری ایک تاریخی عمل کے ذریعے سونپی گئی تھی۔ ’’دستور ساز اسمبلی ‘‘، 1946 میں قائم ہوئی ۔اس اسمبلی کا مقصد تھا آزاد ہندوستان کے لئے آئین تیار کرنا ۔29 اگست، 1947 کو ایک ڈرافٹنگ کمیٹی بنائی گئی تھی اور اس کے چیئرمین کے طور پر امبیڈکر جی مقرر کیا گیا تھا۔یہ بہت بڑی ذمہ داری تھی کیونکہ،آئین کا مکمل مسودہ تیار کرنا،مختلف تجاویز کو یکجا کرنا،قوانین کو واضح اور مؤثر بنانا وغیرہ جیسے حسّاس و اہم ترین نکات شامل تھے۔امبیڈکر جی کو اس عہدے کے لئے منتخب کرنے کی اہم وجوہات میں انکی اعلیٰ تعلیم ،قانون، معاشیات اور سیاست کے میدانوں میں انکی گہری بصارت و مہارت تھی۔اس کے علاوہ وہ ایک ماہر قانون دان بھی تھے۔پیچیدہ مسائل کو آسان قوانین میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔وہ معاشرے کے کمزور طبقوں کے حقوق کے مضبوط حامی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ آئین سب کے لئے برابر ہو۔آئین ہند کی تیاری کا عمل تقریباً 2 سال 11 ماہ اور 18 دن جاری رہا تھا۔اس عمل میںمختلف ممالک کے آئینوں سے رہنمائی لی گئی تھی،ہزاروں ترامیم پر غور کیا گیا تھا۔آخر کار،26 نومبر 1949 کو آئین منظور ہوا۔اس کا مکمل نفاذ، یومِِ جمہوریہ ہند 26 جنوری ،1950 سے شروع ہوا۔آئین یند کی تیّاری میں امبیڈکر جی نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ بنیادی حقوق، مساوات ،مذہبی آزادی اورکمزور طبقات ،سب کے لئے تحفظ فراہم ہو۔بھارتی آئین کی تشکیل میں انہوں نے کلیدی کردار عدا کیا تھا۔اورتعلیم کو ترقی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ آئین ہند کی تیار کرتے وقت وہ دن رات کام کرتے رہے۔صحت خراب ہونے کے باوجود کام جاری رکھا ہواتھا۔ان کی انتھک محنت اور لگن کی وجہ سے’’آئینِ ہند‘‘ (Constitution of India)دنیا کے بہترین آئینوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔یہ بات بھی واضح رہے کہ اس آئینی ڈرادفت کمیٹی کے واحد مسلم رکن جناب سر سید محمد سعد اللہ تھے ، جنہوں نے آئین کی تیّاری ایک اہم کردار نبھایا تھا۔سعداللہ صاحبب برطانوی دور میں آسام کے وزیراعظم بھی رہ چکے تھے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نہایت ذہین طالب علم تھے۔ انہوں نے آعلی تعلیم ممبیٔ کے ’’ایلفنسٹون کالج‘‘ (Elphinstone College)سے شروع کی اور 1912میںگریجویٹ کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد انہوں نے ایم اے(M.A.) اور پی ایچ ڈی (Ph.D.)کی ڈگریاں کولمبیا یونیورسٹی ،امریکہ سے حاصل کی تھیں۔لندن اسکول آف اکنامکس سے ’’ڈی ایس سی‘‘(D.Sc.)کی ڈگری مکمل کی۔لندن ہی کے ایک اور اسکول سے’’بار ایٹ لا‘‘ (Bar-at-Law)کی قانون کی ڈگری بھی انہوں نے حاصل کی ہویٔ تھی۔لیکن ، ابتدایٔ تعلیم کے دوران امبیڈکر جی کو بڑی رسوایٔ او رشرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بچپن میں امبیڈکر کو ذات پات کی تفریق کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اسکول میںانہیں کلاس میں الگ بٹھایا جاتا تھا۔وہ پانی بھی خود سے نہیں چھو سکتے اور پی سکتے تھے۔ 1927 میں انہوں نے ایک تاریخی تحریک چلائی تھی۔نچلی ذات کے لوگوں کو سرکاری تالاب سے پانی پینے کا حق دلانے کے لئے جدوجہد کی،خود جا کر وہاں پانی پیا تھا۔وہ ذات پات کے سخت مخالف تھے اور مساوات کے حامی تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہر انسان برابر ہے، چاہے اس کی ذات، مذہب یا طبقہ کچھ بھی ہو۔
امبیڈکر جی کو کتابوں سے بھی عشق تھا۔ان کے پاس ہزاروں کتابوں کی ذاتی لائبریری تھی۔وہ روزانہ کئی گھنٹے مطالعہ کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ’’چلتی پھرتی لائبریری‘‘تھے۔ان کا مشہور نعرہ تھا کہ ، ’’تعلیم حاصل کرو، منظم ہو جاؤ، جدوجہد جاری رکھو‘‘۔انہوں نے کمزور طبقات کے حقوق کے لئے قانون سازی کی وکالت کی تھی۔ریزرویشن (Quota system) کا تصور پیش کیا تھا۔ان کے نزدیک جمہوریت صرف حکومت کا نظام نہیں بلکہ طرزِ زندگی بھی ہے،اورانصاف، آزادی اور بھائی چارہ اس کے بنیادی اصول ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لئے بھی کام کیا اوروراثت اور شادی کے قوانین میں اصلاحات کی کوشش کی۔
ڈاکٹر امبیڈکرنہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ ایک بہترین مصنف بھی تھے۔ ان کی تحریریں آج بھی سماجی انصاف، برابری اور انسانی حقوق کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ان کی چند مشہور کتابوں میں’’ذات پات کا خاتمہ‘‘،(Annihilation of Caste)،جس میں انہوں نے ذات پات کے نظام پر سخت تنقید کی تھی۔ہندو سماج میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیا تھا۔دوسری کتاب ’’روپئے کا مسئلہ‘‘ (The Problem of the Rupee)، معاشیات کے موضوع پر ان کی یہ ایک اہم کتاب ہے،جس میں انہوں نے ہندوستانی کرنسی کے مسائل کی وضاحت کی تھی۔مالی نظام کی اصلاح کی تجاویز پیش کی تھیں۔’’شودر کون تھے‘‘(Who were the Shudr)،
اس کتاب میں انہوں نے’’ شودر طبقے‘‘ کی اصل پر روشنی ڈالی تھی اورذات پات کے نظام کی جڑوں کی وضاحت کی تھی۔کتاب’’اچھوت‘‘ (The Untouchables)، میں ا چھوتوں کی تاریخ اور حالات،ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا تجزیہ کیا تھا۔’’بْدھ اور اس کا دھرم‘‘(Buddha and His Dharma)،بدھ مت کی تعلیمات کی وضاحت کی تھی۔اس کے علاوہ ،’’ریاستیں اور اقلیتیں‘‘ (States and Minorities) ، میں انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تجاویز پیش کی تھیں۔آئینی تحفظات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
امبیڈکر جی ایک بہت ہی غریب اور پسماندہ ترین نچلی ذات (مہار) ہندو گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد رام جی مالوجی سکپل برٹش فوج میں صوبیدار تھے اور ما ں بھیم بل سکپل ایک مذہبی گھریلو خاتون تھیں۔امبیڈکر چھوٹے ہی تھے کہ ان کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا۔وہ اپنے 14بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔مگر،زیادہ تر انکے بہن بھایٔ چھوٹی عمروں ہی میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی پہلی شادی 15 سال کی عمر میں راما بایٔ سے ہویٔ تھی جو1935میں چل بسیں۔وہ ایک صابر اور سادہ مزاج خاتون تھیں اور مشکل اوقات میں امبیڈ کر جی کا ساتھ نبھا یا تھا۔خصوصا،اس وقت جب آعلی تعلیم کے لئے امبیڈکر باہر کے ملکوں میں تھے۔ان کے غیاب میں غریبی کی حالت میں انہوں نے جیسے تیسے گھر چلایا تھا۔ راما جی سے ان کے کیٔ بچے پیدا ہوئے مگر وہ کم سنی ہی میں گذر گئے تھے۔ امبیڈکر جی کے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔اس کے بعد کئی سال تک اکیلے رہنے کے بعد انہوں نے دوسری شادی1948 میں ڈاکٹر سویتا سے کی۔سویتا جی نے بھی آخری لمحہ تک امبیڈکر جی کا ساتھ نبھایا اور ان کی اچھے سے تیمارداری کی تھی جب وہ بار بار بیمار پڑنے لگے تھے۔ امبیڈکر جی کی اولاد میں واحد زندہ رہنے والے بیٹے یشونت امبیڈکر ہیں۔یشونت جی نے اپنے باپ کے ادھورے مشن کو آگے بڑھایا تھا،چونکہ یہ خاندان ذات پات کی تقسیم کی وجہ سے مسلسل صعوبتیں جھیل رہا تھا۔ پرکاش امبیڈکر کا نام یقینا آپ وقتاً فوقتاًسنتے آرہے ہوںگے؟پرکاش جی یشونت جی کے بیٹے ہیں اور ایک سیاسی لیڈر اور سماجی جہد کار کے طور پر آج کل جانے پہچانے جاتے ہیں اور اپنے دادا بی آر امبیڈکر کے ادھورے مشن کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔
1956 میں بی آر امبیڈکر جی نے بدھ مت کو اختیار کرلیا تھا ۔اور اس کے چند ماہ بعد ہی و ہ،6 دسمبر، 1956کونئی دلّی میںاپنے’’ بُدّھا‘‘ کو پیارے ہوگئے ۔اپنی وفات سے پہلے انہوں نے کہا تھا، ’’میں ہندو پیدا ہوا ہوں، لیکن ہندو نہیں مروں گا‘‘۔
ژژژ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

امبیڈکر جینتی: آئین اچھا ہو سکتا ہے، لیکن اگر اسے چلانے والے۔۔۔۔۔۔!

انجینئر محمود اقبال
اسٹرکچرل انجینئر و کنسلٹنٹ

ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکر،ہندوستانی آئین کے معمارِاعظم کے طور پر جانے جاتے ہے۔وہ 14 اپریل، 1891کو ’’مہو‘‘ (بی آر امبیڈکر نگر)مدھیہ پردیش میں پیداہوئے تھے۔وہ بھارت کی تاریخ کے ایک عظیم مفکر، قانون دان، سماجی مصلح اور سیاست دان کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ وہ بھارت کے پہلے وزیر قانون و انصاف بھی رہے ہیں۔ہندوستان کے پہلے ممتاز وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے 15اگست،1947کو انہیں اپنی پہلی کیبینٹ میں جگہ دی تھی۔آئینِ ہند کی تیاری اوراس کے نفاذ کے بعد اور پہلے وزیر قانون بننے کے بعد جو دوسرے بڑے کام کا بیڑا انہوں نے اپنے سر لیا،وہ تھا ’’ہندو کوڈ ‘‘بل۔وہ خواتین کے حقوق کے حامی تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ وراثت میں عورتوں کوبرابر کا حصہ ملے۔شادی اورطلّاق کے معاملات میں انصاف ہو۔بیوہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ہو۔
ان کا مقصد اور ارادہ تھا کہ ہندو سماج میں سدھار ہو اور غیر مساوی رسم و رواج کا خاتمہ ہو۔مگر،سماج کے کچھ گوشوں کی طرف سے اس کی سخت مخالفت شروع ہو گیٔ تھی۔جب یہ بل مسلسل تعطل اور تاخیر کا شکار ہونے لگا تو، امبیڈکر جی نے مایوس ہوکر بالآخر، 1951میں ’’ہندو کوڈ بل‘‘ کی وجہ سے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔انہوں نے دلتوں اورنچلی ذات کے حقوق کے لئے بھرپور جدوجہد بھی کی تھی۔انہوں نے سماجی ناانصافی اور ذات پات کے نظام کے خلاف بھی آواز بلند کی تھی۔ ڈاکٹر صاحب کا بڑا کارنامہ’’آئین ہند‘‘(Constitution of India)کی دستاویز کی تیاری اور اسے نافذالعمل بنانے میں ہے۔1990میں وہ ہندوستان کے اعلیٰ ترین اعزاز’’ بھارت رتن‘‘ سے بھی بعد از مرگ نوازے گئے تھے۔ان کی یومِ پیدائیش پر ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بھیم راؤ رام جی امبیڈکرکو آئینِ ہند لکھنے کی ذمہ داری ایک تاریخی عمل کے ذریعے سونپی گئی تھی۔ ’’دستور ساز اسمبلی ‘‘، 1946 میں قائم ہوئی ۔اس اسمبلی کا مقصد تھا آزاد ہندوستان کے لئے آئین تیار کرنا ۔29 اگست، 1947 کو ایک ڈرافٹنگ کمیٹی بنائی گئی تھی اور اس کے چیئرمین کے طور پر امبیڈکر جی مقرر کیا گیا تھا۔یہ بہت بڑی ذمہ داری تھی کیونکہ،آئین کا مکمل مسودہ تیار کرنا،مختلف تجاویز کو یکجا کرنا،قوانین کو واضح اور مؤثر بنانا وغیرہ جیسے حسّاس و اہم ترین نکات شامل تھے۔امبیڈکر جی کو اس عہدے کے لئے منتخب کرنے کی اہم وجوہات میں انکی اعلیٰ تعلیم ،قانون، معاشیات اور سیاست کے میدانوں میں انکی گہری بصارت و مہارت تھی۔اس کے علاوہ وہ ایک ماہر قانون دان بھی تھے۔پیچیدہ مسائل کو آسان قوانین میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔وہ معاشرے کے کمزور طبقوں کے حقوق کے مضبوط حامی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ آئین سب کے لئے برابر ہو۔آئین ہند کی تیاری کا عمل تقریباً 2 سال 11 ماہ اور 18 دن جاری رہا تھا۔اس عمل میںمختلف ممالک کے آئینوں سے رہنمائی لی گئی تھی،ہزاروں ترامیم پر غور کیا گیا تھا۔آخر کار،26 نومبر 1949 کو آئین منظور ہوا۔اس کا مکمل نفاذ، یومِِ جمہوریہ ہند 26 جنوری ،1950 سے شروع ہوا۔آئین یند کی تیّاری میں امبیڈکر جی نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ بنیادی حقوق، مساوات ،مذہبی آزادی اورکمزور طبقات ،سب کے لئے تحفظ فراہم ہو۔بھارتی آئین کی تشکیل میں انہوں نے کلیدی کردار عدا کیا تھا۔اورتعلیم کو ترقی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ آئین ہند کی تیار کرتے وقت وہ دن رات کام کرتے رہے۔صحت خراب ہونے کے باوجود کام جاری رکھا ہواتھا۔ان کی انتھک محنت اور لگن کی وجہ سے’’آئینِ ہند‘‘ (Constitution of India)دنیا کے بہترین آئینوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔یہ بات بھی واضح رہے کہ اس آئینی ڈرادفت کمیٹی کے واحد مسلم رکن جناب سر سید محمد سعد اللہ تھے ، جنہوں نے آئین کی تیّاری ایک اہم کردار نبھایا تھا۔سعداللہ صاحبب برطانوی دور میں آسام کے وزیراعظم بھی رہ چکے تھے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نہایت ذہین طالب علم تھے۔ انہوں نے آعلی تعلیم ممبیٔ کے ’’ایلفنسٹون کالج‘‘ (Elphinstone College)سے شروع کی اور 1912میںگریجویٹ کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد انہوں نے ایم اے(M.A.) اور پی ایچ ڈی (Ph.D.)کی ڈگریاں کولمبیا یونیورسٹی ،امریکہ سے حاصل کی تھیں۔لندن اسکول آف اکنامکس سے ’’ڈی ایس سی‘‘(D.Sc.)کی ڈگری مکمل کی۔لندن ہی کے ایک اور اسکول سے’’بار ایٹ لا‘‘ (Bar-at-Law)کی قانون کی ڈگری بھی انہوں نے حاصل کی ہویٔ تھی۔لیکن ، ابتدایٔ تعلیم کے دوران امبیڈکر جی کو بڑی رسوایٔ او رشرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بچپن میں امبیڈکر کو ذات پات کی تفریق کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اسکول میںانہیں کلاس میں الگ بٹھایا جاتا تھا۔وہ پانی بھی خود سے نہیں چھو سکتے اور پی سکتے تھے۔ 1927 میں انہوں نے ایک تاریخی تحریک چلائی تھی۔نچلی ذات کے لوگوں کو سرکاری تالاب سے پانی پینے کا حق دلانے کے لئے جدوجہد کی،خود جا کر وہاں پانی پیا تھا۔وہ ذات پات کے سخت مخالف تھے اور مساوات کے حامی تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ہر انسان برابر ہے، چاہے اس کی ذات، مذہب یا طبقہ کچھ بھی ہو۔
امبیڈکر جی کو کتابوں سے بھی عشق تھا۔ان کے پاس ہزاروں کتابوں کی ذاتی لائبریری تھی۔وہ روزانہ کئی گھنٹے مطالعہ کرتے تھے۔کہا جاتا ہے کہ وہ’’چلتی پھرتی لائبریری‘‘تھے۔ان کا مشہور نعرہ تھا کہ ، ’’تعلیم حاصل کرو، منظم ہو جاؤ، جدوجہد جاری رکھو‘‘۔انہوں نے کمزور طبقات کے حقوق کے لئے قانون سازی کی وکالت کی تھی۔ریزرویشن (Quota system) کا تصور پیش کیا تھا۔ان کے نزدیک جمہوریت صرف حکومت کا نظام نہیں بلکہ طرزِ زندگی بھی ہے،اورانصاف، آزادی اور بھائی چارہ اس کے بنیادی اصول ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لئے بھی کام کیا اوروراثت اور شادی کے قوانین میں اصلاحات کی کوشش کی۔
ڈاکٹر امبیڈکرنہ صرف ایک عظیم رہنما تھے بلکہ ایک بہترین مصنف بھی تھے۔ ان کی تحریریں آج بھی سماجی انصاف، برابری اور انسانی حقوق کے لئے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ ان کی چند مشہور کتابوں میں’’ذات پات کا خاتمہ‘‘،(Annihilation of Caste)،جس میں انہوں نے ذات پات کے نظام پر سخت تنقید کی تھی۔ہندو سماج میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیا تھا۔دوسری کتاب ’’روپئے کا مسئلہ‘‘ (The Problem of the Rupee)، معاشیات کے موضوع پر ان کی یہ ایک اہم کتاب ہے،جس میں انہوں نے ہندوستانی کرنسی کے مسائل کی وضاحت کی تھی۔مالی نظام کی اصلاح کی تجاویز پیش کی تھیں۔’’شودر کون تھے‘‘(Who were the Shudr)،
اس کتاب میں انہوں نے’’ شودر طبقے‘‘ کی اصل پر روشنی ڈالی تھی اورذات پات کے نظام کی جڑوں کی وضاحت کی تھی۔کتاب’’اچھوت‘‘ (The Untouchables)، میں ا چھوتوں کی تاریخ اور حالات،ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا تجزیہ کیا تھا۔’’بْدھ اور اس کا دھرم‘‘(Buddha and His Dharma)،بدھ مت کی تعلیمات کی وضاحت کی تھی۔اس کے علاوہ ،’’ریاستیں اور اقلیتیں‘‘ (States and Minorities) ، میں انہوں نے اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں تجاویز پیش کی تھیں۔آئینی تحفظات کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
امبیڈکر جی ایک بہت ہی غریب اور پسماندہ ترین نچلی ذات (مہار) ہندو گھرانہ سے تعلق رکھتے تھے۔ان کے والد رام جی مالوجی سکپل برٹش فوج میں صوبیدار تھے اور ما ں بھیم بل سکپل ایک مذہبی گھریلو خاتون تھیں۔امبیڈکر چھوٹے ہی تھے کہ ان کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا۔وہ اپنے 14بہن بھائیوں میں سے ایک تھے۔مگر،زیادہ تر انکے بہن بھایٔ چھوٹی عمروں ہی میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی پہلی شادی 15 سال کی عمر میں راما بایٔ سے ہویٔ تھی جو1935میں چل بسیں۔وہ ایک صابر اور سادہ مزاج خاتون تھیں اور مشکل اوقات میں امبیڈ کر جی کا ساتھ نبھا یا تھا۔خصوصا،اس وقت جب آعلی تعلیم کے لئے امبیڈکر باہر کے ملکوں میں تھے۔ان کے غیاب میں غریبی کی حالت میں انہوں نے جیسے تیسے گھر چلایا تھا۔ راما جی سے ان کے کیٔ بچے پیدا ہوئے مگر وہ کم سنی ہی میں گذر گئے تھے۔ امبیڈکر جی کے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔اس کے بعد کئی سال تک اکیلے رہنے کے بعد انہوں نے دوسری شادی1948 میں ڈاکٹر سویتا سے کی۔سویتا جی نے بھی آخری لمحہ تک امبیڈکر جی کا ساتھ نبھایا اور ان کی اچھے سے تیمارداری کی تھی جب وہ بار بار بیمار پڑنے لگے تھے۔ امبیڈکر جی کی اولاد میں واحد زندہ رہنے والے بیٹے یشونت امبیڈکر ہیں۔یشونت جی نے اپنے باپ کے ادھورے مشن کو آگے بڑھایا تھا،چونکہ یہ خاندان ذات پات کی تقسیم کی وجہ سے مسلسل صعوبتیں جھیل رہا تھا۔ پرکاش امبیڈکر کا نام یقینا آپ وقتاً فوقتاًسنتے آرہے ہوںگے؟پرکاش جی یشونت جی کے بیٹے ہیں اور ایک سیاسی لیڈر اور سماجی جہد کار کے طور پر آج کل جانے پہچانے جاتے ہیں اور اپنے دادا بی آر امبیڈکر کے ادھورے مشن کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔
1956 میں بی آر امبیڈکر جی نے بدھ مت کو اختیار کرلیا تھا ۔اور اس کے چند ماہ بعد ہی و ہ،6 دسمبر، 1956کونئی دلّی میںاپنے’’ بُدّھا‘‘ کو پیارے ہوگئے ۔اپنی وفات سے پہلے انہوں نے کہا تھا، ’’میں ہندو پیدا ہوا ہوں، لیکن ہندو نہیں مروں گا‘‘۔
ژژژ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں